Global Editions

پینے کا پانی اس قدر خطرناک کیوں ؟

پاکستان میں آگے چل کر پانی کی قلت کا مسئلہ شدت کی شکل اختیار کرنے والا ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک بھر میں پینے کے پانی کی حالت زار اور اسے پینے کے قابل بنانے کے اقدام پر نظر ڈالنا بہت ضروری ہے۔

پینے کا صاف پانی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقی کے اہداف (Sustainable Development Goals - SDGs) کے چھٹے ہدف کے مطابق سنہ 2030ء تک ہر شخص کو محفوظ اور سستا پینے کا پانی میسر ہوجانا چاہیے۔ تاہم پاکستان میں 2025ء تک پانی کی شدید قلت کے خطرے کے پس منظر میں پینے کے پانی کے معیار کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔

پانی تک رسائی

واٹر ایڈ (WaterAid) نامی بین الاقوامی غیرمنافع بخش تنظیم کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں 2.1 کروڑ افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہيں ہے۔ The Water Gap – The State of the World’s Water 2018 نامی اس رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پینے کے پانی تک رسائی میں سب سے زيادہ محروم دس ممالک کی فہرست میں پاکستان نویں نمبر پر ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق، "پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جن میں صنعت کاری، زراعت کی ضروریات، زمینی پانی میں کمی اور نمکیات کی مقدار میں اضافہ، شہروں کی آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ اور خشک سالی سر فہرست ہیں۔ پاکستان کے تقریباً تمام امراء کو صاف پانی میسر ہے، لیکن صرف 79 فیصد غرباء کو یہ سہولت حاصل ہے۔"

آبی ماہر سیمی کمال کا کہنا ہے،"یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ پاکستان میں اگر آپ کے پاس زمین ہے تو آپ کو پانی تک رسائی کا حق بھی حاصل ہے۔ دیہی علاقہ جات میں اگر آپ کے پاس زمین ہے تو آپ کو آبپاشی کے لیے پانی فراہم کیا جائے گا، ور شہری علاقہ جات میں اگر آپ کے پاس گھر ہے تو آپ کو چاردیواری تک پانی کی لائن فراہم کی جائے گی، جس کے بعد باقی کام آپ نے خود کرنا ہے۔"

مزید پڑھیں: کیا پاکستان میں تازہ پانی ختم ہو رہا ہے؟

وہ مزید بتاتی ہیں، "اس کا مطلب یہ ہے کہ کچی آبادیوں میں پانی کے حق کا تعین کرنا بہت مشکل ہے، جس کی وجہ سے بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے۔ عام طور پر ہم کمیونٹی ڈيوپلمنٹ کا کوئی پراجیکٹ قائم کرتے ہیں، جس میں کوئی ایک شخص زمین فراہم کرکے اس میں پانی کی لائن لگا دیتا ہے۔ پاکستان میں پانی تک رسائی کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے، اور اس کا کوئی سیدھا سادہ حل نہيں ہے۔"

پانی تک رسائی کا مطلب یہ نہيں ہے کہ پانی صاف اور پینے کے قابل بھی ہوگا۔ پاکستان میں پینے کے لیے دستیاب زیادہ تر پانی میں اکثر بیکٹیریا، بھاری دھاتیں، بیماریاں پیدا کرنے والے جراثیم یا صنعتی آلودگی والے مواد پائے جاتے ہيں۔ لاہور کے ایک سرکاری ہسپتال کی ڈاکٹر نوریہ اشفاق کہتی ہیں، "یہ آلودہ پانی ہیضے، ای کولائی انفیکشن، پیچش، ، ٹائیفائيڈ، اسہال، آنتوں میں کيڑے اور ہیپاٹائٹس جیسی جان لیوہ امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔"
مئی میں بلوچستان کے ضلع آواران میں آلودہ پانی کے باعث چھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ 120 افراد کو ہسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت پیش آئی۔

آرسینک سے آلودہ پانی

پچھلے سال اگست میں بین الاقوامی سائنسی جرنل سائنس ایڈوانسز (Science Advances) میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً پانچ سے چھ کروڑ افراد کو ایسے آلودہ زمینی پانی سے خطرہ ہے جس میں وافر مقدار میں آرسینک موجود ہے۔ اس زہریلی دھات کی سب سے زیادہ مقدار لاہور اور حیدرآباد میں پائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر اشفاق بتاتی ہیں کہ اس دھات کی زیادتی ذيابیطس، امراض قلب اور جلد کےزخم کے علاوہ متعدد کینسرز کی وجہ بن سکتی ہے اور اس سے بچوں کی ذہنی نشونما پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے۔

اس مطالعے میں پاکستان بھر سے تین سے ستر میٹر کے درمیان گہرائی رکھنے والے 1,200 کنوؤں سے حاصل کردہ زمینی پانی کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا تھا، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ تقریباً 66 فیصد پانی میں عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ 10 مائیکروگرام کی حد سے زيادہ آرسینک موجود ہے۔ پاکستان کے دوسرے علاقوں کا زیادہ تر پانی محفوظ ہے، لیکن دریائے سندھ کے میدانی علاقہ جات میں بھی آرسینک کی تعداد 200 مائیکروگرام فی لیٹر ہے، جو بہت زيادہ ہے۔

اس کے علاوہ ریسرچ کی ٹیم نے ایک نقشہ بھی تیار کیا ہے جس میں پاکستان بھر میں آرسینک کی موجودگی کے امکان کا خاکہ پیش کیا گيا ہے۔
ریسرچرز نے ان علاقوں میں جن میں آرسینک کا خطرہ بہت زیادہ ہے، تمام کنوؤں کی فوری ٹیسٹنگ اور پانی سے آرسینک نکالنے کے لیے فوری اقدام کا مشورہ دیا ہے۔

ہم پانی نہيں، پلاسٹک پیتے ہيں

غیرمعیاری پینے کا پانی کا مطلب ہے کہ پانی کی پلاسٹک کی بوتلیں بڑی تعداد میں فروخت کی جاتی ہيں۔ پچھلے چند سالوں میں اس صنعت میں بہت تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔ 19 لیٹر پانی کی ایک بوتل کی قیمت 100 سے 280 روپے کے درمیان ہے، اور پانچ افراد پر مشتمل ایک خاندان کو مہینے میں کم از کم پانچ بوتلوں کی ضرورت پڑتی ہے۔

بوتلوں میں پانی فراہم کرنے والی ایک کمپنی صوفی واٹرز (Sufi Waters) کے سابق ملازم ساجد صوفی صنعت کا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے بتاتے ہيں کہ کسی بھی قسم کے ضوابط موجود نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی شخص اپنی کمپنی کھول کر پانی فروخت کرنا شروع کرسکتا ہے۔ وہ کہتے ہيں، "اس سے صارفین کو فراہم کیے جانے والے پانی کے معیار کے متعلق بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہوتا ہے۔ ان پلاسٹک کی بوتلوں میں استعمال ہونے والا بنیادی خام مادہ پولی ایتھائلین ٹیرفتھیلیٹ (Polyethylene Terephthalate - PET) ہے۔ معروف کمپنیاں اچھے معیار کا اور صاف ستھرا PET استعمال کرتی ہیں، لیکن چھوٹی کمپنیاں کم قیمت اور غیرمعیاری PET استعمال کرتی ہیں۔"

صوفی مزید بتاتے ہيں کہ بوتل میں فروخت ہونے والے پانی کا معیار فلٹریشن اور بوتل میں بھرنے کے پلانٹس کے مقام پر بھی منحصر ہے۔ "اگر کسی جگہ کا زمینی پانی اچھے معیار کا ہے تو اسے پلانٹ میں پراسیسنگ سے بہتر بنایا جاسکتا ہے، لیکن اگر پلانٹ کسی صنعتی علاقے میں واقع ہے جہاں غیرمعیاری زمینی پانی موجود ہو، تو زيادہ فائدہ نہيں ہوگا۔" پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (Pakistan Council of Research in Water Resources - PCRWR)
2005ء سے ہر سہ ماہی بوتل میں فروخت ہونے والے پانی کے معیار کی نگرانی کررہی ہے۔ PCRWR کی سینیئر ریسرچ افسر صائقہ عمران بتاتی ہيں ،"یہ کونسل اپنے ٹیسٹس کے نتائج اخباروں اور الیکٹرانک میڈیا میں شائع کرنے کے علاوہ اپنی ویب سائٹ پر بھی پوسٹ کرتی ہے، اور انہيں چاروں صوبوں اور پانی کے برانڈز کو رجسٹر کرنے اور لائسنس فراہم کرنے والی تنظیم پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول (Pakistan Standards and Quality Control - PSQC) کو بھی فراہم کرتی ہے۔"

ماضی میں PRCWR کی رپورٹس سے ایسی کئی کمپنیاں سامنے آئی تھیں جو غیرمعیاری پانی فروخت کررہی تھیں جس میں جراثیم کی آلودگی اور آرسینک کی بہت زیادہ تعداد موجود تھی۔ تاہم یہ مسئلہ اس وقت اجاگر ہوا جب جنوری میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے پانی کے 24 برانڈز پر معیاروں پر پورا نہ اترنے تک پابندی لگادی۔ ٹیسٹس کے ایک اور مرحلے کے بعد ان میں سے تین برانڈز کو پانی کی تقسیم بحال کرنے کی اجازت مل گئی۔

بوتل میں دستیاب پانی کی فروخت سے وابستہ ایک اور مسئلہ اس پانی میں موجود پلاسٹک کے ذرات کی موجودگی ہے جس کے بارے میں اس وقت زيادہ لوگوں کو معلوم نہيں ہے۔ مارچ میں شائع ہونے والے ایک عالمی مطالعے میں بوتل میں فروخت ہونے والے پانی کا تجزیہ کیا گیا، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ دنیا بھر سے تقریباً تمام مقبول برانڈز کے پانی میں پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ذرات موجود ہیں۔ شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے غیرمنافع بخش ادارے آرب میڈیا( Orb Media) اور فریڈونیا میں سٹیٹ یونیورسٹی آف نیو یارک سے وابستہ ریسرچرز کی جانب سے منعقد کردہ اس مطلعے میں نو ممالک میں 19 مقامات سے تعلق رکھنے والے 11 مختلف برانڈز کی 259 بوتلوں کا تجزیہ کیا گیا، جو چین، برازیل، بھارت، انڈونیشیا، میکسیکو، لبنان، کینیا، تھائی لینڈ اور امریکہ سے لائی گئی تھیں۔

اس مطالعے سے یہ بات ثابت ہوئی کہ 93 فیصد نمونوں میں مائیکروپلاسٹک آلودگی شامل تھی، اور ان میں فی لیٹر پانی اوسطاً 325 مائیکروپلاسٹک کے ذرات موجود تھے۔ اس وقت پانی میں مائیکروپلاسٹکس کے خطرات کے متعلق کوئی ثبوت موجود نہيں ہے، لیکن اس مطالعے کے بعد عالمی ادارہ صحت نے انسانی صحت پر اس کے اثرات کے متعلق تحقیق شروع کردی ہے۔

مزید پڑھیں: صحرا میں ٹماٹر اُگنے لگے۔۔۔ شمسی توانائی کا شکریہ

بوتل میں دستیاب پانی کا ایک متبادل نجی اور بلدیاتی حکومتی کی طرف سے لگائے گئے فلٹریشن پلانٹس ہیں۔ ان پلانٹس سے حاصل ہونے والے پانی کی قیمت تو کم ہے، لیکن ان کے ساتھ دوسرے مسائل وابستہ ہیں۔ بلدیاتی حکومت کی طرف سے لگائے گئے پلانٹس کی بروقت مرمت نہیں کروائی جاتی ہے، اور پرائیویٹ فلٹریشن پلانٹس کے پانی کے معیار کے حوالے سے کوئی ضوابط موجود نہيں ہیں۔

کیڑے مار ادویات، صنعتی آلودگی اور پائپس میں موجود سوراخ

پینے کا پانی مختلف ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے۔ ماحولیاتی وکیل احمد رافع عالم بتاتے ہيں ،"کچھ کمیونٹیز کو زمین سے (ٹیوب ویلز سے) پانی ملتا ہے، کچھ کو دریاؤں اور جھیلوں سے اور کچھ کو گلیشئرزسے۔ پینے کا پانی جہاں سے آرہا ہے، اس کے لحاظ سے اس کی آلودگی بھی مختلف ہوگی۔"

سیمی کمال بتاتی ہیں کہ پانی کے غیرمحفوظ ہونے کی ایک بہت بڑی وجہ اس میں موجود کیڑے مار ادویات ہيں۔ "پانی میدانی علاقوں میں داخل ہوتے ہی کھڑا ہونا شروع ہوجاتا ہے، کیونکہ زرعی علاقوں میں کیڑے مار ادویات اور دوسرے کیمیکلز وافر مقدار میں استعمال کیے جاتے ہيں، جس کی وجہ سے پانی غیرمحفوظ ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد اس پانی میں شہروں اور دوسرے مقامات سے (یہاں تک کہ دیہاتوں سے بھی) گندا پانی بھی شامل ہوجاتا ہے۔ اگر یہ پانی ٹریٹمنٹ کے بغیر زمینی یا زیرزمین چینلز میں چلا جائے اور اسے بعد میں نکال کر پینے کی کوشش کی جائے، تو یہ کبھی بھی محفوظ نہيں ہوگا۔"

وہ مزید بتاتی ہيں کہ ماضی میں لوگ پانی کے ذخائر کو محفوظ سمجھتے تھے، اور کنویں کا پانی پیتے تھے۔ تاہم اب مٹی میں کیڑے مار ادویات کی بھرمار کی وجہ سے زمینی پانی آلودہ ہوچکا ہے اور کنويں کا پانی بھی پینے کے قابل نہيں رہا۔ لیکن گرم چشموں کا پانی، جو زيادہ گہرائی میں موجود ہوتا ہے، عام طور پر زيادہ صاف ہوتا ہے اور اسے پیا جاسکتا ہے۔

آلودگی کی ایک اور وجہ مٹی میں خارج کیے جانے والے صنعتی اخراج ہیں، جو بعد میں جھیلوں اور دریاؤں میں شامل ہوجاتے ہيں۔ عالم کہتے ہيں، "لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ کی مثال لے لیں۔ یہ تین شہر دریائے راوی کو آلودہ کرتے ہيں، جس کے بعد اس دریا کا پانی آبپاشی کے نظام سے جا ملتا ہے۔ دوسری طرف، جنوبی پنجاب میں لوگ صنعتی اخراج سے آلودہ نہر کا پانی پیتے ہيں۔"

شہروں کو پانی صاف کرنے کے بعد فراہم کیا جاتا ہے، لیکن اگر انفراسٹرکچر صاف نہ ہو تو پانی دوبارہ آلودہ ہوجاتا ہے۔ عالم کہتے ہيں، "لاہور بہت پرانا شہر ہے، اور یہاں کےاکثر پائپس ٹوٹے ہوئے ہیں یا زنگ آلود ہیں، جس کی وجہ سے ان پائپس میں چلنےوالا پانی آلودہ ہوجاتا ہے۔ زمینی پانی تو صاف ہے، لیکن ان گندے پائپس کی وجہ سے پانی بھی گندا ہورہا ہے۔"

پانی کو کس طرح صاف کیا جائے

دنیا بھر میں شہری حدود کے باہر پانی کوصاف کرنے کے لیے بڑا سرکاری ڈھانچہ موجود ہوتا ہےجس میں فلٹریشن، سیٹلنگ، الٹراوائلٹ شعاعیں، کوئلہ، بائیوسینڈ کے فلٹرز اور کلورینیشن جیسی تکنیکیں استعمال کرکے پانی کوصاف کیا جاتا ہے۔

واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی یعنی واسا (Water and Sanitation Agency - WASA)

کے سابقہ مینیجنگ ڈائریکٹر عبدالقدیر خان کہتے ہيں،"عام طور پر ٹیوب ویلز کا پانی صاف ہوتا ہے۔ اگر پائپ لائن میں کسی بھی قسم کی آلودگی ہوتی ہے، ہم اسے شروع ہی میں صاف کرتے ہيں۔ جب 2007ء میں جب پانی میں آرسینک آنا شروع ہوا تھا، اس وقت ہم نے الٹرافلٹریشن ٹیکنالوجی سے آراستہ پلانٹس لگائے تھے۔ لاہور میں اس وقت 449 پلانٹس ہیں۔"

وہ مزید بتاتے ہيں، "اب پانی زیادہ گہرائی سے آتا ہے، اور اس میں آرسینک کا تناسب کم ہے۔"

خان بتاتے ہيں کہ پانی سے آرسینک نکالنے کے لیے ایک علیحدہ فلٹر کا استعمال کیا جاسکتا ہے جس میں فیرک ہائيڈروآکسائيڈ موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، فعال ایلومینیا کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ خان کہتے ہیں،"واسا لاہور میں ہم نے ایلومینیا استعمال نہيں کیا، لیکن اس سے آرسینک جیسی کئی بھاری دھاتیں صاف کی جاسکتی ہیں۔"

وہ مزید بتاتے ہيں ،"اس کے بعد پانی میں کلورین شامل کی جاتی ہے۔ کلورین سے بیکٹیریا تو ختم ہوجاتے ہيں، لیکن وائرس زندہ بچ جاتے ہیں، اور ان وائرس کو ختم کرنے کے لیے الٹرافلٹریشن کی ضرورت پڑتی ہے، جس سے 99.9 فیصد وائرس ختم ہوجاتے ہيں۔" ان کے مطابق ٹوٹے ہوئے پائپس کی مرمت نہایت ضروری ہے، ورنہ آلودگی کسی صورت ختم نہيں ہوگی۔

کمال کہتی ہیں،"شہروں کی حدود کے باہر تنصیبات سے پانی تو صاف ہوجاتا ہے، لیکن اگر پانی شہر میں داخل ہونے کے بعد گندا ہورہا تو اسے شروع میں نہيں بلکہ اس مقام پر صاف کرنا چاہیے جہاں اسے استعمال کیا جارہا ہے۔ ہمارے شہروں میں، جہاں سب کچھ بری حالت میں ہے، وہاں آپ یہی کچھ کر سکتے ہیں ۔" انفرادی سطح پر بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ گھروں میں فراہم کردہ پانی کو ابالا جاسکتا ہے، فلٹر کیا جاسکتا ہے یا اس میں پھٹکری ڈالی جاسکتی ہے۔ اگر پانی کا استعمال کم ہو تو اوپر حیاتیاتی سطح برقرار رکھنے والے بائیوسینڈ کا فلٹر بھی لگایا جاسکتا ہے۔

کمال کہتی ہیں،"اس سب کے لیے نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔ چھوٹے سے فلٹر پلانٹ کو بھی صاف کرنا پڑتا ہے۔ جتنی زیادہ ٹیکنالوجی استعمال کی جائے، اس کی مرمت بھی اتنی ہی مشکل ہوگی۔"

پانی کی قیمت کا تعین

کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کی قیمت متعین کرنے سے اس مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے۔

عالم کہتے ہيں ،"اس وقت لاہور میں بہت کم گھروں میں پانی کے میٹرز لگائے گئے ہیں جس کی وجہ سے استعمال کی پیمائش ناممکن ہے۔ اس وجہ سے پانی کی قیمت کا تعین کرنا اور اس کے اخراج حاصل کرنابہت مشکل ثابت ہوگا۔"اس وقت لاہور میں پانی کے استعمال کی پیمائش ناممکن ہونے کے باعث بل کا تعین استعمال کے مطابق نہيں بلکہ گھر کے کرایے کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ عالم بتاتے ہیں کہ شہر کے مہنگے علاقوں میں واقع بڑے گھروں میں پانی کا بل زیادہ آتا ہے، جبکہ غریب علاقوں میں یا چھوٹے گھروں میں بل کم ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: یہ ڈرائیر آواز کی لہروں کے ذریعےکپڑوں میں سے نمی نچوڑتا ہے

پانی کا بل ہر ماہ چند ہزار روپے سے زيادہ نہيں ہوتا ہے، اور اس وجہ سے امیر گھرانوں میں پانی ضرورت سے زيادہ استعمال ہوتا ہے۔ لوگ اکثر پینے کے پانی سے اپنی گاڑیاں دھوتے ہیں اور بڑے بڑے باغات کو پانی بھی دیتے ہيں، جبکہ دوسری طرف کئی گھرانے پینے کے پانی سے محروم رہتے ہيں۔ صاف پانی کے اس ضرورت سے زيادہ استعمال کی وجہ سے کم آمدنی والے خاندانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ممکن ہے کہ پانی کی قیمت کے موثر تعین سے صاف پانی سوچ سمجھ کر استعمال کیا جائے گا، جس کے باعث زيادہ لوگوں کو پینے کا محفوظ پانی میسر ہوگا۔

کمال کہتی ہیں، "میری نظر میں اس وقت جتنا بھی پانی استعمال کیا جارہا ہے، اس کی قیمت بھی ادا کرنی چاہیے۔ کام اسی طرح سے چلے گا، ورنہ مرمت کے لیے رقم کہاں سے آئے گی؟ میرے خیال ہے کہ اگر گیس اور بجلی کے میٹرز لگائے جاسکتے ہيں تو پانی کے میٹر کیوں نہيں؟"

اسلام آباد کے مضافتی علاقے میں خواتین پانی کے ٹوٹے ہوئے پائپ سے بوتلوں میں پانی بھر رہی ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف پانی کی قیمت کا تعین کافی نہيں ہے۔ پانی کی منصفانہ قیمت کے تعین کے متعلق بات چیت بھی ضروری ہے۔ پانی بنیادی انسانی حق ہے، اور ہر کسی کو کچھ حد تک مفت پانی میسر ہونا چاہیے۔ دوسری چیزوں کی طرح اس کی خریدوفروخت نہيں کی جاسکتی ہے۔ عالم کے مطابق اس کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے قیمت کے لحاظ سے سلیب واضح کرنے چاہیے، جن میں پہلے 50 لیٹر پانی بالکل مفت فراہم کیے جائيں گے، لیکن اس کے بعد استعمال ہونے والے ہر لیٹر کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔

تاہم، پاکستان میں پانی کی قیمت میں اضافہ ایک بہت مشکل سیاسی فیصلہ ثابت ہوگا۔ عالم کہتے ہیں، "ملک بھر میں کروڑوں کسان ہیں، اور پانی کی قیمت بڑھانے سے ان کے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔"

ماہرین موجودہ صورتحال میں تبدیلی لانے کے لیے قوانین کے سیاسی مضمرات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ کمال کہتی ہیں ،"ہمارے ملک کی آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ اور پانی کی فی کس دستیابی میں بہت تیزی سے کمی ہورہی ہے۔ ہمیں جلد ہی کچھ کرنا پڑے گا ورنہ کیپ ٹاؤن میں جو ہوا، یہاں بھی ایسا ہی کچھ ہوگا۔"

تحریر: ماہ رخ سرور

Read in English

Authors
Top