Global Editions

پودوں سے بیماری کے جینز کو تباہ کرنے کی نئی ٹیکنالوجی

مونسانٹو کی لیبارٹری کے اندر جینز کی پیوندکاری کی بجائے مشاہدہ کیا جارہا ہے کہ کس طرح آر این اے سپرے چھڑک کر فصلوں میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ اس مقصد کیلئے پودوں پر مختلف تجربات کئے جارہے ہیں تاکہ پودوں کو لگنے والی بیماریوں اور کیڑوں سےنجات مل سکے۔ پودوں کو فصل خور کیڑوں اور بیماریوں سے نجات دلانے کیلئےآر این اے انٹرفیئرنس (RNA interference) اور جینیاتی ترمیم ٹیکنالوجی (GMO)استعمال کیا جارہاہے۔ ریاست کولوراڈو میں آلو کی فصل پر اس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔واضع رہے کہ ریاست کولوراڈو میں آلو کی فصل پر لگنے والا کیڑا بہت خوش خوراک ہےاور یہ کیڑا ایک دن میں 10مربع سینٹی میٹر پودے کا پتا چبا جاتا ہے۔ مصنف انٹونیو ریگالڈو لکھتے ہیں کہ جو کیڑا میں دیکھ رہا ہوں وہ تو فصل کیلئے ایک عذاب سے کم نہیں۔ جس پودے کو وہ کھا رہا تھا وہ مونسانٹو لیبارٹری کے باہر بڑی احتیاط سے اگایا گیا سرسبز پودا تھا جو آر این اے سپرے میں بھیگا ہوا تھا۔ اس تجربے میں آر این اے انٹرفیئرنس (RNA interference) نامی طریقہ کار کو اپنایا گیا ہے۔یہ کسی بھی جین کی سرگرمی یا اس میں موجود ہدایات کو عارضی طور پر روکنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس طریقے میں بیماری کی گروتھ کیلئے اہم جین کی سرگرمی کو روک یا خاموش کر دیا جاتا ہے ۔ مونسانٹو کی سائنسدان جوڈی بِیٹی (Jodi Beattie)نے مجھے اپنے تجربے کا مشاہدہ کرواتے ہوئے کہا کہ کیڑوں کی خوراک میںپروٹین پیدا کرنے والے جین کی سرگرمی رکنے سے مجھے 99فیصد یقین ہے کہ یہ کیڑے جلد ہی مر جائیں گے۔ آر این اے آئی کی دریافت دو سائنسدانوں نے 2006ء میں کی، جنہیں ان کی دریافت پر نوبل انعام بھی دیا گیا۔ انہوں نے ایسی دوائی بنائی جو بیماری کا سبب بننے والے جین کو کام کرنے سے روک دیتی ہے۔ مونسانٹو کمپنی کا خیال ہے کہ یہی ٹیکنالوجی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ ٹیکنالوجی کے متبادل کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس سے آر این اے کے محلول سے بھیگےپتے کھانے والے کیڑے بھی مارے جاسکتے ہیں۔ اگر کمپنی کی کوششوں سے ایسا سپرے بنانے میں کامیابی مل جاتی ہے جو پودوں کے خلیات میں گھس جائے تو مخصوص جین کو کام کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔ ذرا ایسے سپرے کے بارے میں تصور کریں جن سے ٹماٹر کا ذائقہ بہتر ہو جائے اور پودوں کو خشک سالی میں زندہ رہنے میں مدد ملے۔ مونسانٹو کمپنی کی طرح بائیر (Bayer)اورسنجینٹا (Syngenta)جیسی دیگر بڑی کمپنیاں بھی اس ٹیکنالوجی پر تحقیق کررہی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی میں سائنسدانوں کیلئے کشش یہ ہے کہ یہ کسی پودے کے جینوم میں تبدیلی کئے بغیر جینز کو کنٹرول کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ سپرے ممکنہ طور پر زرعی بائیو ٹیکنالوجی میں موضوع بحث بنے ہوئے تنازعات کو ختم کردے گا ۔ یہ جی ایم او کو استعمال کئے بغیر جینیاتی انجینئرنگ کے مقاصد حاصل کرنے کا طریقہ ہے جو تجارتی طور پر مقبول ہو سکتا ہے۔ یہ سپرے پودوں کو کھانے والے حشرات الارض اور دیگر طفیلی کیڑوں یا نئے وائرس سے جنگ کرنے کیلئے بنایا گیا ہے۔ آر این اے کے اس طریقے سے اگائی گئی فصل جی ایم او فصل سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ سپرے کے ذریعے پودے کی خصوصیات کو متاثر کرتے ہیں ، اس کا مطلب ہے آپ معمول کی بارش کے دنوں میں پودے کی کارکردگی کو متاثر کئے بغیر خشک موسم میں بھی پانی کی قلت کیخلاف مزاحمت پیدا کرسکتے ہیں۔

سائنسدان جوڈی بِیٹی (Jodi Beattie)نے مجھے بڑا جار دکھایا جس میں خشک کیا گیا اور مصفا آر این اے چمک رہا تھا۔کچھ سال پہلے اس مقدار کے آر این اے کی قیمت ایک ملین ڈالر تھی یہی وجہ تھی کہ بہت کم کسان اسے کارن کی فصل پر سپرے کا سوچتے تھے لیکن اب اس کی قیمت نہایت کم ہو گئی ہے۔ مونسانٹو نے اب اس کا تخمینہ 50ڈالر فی گرام لگایا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ رقم پہلی قیمت سے دس گنا کم ہے۔ آر این اے کی ایک گرام کی مقدار ایک ایکڑ پر پھیلے پودوں میں کیڑوں کو سو فیصد ہلاک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

میں مونسانٹو میں چیف ٹیکنالوجی افسر روب فرالے (Robb Fraley)سے ملا جن کے پاس 5000کی تعداد میں تحقیق کرنے والا عملہ موجود ہے۔ فرالےنے مونسانٹو کیلئے آر این اے سپرے بنایا ہے۔ ان کے خیال میں چند سالوں کے اندر بائیوٹیکنالوجی کے استعمال کے نئے راستے کھل جائیں گے، جس میں مرض کی پرانی علامات نہیں ہوں گی اور اس کی قیمت بھی کم ہو گی۔ یہ روب فرالے ہی تھا جس نے 1980ء میں مونسانٹو میں پہلا جی ایم پلانٹ کاشت کیا تھا۔

اگرچہ کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں کہ آر این اے سے کاروباری لحاظ سے پیداوار ممکن ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جینیاتی تبدیلی (GMO)سے کہیں کم متنازعہ ہےاورعوام بھی جی ایم کو قبول نہیں کررہے ، یہ صورتحال بہت زیادہ پریشان کن ہو سکتی ہے۔ ڈیوس میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے فزسٹ قاسم الخطیب کہتے ہیں کہ لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ کیا آپ کھلے عام آر این اے سپرے کریں گے؟ لہٰذا ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ پہلے بائیو ٹیکنالوجی کو عوامی سطح پر مقبول بنائیں کیونکہ یہ کل کی نہیں بلکہ مستقبل بعید کی ٹیکنالوجی ہے۔ روب فرالے نے مجھ سے ملاقات کے دوران بائیوٹیکنالوجی کی عوامی سطح پر مقبولیت کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے انکار نہیں کیا۔ حقیقت میں ان رکاوٹوں نے ہی اسے بائیوٹیکنالوجی کے ابتدائی دنوں کی یاد دلائی۔ وہ کہتے ہیں کہ ابھی کسی نے اس حقیقت کا ادراک ہی نہیں کیاکہ کس طرح فیلڈ سپرے کرکے پودوں کے سیلوں سے آر این اے ہدایات کے زریعے ختم یا خاموش کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے حشرات آسانی سے نہیں مرتےاور نہ ہی بیماریاں آسانی سے ختم ہوتی ہیں۔ کسانوں کے ان مسائل کو حل کرنے کیلئےکرنے کیلئے مونسانٹو نے لاکھوں ڈالر خرچ کئے ہیں۔ لیکن تاحال ابھی بہت سی ریسرچ باقی ہے ۔

گھاس کا کنٹرول

پودوں اور جانوروں کے سیلوں میں ڈی این اے کی شکل میں ہدایات موجود ہوتی ہیں پروٹین بنانے کیلئے ہر جین میں جینیاتی حروف کی ترتیب موجود ہوتی ہے جسے آر این اے میں کاپی کیا جاتا ہے جس کے بعد اسے نیوکلیس میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں پر سیل کی پروٹین بنانے والی مشینری سے رہنمائی ملتی ہے۔ آر این اے انٹر فیئرنس یا جین کو خاموش کرنے والی (Gene Silencing)ٹیکنالوجی ہے یہی ایک راستہ ہے جسے آر این اے کے خصوصی پیغامات کو تباہ کیا جاسکتا ہے تاکہ وہ پروٹین نہ بنا سکے۔ یہ قدرتی مکینزم ہے۔ یہ وائرس کیخلاف بطور دفاعی نظام استعمال ہوتا ہے۔ یہ اس وقت کام کرتا ہے جب سیلوں میں دو شاخہ آر این اے (Double Stranded RNA)باہم مل جائیں۔ دو آر این اے اس وقت وائرس بناتے ہیں جب دونوں ایک دوسرے کے جینیاتی مواد کو کاپی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اپنا دفاع کرنے کیلئےسیل دوشاخہ آر این اے مالیکیول (Double Stranded RNA Molecule)کو ٹکڑوں میں کاٹ کران میں آر این اے پیغامات تلاش کرکے تباہ کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ جانور یا پلانٹ سیلز کے اپنے جینز سے دو شاخہ آر این اے بنالیتے ہیں تو وہ ان سیلوں کے جینز میں موجود ہدایات کو خاموش کر سکتے ہیں۔ کچھ جی ایم او پلانٹس پہلے ہی غیر ضروری اینزائمز (Enzymes)کے کام کو معطل کرنے یا وائرس کو ختم کرنے کیلئے آر این اے استعمال کرتے ہیں۔ امریکہ میں پہلے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ ٹماٹر امریکی حکومت کی اجازت سے 1994ء میں متعارف کروائے گئےجن کو فلیور سیور (FlavrSavr)ٹماٹر کا نام دیا گیا۔ اس میں ٹماٹر کے اینزائم کو کنٹرول کرکے اسے زیادہ دیر تک تازہ رکھنے کا انتظام کیا گیا۔ مونسانٹو میں کپاس اور یارن کی طرح فلیور سیور ٹماٹر بھی جی ایم او تکنیک سے کاشت کئے گئے۔ اس کے بیج میں ایک اضافی جین شامل کیا گیا تھا جس کا مقصد خاص آر این اے مالیکیول میں موجود ہدایات کو خاموش کرنا تھا۔ اس وقت سے کمپنیوں نے کچھ اور پودوں کیلئے بھی آر این اے کی ٹیکنالوجی استعمال کی۔ اس سال گرینی سمتھ کمپنی نے سیب کو جینیاتی طور پر تبدیل کرکے اس کا رنگ بھورا کر دیا۔ اسی طرح جزیرہ ہوائی میں جی ایم او ٹیکنالوجی کی مدد سے پپیتے کی فصل کو رنگ سپاٹ وائرس (Ring Spot Virus)کی بیماری سے بچالیا۔

مونسانٹو کمپنی اپنی مکئی کے پودوں کی فروخت کیلئے اجازت ملنے کا انتظار کررہی ہے۔ جس میں ویسڑن کارن روٹ ورم (Western Corn Rootworm)کی بیماری کو ختم کرنے کیلئے جی ایم او ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔ سائنسدانوں کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ اگر ہم پودے کے جینوم میں پیوندکاری کی بجائے آر این اے سپرے کریں گے تو کیا ہو گا؟ مونسانٹو میں کیمسٹ ڈوگ سمنز نے سب سے پہلے یہ تصور پیش کیا۔ انہوں نے گھاس کا مشاہدہ کیا جو گلائسوفیٹ بنانے میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔ یہ وہ جڑی بوٹی ہے جسے مونسانٹو جینز میں تبدیلی کرکے جلد متعارف کروائے گا۔ یہ جڑی بوٹی والی گھاس پھونس کسانوں کےساتھ مونسانٹو کیلئے بھی بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔سمنز کا خیال ہے کہ کچھ جڑیوں میں 160 اضافی جینز موجود ہوتے ہیں۔ جنہیں ای پی ایس پی ایس کہا جاتا ہے۔ یہ گلائیسوفیٹ اینزائم پودوں کی نشونما میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔ آر این اے انٹرفیئرنس ٹیکنالوجی استعمال کرکے ان اضافی جینز کو پیچھے دھکیلا جاسکتا ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ جب یہ جڑی بوٹی جنگل میں اگتی تھی اس وقت مونسانٹو کے پاس اسے کنٹرول کرنے کیلئے کوئی جینیاتی راستہ موجود نہیں تھا۔ مونسانٹو میں ریسرچ منیجر گریگوری ہیک نے بتایا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے سمنزنے آر این اے سپرے پودوں پر براہ راست چھڑکنے کا خیال پیش کیا۔

یہ کام ہوتا دکھائی نہیں دیتا تھا لیکن مونسانٹو نے ایسا کردکھایا۔ اس کیلئے لیبارٹری کے ساتھ سڑک کنارے اگی جڑی بوٹیوں پر تجربات کئے گئے۔ ان تجربات کے تحت راؤنڈ اپ مکسچر اور دوشاخہ آر این اے استعمال کرکے ای پی ایس پی ایس ہدایات دے کر جین کو کام کرنے سے روکا جاتا ہے جو جڑی بوٹیوں کو مرجھانے نہیں دیتا۔ مونسانٹو کے مطابق سپرے کے ذریعے کیا گیا آر این اے مالیکیول ہوا کیلئے پودوں میں موجود باریک ترین سوراخوں میں داخل ہو جاتا ہے۔اس طرح آر این اے سے تر پودے میں سرگرم جین خاموش ہو جاتے ہیں اوروہ اس پر اتنی دیر تک کنٹرول رکھتا ہے جب تک جڑی بوٹی پر قابو نہیں پا لیا جاتا۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے مونسانٹو کے پاس نیا سپرے بنانے کی صلاحیت ہے جو مسئلہ پیدا کرنے والی جڑی بوٹیوں کو ختم کرے ۔ یہ جڑی بوٹیاں پورے امریکہ کے کھیتوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہیک کہتے ہیں کہ اگر آپ گلائسوفیٹ پر قابل پا لیتے ہیں تو یہ آپ کا بہت بڑا کارنامہ ہو گا۔ سینئر پروگرام منیجر لائل کراس لینڈ (Lyle Crossland)کہتے ہیں کہ کمپنی کے سائنسدانوں کاکہنا ہے کہ سپرے سے اور بھی بہت سے کام لئے جاسکتے ہیں۔ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ اس سے کسی بھی فصل کے جین کو کام کرنے سے روکا جاسکتا ہے، یہ جڑی بوٹی یا مکئی کا پودا بھی ہو سکتا ہے۔ آپ صرف جینیاتی حروف کوترتیب دیں ، اس سے آپ پھل براؤن ہونے سے روک سکتے ہیں۔ آپ پودے میں فوٹو سنتھسز کے ذریعے خشک سالی کو برداشت کرنےکی قوت پیدا کرسکتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے میں ہمیں بہت سے مسائل بھی درپیش ہیں۔
ڈائریکٹر آسٹریلین ہربی سائڈ رزسٹنس اینیشی ایٹو (Australian Herbicide Resistance Initiative) اور ویسٹرن آسٹریلیا یونیورسٹی کے پروفیسر سٹیفن پاول (Stephen Powel)کی طرح کچھ ماہرین اس سے متفق نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مونسانٹو کی طرح جڑی بوٹیوں پر تجربات کئے لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔ دوشاخہ آر این اے کو پودے پر چھڑک کر اسے مارنا اتنا آسان نہیں ہے، حقیقت میں یہ کام بہت مشکل ہے۔ اس میں جو فارمولہ سازی کی گئی ہے اس سے مسئلہ ایک ہفتے بعد ہی دوبارہ ابھر کر سامنے آجائے گا۔ پودوں کے بائیولوجسٹ رچرڈ جارجنسن بھی اس ٹیکنالوجی کی کارکردگی سے متاثر نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آر این اے سپرے کے ذریعے تبدیلی جی ایم او کے بدلے میں خاصا فضول خیال ہے۔ مثال کے طور پر آپ چاہتے ہیں کہ پھولوں کا خاص رنگ بدل جائے تو کیا آپ ہر ہفتے ان پودوں پر سپرے کریں گے؟ میرے خیال میں جی ایم او کے مقابلے میں اس ٹیکنالوجی میں بہت سی خامیاں ہیں۔ پاول کا کہنا ہے کہ اگر سپرے کام کرے تو یہ بہت بہتر ثابت ہو گا جس کی مدد سے آپ کسی خاص جینز کو ہدف بنا کر کام کرنے سے روک دیتے ہیں۔ کیونکہ ہر شے میں بہت سے غیر ضروری جینز بھی ہوتے ہیں۔

تجرباتی ادارہ

2010 ء کے بعدسے جڑی بوٹی کے خاتمے کے لئے مونسانٹو نے آر این اے ٹیکنالوجی پر بہت کام کیا۔ مونسانٹو نے ایک کمپنی بی او لوجکس (Beeologics)کو خرید لیا جس نے آر این اے والا میٹھا پانی متعارف کروایا جسے پی کر شہد کی مکھیاں اپنے چھتوں میں چھپے طفیلی کیڑوں کو مارتی ہیں۔ اس کمپنی نے آر این اے بنانے کیلئے زیادہ سستا راستہ اختیار کیا۔ مونسانٹو نے پودوں سے آر این اے حاصل کرنے کی زیادہ کوششیں کرنی شروع کردیں۔ اس نے بائیو ٹیک کمپنی النائلم (Alnylam)اور برطانوی کولمبیا کے شہر برنابی میں قائم ٹیکمیرا (Tekmera)سے 30 ملین ڈالر کے معاہدے کئے۔ مونسانٹو کو 15 افراد پر مشتمل مالیاتی کمپنی پری سیرز (Preceres)کی بھی معاونت حاصل ہے جس نے ایم آئی ٹی میں تجرباتی ادارے کے طور پر کام شروع کیا جہاں روبوٹس نہایت چھوٹے ذرات پر آر این اے شامل کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔

کمپنی کے سی ای او روجر ویگنڈ (Roger Wagend)کا کہنا ہے کہ کمپنی ان حشرات کو بھی مارنے کی کوشش کررہی ہے جنہیں آر این اے سے نہیں مارا جاسکتا جیسے آلو کی فصل کا کیڑا ہے۔ ایک اسرائیلی نٹزان پالڈی(Ntzan Paldi) کے پروجیکٹ کا بھی مجھے پتہ چلا جو بی او لوجکس کمپنی کا شریک بانی ہے۔ اس کی موجودہ نئی کمپنی کا نام فارسٹ انو ویشنز (Forrest Innovation)ہے۔ وہ سنگترے گرین بیماری کا حل تلاش کررہے ہیں۔ اس بیماری نے فلوریڈا کی سنگترے کی صنعت کو تباہ کردیا اور اب برازیل میں موجودہے۔ بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی اس بیماری کو ایک کیٹرا ایشین سٹریس پسائلڈ (Asian Citras Psylid)کہتے ہیں۔ اس کیڑےسے سنگترہ سخت،بے رنگ اور اس کا جوس جیٹ فیول کی طرح ہو جاتا ہے۔ اسی بیماری سے متاثر ہو کر گزشتہ سال فلوریڈا میں 22 فیصد سنگترے اچانک درختوں سے گر گئے۔ پالڈی نے یہ نہیں بتایا کہ کہ وہ آر این اے کو کس طرح استعمال کررہا ہے۔ لیکن انہوں نے بتایا کہ اسے امید ہے کہ وہ اپنی تکنیک سے درختوں میں بیکٹیریا سے متاثر جین کو کام سے روک سکتا ہے۔ یہ بیماری کی علامات کے ظاہر ہونے پر اس کے خلاف ردعمل ہے۔ پالڈی کو یقین ہےکہ اگر یہ علاج فائدہ مند ہوتا ہے تو آر این اے سابقہ ریگولیٹرز سے آگے نکل جائے گا۔ کاشتکار بہت بے چین ہیں کیونکہ اس کا اثر محض فلوریڈا کے اورنج جوس تک محدود نہیں رہے گا ۔

حشرات کو مارنے والی دوائی

حشرات کیخلاف پروگرام کی سربراہی مونسانٹو کے ماہر جینیات جیرمی ولیمز (Geremy Williams)کا کہنا ہے کہ آر این اے سے آلو کی فصل کے کیڑے کو مارنے کیلئے جڑی بوٹیوں پر تجربات کے خیال کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ امید ہے کہ اس کی دوائی 2020ء میں مارکیٹ میں آجائے گی۔ آلو ؤں کی فصل کا کیڑا اس لئے بھی آر این اے کا ہدف ہے کیونکہ یہ روائتی ادویات سے نہیں مارا جاسکتا۔ 1952ء سے لے کر اب تک کیڑے مار ادویات سے اس کی مدافعت 60فیصد بڑھ چکی ہے۔ تاہم ولیم کا کہنا ہے کہ آر این اے سے بیماری پر قابو پانا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ اگر آلو کی فصل کا کیڑا آر این اے سے بچ جائے گا تو جین اس پر نئے حملے کی تیاری شروع کردے گا۔جب تک آپ نے جین کے حروف میں تبدیلی کرنی ہے اور وہ نئے حملے کیلئے تیار ہوجائے گا۔
مونسانٹو کو سنگترے کے کاشتکاروں کا مسئلہ حل کرنے میں دلچسپی رہی ہے۔ انہوں نے امریکی محکمہ ذراعت کے تحقیق کار وین ہنٹر (Wayne Hunter)سے تعاون حاصل کیا ہے جو فلوریڈا میں فورٹ پیرس کی تجربہ گاہوں میں کام کرتے ہیں وہاں پر چکوترے میں بھی سٹرس گرین بیماری کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ مونسانٹو کی مدد سے وین ہنٹر نےآر این اے سے پسائلڈ (Psyllid)کیڑے کو مارنے کی کوشش کی۔ اس نے مجھے سنگترے کے سو درختوں کا مشاہدہ کروایا اور بتایا کہ اس نے ان کی جڑوں یا پھر تنوں میں آر این اے ڈالا ہے ۔اس نے ہر درخت میں 200ملی گرام آر این اے ڈالا اور تین ماہ بعد بھی اس میں مالیکیول کے نشانات پائے گئے۔

وین ہنٹر (Wayne Hunter) حشرات کے جینز سے مطابقت رکھنے والے جینز کے حروف پر تجربات کررہے ہیں ۔ اپنا ہدف طے کرنے سے پہلے سائنسدانوں کی کوشش ہے کہ انسان دوست حشرات مثلاً شہد کی مکھی کو ان تمام کوششوں سے نقصان نہ پہنچے۔ اس کیلئے انہوں نے آر این اے انٹرفئیرنس پر کام کرنے کیلئے 20 جینیاتی حروف حاصل کرلئے ہیں۔ دوشاخہ آر این اے مالیکیولز عموماً 200 حروف پر مشتمل ہوتے ہیں۔ شہد کی مکھیوں، سفید مکھیوں اور افیڈز(Aphids) پر تجربات کے اثرات کا جائزہ لینے کیلئے انہیں آر این اے محلول دیا جائے گا۔ حشرات کے جین ایک جیسے نہیں ہوتے، یہ مماثل نہیں اس لئے یہ مارا بھی نہیںجا سکتا۔

اس کے برعکس روائتی کیڑے مار ادوایات فصلوں کے دشمن کیڑوں کے ساتھ انسان دوست کیڑے بھی ماردیتی ہیں۔ کاشتکار ایسے کیمیکلز عموماً ہر دو ہفتوں بعد استعمال کرتے ہیں۔ ایک دوائی ایماڈا کلوپرڈ (Imidacloprid)پر تو اسی شبے کی وجہ سے یورپ میں پابندی لگا دی گئی ہے۔ شبہ ہے کا وہ یہ دوائی شہد کی مکھیوں کی کالونیوں کو بھی ختم کردیتی ہے۔ ہنٹر کے ساتھی اور سب ٹراپیکل انسیکٹ کے سربراہ ڈیوڈ ہال (David Hall)کا کہنا ہے کہ ہم صرف ان زہریلی ادویات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آر این اے علاج سنگتروں کے درختوں کے جھنڈ کیلئے بہترین ہیں۔ آر این اے سے کیڑے فوری طور پر نہیں مرتے۔ ہنٹر کی لیبارٹری میں کیڑے دو سے چارہفتوں میں مر جاتے ہیں۔ یہ بائیو پیسٹی سائیڈ ہے، یہ دوائی اپنا اثر دکھانے میں وقت لیتی ہے۔ اسی وجہ سے مونسانٹو کے فارم میں سو درختوں پر تجربات کے نتائج تاحال مبہم ہیں۔ درختوں پر ابھی تک پسائلڈ کیڑے موجود ہیں لیکن شائد یہ اب کہیں اور چلے جائیں۔ ہنٹر اب آر این اے کوکسی دوسرے بڑے باغ پر تجربہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

اس کے علاوہ کاشتکار بھی کچھ کوششیں کررہے ہیں بعض تو متاثرہ درختوں کو ہی کاٹ ڈالتے ہیں۔ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ درختوں میں بھی بیماری کیخلاف مزاحمت پیدا کی جا رہی ہے۔ صارفین جی ایم اوسنگترے کا رس قبول کر کے اسے استعمال کررہے ہیں۔ لیکن مسئلہ ہے کہ جی ایم او سے اگائے گئے پیڑوں کو متاثرہ درختوں سے اتنی تیزی سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ ہنٹر کی آر این اے دوائی مارکیٹ میں آنے والی نہیں۔ ہنٹر کا کہنا ہے کہ ابھی ہم دس سال دور ہیں۔ آر این اے ٹيکنالوجی کے ساتھ یہ مسئلہ ہےکہ اس میں دیرکتنی لگتی ہے جبکہ یہاں پر اس بیماری کا حل تلاش کرنے کیلئے بہت دباؤ ہے۔

ایک بڑا سوال

مونسانٹو کے تعلقات عامہ کے لوگوں نے مجھے بتاتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آر این اے سپرے جی ایم او کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائےگا۔ اب تک تو سپرے ریسرچ کی پائپ لائن میں ہے ابھی تک جی ایم او مخالفین کی توجہ حاصل نہیں کرسکا۔ اب آسٹریلیا ہی کی مثال لے لیں، آسٹریلین سیف فوڈ فاؤنڈیشن (Safe Food Foundation) کا کہنا ہے کہ جی ایم او سے تیار کردہ گندم کی فصل سے لوگوں کی صحت کو بہت زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پودوں کے نشاستے کو بدلنے کیلئے جو آر این اے متعارف کروایا گیا ہے امکانی طورپر وہ جین انسانی جگر کو متاثر کرسکتا ہے کیونکہ اس کے حروف انسانی جگر کے آر این اے سے ملتے ہیں۔ بظاہر یہ الزام غیر حقیقی ہے کیونکہ آر این اےانسانی لعاب دہن یا پیٹ کے ایسڈز پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ ویگنر کا کہنا ہے کہ بڑا سوال یہ ہے کہ اگر آر این اے کیڑوں کو مارسکتا ہے تو مجھ پر کیا اثر کرے گا؟

مونسانٹو اس بحث کیلئے تمام ممکنہ دلائل اکٹھے کرچکا ہے۔ مونسانٹو نے اپنے ملازمین کو وائرل انفیکشن سے متاثرہ پھل لانے کیلئے گروسری سٹورز پر بھیجا، ان کا تجزیہ کیا، انہیں ان متاثرہ پھلوں میں وائرل آر این اے کے ہزاروں شواہد ملے ہیں تاہم ابھی تک یہ پتہ نہیں چلا کہ آر این اے نے کسی کو نقصان پہنچایا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ انسانی جین اور آر این اے میں بہت کم مماثلت پائی جاتی ہے۔

گزشتہ سال امریکی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی نے ماہرین کے پینل سے آر این اے کی کیڑے مار ادویات اور سپرے کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مونسانٹو نے اپنے 81صفحات پر مشتمل خط میں آر این اے ٹیکنالوجی کیخلاف کسی بھی قسم کے خصوصی قوانین کی مخالفت کی۔ اس خط میں کہا گیا کہ آر این اے کی مصنوعات کو ٹیسٹ کرنے سے استثناء ملنا چاہئے یہ ٹسٹ غیر متعلقہ ہے ۔ کمپنی کی تحقیق شاید ناقدین کو کبھی مطمئن کرسکے گی۔ نیشنل ہنی بی ایڈوائزری بورڈ نے ای پی اے کو بتایا ہے کہ آر این اے کے استعمال سے قدرتی نظام میں خلل پڑ سکتا ہے۔ جس طرح ڈی ڈی ٹی کے استعمال پر ہمارے پیش رؤں کو افسوس ہوا تھا اسی طرح ہمیں اس کے استعمال پر افسوس ہو گا۔ ابھی ہم اس ٹیکنالوجی کو فیلڈ میں استعمال کرنے سے ایک دہائی کے فاصلےپر ہیں۔ مکھیاں پالنے والوں کو فکر ہے کہ کہیں آر این اے کے استعمال سے مکھیوں کی افزائش کو نقصان نہ پہنچے۔ سائنسدان یہ پیش گوئی نہیں کرسکتے کہ مکھیوں کا جین آر این اے سے مطابقت پیدا کرے گا کہ نہیں کیونکہ ابھی تک بہت سے کیڑوں کےجینوم کی حقیقت معلوم نہیں ہوسکی۔

امریکی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی کے مشیروں نے اپنی گزشتہ سال کی رپورٹ میں اتفاق کیا کہ آر این اے سے لوگوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لیکن کیا اس سے ماحولیات کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہے؟ اس سوال کا جواب دینا ان کیلئے مشکل ہے۔ مونسانٹو نے آر این اے کو انسانی صحت کیلئے محفوظ قرار دیا ہے البتہ یہ کیڑوں کیلئے مہلک ہے اور کمپنی آر این اے کی طویل اور پائیدار فارمولیشنزبنانا چاہتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کتنی پائیدار او رطویل ہو۔ ہنٹر کے درختوں میں مالیکولز کا اثر کئی ماہ تک برقرار رہا۔ اس سے زیادہ کیا ہو سکتا ہے۔

تحریر :انٹونیو ریگالڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors

*

Top