Global Editions

پاکستان میں مالی شمولیت کا منظرنامہ

پچھلے کچھ عرصے کی مثبت پیش رفت کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں مالی شمولیت میں بہتری آنے والی ہے۔

ایک دہائی تک عدم استحکام کا سامنا کرنے کے بعد اب توقع ہے کہ پاکستان جلد ہی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہوجائے گا جو اگلی دو دہائیوں کے دوران عالمی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ پی ڈبلیو سی (PWC) کی دی ورلڈ ان 2050 کی رپورٹ کے مطابق، 2030ء تک پاکستان کا شمار دنیا کی 20 سب سے بڑی معیشتوں میں ہوجائے گا۔ لیکن جب تک کم آمدنی رکھنے والے افراد ترقی نہیں کریں گے، پاکستان میں پائیدار استحکام اور تحفظ کی بنیاد نہيں رکھی جاسکتی۔

اس چیلنج کا پیمانہ کس قدر وسیع ہے؟ یہ جاننے کے لیے چند اہم اعداد و شمار پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق پاکستان میں آٹھ کروڑ کے قریب افراد کثیرجہتی غربت کا شکار ہیں۔ صرف 21.3 فیصد پاکستانی بالغ افراد کے پاس بینک یا موبائل اکاؤنٹس موجود ہیں، جبکہ جنوبی ایشیاء کا معیار 69.9 فیصد ہے۔ رہی بات خواتین کی شمولیت کی تو شاید ہی ایسا کوئی ملک ہوگا جہاں صورتحال پاکستان سے بدتر ہوگی۔ ورلڈ ایکنامک فورم کی گلوبل جینڈر گیپ (Global Gender Gap) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 153 ممالک میں سے 151پوزیشن پر کھڑا ہے،  اور صرف یمن اور عراق ایسے ممالک ہیں جہاں خواتین کی شمولیت پاکستان سے کم ہے۔

لیکن پچھلے کچھ عرصے میں تین اہم شعبوں میں مثبت پیش رفت کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں مالی شمولیت کی صورتحال میں بہتری آنے والی ہے۔

انٹرپرنیورشپ اور معاشرتی ترقی

اگر پاکستانی انٹرپرنیورز اپنی صلاحیتوں کا صحیح فائدہ اٹھائيں تو رہائش، ہیلتھ کیئر، تعلیم، اور نقل و حمل کے دائمی مسائل کو حل کرکے ملک بھر میں سماجی اور اقتصادی شمولیت کا فروغ ممکن ہے۔ انٹرپرنیورشپ ملازمتوں کے مواقع فراہم کرتی ہے جو پاکستان کے پائیدار مستقبل میں بہت اہم کردار ادا کريں گے۔

خوش آئین بات یہ ہے کہ پاکستان میں انٹرپرنیورشپ کے رجحان میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، جس کے پیچھے کنیکٹویٹی میں بہتری کے علاوہ 360,000 سے زیادہ سافٹ ویئر انجنیئرز کی کوششوں اور صلاحیتوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔  Invest2Innovate نامی ایکسیلریٹر کے مطابق پاکستان میں انکیوبیشن، ایکسیلریشن اور فنانسنگ میں اضافہ سامنے آیا ہے اور اب ملک بھر میں 24 کے قریب بزنس ایکسیلریٹرز اور 20 وینچر کیپیٹل فنڈز موجود ہیں۔ Invest2Innovate کے ڈیل فلو تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2015ء سے لے کر اب تک پاکستانی سٹارٹ اپس کو 1.65 کروڑ سے زائد ڈالرز کی فنڈنگ حاصل ہوچکی ہے، جس کی تازہ ترین مثال پبلک ٹرانسپورٹ میں انقلاب لانے والی کمپنی ایئرلفٹ (Airlift) میں 1.2 کروڑ کی سرمایہ کاری ہے۔

انٹرپرنیورشپ کے اس رجحان کو تقویت دینے کے لیے پاکستان کو اپنے بیرون ملک سرمایہ کاری کے قواعد کو زيادہ موثر، مقامی سرمایہ کاری کے فنڈز کی ریجسٹریشن کو زيادہ ہموار، اور ٹیکسیشن اور جائیداد کی ریجسٹریشن کو زيادہ آسان بنانے کی علاوہ صنفی فرق میں کمی اور انٹرپرنیورشپ میں خواتین کی شمولیت میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈیجیٹل فنانس کے مواقع

ڈیجیٹل مالی شمولیت کی بدولت پاکستان کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو مالی سہولیات تک رسائی حاصل ہوگی، اور میک کنزی اینڈ کمپنی (McKinsey & Co) کے مطابق اس سے پورے ملک کو سماجی اور اقتصادی اعتبار سے بہت فائدہ پہنچے گا۔ پاکستان میں 80 فیصد آبادی کو براڈبینڈ انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے اور یہاں ڈیجیٹل شناخت کا نظام بہت مضبوط ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں بہت تیزی سے ترقی ہوگی۔ تاہم CGAP کے سٹیو راسمیوسن (Steve Rasmussen) کے مطابق، جو پاکستان مائیکروفنانس نیٹورک کے سی ای او بھی رہ چکے ہیں، پاکستان میں ڈیجیٹل  مالی شمولیت کا بھرپور فائدہ نہيں اٹھایا جارہا، جس کی سب سے بڑی وجوہات میں اعتماد کی کمی اور ڈیجیٹل  آرکیٹیکچر کی عدم شفافیت شامل ہیں۔ مالی ٹرانزیکشنز کا ایک بہت چھوٹا حصہ ڈيجیٹل ادائيگیوں پر مشتمل ہے۔ 2014ء میں صرف ایک  فیصد مالی ٹرانزیکشنز ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے کی گئی تھیں، جبکہ مملکت متحدہ میں یہ  شرح 55 فیصد تھی۔

ان اعداد و شمار سے یہ بات اجاگر ہوتی ہے کہ پاکستان کے لیے ڈیجیٹل  فنانس کا شعبہ کس قدر منافع بخش ثابت ہوسکتا ہے۔ میک کنزی گلوبل انسٹی ٹیوٹ (McKinsey Global Institute) کے ایک تخمینے کے مطابق، 2025ء تک ڈیجیٹل  مالی سہولیات کی بدولت پاکستان کے جی ڈی پی میں 7 فیصد، یعنی 36 ارب ڈالر، کا اضافہ ممکن ہوگا، جس سے 40 لاکھ نئی ملازمتیں جنم لیں گی۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل فنانس متعارف کرنے سے لاکھوں لوگ مالی نظام کا حصہ بن سکيں گے، جس سے مالی سہولیات اور سماجی تحفظ و معاونت تک رسائی میں اضافہ ہوگا۔ نیز، اس سے حکومت کو بذریعہ ٹیکس زیادہ رقم کمانے کا راستہ بھی میسر ہوگا۔

پالیسی سازوں نے یہ موقع دیکھ لیا ہے اور 2018ء کی ڈیجیٹل پاکستان پالیسی اور قومی ای کامرس کے فریم ورک جیسے اقدام نہایت خوش آئین ہيں۔ بین الاقوامی سرمایہ کار بھی میدان میں اتر رہے ہيں۔ علی بابا کی ایفیلیٹ کمپنی اینٹ فنانشل (Ant Financial) نے حال ہی میں

ٹیلی نار مائیکروفنانس بینک میں 18.45 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جس سے اس شعبے کو بہت تقویت ملے گی۔ تاہم پاکستان میں بینکنگ سہولیات سے محروم 10 کروڑ افراد کے لیےمالی سہولیات تک رسائی کو ممکن بنانے کی کوششوں میں خواتین، نوجوانوں، اور چھوٹی کمپنیوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

احساس: ایک اہم ادارہ

پاکستان کے انٹرپرنیورز اور ڈیجیٹل انوویٹرز کتنے ہی کامیاب ہوجائيں، معیشت اس وقت تک مستحکم اور محفوظ نہيں ہوسکتی جب تک ملک کے غرباء مالی فوائد سے محروم رہیں گے۔ پچھلے سال، پاکستان نے ملک بھر میں پھیلا ہوا “احساس” نامی پروگرام متعارف کیا تھا جس کے ذریعے عوام کو جامع مالی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

بے نظير انکم سپورٹ پروگرام کی کامیابی کو آگے بڑھاتے ہوئے احساس پروگرام میں متعدد معاشی تحفظ کے اقدام کو ایک پلیٹ فارم تلے یکجا کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد سماجی اخراجات کو جی ڈی پی کے 0.7 فیصد حصے سے بڑھا کر ایک  فیصد تک پہنچانے کے علاوہ، آمدنی کے مواقع، تعلیم اور ہیلتھ کیئر تک رسائی میں اضافہ کرنا ہے۔ اس میں پسماندہ خواتین کی بینکنگ سہولیات تک رسائی کو ممکن بنانا اور صوبہ خیبرپچتونخواہ کے کامیاب صحت کے بیمے کے ماڈل کو وسیع کرکے پورے ملک کو سہولیات کی فراہمی شامل ہے، جس سے چھ کروڑ کم آمدنی رکھنے والے افراد کو فائدہ پہنچے گا۔

حکومت کی اصلاحات کی جانب عہدبستگی کو دیکھتے ہوئے بین الاقوامی پارٹنرز بھی میدان میں اتر رہے ہيں۔ ستمبر 2019ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک سیشن کے دوران گیٹس فاؤنڈیشن (Gates Foundation) نے احساس پروگرام کو 20 کروڑ ڈالر عطیہ کرنے کا اعلان کیا۔ اب اس پروگرام کا سب سے بڑا چیلنج ہوگا کہ 34 وفاقی وزارتوں، ڈیویژنوں اور ایجنسیوں سے مواصلت کرکے اس امداد کو ضرورت کے حقدار افراد تک کس طرح پہنچایا جائے۔

پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ آبادی کی اکثریت کے لیے فائدہ مند معیشت کی بنیاد رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی اور انٹرپرنیورشپ کا امتزاج موجود ہو۔ اگر پالیسیوں کی تیاری کے دوران مضبوطی، وسائل کی تقسیم کے دوران عقل مندی، اور منصوبہ جات کو عملی جامہ پہنانے کے دوران عہدبستگی سے کام لیا جائے، تو جلد ہی مالی شمولیت ہماری دسترس میں ہوگی۔


بریجٹ ہیلمز ڈی اے آئی میں ٹیکنیکل سہولیات کی نائب صدر ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں Access for All: Building Inclusive Economic Systems نامی کتاب لکھی ہے، جسے ستمبر 2019ء میں اسلام آباد میں لانچ کیا گیا تھا۔

ارسلان علی فہیم ڈی اے آئی کے معاشی ترقی کے شعبے میں معاشی مسابقت کے ماہر ہیں۔

تحریر: بریجٹ ہیلمز، ارسلان علی فہیم 

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top