Global Editions

لیبارٹری میں گوشت تیار کرنے کی دوڑ

گوشت کی پیداوار کئی ٹن گرین ہاؤس گیسز خارج کرتی ہے اور بہت زیادہ زمین اور پانی کا استعمال ہوتا ہے۔ کیا اس چیز کا کوئی متبادل ہے جو ان چیزوں کے بغیر ہو؟

2013 میں دنیا کے پہلے مکھن والے برگر کولیب میں تیار کیا گیا اور اسے ایک پریس کانفرنس میں کھایا گیا۔ برگر بنانےپر 215,000 پائونڈ خرچ آیا ( جو کہ اس وقت 330,000 امریکی ڈالرتھا) ۔خرچ کرنے کے باوجود اور میڈیا کے تمام جوشیلے اور تنقید والے رویے کے باوجود اس برگر کو چکھنے والے شائستہ تھے لیکن زیادہ متاثر نہیں تھے۔ کھانے کے ایک ناقد نے کہا کہ یہ برگر گوشت کے قریب قریب ہے لیکن زیادہ رسیلا نہیں۔

اس برگر کو بنانے کا خرچہ گوگل کےشریک بانی سرجی برئن ( (Sergey Brin نے اٹھایا اور اس میں شروع والی ایک تکنیک سیلولر ایگریکلچر کا استعمال کیا گیا جس میں کھانے والی مصنوعات کو بغیر کسی چیز کے بنایا جاتا ہے اور اس مقصد کے لئےکسی مردہ جانور کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس سے پہلے سے ہی موجود ہیں: “پودے پر مبنی” گوشت بغیر جانوروں کے تیار کیا جاتا ہے اور ذائقہ اور بناوٹ میں اصلی گوشت کی طرح لگتا ہے۔ ان خلیات کو بائیو ری ایکٹر میں پھینکا جاتا ہے اور خاص غذائی اجزاء دیے جاتے ہیں۔

اس سے پہلے سے ہی موجود ہیں: “پودے پر مبنی” گوشت بغیر جانوروں کے تیار کیا جاتا ہے اور ذائقہ اور بناوٹ میں اصلی گوشت کی طرح لگتا ہے۔ یہ گوشت پہلے سے ہی مارکیٹ میں موجودہے۔ اس ایریا میں سب سے بڑا نام امپوسیبل فوڈز(Impossible Foods) کا ہے جن کا گوشت امریکہ اور ایشیا کی بڑی ہوٹلوں اور فوڈ چینز پر موجود ہے اور اس سال کے آخر میں سپر مارکیٹوں میں ہونا چاہئے۔ امپوسیبل فوڈز کے 100 سے زائد سائنسدانوں اور انجینئرز گیس کرومیٹریگرافی اور ماس سپیکٹرمیٹری جیسی تکنیک کا استعمال کرتے ہیں اور خطرناک مالیکیول کی شناخت کرتے ہیں جب کھانا پکایا جاتا ہے۔

اس فارمولے کی پہچان آکسیجن لے جانے والے مالیکیول ہیم ہیں جس میں آئرن شامل ہوتا ہے ۔ آئرن سے یہ رنگ اور دھات کی سی شکل اپناتا ہے۔گوشت کا استعمال کرنے کی بجائے امپوسیبل فوڈز پر جینیاتی طور پر نظر ثانی شدہ خمیر کا استعمال کرتے ہیں جو کہ بعض پودوں کی جڑوں میں پائے جاتے ہیں۔

امپوسیبل فوڈز کےچند حریف ہیں خاص طور پر بےوائونڈ میٹ(Beyond Meat) جو کہ دوسرے اجزا کے ساتھ مٹروں کی پروٹین کا استعمال کرکےبڑے گوشت کا متبادل دیتے ہیں۔ اس کی مصنوعات سپرمارکیٹ چینزجیسا کہ برطانیہ میں ٹیسکو اور امریکہ میں ہول فوڈز(Whole Foods) کے ساتھ حقیقی گوشت اور چکن کے ساتھ فروخت ہوتی ہیں۔ امپوسیبل فوڈز اوربےوائونڈ میٹ دونوں نے جنوری کے وسط میں اپنےنئے اور بہتر ورژن جاری کیے ۔

اس کے برعکس کسی بھی لیب میں تیارشدہ گوشت والے سٹارٹ اپ نے اپنی تجارتی مصنوعات کی لانچ کے لئے تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ لیکن جب ایسا ہوتا ہے جیسا کہ کچھ نےاس کا دعویٰ کیا تو اس سال کے اختتام پرلیب میں تیار شدہ گوشت کی اپروچ روایتی گوشت کی صنعت کو آڑے ہاتھوں لے سکتی ہے۔

سیلولر ایگریکلچر میں تحقیق کے لئے فنڈ مہیا کرنے والی تنظیم نیو ہارویسٹ (New Harvest) کو لیڈ کرنے والی ایشہ ڈاٹار(Isha Datar) کہتی ہیں،”مجھے شک ہے کہ کلچرڈ گوشت وہ کام کر دے جو پودوں سے حاصل شدہ پروٹین نہ کر سکے خاص طور پرذائقہ، غذائیت اور کارکردگی کے لحاظ سے۔” ایم آئی ٹی میڈیا لیب میں ایک خلیات کے بائیولوجسٹ اور فیلو ڈاٹار کا خیال ہے کہ کلچرڈ گوشت پودوں والے گوشت کی نسبت حقیقی گوشت سےزیادہ ملے گا خاص طور پر غذائیت اور فنگشن کے حوالے سے۔ خیال یہ ہے کہ ایک بڑا میرے جیسا گوشت خور حقیقی چیز کو چھوڑنے کے بارے میں سوچ نہیں سکتا۔

آپ پوچھ سکتے ہیں کہ کیوں کوئی ایسا کرنا چاہتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ ہمارے گوشت کھانے کی عادت پائیدار نہیں ہے۔

گوشت کے لئے پالے جانے والےجانور پہلے سے ہی دنیا کے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تقریباً 15 فیصد حصہ ڈالتے ہیں۔ (آ پ نے سنا ہوگاکہ اگر کوئی ملک گائیوںکا ہو تو یہ دنیا میں تیسرا سب سے بڑا گرین ہائوس گیسوں کا ذریعہ ہو گا) زمین کا چوتھا حصہ انہیں چرانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور تیسرا حصہ ان کے لئے گھاس اگانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔  اندازہ لگایا گیا ہے کہ آبادی 10 ارب تک پہنچنے کی توقع ہے اور انسان 2050 تک 70 فیصد زیادہ گوشت کھائیں گے۔ غذا کی پیداوار سے گرین ہاؤسنگ گیسوں میں 92 فیصد تک اضافہ ہو گا۔

جنوری میں 37 سائنسدانوں نے دی لینسیٹ (The Lancet)میں رپورٹ کیا ہے کہ گوشت کے مضر اثرات نہ صرف ہماری صحت پر ہیں بلکہ یہ لوگوں کے لئے اور زمین کے لئے عالمی خطرہ ہیں۔  اکتوبر 2018 میں نیچر رسالےنے اپنے ایک مطالعہ میں کہاکہ اگر ہم اپنے سیارے کے قدرتی وسائل کو ضائع نہیں کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی غذا تبدیل کرنے کی ضرورت ہو گی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماحولیاتی استحکام میں ایک محقق اور ماحولیاتی پیپر کے سرپرست اور نیچر پیپر کے لیڈ مصنف مارکو سپرنگمین کا کہنا ہے، “زیادہ پلانٹ پر مبنی غذا کی تبدیلیوں کے بغیر،” ماحولیاتی تبدیلی کی خطرناک سطح سے بچنے کا بہت کم موقع ہے۔ “

اچھی خبر یہ ہے کہ اب زیادہ تعداد میں لوگ جو کچھ کھاتے ہیں ، اس پر غور بھی کرتے ہیں۔ نیلسن میں ایک حالیہ رپورٹ میں پتہ چلا کہ پودوں پر مبنی غذا کی فروخت ایک سال پہلے کی نسبت 2018 میں 20 فیصد زیادہ تھی۔ سبزی خور اب مین سٹریم ہو رہا ہے۔

ایک حالیہ گیلپ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ میں ان لوگوں کی تعداد جو سبزی خور ہیں ،وہ 2012 سے اب تک بہت کم تبدل ہوئی ہے اور ان کی تعداد تقریباً 3 فیصد ہے۔ اس کے باوجود امریکی کم گوشت کھاتے ہیں بیشک گوشت کھانا کم نہیں کر رہے۔سرمایہ کاروں کو لگ رہا ہے کہ یہ رفتار جاری رہے گی۔سٹارٹ اپس جیسا کہ موسامیٹMosa Meat)) ( جس کے شریک بانی 215,000 پائونڈ برگر بنانے والےسائنسدان مارک پوسٹ تھے)، میمفیس میٹ، سپرمیٹ،جسٹ اور فینلیس فوڈز نے اس فیلڈ میں اچھی خاصی سرمایہ کاری کی ہے۔ اب دوڑ سب سے پہلے یہ ہےکہ ایسی مصنوعات کو قابل قبول قیمت پر بازار میں لایا جائے۔

میمفیس میٹ کے پراڈکٹ اور ریگولیشن کے وی پی ایزک شکولز اپنی مصنوعات کو حقیقی گوشت کی صنعت کا مقابلہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ” کھانے کی ایک امیر ثقافت میں ہم ایک پائیدار خوراک کی روایات میں ایک نئی چیز لا رہے ہیں۔ “ہم دنیا کا پیٹ بھرنے کے لئےخود کو ایک اور یا نہیں حل کی طرف لے جا رہے ہیں تاکہ ہم دنیا کی کھانے کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔

روایتی گوشت کی صنعت اس طرح سے نہیں ہے۔ امریکہ میں دی نیشنل کیٹل من بیف ایسوسی ایشن (The National Cattlemen’s Beef Association)نے اسے نیا “جعلی گوشت” قرار دیا ہے۔ اگست 2018 میں ریاست مسوری نے اس قانون کو نافذ کیا جس میں گوشت کی حیثیت سے کسی بھی متبادل مصنوعات پر لیبل لگانے پر پابندی لگا دی۔ جو گوشت جانوروں یا چکن سے حاصل کیا گیا ہو، اس پر صرف لفظ “گوشت” لکھا جا سکتا ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ یا ایک سال جیل کی سزا ہوسکتی ہے۔

متبادل گوشت کی صنعت واپس لڑ رہی ہے۔ گڈ فوڈ انسٹی ٹیوٹ جو کہ پودوں سے حاصل کئے گئے اور لیب میں تیار کئے گئے گوشت کے لئے کمپین کر رہا ہے ، نے ٹوفرکی (1980 کے دہائی سے ایک ٹافو گوشت کامتبادل بنا رہے ہیں)، امریکی سول لبرٹیز یونین اور اینمل لیگل ڈیفنس فنڈ کے ساتھ اشراک کیا ہے تاکہ پابندی کاخاتمہ کیا جا سکے۔

انسٹی ٹیوٹ کی پالیسی ڈائریکٹر جیسیکا المی کا کہنا ہے کہ قانون نامعقول ہے اور آزادی اظہار کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے، “اس قانون کے پیچھے سوچ یہ ہےکہ پودوں سے حاصل کیے گئے گوشت کی اپیل کو کم کیا جائے اورکلچرڈ میٹ کی حوصلہ شکنی کی جائے جب یہ مارکیٹ میں آئے۔”

المی کا کہنا ہے کہ ان کو یقین ہے کہ ان کا مقدمہ کامیاب ہوجائے گا اور جلد ہی یہ پابندی معطل ہو جائے گی۔ لیکن مسوری کی جنگ صرف ایک جدوجہد کا آغاز ہے جو کئی سال چل سکتی ہے۔ فروری 2018 میں امریکی کیٹل من ایسوسی ایشن نے امریکی محکمہ زراعت کودرخواست دی کہ اس طرح کا وفاقی قانون نافذ کیا جائے۔

روایتی گوشت انڈسٹری کے گروپس کلچرڈ میٹ اور پودوں سے حاصل کئے گئے گوشت کی ریگولیشن کے لئے متحرک ہیں۔گزشتہ موسم گرما میں امریکہ میں سب سے بڑی زرعی تنظیموں کا ایک گروہ ( جسے​​”برنارڈ”(Barnyard) کہا جاتا ہے) نے صدر ٹرمپ کو لکھا کہ وہ یقینی بنائیں کہ امریکی محکمہ زراعت کلچرڈ میٹ کی نگرانی کرےگا۔امریکی محکمہ زراعت کی انسپکشن فوڈ اور ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے مقابلے میں زیادہ سخت ہیں)۔نومبر 2018 میں یو ایس ڈی اے اور ایف ڈی اے نے آخر میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے کہ دو نوںریگولیٹر لیبارٹری میں بنائے گئے گوشت کی نگرانی کریں گے۔

کچھ کلچرڈ میٹ کے سٹارٹ اپس کا کہنا ہے کہ ریگولیشن کے اوپر کنفیوژن واحد ایسی چیز ہے جس نے انہیں روک رکھا ہے۔ ایک فرم جسٹ کا کہنا ہے کہ اس سال اس گرائونڈ “چکن” کی پیداوار شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور لیبارٹری میں خلیوں سے بنا “وگیو بیف(Wagyu beef)” جاپانی فرم کے اشتراک کے ساتھ بنا رہی ہے۔ اس کے سی ای او جوش ٹیٹرک ہیں جنہوں نےپہلے ہی متنازعہ سٹارٹ اپ ہامپٹن کریک کی بنیادرکھی تھی جو کہ جسٹ سے پہلےتھا۔ (ایف ڈی اے نے ایک دفعہ اس کمپنی کی مائونیز پر ایسا لکھنے سے منع کر دیا تھا کیونکہ اس میں انڈے شامل نہیں تھے)۔ ٹیٹرک ایک تند و تیز اوربا اعتماد نوجوان ہے اور متبادل گوشت کے لئے پر جوش ہے۔اس کا کہنا ہے مارکیٹ شروع کرنے کے لئے صرف (حد )ریگولیٹری ہے۔”

وہ پر امید ہے۔ لیب گوشت کی تحریک کواب بھی بڑی تکنیکی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ایک تکنیکی مسئلہ یہ ہے کہ اس کی مصنوعات کو فیٹل بوائن سیرم-ایف بی ایس Fetal bovine serum-FBS))کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایف بی ایس کوحاملہ گائیوں کے ذبح کے دوران حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ واضح طور پر
بغیر ظلم والی مصنوعات کے لئے ایک واضح مسئلہ ہے۔ ایف بی ایس مہنگا بھی ہوتا ہے۔ یہ بائیو فارماسوٹیکل انڈسٹری اور بنیادی سیلولر تحقیق میں بہت تھوڑی مقدار میں استعمال ہوتا ہے۔

کلچرڈ گوشت میں اس کی وسیع مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمام لیب گوشت تیار کرنے والے سٹار ٹ اپس کو اس کا کم استعمال کرنا پڑے گا یا اسے مکمل طور پر ختم کرنا پڑے گا تاکہ وہ اپنی مصنوعات کو سستا بیچ سکیں۔ گزشتہ سال فینلیس فوڈ (جس کا مقصد مچھلی کے بغیر ٹانا ورژن بنانا ہے) نے رپورٹ کیا ہے کہ اس نے ایف بی ایس کی مقدار کو کم کیا ہے اور شکولز کا کہنا ہے کہ میمفیس میٹس کی ٹیم اسے مکمل طور پرختم کرنے کے لئے کام کررہی ہے۔

نیو ہارویسٹ کے ڈاٹار کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ بھی دیگر مسائل موجود ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ہم ابھی بھی بنیادی عمل کو اچھی طرح سے زیادہ نہیں سمجھتے ہیں۔ جب تک ہم طبی تحقیق میں استعمال ہونے والی جانوروں پر تحقیق نہیں کر لیتے جیسا کہ لیبارٹری والے چوہوں پرہمارا سیلولر سطح پر زرعی جانوروں پر ہمارا مطالعہ بہت کم ہے۔ ان کا کہنا ہے، “میں بہت حوصلہ افزائی اور وی سی ایز کی سرمایہ کاری دیکھ رہی ہوں لیکن سائنس اور مادی ترقی میں بہت کچھ نہیں دیکھتی۔اس عمل کے لئے ٹیکنالوجی کو بڑھانا مشکل ہو گاکیونکہ پیچیدہ حیاتیاتی نظام کے ردعمل اور بڑھوتری کو سمجھنا مشکل ہے۔

لیب میں تیار شدہ گوشت کے ساتھ ایک اور مستحکم مسئلہ ہے۔ پٹھوں کے خلیات خالص گوشت کے ٹشو پیدا کرتے ہیں، لیکن ان میں کسی برگر یا سٹیک والے اجزا نہیں ہوتے ہیں۔ گوشت میں چکنائی وہ چیز ہے جو اسے ذائقہ اور نمی دیتی ہے، اور اس کی بناوٹ کو ٹھیک اسی طرح سے بنانا مشکل کام ہے۔ پودوں سے حاصل کیے گئے گوشت نے پہلے ہی سے دشواری سیل کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس مسئلہ کا حل نکالا ہے جس میں اسے گوشت کی شکل دینے کے لئےپودوںکی پروٹین استعمال کی جاتی ہے۔ لیکن اگر آپ گوشت سے پاک “سٹیک” بنانا چاہتے ہیں تو کچھ اور کام کرنے کی ضرورت ہے۔کلچرڈ گوشت کو چربی کے خلیوں کو بڑھانے کے لئے ایک طریقہ کار کی ضرورت ہوگی۔یہ کام کافی محنت طلب ہے۔ اس وجہ سے پہلا برگرمنہ میں خشک لگا۔

نیدرلینڈ میں کلچرڈ میٹ کے سٹارٹ اپ میٹ ایبلMeable)) نے شاید اس مسئلہ کا حل نکالا ہے۔ ٹیم نے میڈیکل اسٹیم سیل پر تحقیق کی ہے تاکہ وہ نوزائیدہ بچھڑوں کے پیٹنٹ سٹیم خلیات کو الگ کرنے کا طریقہ ڈھونڈیں۔پلوری پوٹنٹ خلیات جو کہ ایمبریو میں بنتے ہیں، جسم میں کسی بھی قسم کے خلیات میں بڑھنےکی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لیب میں بننے والےگوشت کے لئے پٹھوں، یا جگر کے خلیوں کو بھی تشکیل دے سکیں گے۔
میٹ ایبل کے کام سے پتا چلتا ہےکہ خلیوں کوسٹیک کی طرح پیداوار کے لئے موڑا جا سکتا ہے جس کا انحصار چربی اور پٹھوں پر ہوتا ہے۔اور اس چیز کو گاہک کی پسند کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے: مثال کے طور پر اس میں سٹیک کی تمام خصوصیات ہوتی ہیں۔ میٹ ایبل کےسی ٹی او ڈان لیوننگ جو کہ نان پرافٹ سیلولرایگریکلچر سوسائٹی کے ریسرچ ڈائریکٹر بھی ہیں، کا کہنا ہے: “پلوری پوٹینٹ خلیات ہارڈ ویئر کی طرح ہیں۔اس میں ڈال کر آپ ان کو جیسا چاہیں چلا سکتے ہیں۔ یہ پہلے سے ہی خلیات میں موجود ہیں۔ آپ کو صرف اس کو چلانے کی ضرورت ہے۔ “

لیکن محققین کا کام بھی دلچسپ شکل اختیار کر چکا ہے کیونکہ انہوں نے ایف بی ایس کے مسئلے کےکا ایک طریقہ پایا ہے: پلوری پوٹینٹ خلیوں کو بڑھنے کے لئے سیرم کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔لیوننگ اس حوالے سے واضح طور پر فخر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، “مختلف سیل کی قسم کا استعمال ایک بہت خوبصورت حل ہے۔”

وہ تسلیم کرتا ہے کہ میٹ ایبل تجارتی مصنوعات شروع کرنے سے اب تک دور ہے، لیکن وہ اس کے امکانات کے بارے میں پراعتماد ہے۔  انہوں نے کہا کہ “مجھے لگتا ہے کہ اگلے آئی فون کے مقابلے میں اس کے لئےسٹورز کے باہر کافی لائنیں لگیں گی۔

اگر آپ اسے بناؤ گے، کیا وہ اسے کھا لیں گے؟

موجودہ حالت میں لیبارٹر ی میں تیار کیا گیا گوشت بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے جیسا کہ آپ سوچتے ہو۔

بیف کے مقابلے میں اس کا گرین ہائوس گیسوں کا اخراج کم ہے لیکن چکن یا پودوں سے حاصل کئے گئے گوشت کے مقابلے میں گیسوں کا اخراج زیادہ ہے اور یہ زیادہ آلودگی پھیلاتا ہے۔متبادل گوشت کے اثرات پرورلڈ اکنامک فورم کے وائٹ پیپر کا کہنا ہے کہ یہ بیف کے مقابلے میں صرف 7 فیصد کم گرین ہائوس گیسوں کا اخراج کرے گا۔ دیگر متبادل جیسا کہ ٹوفو یا پودے گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں 25 فیصد تک کمی لائیں گے۔ وائٹ پیپر کے شریک مصنف اور آکسفورڈ کے مارکو سپرنگمین کا کہنا ہے، “ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کمپنیاں مناسب قیمت میں کم گیسز خارج کرنے والا گوشت لائیں گی”ـ

یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آپ کے لئےلیب میں تیار کیا گیا گوشت حقیقی گوشت کے مقابلے میں کتنا بہتر ہے جو حقیقی چیز سے کہیں گے۔ ایک وجہ سے گوشت کینسر کے خطرے سے منسلک کیا گیا ہے اور وہ چیز ہے ہیم۔ یہ ہیم کلچرڈ گوشت میں بھی موجود ہو گی۔

اور کیا لوگ اسے بھی کھانے کے لئے چاہتے ہیں؟ ڈارٹر ایسا سوچتے ہیں۔اس موضوع پر اب جتنی تھوڑی سی تحقیق کی گئی ہے، وہ یہاں تک کہ اس موضوع پر تھوڑا سا تحقیقی اثر ہوتا ہے۔ 2017میںجرنل پی ایل اوایس ونPLoS One)) ایک میں شائع ہونے والی مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں زیادہ تر صارفین لیب میں تیار کیا گیا گوشت کھانے کے لئے تیار ہیں اور تقریباًایک تہائی صارفین شاید اسے باقاعدہ کھانے کے لئے تیار ہوں۔

پوری دنیا سے سبزی خور ہونے کی توقع رکھنا غیر حقیقی ہے۔ لیکن اکتوبر 2018 میں نیچر رسالےمیں ایک رپورٹ نے تجویز کیا کہ اگر ہر ایک کو لچکدار طرز زندگی (زیادہ تر سبزیوں کا کھانا اور تھوڑا بہت چکن اور مچھلی اور ہفتہ میں ایک دفعہ سرخ گوشت کا استعمال ) تو ہم یقینی طور پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو روک سکتے ہیں۔ اس سے ہم خوراک کی پیداوار سے ہونیوالی گرین ہائوس گیسوں کےاثرات اور گوشت کی صنعت کے دیگر نقصانات کو بھی کم کر سکتے ہیں جیسا کہ کھاد کا اضافی استعمال اور تازہ پانی اور زمین کا استعمال۔  (اکتوبر میں دی لینسٹ The Lancet) )میں ایک مطالعہ کے مطابق، اس چیز سے پیدائش سے قبل بچوں کی اموات کی شرح کو %20 تک کم کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس سے دل کی بیماریاں ، سٹروک اور کینسر کم ہونگے)
روایتی گوشت کی صنعت میں سے کچھ سب سے بڑے کھلاڑی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں اور اپنے آپ کو گوشت کمپنیوں کے بجائے “پروٹین پروڈیوسر” کے طور پر متعارف کروا رہے ہیں۔جیسے تمباکو کی بڑی کمپنی بگ ٹوبیکوBig Tobacco) ) اپنے نئے سٹارٹ اپس خرید رہی ہے، اسی طرح سے گوشت کی کمپنیاں اس نئی صنعت حصہ دار ہیں۔ 2016 میں دنیا کا دوسرا سب سے بڑا گوشت پروسیسر ٹائی سن فوڈزTyson Foods) )نے متبادل گوشت کو سپورٹ کرنے کے لئےایک وینچر کیپٹل فنڈ کا آغاز کیا۔۔ یہ بی وائونڈ میٹ میں بھی سرمایہ کار ہے۔ 2017 میں تیسرا سب سے بڑے گوشت پروڈیوسر کارگلی نے میمفس میٹ میں سرمایہ کاری کی اور ٹائی سن نے2018میں ایسا کیا۔ بہت بڑے دوسرے دیگرغذائی پروڈیوسر اسی طرح کر رہے ہیں؛ دسمبر 2018 میں، مثال کے طور پر، یونییلور نے ایک ڈچ فرم جسے وجیٹرین بچر Vegetarian Butcher کہا جاتا ہے، کو خریدا ۔ یہ فرم بہت سارے بغیر گوشت کے مصنوعات بناتی ہے جس میں پودوں سے بنایا گیا گوشت کا متبادل بھی موجود ہے۔

جسٹ کے سی ای او ٹیٹرک کا کہنا ہے، “ایک گوشت م کی کمپنی ایسا نہیں کرتا جو وہ کر رہی ہوتی ہے کیونکہ وہ ماحول کو خراب نہیںکرنا چاہتے اور جانوروں کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ “وہ ایسا کرتے ہیں کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ یہ سب سے موثر طریقہ ہے۔ لیکن اگر آپ ان کی کمپنی کو زیادہ مؤثر طریقے سے بڑھانے کے لئے مختلف راستے دیتے ہیں تو وہ ان کو اختیار کریں گے۔ “

کم سے کم گوشت کی صنعت میں کچھ متفق ہیں۔ گزشتہ سال بلومبرگ کے لئے دی گئی پروفائل میںٹائی سن کےاس وقت کے سی ای او ٹام ہیزس نے واضح کیا کہ وہ بالاخر اپنی کمپنی کا مستقبل دیکھتے ہیں۔ اگر ہم جانوروں کے بغیر گوشت بڑھا سکتے ہیں تو ہمیں کیوں ایسا نہیں کرنا چاہیے؟ـ”

تحریر: نیال فرتھ (Niall Firth)

Read in English

Authors

*

Top