Global Editions

جینوم ایڈیٹنگ کا مستقبل

پاکستان کا شمار ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں ہوتا ہے اور یہاں کم از کم 60 فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔
اگر ہم ضوابط کے چنگل سے بچنے میں کامیاب ہوجائيں تو جینوم ایڈیٹنگ کی مدد سے فصلوں کی پیداواری کے ساتھ ساتھ ان کی غذائیت میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

دسمبر 2019ء میں پاکستان بائیوٹیکنالوجی انفارمیشن سینٹر (لاہور چیپٹر) نے ”نیشنل ڈائیلاگ آن ایگری کلچرل بائیوٹیکنالوجی فار فوڈ سیکورٹی“ (National Dialogue on Agricultural Biotechnology for Food Security) منعقد کی جس میں ماہرین

نے جینوم ایڈیٹنگ سمیت زرعی بائیو ٹیکنالوجی کے نت نئے طریقہ کار کے لیے سائنس پر مبنی ضوابط کا مطالبہ پیش کیا۔

اس مکالمے میں نیشنل کمیشن آن بائیوٹیکنالوجی میں نئی جان پھونکنے کا بھی مطالبہ کیا گيا جسے 2001ء میں قائم کیا گيا تھا لیکن اس کے بعد کئی سال تک اس پر کوئی کام نہ ہوسکا۔

پاکستان میں زرعی بائیوٹیکنالوجی کے قواعد و ضوابط قوانین برائے ماحولیاتی تحفظ میں شامل بائیوسیفٹی کے قواعد اور رہنما اصولوں (2005ء) کے تحت متعین کیے جاتے ہيں۔ تاہم 2010ء میں نافذ ہونے والی اٹھارہویں آئينی ترمیم کے بعد ان قواعد پر کوئی خاص پیش رفت نہيں ہوسکی ہے۔ ضوابط کی ایک مستحکم ساخت کی عدم موجودگی کے باعث پاکستان پیداواری میں اضافہ اور دباؤ کے خلاف مدافعت رکھنے والی نیو بریڈنگ ٹیکنالوجیز (new breeding technologies – NBTs) کے فوائد سے محروم رہ گیا ہے۔ ملک بھر میں بائیوٹیکنالوجی کے لیے 40 کے قریب ریسرچ سینٹرز موجود ہيں جہاں مختلف اقسام کی فصلوں پر کام ہورہا ہے لیکن جب تک انہيں تجارتی پیمانے پر متعارف کرنے کے لیے قانون و ضوابط تیار نہيں کیے جاتے، ان ریسرچرز کی محنت رائیگاں جائے گی۔

ایک پرانے مسئلے کا جدید حل

غذائی عدم تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلی ایسے مسائل ہيں جو پوری دنیا کو متاثر کرتے ہيں اور ان دونوں کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ سیلاب ہو یا خشک سالی، جنگلات کی آگ ہو یا سردی کی لہر، ماحولیاتی حادثات سے مختصر عرصے میں زرعی پیداوار تہس نہس ہو کر رہ جاتی ہے۔

پاکستان کا شمار ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زيادہ متاثر ہونے والے دس ممالک میں ہوتا ہے، اور یہاں کم از کم 60 فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔  ادارہ برائے خوراک و زراعت (Food and Agriculture Organization – FAO) سے وابستہ ماہرین کا خیال ہے کہ شعبہ زراعت میں ٹیکنالوجی متعارف کرنے سے نہ صرف موجودہ زرعی اقدام کی پائیداری اور مناسب غذائیت کے فروغ میں اضافہ ہوگا بلکہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ بھی ممکن ہوگا۔

بیسویں صدی کے دوران پودوں کی نسلوں میں فائدہ مند خصوصیات متعارف کرنے والی بائیوٹیکنالوجیز کے باعث پودوں کی افزائش میں انقلاب نظر آیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان نئی ٹیکنالوجیز سے فصلوں کی پیداواری میں اضافہ، کیڑے مکوڑوں اور امراض پر بہتر قابو اور ماحول کے خلاف بہتر تحفظ کے علاوہ پانی کی ضروریات اور اخراجات بھی ممکن ہوئے۔

کئی ممالک سبز انقلاب کو پیچھے چھوڑ کر ‘جینیاتی انقلاب’ کی جانب بڑھ رہے ہيں، لیکن پاکستان میں ٹیکنالوجی اپنانے کی شرح کم ہی رہی ہے۔

1970ء کی دہائی میں جنم لینے والا شعبہ بائیوٹیکنالوجی آج اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ اب سائنسدان ’جینوم ایڈيٹنگ‘ کی بات کرتے ہيں۔

جینوم ایڈيٹنگ میں مختلف تکنیکیں استعمال کرتے ہوئے زندہ آرگانزمز کے جینومز میں  مخصوص قسم کی تبدیلیاں کی جاتی ہيں۔ ٹھیک ایک ورڈ پراسیسر کے کٹ/کاپی/پیسٹ فیچرز کی طرح، جینوم ایڈیٹنگ میں خصوصی اینزائمز کا استعمال کرتے ہوئے  نہایت درستی کے ساتھ کسی جینوم میں ڈی این اے متعارف کیا جاتا ہے، تبدیل کیا جاتا ہے یا مکمل طور پر ہٹادیا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال کلسٹرڈ ریگولرلی انٹرسپیسڈ شارٹ پیلنڈروم ریپیٹس (Clustered Regularly Interspaced Short Palindrome Repeats) نامی تکنیک ہے، (جسے عام طور پر CRISPR کہا جاتا ہے) جو نہ صرف اپنی درستی بلکہ وقت اور پیسے کی بچت کی وجہ سے خاصی مقبول ثابت ہورہی ہے۔ اس قسم کی تبدیلیوں سے شعبہ زراعت کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ سائنسدان پودوں کے جینومز میں ترمیم کرکے فصلوں کی بنیادی خصوصیات مثبت طور پر تبدیل کرسکتے ہيں جس سے غذائی عدم تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلی جیسی آفات کا مقابلہ ممکن ہوگا۔

دوسری طرف نئی بریڈنگ ٹیکنالوجیز ہيں جن کی مدد سے پودوں کی افزائش نسل کرنے والے سائنسدان اور کسان روایتی طریقوں کے مقابلے میں زيادہ درستی کے ساتھ اور زيادہ تیزی سے پودوں کی نئی اقسام تخلیق کرسکتے ہيں۔

جینوم ایڈیٹنگ کی تکنیکیں اعلیٰ پیداوار رکھنے والی مکئی اور فنگل امراض کے خلاف مزاحمت رکھنے والے چاول کی اقسام کی تخلیق میں بھی خاصی کامیاب ثابت ہوئی ہيں۔

جینوم ایڈيٹنگ سے پہلے، پودوں میں نئی خصوصیات متعارف کرنے کے لیے جینیٹک انجینئرنگ یا جینیٹک ماڈیفیکیشن (genetic modification) کا سہارا لیا جاتا تھا، جن کی مدد سے پودوں میں یا تو نئے جینز متعارف کیے جاتے تھے یا موجودہ جینز میں تبدیلیاں کی جاتی تھیں۔ اس کی سب سے اچھی مثال ”گولڈن رائس“ (Golden Rice) ہے۔ یہ چاول کی ایک ایسی قسم ہے جس میں جینیاتی ماڈیفیکیشن کی مدد سے وٹامن اے کی بنیادی شکل متعارف کی گئی ہے تاکہ فلپائن اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں وٹامن سے محروم افراد کو بہتر غذا فراہم کی جاسکے۔ جینیاتی ماڈیفکیشن کی ایک اور مثال بیسیلس تھورنجینسس (Bacillus thuringiensis)

نامی بیکٹیریا سے حاصل کردہ کیڑے مار پروٹین پر مشتمل بی ٹی روئی ہے۔ ترمیم شدہ پودوں پر حملے کرنے والے کیڑے مر جاتے ہيں، جس سے کیڑوں کے حملوں کے علاوہ نقصان دہ کیڑے مار ادویات کے استعمال میں بھی کمی ممکن ہے۔

جینوم ایڈيٹنگ کے ذریعے غذائی عدم تحفظ کا حل کس طرح ممکن ہے؟

موجودہ دور کی زرعی ویلیو چین کافی پیچیدہ ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں اب تک پیداواری میں اضافے کے لیے مٹی اور پانی کے بھرپور استعمال، کاشت کے بہتر انتظام، آلات اور ذخیرے پر ہی توجہ مرکوز رہی ہے۔ اس طریقے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں قدرتی وسائل پر بہت زيادہ انحصار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ چھوٹے فارمز کے لیے منافع بخش نہيں ثابت ہوتا۔ دنیا بھر میں زرخیز زمین میں کمی ہورہی ہے، اور کئی ممالک میں روایتی طریقوں کے استعمال میں مزید اضافہ ممکن نہيں رہا۔ اس کے نتیجے میں غذائی عدم تحفظ کا چیلنج بد سے بدتر ہوتا چلا گیا ہے۔

پاکستان کی مثال لے لیں۔ ہمارے یہاں مجموعی داخلی پیداوار (gross domestic product – GDP) کا بیس فیصد حصہ زراعت پر مشتمل ہے اور ہمارے نظام آبپاشی کا شمار دنیا کے سب سے بڑے سسٹمز میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں گندم، چاول اور روئی کی پیداوار میں اضافے سے ملک بھر کے جی ڈی پی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم ماحولیاتی خطرات اور پانی کے ذخائر کی بدانتظامی کے باعث روایتی طریقہ کار کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔ دوسرے مسئلے کا تعلق کیڑوں پر قابو پانے کے لیے استعمال کیے جانے والے مصنوعی کیمیکلز سے ہے، جس سے ماحولیاتی آفات کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے۔

پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کا تعلق مالی مشکلات کے باعث موزوں اور متنوع خوراک تک عدم رسائی سے ہے۔ موجودہ زرعی ماڈل میں صرف سبز انقلاب کو ہی آگے بڑھایا گیا ہے، یعنی مصنوعی اجزا (جیسے کہ فرٹلائزرز اور کیڑے مار ادویات) اور جدید آبپاشی کے نظاموں کی مدد سے پیداوار میں اضافے کی کوششیں کی گئیں۔ اب ترقی یافتہ ممالک سبز انقلاب کو پیچھے چھوڑ کر ”جینیاتی انقلاب“ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ لیکن پاکستان میں بی ٹی روئی کی افزائش نسل کے لیے بائیو ٹیکنالوجی کے استعمال کے علاوہ عام طور پر ٹیکنالوجی اپنانے کی شرح کم ہی رہی ہے۔ نیو بریڈنگ ٹیکنالوجیز سے ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوگا ہے کسانوں کو دوسرے پودوں سے نئے جینز منتقل کیے بغیر جینیاتی ماڈیفیکیشن کے پرانے طریقوں جتنی پیداواری ممکن ہوگی۔ ترقی پذیر ممالک میں نیو بریڈنگ ٹیکنالوجیز کم قیمت اور تيز تر ثابت ہوں گی، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہيں لیباریٹریز میں اپنانا زيادہ آسان ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ، بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے علاوہ چھوٹی اور درمیانی سائز کی کمپنیوں کو بھی میدان میں اترنے کا موقع ملے گا۔

نیو بریڈنگ ٹیکنالوجیز سے فصلوں کے جینومز میں مختلف اقسام کی ترامیم کی جارہی ہيں، اور اس کی سب سے نمایاں مثال گندم میں نظر آرہی ہے۔ سپین میں بائیوٹیکنالوجسٹس گندم کے جینوم میں ترمیم کرکے اس میں شامل گلوٹن کی الرجی کا عنصر کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ثابت ہوجائيں تو گلوٹن کی الرجیوں میں 85 فیصد تک کمی ممکن ہوگی، جس سے گلوٹن سے پاک غذا کی مارکیٹ میں انقلاب ممکن ہوسکے گا۔

جینوم ایڈیٹنگ کی تکنیکیں اعلیٰ پیداوار رکھنے والی مکئی اور فنگل امراض کے خلاف مزاحمت رکھنے والے چاول کی اقسام کی تخلیق میں بھی خاصی کامیاب ثابت ہوئی ہیں۔ غذائی اعتبار سے یہ تینوں فصلیں نہایت اہم ہیں۔ اس کے علاوہ جینوم ایڈیٹنگ سے شعبہ زراعت کو بائیوٹک اور ابائیوٹک دباؤ کے خلاف تحفظ بھی فراہم کرنا ممکن ثابت ہورہا ہے۔

اناج کے علاوہ نیو بریڈنگ ٹیکنالوجیز کا استعمال کیلے اور ات کٹ جیسے پھلوں اور سبزیوں کو بہتر بنانے کے لیے بھی کیا جارہا ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کی مدد سے سائنسدانوں کے لیے مختلف پودوں میں جینز کے کام کرنے کے طریقوں کو سمجھنا بھی آسان ہوگيا ہے، جس سے پبلک ڈیٹابیسز میں موجود معلومات میں اضافہ ہورہا ہے اور ترقی پذیر ممالک کی ریسرچ کمیونٹیز کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ اس کے علاوہ، وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے ڈيٹابیسز کی موجودگی سے نجی شعبے کی بھی بائیوٹیکنالوجی میں دلچسپی بڑھے گی، جس سے منافع بخش پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپس کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کی بہترین مثال کنسلٹیٹو گروپ آن انٹرنیشنل ایگری کلچرل ریسرچ (Consultative Group on International Agricultural Research) میں ملتی ہے، جن کا ترقی پذیر ممالک کو جینیاتی مواد کی فراہمی میں بہت بڑا ہاتھ ہے۔

ترقی پذیر ممالک کو مویشیوں کے جینوم کی ایڈیٹنگ سے بھی بہت زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس سے اعلیٰ معیار کے گوشت اور امراض میں کمی جیسے فوائد حاصل ہوسکتے ہيں جن سے غذائی عدم تحفظ میں کمی ممکن ہوسکتی ہے۔

تاہم جینوم ایڈیٹنگ کے یہ تمام فوائد صرف اسی صورت ممکن ہیں اگر سازگار ضوابط موجود ہوں۔

ضوابط کا چنگل

اس وقت بائیوٹیکنالوجی کے فوائد و نقصانات پوری طرح سامنے نہيں آئے ہیں اور اسی لیے ضابطہ کار حکام اس شعبے پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور خطرات کے بہتر انتظام کے لیے سخت قانون و ضوابط موجود ہيں۔

کئی ممالک میں جینیاتی طور پر ماڈیفائيڈ فصلوں اور ایگری بائیوٹیک مصنوعات کے لیے انفرادی طور پر تیار کردہ بائیوسیفٹی کے فریم ورکس قائم کیے جاچکے ہيں، جو عوام الناس کی صحت، غذائی اور ماحولیاتی تحفظ، یا خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے قوانین و ضوابط تیار کرتے ہيں۔ اس وقت بائیوٹیک مصنوعات کے لیے ”ضوابط کے ٹرگرز“ کے لیے کوئی بین الاقوامی معیارات یا معاہدے موجود نہيں ہیں۔ ضوابط تیار کرنے کے لیے دو اہم پہلوؤں کو مدنظر رکھا جاتا ہے: پراسیس اور مصنوعہ۔ یورپی اتحاد میں تخلیق کے مکمل پراسیس کے متعلق ضوابط موجود ہيں، جبکہ امریکہ میں صرف حتمی مصنوعے کی خصوصیات کے حوالے سے ضوابط تیار کیے گئے ہيں۔ باقی تمام ممالک میں ان دونوں طریقوں کا مختلف امتزاج موجود ہے۔

ان دونوں طریقوں کے اپنے اپنے نقصانات موجود ہيں۔ پراسیس کے لیے ضوابط تیار کرنے سے ٹیکنالوجی میں تبدیلیوں کا بھرپور فائدہ نہيں اٹھایا جاسکتا۔ اس کے علاوہ، حتمی مصنوعے کو نظر انداز کرنے سے تخلیق کاروں کے لیے منظوری کے اخراجات میں غیرضروری اضافہ بھی ہوتا ہے۔ دوسری طرف صرف حتمی مصنوعے کے لیے ضوابط تیار کرنے سے تخلیق کے پراسیس میں لچک داری کا عنصر تو پیدا ہوتا ہے، لیکن تجارت کا دائرہ کار محدود ہوجاتا ہے۔

یہ دو مختلف نقطہ نظر بین الاقوامی گورننس میں بھی نظر آتے ہيں، جس کی سب سے اچھی مثال عالمی ادارہ صحت اور کنونشن آن بائیولوجکل ڈائیورسٹی (Convention on Biological Diversity – CBD) کے درمیان تصادم میں ملتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت میں سائنس پر مبنی خطرات کے تخمینے پر توجہ دی جاتی ہے جبکہ سی بی ڈی کے تحت تیار کردہ کارٹجینا پروٹوکول (Cartagena Protocol) میں سماجی و معاشی مسائل پر غور کیا جاتا ہے۔ کارٹجینا پروٹوکول کے دیگر مسائل میں خطرات کے تخمینے پر اتفاق رائے قائم کرنے سے قاصر ہونا، نفاذ کے میکانزمز کا فقدان، اور تجارت کے لیے سنگین مشکلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، اس فریم ورک میں جینوم ایڈیٹنگ کی واضح تعریف موجود نہيں ہے اور اسے ‘مصنوعی بائیولوجی’ کے زمرے میں شامل کیا گيا ہے، جو کہ درست نہيں ہے۔

اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے زرعی بائیوٹیکنالوجی کے ماہرین ضوابط کے ایسے فریم ورکز کی تشکیل کا مظاہرہ کررہے ہیں جن سے نہ صرف موجودہ ٹیکنالوجیز بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجیز سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے گا۔ ایبریسٹویتھ یونیورسٹی (Aberystwyth University) کے پروفیسر برائے بین الاقوامی جینومکس ہیو ڈی جونز (Huw D. Jones) ضوابط تیار کرنے کے دوران مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیتیں شامل کرنے کی ضرورت کے متعلق لکھتے ہيں کہ ”ان میں لچک پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ ان میں مستقبل میں سامنے آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے زيادہ ردوبدل کی ضرورت نہ پیش آئے۔“

نیو بریڈنگ ٹیکنالوجیز کے لیے پالیسیاں تیار کرتے وقت کن چیزوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے؟

ماہرین متفق ہیں کہ حد سے زیادہ ضوابط تشکیل دینے سے جینوم ایڈیٹنگ کے اخراجات میں قابل قدر اضافہ ہوگا جس کا سب سے زيادہ نقصان ترقی پذیر ممالک کو ہوگا۔ تاہم وہ ساتھ یہ بھی کہتے ہيں کہ خطرات کی مناسبت سے ضوابط تشکیل نہ دینے کی صورت میں ماحول کو غیرمطلوبہ طور پر نقصان کا بہت زيادہ خطرہ ہوسکتا ہے۔

قانونی اعتبار سے اہم چیلنجز میں جینیاتی طور پر ماڈیفائيڈ آرگانزم کی غیرواضح تعریفیں، مصنوعات کی غیرمتواتر کوریج، موزوں معیارات کا فقدان، اور جینوم ایڈیٹنگ یا نیو بریڈنگ ٹیکنالوجیز کی فراہم کردہ ایپلیکیشنز میں حد سے زيادہ فرق شامل ہيں۔

دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ جینوم ایڈیٹنگ مرکزی خامرے (nuclease) کی مختلف سطحوں پر کی جاسکتا ہے، جسے سائٹ ڈائریکٹڈ نیوکلیس (site-directed nuclease – SDN) ایپلیکیشنز کہا جاتا ہے۔ اس سے یہ موجودہ ضوابط کی غیرمناسبت کے متعلق بحث چھڑ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر SDN-1 تکنیک کی مدد سے ترمیم کی جانے والی فصلوں اور قدرتی پودوں کے درمیان فرق موجود نہ ہونے کے باعث یہ سوال کھڑا ہوجاتا ہے کہ آخر ہمیں ضوابط کی ضرورت ہی کیوں ہے؟

نیو بریڈنگ ٹیکنالوجیز کے لیے اضافی قوانین اپنانے والے پہلے دو ممالک ارجنٹائن اور برازیل ہیں۔ ان کے ضوابط کے مطابق، ان نیو بریڈنگ ٹیکنالوجیز کو استثنیٰ حاصل ہے جن میں نئے جینیاتی مواد کا استعمال نہیں کیا گيا ہو۔ کینیڈا میں بھی مشاورت اور فیڈبیک پر مشتمل پالیسی کے جائزے کی بنیاد پر رکھی جاچکی ہے۔ امریکہ نے نیو بریڈنگ ٹیکنالوجیز کے لیے مصنوعات کے ٹرگرز کی پالیسی جاری رکھی ہے جبکہ آسٹریلیا میںSDN-1 پر مشتمل ترمیم کو خارج کرنے کے لیے موجود ضوابط کو قانونی شکل دے دی گئی ہے۔ دوسری طرف یورپی اتحاد نے احتیاط سے کام لینا بہتر سمجھا ہے اور تمام اقسام کی نیو بریڈنگ ٹیکنالوجیز کو جینیاتی ماڈيفیکیشنز کے زمرے میں شامل کرلیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یورپی اتحاد کے اس فیصلے سے پودوں کی بائیو ٹیکنالوجی کی پیش رفت کو بہت نقصان پہنچے گا۔

اس میں عوام کا کیا کردار ہوگا؟

عمومی طور پر سائنس کے متعلق آگاہی ”معلومات کی کمی“ کی بنیاد پر فراہم کی جاتی ہے، جس کے تحت معلومات اور سمجھ بوجھ کی عدم موجودگی کے متعلق منفی رویہ اپنایا جاتا ہے اور یہ تصور کیا جاتا ہے کہ عوام کو کسی بھی ٹیکنالوجی یا انکشاف کی حمایت کرنے کے لیے اس کے متعلق مزید معلومات کی ضرورت ہوگی۔ اس ماڈل میں عوام کو معلومات ماہرین کے طرف سے فراہم کی جاتی ہیں۔ تاہم یہ ماڈل زرعی بائیوٹیکنالوجی کے متعلق مثبت تاثرات پیدا کرنے کے حوالے سے بری طرح ناکام ثابت ہوچکا ہے۔ اس کی سب سے پہلی خامی تو یہ ہے کہ اس میں عوام کو محض صارفین تصور کیا جاتا ہے۔ جعلی خبروں اور غلط معلومات کی بھرمار کو مدنظر رکھتے ہوئے، بائیوٹیکنالوجی کے متعلق آگاہی کی فراہمی میں انقلاب لانے کی ضرورت ہے۔ عوام کو محض بنیادی حقائق فراہم کرنا کافی نہيں ہوگا۔ ماہرین کو بائیوٹیکنالوجی اپنانے کے جواز پیش کرنے کے علاوہ صحت اور ماحول کے متعلق خدشات پر بھی بات کرنی ہوگی۔

مرڈوک یونیورسٹی کے ریسرچرز کی ایک ٹیم نے ایک متبادل ماڈل تخلیق کرنے کے لیے خصوصی طور پر ماحولیاتی تبدیلی اور غذائی تحفظ جیسے عالمی مسائل کے متعلق مواصلت کی بنیاد پر مذاکرات کی سیمولیشنز کی ٹیسٹنگ کرنا شروع کردی ہے۔ یہ سیمولیشنز سفارتی تربیت کے ماڈل پر تیار کی گئی ہیں اور ان سے سائنس کے متعلق پالیسی کی پیچیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایک سیمولیشن میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شرکت کنندگان نے جینوم ایڈيٹنگ کے ضوابط ترمیم کرنے کے لیے کارٹیجنا پروٹوکول پر مذاکرات کیے۔ ناظرین کو سیمولیشنز سے پہلے اور بعد میں پیش کردہ سرویز سے یہ بات سامنے آئی کہ اس ماڈل میں انہيں موضوع کی باریکیوں کی بہتر سمجھ بوجھ حاصل ہوئی۔

سائنس اور ٹیکنالوجی تنہا کھڑے نہيں ہوسکتے اور زرعی بائیوٹیکنالوجی کے شعبے کے متعلق عوام الناس کے تاثرات کو نظرانداز نہيں کیا جاسکتا۔ تاہم المیہ یہ ہے کہ اس وقت اس موضوع کے متعلق اس قدر غلط معلومات موجود ہیں کہ سچائی کہیں چھپ گئی ہے۔ بائیوٹیکنالوجی کے متعلق کئی ڈاکیومینٹریز تو بنائی جاچکی ہيں لیکن ان میں یا تو سائسنی ڈیٹا کو نظرانداز کیا گیا ہے یا غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے عوام میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نیٹ فلکس کی حالیہ ڈاکیوسیریز ”ان نیچرل سیلیکشن“ (Unnatural Selection) کی مثال لے لیں جس میں شعبہ زراعت میں جینوم ایڈیٹنگ کے ممکنہ استعمال کے متعلق بات نہيں کی گئی، جس کے باعث اس تکنیک کے حوالے سے عوام کے تاثرات بہتر نہيں ہوسکے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ سائنسی اعتبار سے ”آرگینک“ اور ”جینیاتی طور پر ماڈیفائيڈ“ مصنوعات کی تعریفوں کے درمیان مطابقت نہيں ہے، جس کی بنیاد بائیوٹیکنالوجی مصنوعات کی عمرانیات پر کھڑی ہے۔ جینوم ایڈیٹنگ کے لیے ایک ایسا فریم ورک کھڑا کرنے کے لیے جس میں ہر ایک چیز کو مدنظر رکھا جائے، سائنسی ڈيٹا کی تشریح اور خطرات اور صارفین کے احساسات کے متعلق تاثرات کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ حمایت پر مشتمل طریقہ کار کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ اس میں ماحولیاتی اور صحت سے وابستہ خطرات کے تخمینے کے بجائے ان کے متعلق صرف اندازے لگائے جاتے ہیں۔ ایسے افراد جینوم ایڈیٹنگ کو جینیٹک ماڈیفیکیشن کے زمرے میں ہی شامل کرتے ہيں، جو کہ سائنسی اعتبار سے سراسر غلط ہے۔

جینوم ایڈیٹنگ اور نیو بریڈنگ ٹیکنالوجیز سے فصلوں کے معیار اور پیداوار میں اضافہ اور ان کی قیمت میں کمی ممکن ہيں، لیکن ضوابط کے فریم ورکس، اخراجات اور صارفین کے تاثرات کی شکل میں بہت بڑی رکاوٹیں بھی حائل ہیں۔ صارفین اور ماحول دونوں ہی کو جینوم ایڈيٹنگ کے فوائد یکساں طور پر پہنچانے کے لیے ضوابط کو بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔


محمد عدیل وزارت خارجہ پاکستان کے سفیر ہیں اور اس وقت آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں WA سٹیٹ ایگریکلچرل بائیوٹیکنالوجی سینٹر سے اپنی ڈاکٹرل تحقیق مکمل کررہے ہيں۔

Read in English

Authors

*

Top