Global Editions

معاشرے پر خود سے چلنے والی اور برقی گاڑیوں کے کافی عجیب اثرات ہونے والے ہیں

خودمختاری اور برقی نظام کی فراہمی کے آپ کی توقعات سے بھی بڑھ کر اثرات دیکھنے کو ملیں گے۔

برقی گاڑیوں سے ہمارے سیارے کو بہت فائدہ ہوگا اور خودمختار گاڑیوں کی وجہ سے حادثات میں بھی کمی آئے گی۔ ہمیں یہ بات معلوم ہے۔ لیکن گاڑیوں کے آنے والے انقلاب کے اور کیا کیا اثرات ہوں گے؟

سب سے پہلے تو توقعات پر قابو پائیں: ضوابط کے بغیر، امریکہ میں برقی گاڑیوں کو اپنانے کی شرح میں تیزی سے اضافہ نہیں ہوگا، اور خودمختار گاڑیوں کی پہلی لہر توقعات سے کافی چھوٹی ثابت ہوگی۔  گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں اور ٹیکنالوجی کی کمپنیاں ہماری گاڑیوں کی شکل تبدیل کرنے میں لگی ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی آکر ہی رہے گی ۔ لیکن امکان ہے کہ اس میں کچھ وقت لگے گا۔

یہ دنیا کو کس طرح تبدیل کرنے والے ہیں، اس کے بارے میں اتنے یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے۔ بینیڈکٹ ایونز نے، جو سیلیکون ویلی وینچر کیپیٹل کمپنی آنڈرییسن ہوروویٹز (Andreessen Horowitz) کے پارٹنر ہیں اور ٹیک کے رجحانوں کے تجزیوں سے اچھی طرح واقف بھی ہیں، ہمارے ہائے وے پر ہونے والی خلل اندازی کے اثرات کے بارے میں، جسے انہوں نے دوسری اور تیسری ترتیب کے اثرات کا نام دیا ہے، اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایک ایسے مستقبل کا خاکہ پیش کیا ہے جو ٹیکنالوجی کی وجہ سے بنیادی طور پر ہی مختلف ہوگا۔

برقی نظام کی فراہمی پر غور کريں۔ ہمیں یہ بات تو معلوم ہے کہ اندرونی کمبسشن انجن کا خاتمہ زمین کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔ لیکن، جیسا کہ ایونزنے بتایا ہے، جب کثیر مقدار میں گیس استعمال کرنے والی گاڑیوں کا معاونتی انفراسٹرکچر ہی ختم ہوجائے گا، تو اس کے ساتھ اور بھی بہت کچھ تبدیل ہوجائے گا:گاڑیوں کی مرمت کی کئی دکانیں بند ہوجائیں گی،کیونکہ سب سے زیادہ گاڑی کی موٹر کی ہی مرمت ہوتی ہے۔ اور اب جبکہ گیس کے اسٹیشنوں کا کوئی فائدہ نہیں رہے گا، تو وہاں موجود دکانوں اور ان کی وجہ سے ہونے والی تمباکو کی فروخت کا کیا ہوگا؟

رہی بات خودکار طور پر چلنے والی گاڑیوں کی، تو اس نئی نویلی صنعت کی ہر ایک کمپنی یہی کہتی ہے کہ خودکار گاڑیوں کے انسانوں کی چلائے جانے والی گاڑیوں کے مقابلے میں حادثے کم ہوں گے۔ لیکن خود ہی چلنے والی گاڑی کے فوائد لوگوں کے نقل و حمل تک محدود نہیں ہیں:یہ خود کو ایسی جگہ پارک بھی کرلے گی جہاں انسانوں کو پارک کرنے میں دشواری ہوتی ہو، تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں بلایا جاسکے۔ اس کا مطلب ہے کہ شہر کے بیچوں بیچ زمین کے وسیع و عریض رقبوں کو، جنہيں ابھی پارکنگ لاٹ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، دوسرے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکے گا، جس کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ کی مارکیٹ درہم برہم ہوجائے گی۔

ایونز نے اس کے علاوہ اور بھی کئی مثالیں پیش کی ہیں۔ وہ برقی صنعت کے وسیع پیمانے کے اثرات کا بھی خاکہ پیش کرتے ہیں۔ گاڑی کی چارجنگ کے لئے گھریلو شمسی ذخیرے کے نظام میں چوٹی کی مانگ کا مسئلہ حل ہوسکے گا؛ زیادہ تیز چلنے والی اور آپس میں تقریبا جڑی ہوئی گاڑیوں کی وجہ سے زیادہ فاصلہ طے کیا جاسکے گا؛ اور مطالبے پر دستیاب خودکار گاڑیوں کی وجہ سے پبلک نقل و حمل کے شعبے میں بھی بڑی تبدیلیاں سامنے آئیں گی۔

ان نتائج کا امتزاج بھی کافی دلچسپ ہے۔ اگر امریکہ میں گیس اسٹیشن اور اندرون شہر میں پارکنگ لاٹ نہ رہیں، مطالبے پر دستیاب نقل و حمل پبلک نقل و حمل کے مدمقابل کھڑی ہوجائے، اور گاڑیوں کے حادثات کا مکمل خاتمہ ہوجائے، تو شہری منظرنامے میں خاصی تبدیلی آجائے گی۔ یورپ کے زیادہ تر شہر گاڑیوں کی ایجاد سے کئی صدیوں قبل بنائے گئے تھے، اور ان میں ہمیشہ ہی سے پیدل چلنے کی گنجائش موجود تھی۔ وہ بڑی آسانی سے اپنی اصلی شکل میں واپس آسکتے ہیں۔ اس کے برعکس امریکی شہروں کو گاڑیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے استعمال کا طریقہ مکمل طور پر تبدیل ہوسکتا ہے۔

اگر ایونز کا یہ منظرنامہ حقیقت کی شکل اختیار کرلے تو گاڑیوں کے ٹیکنالوجی کے انقلاب سے نہ صرف ہماری گاڑیوں میں تبدیلی آئے گی، بلکہ ہمارے ماحول بھی بدل کر رہ جائے گا۔

تحریر: جیمز کونڈلیف (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top