Global Editions

امیونوتھراپی کے ذریعےکینسر کے علاج میں پیش رفت

کینسر کے علاج کے لئے تیار کی جانیوالی نئی ادویات مریض کے جسم میں مرض سے لڑنے کے لئے مدافعت پیدا کرتی ہیں اور یہ ادویات بعض مریضوں میں نہایت حوصلہ افزاء نتائج کی حامل رہی ہیں تاہم بعض مریضوں میں ان ادویات کے بالکل متضاد نتائج سامنے آتے ہیں۔ تحقیق کار ابھی تک امیونوتھراپی(مدافعت پیدا کرنے کا کوئی طریقہ) کے کام کرنے کے درست طریقہ کار کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ امیونوتھراپی بعض مریضوں میں مرض سے لڑنے اور اسے شکست دینے میں کامیاب رہتی ہے مگر اسی نوعیت کے کسی دوسرے مریض میں کسی قسم کے بہتری کے اثرات پیدا کرنے میں ناکام بھی رہتی ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہیں تجربات کے لئے جانوروں کے ایسے ماڈلز کی ضرورت ہے جن کا مدافعتی نظام انسانوں سے مشابہت رکھتا ہو تاکہ وہ کینسر کے علاج کے لئے ان ادویات کو ان پر آزما کر نتائج اخذ کر سکیں۔ اس حوالے سے نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کی ایڈوائزی کمیٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ ایمیونوتھراپی کے تجربات کے لئے آئندہ برس ایک نیا پروگرام شروع کر رہی ہے جس کے تحت ایمیونوتھراپی کے کتوں پر تجربات کئے جائیں گے۔ نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ سال 2003 سے کتوں پر کینسر کے علاج کے لئے دیگر تھراپیز کے تجربات کر رہی ہے تاہم یہ پہلاموقع ہو گا کہ بڑے پیمانے پر کتوں پر ایمیونوتھراپی کے تجربات کا آغاز کیا جائیگا۔ اس حوالے سے نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ پروگرام کے ایسویسی ایٹ ڈائریکٹر ٹوبی ہیچ (Toby Hecht) کا کہنا ہے کہ کینسر کے علاج کے لئے انسٹی ٹیوٹ کو گزشتہ پانچ برس کے دوران پندرہ ملین ڈالر کی پانچ گرانٹس مل چکی ہیں اور اب ایمیونوتھراپی کے ضمن میں تجربات کے ذریعے اس امر کا سراغ لگایا جائیگا کہ یہ تھراپیز کس طرح انسانوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔ کئی دواساز ادارے ایمونوتھراپی کے کتوں پر تجربات میں ابتدائی کامیابیوں کا دعوی کر چکی ہیں۔ اس حوالے سے ہیچ کا کہنا ہے کہ کتے بالکل انسانوں کی مانند کینسر کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں کینسر کا شکار ہونے کی بعض علامات بالکل انسانوں سے مشابہت رکھتی ہیں دونوں میں کینسر سے متاثر ہونے کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ان تجربات میں اس امر کا اندازہ لگایا جائیگا کہ کینسر کے علاج کے لئے ایمیونوتھراپی کے استعمال کے یکساں فوائد حاصل کرنے کے لئے کونسا ماڈل اختیار کیا جائے۔ گزشتہ برس نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ نے آٹھ کینسر سینٹرز کے درمیان مختلف اقسام کے کینسرز کے علاج کے لئے تحقیق کےلئے فنڈنگ کی۔ اس حوالے سے ہیچ کا کہنا تھا کہ کینسر کے علاج کے لئے تحقیق کے لئے مجموعی طور پر 17 درخواستیں موصول ہوئی تھیں جس پر انسٹی ٹیوٹ نے کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ کینسر کے علاج کے لئے ایمیونوتھراپی کے طریقہ کے حوالے سے ہیچ پرامید ہیں کہ حالیہ تجربات کے ذریعے حاصل ہونے والی ڈیٹا کی مدد سے تحقیق کار کینسر کے علاج کے لئے ایمیونوتھراپی کے استعمال کے لئے ماڈل تشکیل دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان تجربات کے دوران حاصل ہونے والے ڈیٹا کو عوام کے لئے آن لائن جاری بھی کیا جائیگا۔

تحریر: ایملی ملن (Emily Mullin)

Read in English

Authors

*

Top