Global Editions

اب پیشنگوئی کرنے والی ایپلی کیشنز ہر لمحہ مدد کیلئے تیار ہوں گی

موبائل فون اور آئی فون میں مصنوعی ذہانت اور ڈیپ لرننگ کا استعمال کرکے ایسی ایپلی کیشنز متعارف کروائی جارہی ہیں جو صارفین کیلئے مستقبل قریب کیلئے پیش گوئی کرنے کی اہلیت رکھتی ہوں گی۔ اس کے علاوہ یہ بھی کوشش کی جارہی ہے کہ موبائل فون کی نئی ایپلی کیشنز صارفین کو ٹائپنگ کی کوفت سے بچا لے ۔ عام طور پر کمپیوٹرز کو انسانی آپریٹر کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اب مشین لرننگ سافٹ ویئر پر مبنی ایپلی کیشنز آپ کو براہ راست بروقتکچھ سرگرمیوں کے بارےمیں آگاہ کرسکتی ہیں۔ وہ خود بخود آپ کے ہوائی اڈے پر پہنچنے سے پہلے بورڈنگ کارڈ بنوا سکتی ہیں، یہ ٹریفک کی صورتحال کا پتہ کرکے 10منٹ میں آپ کو اگلی میٹنگ کا چھوڑنے کا کہہ سکتی ہیں۔ اینڈرائیڈ موبائل اور آئی فون پر گوگل ناؤ کی ایپلی کیشن اس کی سب سے بہترین مثال ہے۔ گوگل ناؤ کی اپیلی کیشن کو اس طرح سے بنایا گیا ہے کہ جب کوئی شخص طے شدہ کام کرتا ہے تو وہ اس کے ای میل اورکیلنڈراکاؤنٹ کے علاوہ ویب سرچ کو استعمال کرکے مدد فراہم کرے۔

گوگل ناؤ کی ایپلی کیشن آپ کی مصروفیات کا جائزہ لے کر ایک انڈیکس کارڈ فراہم کرتی ہے جس کے تحت دوران سفر ٹریفک کی صورتحال ، ائیرپورٹ پر بورڈنگ کارڈ اور دیگر معلومات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی اوسیٹو (Osito)کے سی ای او بل فیرل(Bill Ferrell)اس موبائل آئی فون پر اسی طرح کی ایپلی کیشن متعارف کروائی ہے جسے وہ پیش گوئی کرنے والی مصنوعی ذہانت کہتے ہیں۔ اوسیٹو کا سسٹم بھی فرد کی ای میل، کیلنڈر اور لوکیشن کا ڈیٹا استعمال کرکے پیش گوئی کرتا اور مناسب مشورہ دیتا ہے۔ اس قسم کی ایپلی کیشن کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ گوگل ناؤ اور اوسیٹو اپنے یوزر کے ڈیٹا کا مزید گہرائی تک جائزہ لینے کی کوشش کررہا ہے۔ اوسیٹو کے انجینئرز فرد کی ماضی کی سرگرمیوں کی روشنی کے ذریعےمستقبل کی پیش گوئی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

گوگل ناؤ نے حال ہی میں یوزر کے شہر کے موسم کی پیش گوئی بھی شروع کی ہے ۔ اگر آپ نئے گھر کی تلاش میں ہیں تو قریب فروخت ہونے والے گھروں کے بارے میں بھی بتا سکتا ہے۔ آئی فون پر ایپلی کیشن گروکر (Grokr) کے سی ای اور سری وات سمپت کا کہنا ہے کہ وہ یوزر کی نسل، عمر اور جنس کو سامنے رکھتے ہوئے درستی کے ساتھ پیش گوئی کرسکتی ہے۔ یہ ایپلی کیشن ان مقامات پر جانے میں بھی مدد دے سکتی ہے جو آپ کو پسند ہیں۔ ان ایپلی کیشنز سے ڈیٹا مائننگ (Data Mining)کی تکنیکس میں مزیدبہتری آئے گی۔ لیکن وہ اس میں جزوی طور پر کامیاب ہوے ہیں ۔ایپل نے 2010ءمیں سری (Siri)کی ایپلی کیشن متعارف کروائی تو اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ ایک سائنس فکشن ہے ، اس کے بعدگوگل نے بھی سری کی نقل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود گوگل ناؤ کو الگ الگ شخصیت کیلئے نہیں بلکہ اسے اجتماعی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ کمپنی انڈیکس وینچر (Index Venture)کے پارٹنر مائک وولپی (Mike Volpi)کہتے ہیں کہ اس وقت یہ ایپلی کیشنز مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا اظہار کررہی ہیں۔ وولپی نے پیش گوئی کرنے والی ایپلی کیشن ڈونا(Donna)میں سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک معاون کی طرح انسانی سطح تک کام کرےگا اور اس سے بہت سے مشکل مسائل حل ہوں گے۔

ایپل میں معاون ایپلی کیشن بہت سے آئی فون صارفین کی زندگی کا حصہ نہیں ہے۔ کیونکہ یہ سافٹ وئیر درستی کے ساتھ آواز کی شناخت نہیں کرسکتا۔ ایپل اب اپنی ایپلی کیشن میں حاضر جوابی کی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ویب کمپنی بِٹ ڈاٹ لائی (Bit.ly)کی چیف سائنسدان ہیلری میسن (Hilary Mason)نے گوگل ناؤ میں ملی جلی معلومات فراہم کی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ گوگل ناؤ میں اکثر غیر ضروری معلومات ہوتی ہیں مثلاً وہ کہتی ہیں کہ انہیں یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ وہ ایک سٹیپل سپلائی سٹور کے قریب ہیں کیونکہ یہ تو مین ہٹن (Manhattan)میں ہر طرف ہیں یا جب بھی وہ بس سٹاپ کے قریب سے گزرے تو اس کا شیڈول بتایا جائے ۔ اس سے مجھے جو مسائل درپیش ہیں وہ حل ہوتے نظر نہیں آتے۔ لیکن پھر بھی یہ کمپیوٹنگ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

تحریر: ٹام سیمونائیٹ (Tom Simonite)

Read in English

Authors
Top