Global Editions

روم ٹمپریچر پر سپر کنڈیکٹویٹی اب دور نہیں

کیمیا دانوں نے ایک ایسا مواد ڈھونڈ لیا ہے جو شمالی قطب پر سے زیادہ درجہ حرارت پر سپر کنڈکنگ کے رویے کا مظاہر کر سکتا ہے۔ یہ کام سپر کنڈیکٹویٹی کو روم ٹمپریچر پر لاتا ہے۔سپر کنڈیکٹویٹی ایک ایسا عجیب مظہر ہےجو زیرو برقی مزاحمت پر اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب کسی مواد کو خاص درجہ حرارت سے نیچے ٹھنڈا کیا گیا ہو۔

بہترین سپر کنڈکٹرز کو مائع ہیلیم یا نائٹروجن کے ساتھ ٹھنڈا کرکے کام لیا جاتا ہے(اکثر کم از کم منفی250 سنٹی گریڈ یا منفی480فارن ہائیٹ)۔ محققین کا بہترین خیال یہ ہے کہ مواد کو نام نہاد روم ٹمپریچر پرتقریباً زیرو سنٹی گریڈ پر سپر کنڈکٹر بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ایسی چیز کبھی دریافت ہو جاتی ہے تو یہ ٹیکنالوجیوں کے لئے راستے کھولے گی جس میں سپر تیز رفتار کمپیوٹر اور ڈیٹا ٹرانسفر شامل ہیں۔

سپر کنڈیکٹویٹی کی تاریخ زیادہ درجہ حرارت والےمشتبہ دعوئوں سے بھری ہوئی ہے جن کو بعد میں پیدا کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ درحقیقت ماہر طبیعات نے اس چیز کو ایک نام دیا ہے جسے یو ایس او یا نامعلوم سپرکنڈکٹنگ اشیاء کہتے ہیں۔

لہٰذا سپر کنڈیکٹویٹی کے نئے دعوئوں کو کو احتیاط سےدیکھنا ہوگا۔ یہ کہنے کے بعد، خبر یہ آئی ہے کہ سپر کنڈیکٹویٹی کا ریکارڈ توڑ دیا گیا ہے اور اس کی تفصیلات دیکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ کام میخیل اریمٹس اور اس کے ساتھیوں نے میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری کی لیب میں مینز ، جرمنی میں کیا ہے۔ ارییمیٹس اور اس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے لینتھیم ہائیڈرائیڈ کو250کیلون یا منفی23سنٹی گریڈ پر سپرکنڈیکٹنگ کرتے مشاہدہ کیا ہے۔

یہ چیز شمالی قطب پر موجودہ درجہ حرارت سے زیادہ گرم ہے۔ ٹیم کا کہنا ہے ، “ہمارا مطالعہ روڈ سے روم ٹمپریچر کی طرف ایک چھلانگ ہے” ( اس تجربے میں درجہ حرارت بہت زیادہ انتہائی دباؤ میں گیا: 170 گیگاپاسکل یا زمین کے مرکز پر تقریباً آدھا دباؤ۔)

اس ایریا میں اریمیٹس کی ایک شاندار پیڈگری ہے۔ اس بلاگ کے طویل عرصے والے قارئین کو 2014 میں بہت زیادہ درجہ حرارت پر سپرکنڈیکٹویٹی کا ریکارڈ توڑنے کا یاد ہو گا۔ اس موقع پر اس کی ٹیم ہائیڈروجن سلفائیڈ کی منفی80 سنٹی گریڈ پر سپر کنڈیکٹویٹی ریکارڈ کرنے کے قابل تھی جو کہ کسی بھی مواد سے 10 ڈگری سنٹی سے زیادہ گرم تھا۔ بعد میں انہوں نے اس کو منفی 70 ڈگری سنٹی گریڈتک بڑھا دیا اور اس کو نیچر رسالے میں بڑی تعریف کے ساتھ شائع کیا۔لیکن ماہر طبعیات کے لئے تعجب کی چیز مواد کی نوعیت تھی۔

سپر کنڈیکٹویٹی کو روایتی سپرکنڈکٹرز میں اچھا سمجھا جاتا ہے جو الیکٹرانوں کے سمندر میں منسلک مثبت آئنوں کی سخت لچکدار ہیں۔ برقی مزاحمت اس وقت ہوتی ہے جب الیکٹران الیکٹروڈزمیں سست ہوجاتے ہیں جبکہ سپر کنڈیکٹویٹی اس وقت ہوتی ہے جب مواد کو اس نقطہ پر ٹھنڈا کر دیا جاتا ہے جہاں میکانی صوتی لہریںکے لئے نکلنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ لہریں چلتے ہوئےلیٹس کوخراب کر دیتی ہیں۔ اور الیکٹران اس خرابی پر “سرف” کیے جا سکتے ہیں۔
حقیقت میں، کم درجہ حرارت پر، الیکڑان ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر نام نہاد کوپر جوڑا بناتے ہیں۔ اور کوپر جوڑا سپر کنڈیکٹویٹی بناتا ہے۔جیسے ہی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے، کوپر جوڑے الگ ہوجاتا ہے اور سپرکنڈیکٹویٹی رک جاتی ہے۔ یہ تبدیلی اس وقت ہوتی ہے جس کو “اہم درجہ حرارت” کہا جاتا ہے۔

2014 سے پہلے، اس طرح کے سپر کنڈیکٹویٹی کے لئے سب سے زیادہ اہم درجہ حرارت تقریباً 40 کیلون یا منفی 230ڈگری سنٹی گریڈ تھا۔ درحقیقت، بہت سارے ماہرین طبیعات نےاس قسم کی سپر کنڈیکٹویٹی کوزیادہ درجہ حرارت پر ناممکن سمجھا تھا۔اسی وجہ سے اریمٹس کا اعلان بہت غیر معمولی تھا۔ ہائڈروجن سلفائڈ ایک روایتی سپرکنڈکٹر ہے جس کا رویہ ایسا ہوتا ہے جسے بہت سارے افراد ناممکن سمجھتے ہیں۔

1986 میں ماہرین طبعیات نے سرامک مواد میں سپر کنڈیکٹویٹی کی180کیلون یا مائنس 90سنٹی گریڈ پرمکمل طور پر مختلف شکل دریافت کیا۔

اریمٹس کی دریافت نے تھیوری میں سپر کنڈیکٹویٹی کے بارے میں ایک نئی جہت ڈال دی۔ اتفاق رائے یہ ہے کہ ہائیڈروجن سلفائیڈ میں، ہائیڈروجن آئن لیٹس بناتے ہیں جو کوپر جوڑے کو زیرو مزاحمت کے ساتھ جوڑتا ہے جب درجہ حرارت ایک خاص سطح سے کم ہوتا ہے۔

یہ بڑے درجہ حرارت پر ہوسکتا ہے کیونکہ ہائیڈروجن بہت ہلکا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ لیٹس تیز رفتار پر اور اس وجہ سے زیادہ درجہ حرارت پر ارتعاش کر سکتا ہے۔ لیکن لیٹس کو اسے اپنی جگہ پر مضبوطی سے روکنا پڑتا ہے تاکہ یہ نہ ٹوٹے ۔ اس وجہ سے سپرکنڈیکٹویٹی صرف بہت زیادہ دباؤ پر کام کرتی ہے۔

اس کے بعد سے، دیگر مواد پر کافی تھیورٹیکل اور کمپیوٹنگ کام ہوا ہے تاکہ ان کا زیادہ درجہ حرارت پر سپر کنڈیکٹویٹی کا اندازہ لگایا جا سکے۔ اس طرح کے موادوں میں سے ایک لیتھنم ہائیڈرائیڈ ہے جس پر اریمٹس اور اس کے ساتھی کام کر رہے ہیں۔

دریافت کہ لیتھنم 250 کیلو ن پر سپر کنڈیکٹویٹی کرتی ہے، نہ صرف اریمٹس اور اس کی ٹیم کی کامیابی ہے بلکہ تھیوری کے طریقوں میں بھی کامیابی ہے۔اریمٹس اور اس کے ساتھیوں کا کہنا ہے، “50 کیلون کی چھلانگ جو کہ203 کیلون تک پہنچ گئی ہے، سپر کنڈیکٹویٹی کو مستقبل قریب میں روم ٹمپریچر پر لانے کی طرف اہم قدم ہے۔”

تاہم ابھی تک کچھ کام آگے ہوناہے۔ماہرین طبیعیات کو قائل کرنے کے لئے تین مختلف جگہوں سے ایڈوائس کی ضرورت ہوتی ہے کہ واقع سپر کنڈیکٹویٹی وقوع پذیر ہو رہی ہے۔ یہ خصوصیت تب واقع ہوتی ہے جیسے درجہ حرارت میں کمی ہوتی ہے۔اریمٹس نے اس چیز کی نشاندہی کی ہے۔

دوسری چیز میں نمونہ کے عناصر کو بھاری آئسوٹوپس کے ساتھ تبدیل کرنا ہے۔یہ چیز لیٹس کو مختلف شرح سے ارتعاش دیتی ہے اور اس کے مطابق خاص درجہ حرارت کو تبدیل کرتی ہے۔ اریمٹس اور اس کے ساتھیوں کے پاس ثبوت ہیں اور انہوں نےاپنے نمونوں میں ہائیڈروجن کو ڈیوٹریم کے ساتھ تبدیل کیا ہےاورخاص درجہ حرارت کو اندازے کے مطابق168کیلون پر گرتے دیکھا ہے۔

سپر کنڈیکٹویٹی واقع ہونے کی تیسری شہادت کو میسنر ایفیکٹ (Meissner effect)کہا جاتا ہے: ایک سپر کنڈکٹر کو کسی مقناطیسی میدان کو دور پھینکنا چاہیے۔ اس مقام پر اریمٹس اور اس کے ساتھیوں نے جدوجہد کی ہے۔  ان کے نمونے بہت چھوٹےہیں جو کہ صرف چند مائیکرو میٹر ہیں، اور ڈائمنڈ اینول سیلز میں ہائی پریشر میں اندر ہوتے ہیں۔ اس چیز کو محققین ابھی تک اس براہ راست پیمائش کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں باوجود اس کے کہ ان کے پاس کچھ دوسرے مقناطیسی ثبوت موجود ہیں۔

اس حتمی دستخط کے بغیر، ماہرین طبعیات اریمٹس کے کام کو پوری طرح سے گلے سے نہ لگائیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ اریمٹس اور اس کی ٹیم سخت محنت کر رہی ہے۔

اس دوران، یہ کام دوسرے حلقوں میں کچھ واضح مواقع دیتاہے۔ کمپیوٹنگ ماڈلز سے پتہ چلتا ہے کہ یٹرییم سپر ہائیڈرائیڈ 300کیلون سے بھی اوپرصیح روم ٹیمپریچرپر زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔ (اگرچہ یہ درجہ حرارت زمین کے مرکز عام طور پرپایا جاتا ہے)۔
لہٰذا ایک فارم یا کسی اور میں کمرے کے درجہ حرارت پر سپر کنڈکٹربا لکل دور نہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کو بہترکس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تحریر: اےآرزائیو

Read in English

Authors

*

Top