Global Editions

ایک سائنسدان اب بھی صاف ایندھن کے لئے لڑ رہا ہے

جدید بائیو فیول میں ایک دہائی کی سرمایہ کا کوئی فائدہ نہیں ہوالیکن جے کیسلنگ(Jay Keasling) نے ہمت نہیں ہاری۔

2008 کے اختتامی ہفتوں میں، امریکی توانائی کے ڈیپارٹمنٹ نےایمیری وائل ،کیلیفورنیا، میں جوائنٹ بائیو انرجی انسٹیٹیوٹ کی ایک تقریب میں سیاستدانوں اور میڈیا کو مدعو کیا۔125 ملین ڈالر کی وفاقی فنڈنگ کی مدد سے بننے والی سٹیٹ آف دی آرٹ لیب کی اوپر والی منزل میںچمکتے شیشوں والے دفتر کو دیکھ کر جدید قدرتی ایندھن کے لئےبڑی امیدیں پیدا ہوئیں۔

ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے چیف ایگزیکٹو اور یونیورسٹی آف کیلفورنیا میں ترکیبی ماہر حیاتیات جے کیسلنگ نے کہا ،"یہ جگہ بہترین لوگوں کو ایک جگہ پرہمارے وقت کے ایک بڑے چیلنج پرکام کے لئے ساتھ ملا رہی ہے"۔

جوائنٹ بائیو انرجی انسٹیٹیوٹ ((JBEI ( جسے جے بے کہا جاتا ہے) کا مشن سیلولوزک ذرائع سے سستا بائیو فیول پیدا کرنا تھا، مطلب یہ ہے کہ پودوں کےپتے اور تنوں سے توانائی جیسا کہ سوئچ گراس سے، نہ کہ اسکے برعکس غذائی فصلوںجیسا کہ مکئی کے دانوں سے۔
لیبارٹری کا مقصد ایتھنول سے باہر نکلنا تھا اور بغیر کاربن کےایندھن پیدا کرنے کی کوشش تھا جوکہ عام کاروں، ہوائی جہازوں،بحری جہازوں اور ٹرکوں کی ٹینکیوں کو بھرے۔ اگر وہ کامیابی حاصل کرتے تو اس سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور امریکہ کے تیل پر انحصار میںڈرامائی طور پر کمی کرنے کا وعدہ پورا ہوتا۔کیسلنگ نےاس میدان کو آگے بڑھانے کے لئے زیادہ سےزیادہ کام کیا جو ایک شخص انفرادی طور پر کر سکتا تھا اور اس طرح کے ایندھن کے وعدے کو فروخت کرنے پر ڈٹا رہا۔

جوائنٹ بائیو انرجی انسٹیٹیوٹ کو چلانے کے علاوہ، کیسلنگ نے اچھی فنڈنگ سے چلنے والے کئی سارے سٹارٹ اپ جیسا کہ LS9 اور iotechnogiesکو ساتھ ملایا تاکہ وہ اپنے ویژن کو حقیقت میں بدل سکے۔

لیکن ایک دہائی کے بعد ، بائیو فیلڈ میں تحقیق کا فیلڈ خستہ حالت میں ہے۔جے بے اور وفاقی فنڈنگ سے چلنے والی دوسری بائیو انرجی کی لیباٹریاں ابھی تک باقی ہیں لیکن جدیدبائیو فیول کی کمپنیاں جس میں کیسلنگ کی کمپنی بھی شامل ہے، نے اس خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا کام ترک کر دیا ہے۔

امریکی کمپنیاں صرف سیلولوزک ایندھن سے سلور پیدا کر رہی ہیں جو گزشتہ بش انتظامیہ کے دور کے اختتام پر مارکیٹ میں آئی تھی اور اس سے حاصل ہو نیوالی ایتھانول زیادہ تر زرعی باقیات جیسا کہ مکئی کے سٹاک سےبنتی ہے۔ اس کمی کو دیکھتے ہوئے، ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی ہر سال جدید ترین قدرتی ایندھن کے لئےٹیکس میں چھوٹ کے نوٹس جاری کرتی ہے جو کہ صنعتوں کو کو معمول کے مطابق کاروبار جاری رکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔

جوائنٹ بائیو انرجی انسٹیٹیوٹ نے سائنسی ترقی کی ہے، لیکن اگر اس ادارے کی فصلوں، تکنیکوں اور بگز کو آج تجارتی پیمانے سےہٹایا جائے تو اس کے نتیجے میں پمپ پرایندھن کی قیمت 14 گنا زیادہ ہو، اس کے مقابلے میں جو آج ہم ادا کرتے ہیں۔

سستے اور جدید بائیو فیولز کی پیداوار توقع سے کہیں زیادہ بڑا مسئلہ ثابت ہوئی جس پر کام ترک کر دیا گیا۔ جے بے میں واقع اپنے دفتر میںگذشتہ ماہ ایک انٹرویو کے دوران کیسلنگ نے تسلیم کیا ،ـ"

ہم نے شائد اس کا م کو اآسان سمجھا اور شائد اس کام کو زیادہ بیچا بھیــ"۔

اس کے باوجود بھی کیسلنگ نے ایک ایسے مستقبل کے لئے امید کا دامن نہیں چھوڑا جس میں بائیو فیول پٹرول، ڈیزل، اور جیٹ ایندھن کے لئے قابل عمل متبادل ہے۔

راتوں رات سب کچھ ختم ہو گیا

کیسلنگ ایک چھوٹے سے ٹائون نبراسکا میںمکئی کے ایک فارم میں بڑا ہوا جو کہ اس کے خاندان کے پاس پانچ نسلوں سے تھا۔ مشی گان یونیورسٹی میں کیمیکل انجینئرنگ کے دوران، وہ بڑی دشواریوں کو حل کرنے کے لئے جینیاتی انجینئرنگ کی صلاحیت سے متاثر ہوا۔ انہوں نے 28 سال کی عمر میں یونیورسٹی آف کیلفورنیا میں پروفیسر بننے سے پہلےنے سٹینڈفورڈ میںاس فیلڈ میں پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ کی۔

وہاں پر انہوں نے ترکیبی حیاتیات میں اہم کام کرتے ہوئے خمیر اور بیکٹیریا کوچھوٹی فیکٹریوں میں تبدیل کیا جو کہ ایسوپرینا ئیڈ(isoprenoids)باہر نکالتے ہیں۔ ایسوپرینا ئیڈ ربڑ، اینٹی بائیوٹکس اور سینٹ میںاستعمال ہونے والی مرکبات میں سے ایک ہے۔ سب سے زیادہ خاص طور پر، کیسلنگ اور اس کے ساتھیوں نےای کولی اور خمیر میں کئی مختلف جانداروں کاڈی این داخل کرکے آرٹیمیسین (ملیریا کی دوا) میں ایک مصنوعی ایک عمل تیار کیا جو کہ ملیریا کے کچھ مؤثر علاجوں میں سے ایک ہے۔

اس عمل کو ترکیبی حیاتیات میں پہلی حقیقی کامیابیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

آرٹیمیسینن سے نکلنے والےپیٹرولیم سے ملتے جلتے ہائیڈرکاربن اور بائیوفیول میںمالیکیول بڑی چھلانگ نہیں لگاتے ہیں۔اپنے پہلے انٹرویو میں،کیسلنگ نےاس چیز کو ایک سادہ معاملہ قرار دیا جس میں آپ کچھ جینز کو نکالتے ہیں اور ایک کو شامل کرتے ہیں۔

2008 کے آغاز میں، کیسلنگ کے ایک سٹارٹ اپ امیرس Amyris))نے دھوم مچائی کہ وہ جینیٹک خوردبینی جانداروں سے ایک بلین گیلن سالانہ بائیوڈیزل پیدا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔گنا سے پیدا ہونیوالے بائیوڈیزل کی قیمت معمولی 60بلین ڈالر ہوگی اور یہ اگلے چند سالوں میں دستیاب ہو گا۔

لیکن 2008 کے اقتصادی بحران کے دوران، تیل کی قیمتیں سال کے اختتام تک 150 ڈالر فی بیرل سے گر کر 30 ڈالر فی بیرل تک گر گئیں۔" فلیگ شپ پائینرنگ نے کیسلنگ کے ساتھ مل کرایل ایس) LS9) 2005 ء میںبنائی۔وینچر کیپٹل فرم فلیگ شپ پائینئرنگ(Flagship Pioneeringکےجنرل پارٹنر ڈیوڈ بیری(David Berry) کا کہنا ہے،"قابل تجدید معیشت ایک ایسےو قت میںمشکل چیز ہے جب تیل کی قیمتیں 30 ڈالر فی بیرل تک ہوں"۔ اس چیز سے ڈیبٹ اور سٹاک مارکیٹ راتوں رات ختم ہو گئی۔

اس چیز نے بہت ساری سٹارٹ اپ کمپنیوں کو ختم کر دیا۔اس لہر میںبیشتر بچ جانیوالی سٹارٹ اپ کمپنیوں نے دوسرے کاروباروں کی طرف رخ کیا۔ایل ایس9 نےخاص کیمیکل بنانے میں مہارت حاصل کی اور بالاآخررینوبل انرجی گروپRenewable Energy Group)) نے اسے اپنے ساتھ ملا لیا۔

امیرس، جو 2010 میں پبلک ہوا، نے کبھی بھی تجارتی پیمانے پر اپنا قابل تجدید ڈیزل تیار نہیں کیا۔

یہ اب کھانے پینے کی اشیا، جلد کی دیکھ بھال اور مصنوعی ذائقہ اورسینٹ بنانے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ ایک ترجمان نے یہ بتانے سےانکار کردیا کہ کمپنی ایندھن کے لئے کتنی قیمت حاصل کرنے کے قابل ہو گی، لیکن کیسلنگ کے مطابق اس ایندھن کی قیمت 1.75ڈالرلیٹر یا تقریباً.6.63فی گیلن ہو گی۔

ایک دہائی پہلےسستے اور اعلیٰ درجے کے بائیوفیول کی پیداوار ہمیشہ سے ہی ایک عظیم منصوبہ تھا۔

اس منصوبے کی شروعات کرنے کے لئے، آپ کو ایک بڑی مقدار میں پودوں کولگانا ،پھر ان کی کٹائی،ان کو خشک کرنا اوران کو ممکنہ حد تک صاف اور پائیدار طریقے سے پہنچانا ہے اور پھر مشکل حصہ شروع ہوتا ہے۔

پودوں کے تنوں اورپتوں سے ایندھن حاصل کرنے کے لئے توانائی سے بھرپور کاربوہائیڈریٹ کو پودوں کی سیل وال سے الگ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ عام طور پرلگنن کے مالیکیولز تیزاب، پریشر اور گرمی کی وجہ سے اکٹھے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ آپ کوخوردبینی جانداروں کی بس ضرورت ہوتی ہے جو ان کاربوہائیڈریٹس جن میں زیادہ تر سیلولوز ہوتی ہے، کو استعمال کرتے ہیں اور ایندھن کو باہر نکالتے ہیں۔ لیکن قدرتی طور پر ایسے خوردبینی جاندار کی کوئی قسم نہیں پائی جاتی کہ وہ پودوں کو استعمال کر کے اتنا ایندھن بنا سکیں جو کہ کاروں کے ٹینکوں کو بھر سکے۔لہٰذا سائنسدانوں کو اس مقصد کے لئے جینیٹک انجنیئرنگ کی ضرورت ہے۔

تمام ترکوششوں اور فنڈنگ کے باوجود، فیلڈ میںکچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گذشتہ دہائی کے دوران اس طرح کے چیلنجوں پر بہت زیادہ حقیقی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

ایم آئی ٹی میںکیمیکل انجنیئرنگ کے ایک پروفیسر گریگوری سٹیفانپولوس(Gregory Stephanopoulos) کہتے ہیں، "وسیع نقطہ نظر یہ ہے کہ بہت زیادہ تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔" "سیلولوز سے شکر سے ایندھن پیدا کرنے کا راستہ آج بھی کہیں زیادہ حوصلہ افزا نظر نہیں آتا۔"

تین ڈالر میں ایک گیلن کا حصول

کیسلنگ اس بات سے متفق نہیں ہے اور اس کے خیال میں جے بے اور دیگر دوسری لیبارٹریوں نے اہم سائنسی ترقی کی ہے۔ کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ کے محققین، جو چھ تحقیق کے لیبارٹریوں اور یونیورسٹیوں کے درمیان تعاون کے مرکز کے طور پر کام کرتی ہے، نے تقریباً 700 پیپرشائع کئے ہیں جن سےتقریباً 30 پیٹنٹس حاصل کیے گئے ہیں اور چھ سٹارٹ اپ لانچ کیے گئے ہیں۔

جے بےکے محققین نے جینیاتی طور پر سوئچ گراس Switchgrass) اور سورغم (Sorghum) کو تبدیل کیا ہے تاکہ وہ عام پودوں سے کہیں زیادہ شکر اور بہت کم لگنن پیدا کریں۔ انہوں نے لیگنن کو آئنوک مائع میں تبدیل کرنے کے لئے ایک عمل بھی تیار کیا ہے، جس میںسالٹ پودے کو توڑنے کے لئے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

آخر میں، کیسلنگ کا کہنا ہے کہ سائنسدانوں نے ایسے جینٹک انجینئرنگ سے ایسے خوردبینی جاندار تیار کئے ہیں جو کہ پودوں سے مختلف قسم کے ایندھن بنا سکتے ہیں جس میں جیٹ انجن کے لئے پینین، گیسولین کا متبادل ایسوپینٹنول اور ڈیزل کا متبادل بیسابولین شامل ہیں۔ کیسلنگ کا کہنا ہے کہ ان اجتماعی پیش رفتوں نے نیکسٹ جنریش بائیو فیول کے گیلن کی لاگت کو تقریباً 3,00,000ڈالر تک پہنچایا جبکہ یہ تجارتی پیمانے پرتقریباً35ڈالر میں شروع ہوا تھا۔

لیکن یقیناً، کوئی بھی 35ڈالر فی گیلن ایندھن کی پیداوار میں اضافہ نہیں کریگا جب اوسط گیلن گیس 2.50ڈالر ہو۔لہٰذا ب لیب تحقیق کو ایک نئے مرحلے میں منتقل کر رہی ہے اور اس کی خصوصی توجہ اس گیپ کو کم کرنے پر ہے۔پچھلے سال جولائی میںجے بے اور دوسرے وفاقی بائیوانرجی ریسرچ سنٹرز نے25ملین ڈالر سلانہ کی گرانٹ لی۔ اس سے پہلے، اس طرح کی فنڈنگ اس ادارے کو شروع میں ملی تھی۔

کیسلنگ کا کہنا ہے کہ جے بے کی فنڈنگ بارےدرخواست میں یہ بات تھی کہ یہ ادارہ اگلے پانچ سال میںتین ڈالر فی گیلن ایندھن پیدا کریگا۔ انہوں نے کہا ، "میں نہیں جانتا کہ ہم پانچ سالوں میں وہاں جا رہے ہیں۔" "اگر ہم اسے 10 سالوں میں ان اہداف کو حاصل کریں تو بھی ٹھیک ہے۔ "
کیسلنگ کا خیال ہے کہ اس حوالے سے بہتری لیگنن کی وجہ سے آئی ہے جس میں بہت زیادہ کاربن موجود ہوتی ہے لیکن بری طرح سے جڑی ہوتی ہے۔
جے بےکے محققین کو پودوں کو تبدیل کرنا پڑے گا تاکہ لگنن کو آسانی سےتوڑا جا سکے۔ اس کے بعد انہیں لیگانیز کو تبدیل کرنا پڑتا ہے جو کہ انزائم ہیں اور کاربن کو توڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ آخر میں، ان کو نئے خودبینی جانداروں کے سیٹ تیار کرنے کی ضرورت ہے جو باقی مرکبات کو ایندھن میں تبدیل کرسکتے ہوں۔تین ڈالر فی گیلن کے منصوبہ کے آخر میں اہم نقطہ یہ ہے کہ ایسے طریقے ایجاد کیے جائیں جس قدرتی ایندھن کی قیمت اس حد کو کراس نہ کرے۔

طلب میں مقابلہ

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تجزیہ کے مطابق دنیا کے لئے عالمی درجہ حرارت کو 2 سینٹی گریڈ سے زیادہ بڑھنے سے روکنے کا ایک مہذب موقع ملے گا، جس میں بائیو انرجی2060تک توانائی کی ٹوٹل ڈیمانڈ کا 17فیصد مہیا کرے گی۔یہ مقدار2015کے تخمینوں سے4.5فیصد زیادہ ہے۔

لیکن ابھی تک توانائی کی پیداوارعالمی توانائی ایجنسی کے اہداف سے کافی کم ہے۔ دیگر دوسری چیزوں کے علاوہ، آنے والی دہائیوں میں ٹرانسپورٹ بائیو فیلولز کی فراہمی میں دس گنا اضافہ ہوگا۔

عالمی توانائی ایجنسی کی 2011میںمکمل کی گئی رپورٹ میںاندازہ لگایا گیا ہے کہ بائیو فیول کے لئے زمین درکار ہونے کے تخمینہ میں تغیر ہے لیکن نصف صدی تک ٹرانسپورٹ کی بائیوفیول کی ضروریات کو پو

ا کرنے کے لئے 100 ملین ہیکٹر زمین وقف کرنا ہوگی ۔ یہ زمین امریکہ میں زراعت کے لئے مختص زمین کا نواں حصہ بنتی ہے۔

سٹینفورڈ وڈز انسٹی ٹیوٹ(Standford Woods Institute) کے ڈائریکٹر کریس فیلڈ (Chris Filed)کا کہنا ہے ، "ہمارے پاس زمین کے حصول کے لئے طلب کی ایک بہت بڑی تعداد ہے لیکن بائیوماس توانائی بنانے کے لئے رکاوٹوں کاامکان ہے۔"

اس حوالے سےایک اورسنجیدہ چیلنج اعلیٰ درجے کے بائیو فیول کی پیداوار ہے جو کہ مجموعی طور پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کوکم کرے۔ پودے لگانے سےپیداوار تک ہر قدم کا مقصد توانائی پیدا کرنا ہے۔ اس لئے اس سارے عمل کی تفصیلات رکھنا ایک بڑا کام ہے۔ خاص طور پر، محققین پریشان ہیں کہ اگر بائیو فیول کی مارکیٹ شروع ہو جاتی ہے تو اس کے منفی اثرات بھی شروع ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسان بائیو فیول کے حصول کے لئے وہی فصلیں اگانا شروع کر دیں گے، جن سے ان کو فائد اہو ور وہ جنگلات کو ختم کرنا شروع کر دیں گے۔

لیکن ان چیلنجوں کے باوجود، واضح وجوہات ہیں کہ بہت سے لوگ اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ بائیو فیول گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ امریکہ میں، آدھے سے زیادہ آلودگی گاڑیوں، ٹرکنگ، شپنگ اور جہازوں کی نقل و حرکت کے استعمال سے آتی ہے۔ بیٹریاں سے چلنے والی گاڑیوںکے باوجود، ٹرانسپورٹ کے شعبے کو صرف قدرتی ایندھن سے چلایا جا سکتا ہے۔

اروزینا اسٹیٹ یونیورسٹی(Arizona State University) میں متبادل ایندھن اور گاڑیوں پر توجہ مرکوز کرنے والی ایک پولیٹیکل سائنسدان ہنا بریٹرز Hanna Breetz)) کا کہنا ہے کہ جب بات چلنے والی اور گھنی توانائی کی اسٹوریج پر آتی ہے تو مائع ایندھن کو آسانی سے شکست دینے میں بہت مشکل ہوتی ہے، خاص طور پر جب دنیا نے توانائی کے بنیادی ڈھانچہ کی تعمیراس کے ارد گرد کی ہے۔

وہ کہتی ہیں ،"مائع ایندھن مستقبل میں ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں ساتھ چلنے جا رہے ہیں، اور میں امید کرتی ہوں کہ بائیو ایندھن اس شعبے کا حصہ ہوں گے۔"

یہاں تک کہ اگر اگلے چند سالوں میں لیبارٹریوں کو بائیو فیول میں مسلسل ترقی ملتی ہے، تو بھی موجودہ ایندھن کی جگہ لینے کے لے کئی دہائیاں لگیں گی کیونکہ اس شعبے میں تیل نکالنے اور ریفائنری میں ٹریلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔کیسلنگ کا کہنا ہے موجودہ توانائی کے ذرائع سے بائیو فیول پر منتقلی کے لئے حکومتی مدد، معیاری ایندھن بنانے اورکاربن کی قیمت کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہوگی۔

یہ ایسا لگتا ہے جیسے آپ کسی ایسے شخص سے بہت پوچھ گچھ کر رہے ہوںجس کی لیبارٹری کو لاکھوں ڈالر حکومتی فنڈز دے گئے ہوں اور جس کے سٹار ٹ اپ نے اتنی ہی رقم اس طرح کے کاموں میں پھونکی ہو۔ لیکن کیسلنگ کا کہنا ہے کہ بائیو فیول ایک مستحکم انڈسٹری کو متبادل فراہم کریگا جو کہ ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرے کو کم کر سکے گا۔

جو چیز کیسلنگ کو پریشان کرتی ہے وہ یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں بائیو فیول کے حوالے سے پالیسیوں میں کمی آئی ہے۔ لیکن سیاسی اور سائنسی ناکامیوں کے باوجود ، وہ مطمئن ہے کہ بائیو فیول سے کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی۔

کیسلنگ کا کہنا ہے ،"جب ہماری حکومت فیصلہ کرے گی کہ بائیو فیول کو ترجیح دینے کا وقت آ گیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ بائیوفیول ایک بڑا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔"

تحریر:جیمزٹیمپل(James Temple)

Read in English

Authors
Top