Global Editions

ایسٹرا زینیکا کی کرونا ویکسین کے ڈیٹا کے متعلق شک و شبہات کے باعث نئے ٹرائلز منعقد ہوں گے

اس کی وجہ کمپنی کے ڈيٹا کے حصول کے متعلق خدشات ہیں

دواساز کمپنی ایسٹرازینیکا (AstraZeneca) کے سی ای او پیسکل سوریوٹ (Pascal Soriot) نے بلوم برگ کو بتایا ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی اور ان کی کمپنی کی مشترکہ ویکسین کو ایک عالمی ٹرائل میں نئے سرے سے ٹیسٹ کیا جائے گا۔ پہلے توقع کی جارہی تھی کہ صرف امریکہ میں منعقد ہونے والے ٹرائل کو وسیع کیا جائے گا۔ اس نئی ٹیسٹنگ کی وجہ ان ٹرائلز کے لئے ڈیٹا کے حصول اور انہیں پیش کرنے کے طریقے کے حوالے سے تنقید بتائی جارہی ہے۔

مزید تفصیلات: کچھ روز پہلے ایک خبر سامنے آئی تھی جس کے مطابق آکسفورڈ/ایسٹرا زینیکا کی کرونا وائرس کی ویکسین 90 فیصد اثراندازی رکھتی ہے۔ یہ کرونا وائرس کی تیسری کامیاب ویکسین تھی اور ماڈرنا فارماسیوٹیکلز (Moderna Pharmaceuticals) اور فائزر (Pfizer) کی ویکسینز سے کم قیمت ہونے کی وجہ سے اس کی کامیابی سے غریب ممالک کو بھی بہت فائدہ پہنچنے والا تھا۔

ایسٹرازینیکا کی ویکسین کے متعلق اعلان کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ برازیل اور برطانیہ میں منعقد ہونے والے ٹرائلز میں اس ویکسین کی اثراندازی محض 62 سے 70 فیصد کے درمیان تھی، اور 90 فیصد اثراندازی صرف ان ٹرائلز میں نظر آئی جن میں محض 3،000 شرکت کنندگان تھے اور جن میں غلطی کے باعث ویکسین کے پروٹوٹائپ کی کم خوراک دی گئی تھی۔ ان نتائج کو دیکھتے ہوئے ایسٹرازینیکا نے کم خوراک کی مزید ٹیسٹنگ کے لیے نیا ٹرائل منعقد کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوریوٹ بلوم برگ کو بتاتے ہيں کہ ” ان نتائچ کو دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا ہے کہ اثراندازی میں اضافہ کرنا مکمن ہے، لیکن ہمیں اس ابتدائی مشاہدے کی ٹیسٹنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ “ ان کے مطابق اثراندازی زيادہ ہونے کے باعث مریضوں کی کم تعداد کافی ہوگی۔

دیگر خدشات: جس گروپ کو کم خوراک دی گئی تھی، اس میں کسی بھی شرکت کنندہ کی عمر 55 سال سے زيادہ نہيں تھی۔  لِہٰذا اس نئے ٹرائل کی مدد سے ریسرچرز کو بڑی عمر کے افراد پر اس ویکسین کی افادیت جانچنے کا بھی موقع ملے گا۔ اس کے علاوہ، ممکن ہے کہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (Food and Drug Administration) کی منظوری کے لیے مختلف نسلوں، عمروں، اور جنسوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر ٹیسٹنگ کی ضرورت بھی پیش آئے۔

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

تصویر: ایسوسی ایٹڈ پریس (Associated Press)

Read in English

Authors

*

Top