Global Editions

اب بدلتے موسم سے مطابقت رکھنے والی فصلیں پیدا کرنیکی ضرورت

کاشتکار فصلوں کی اچھی پیداوار کیلئے موسم کی صورتحال کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے موسم کے بارے میں قطعی درست پیش گوئی میں فرق آرہا ہے۔ اسی لئے ہمیں ایسی فصلوں کی ضرورت ہے جن کے بارے میں موسمی پیش گوئی کی کم سے کم ضرورت پڑے۔ کسان کا اول روز سے یہ ہی مقصد رہا ہے کہ فصلوں کی اضافی پیداوار حاصل کی جاسکے۔ جینیاتی سائنسدان نے اس مقصد کیلئے فصلوں کی وراثتی خصوصیات پر تجربات کئے جس کے بعد کسان جان گئے ہیں کہ فصلوں کی وراثتی خصلتیں کیا ہیں اور ان سے کس طرح فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ محض ایک عنصر ہےجبکہ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ کیا فصلوں کی یہ وراثتی خصوصیات بدلتے ہوئے موسمی حالات کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔ ہمارے پاس ان حالت سے نمٹنے کیلئےکئی ایسے ٹولز ہیں جن کا مینڈل نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا۔ مثلاً اب یہ کہاجاتا ہے کہ سی فور پودوں کی ضیائی تالیف (C4 photosynthesis)کے جینز کو غیر سی فور پودوں میں منتقل کردیا جاتا ہے (سی فور پودوں کاایسا طریقہ ہے جس میں چار کاربنز پر مبنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کیمیکل کمپاؤنڈ میں تبدیل کرتے ہیں)۔لیکن یہ ترقی اسی وقت مفید ثابت ہو سکتی ہے کہ جب یہ ہمیں متغیر اور ناقابل اعتبار موسم میں فصلوں کی اچھی پیداوار دے۔ مثال کے طور پر شمال کے سطح مرتفع کے عظیم میدانوں میں کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے اورپودوں کے بیجوں کی منتقلی و افزائش کے اہم وقت میں بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی آئی ہے۔ ہمیں ایسی فصلیں کاشت کرنے کی ضرورت ہے جو ان تبدیلیوں کو برداشت کرسکیں۔ امریکی شعبہ زراعت کے مطابق 1990ءسے 2012ءکے دوران امریکہ میں 73ملین ایکڑ زمین بنجر ہو گئی اور یہی کچھ د نیا کے دوسرے حصوں میں بھی ہوا۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن بظاہر تین بڑی وجوہات ہیں جن میں ریگستان کا پھیلنا، سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح او ر پھیلتے ہوئے شہر ہیں۔ زمین کے اس نقصان کا مطلب ہے کہ اب اسے موثر طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں مکئی کی فی ایکڑ پیداوار کو ہی لے لیں، 2014ء میں مکئی کی 171بشلز (bushels) فی ایکڑ پیداوار ہوئی (ایک بشل کا وزن 56پاؤنڈ ہوتا ہے)۔ اگر 80ایکڑ زرعی زمین شہر میں آ گئی ہے تو ہمیں کھوجانے والے زمین کے بدلے میں 760,000پاؤنڈ پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے بہت سے طریقے موجود ہیں جن میں سے ایک جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلیں ہیں۔ بہت سے لوگ ایسی فصلوں پر اعتراض کرتے ہیں لیکن ان کے نتائج انسانی صحت اور ماحول کیلئے بہت اچھے نکلے ہیں۔ اس کا ایک فائدہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ بھی ہے، اس سے بڑی تعداد میں زمین کا کٹاؤ رک جاتا ہے، نہروں، کھالوں اور پانی کے ذخائر میں مٹی کی شرح کم ہو جاتی ہے، کیمیائی کھادوں سے نجات مل جاتی ہے اور زمین میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ ساؤتھ ڈکوٹا میں 1972ء سے لے کر 2012ء کی خشک سالی کے باوجود 70بشلز فی ایکڑ کی پیداوار حاصل کی گئی ۔اس کیلئے ہمیں جینیاتی فصلوں اور زمین کی پانی ذخیرہ کرنے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ زرعی ماہرین غیر یقینی مستقبل کیلئے تیاریاں جاری رکھےہوئے ہیں۔ خوراک کا عدم تحفظ ایک حقیقی اور ٹھوس خطرہ ہے۔ جینیاتی انجینئرنگ، روایتی عمل اور بہتر انتظام کے طریقوں پر تحقیق کے ذریعےزرعی ماہرین سب سے چھوٹے کاربن سے فصلوں کو بہتر بنا رہے ہیں اس کے علاوہ پیداوار اور غذائیت میں بھی اضافہ کر رہے ہیں اور یہ کام سکڑتی ہوئی قابل کاشت زمین پر کیا جارہا ہے جو ایک چھوٹا کارنامہ نہیں ہے۔

تحریر :شیرون کلے (Sharon Clay)

Read in English

Authors
Top