Global Editions

نئے اور محفوظ ایٹمی ریکٹرز ماحولیاتی تبدیلی کو روک سکتے ہیں

نئے فشن ری ایکٹر کے منصوبوں سے جوہری توانائی پر دوبارہ اعتماد بحال ہونے کی امید ہے۔

بی پی ماحولیاتی خبروں کےلئے شائد آپ کا پہلا ذریعہ نہ ہولیکن اس کے سالانہ توانائی کے جائزہ کو ماحول پر نظر رکھنے والوں کی جانب سے بہت زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اور اس کا 2018 کاپیغام حیران کر دینے والا تھا: گلوبل وارمنگ بڑھانے کے باجود کوئلہ کا بجلی کے لئے استعمال 2017 میں دنیا میں 38 فیصد رہا۔ اس سے پہلے یہ لیول20 سال پہلے تھا جب گلوبل وارمنگ کو روکنے کے لئے عالمی ماحولیاتی معاہدے پر دستخط کئے گئے تھے۔ اس سے بدتر صورتحال یہ ہے گزشتہ سال گرین ہاؤس گیس کا اخراج 2.7فیصد اضافہ ہواجو کہ سات سالوں میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔

اس طرح کے حالات نے کئی پالیسی سازوں اور ماحولیاتی گروہوں کو یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کیا ہے کہ ہمیں زیادہ جوہری توانائی کی ضرورت ہے۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے محققین جو کہ ماضی میں حوصلہ افزائی نہیں کرتے ہیں، اب کہتے ہیں کہ زمین کے درجہ حرارت کو 1.5سنٹی گریڈ سے زیادہ نہ بڑھنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے جوہری توانائی۔

لیکن ہم دوسری سمت میں جا رہے ہیں۔ جرمنی 2022 تک اپنے تمام جوہری پلانٹس کو بند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے؛ اٹلی نے ریفرنڈم کے ذریعہ 2011 سے پہلے والے والے تمام منصوبوں کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور اگر تمام جوہری منصوبوں کو عوامی سپورٹ حاصل ہو بھی جائے ( جو کہ نہیں ہے) ، یہ مہنگے ہیں: امریکہ میں بہت سے ایٹمی پلانٹس کو حال ہی میں بند کر دیا گیا ہےکیونکہ وہ سستی شیل گیس سے مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں۔

یونین آف کنسرنڈ سائنٹسٹ Union of Concerned Scientists)) جو کہ 2018میں نیوکلئیر توانائی پر شک کرتے تھے، کا کہنا ہے،"اگر موجودہ صورتحال جاری رہتی ہے تو 2018 میں زیادہ سے زیادہ ایٹمی پاور پلانٹس ممکنہ طور پر بند ہو جائیں گے اور قدرتی گیس والے ذرائع سے تبدیل ہوجائیں گی جس سے گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہو گا۔اندازوں کے مطابق اگر تمام جوہر ی پلانٹس بند ہو جاتے ہیں تو کاربن کے اخراج میں 6 فیصد اضافہ ہوگا۔
یو ایس سی کے نیوکلئیر سیفٹی پراجیکٹ کے ایکٹنگ ڈائریکٹر ایڈون لائی مین کہتے ہیںکہ اس وقت اہم بحث یہ نہیں ہے کہ موجودہ نظام کی حمایت کرنی چاہے۔ "ایک اور عملی سوال یہ ہے کہ کیایہ حقیقت پسندانہ ہے کہ اگلے کئی دہائیوں میں نئے ایٹمی پلانٹ لگا سکتے ہیں۔"

تھنک ٹینک تھرڈ وےThird Way)) کے مطابق 2018 میں صرف شمالی امریکہ میں 75ایڈوانسڈ فشن پراجیکٹس لگائے گئے جو اس سوال کا جواب دیتے ہیں۔ ان منصوبوں میں اسی قسم کے ری ایکشن کو استعمال کیا گیا جو روایتی ایٹمی ریکٹروں میں کئی دہائیوں سے استعمال کئے جاتے ہیں-فشن یا ایٹموں کو علیحدہ کرنا۔

معروف ٹیکنالوجی میں سے ایک چھوٹا سا ماڈیولر ری ایکٹر یا ایس ایم آر ہے: روایتی فشن نظام کا ایک چھوٹا ورژن ہے جو سستا اور محفوظ ہونے کا وعدہ کرتا ہے۔ پورٹ لینڈ ، اوریگان سے تعلق رکھنے والا نیوسکیل پاور(NuScale) کے پاس ایک 60 میگا واٹ کاڈیزائن ہے جس کو جلدی لگایا جا نا ہے۔
(ایک عام اعلیٰ لاگت کاروایتی فشن پلانٹ تقریباً۱1,000 میگاواٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے۔)

نیوسکیل نے 12چھوٹے ری ایکٹرز لگانے کا معاہدہ کیا ہےجو کہ مغربی امریکہ کے 46 محکموں کو بجلی دے سکتے ہیں، لیکن اس منصوبے کو صرف اس صورت میں آگے بڑھا سکتا ہے جب اس گروپ کے ارکان اس سال کے اختتام تک اسے فنانس کریں گے۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کرنا آسان نہیں ہوگا۔ 2011 میں جنریشن ایم پاور(Generation mPower)جو کہ ایک اور ایس ایم آر بنانے والی کمپنی ہے،نے نیو سکیل کی طرح کے چھ ریکٹروں کی تعمیر کرنے کا ایک معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کو دنیا کے سب سے بڑے توانائی کے کارپوریٹ بلڈرز بابکاک اور ولکوکسBabcock& Wilcox)) کی حمایت حاصل تھی، لیکن یہ معاہدہ تین سالوں سے کم عرصے میں ختم کر دیا گیا کیونکہ کوئی نئے گاہکوں کو نہیں دیکھا گیا۔ایسا اس لئے ہوا کیونکہ اس معاہدہ سے بجلی کی قیمتوں میں کمی نہیں آنی تھی۔

چونکہ نیوسکیل کے روایتی نیوکلئر ری ایکٹرمیں اپروچ میں ہلکے پانی کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے اور اسے سیکڑا جاتا ہے، نام نہاد جنریشن فورسسٹمز میں ٹھنڈک پیدا کرنے کےمتبادل ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔ چین اپنے فوجین صوبے میں بڑے پیمانے پر سوڈیم سے ٹھنڈے کیے جانے والے ری ایکٹر تعمیر کر رہا ہے جن کی 2023 تک آپریشن شروع کرنے کی توقع ہے، اور واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے ٹیرا پاور (Terra Power) میں سوڈیم ٹھنڈک پیدا کرنے کے لئے استعمال کی جا رہی ہے اور اس میں یورینیم کا استعمال کم ہے۔ ٹیرا پاور میں بل گیٹس ایک سرمایہ کار ہے اور اس نے بیجنگ کے ساتھ 2022 تک ایک آزمائشی پلانٹ بنانے کے لئے معاہدہ کیا ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی چین پر تجارتی پابندیاں اس پلانٹ کے مستقبل پر سوال اٹھاتی ہیں۔

ایک اور مختلف جنریشن پلانٹ فور،جس میں پگھلا ہوا سالٹ ری ایکٹر کے طور پر استعمال ہوتا ہے، پہلے ڈیزائن کے مقابلے میں محفوظ ہے کیونکہ اس نظام میں بجلی نہ ہونے کی صورت میں خود کو مکمل طور پر ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ کینیڈا کی کمپنی ٹیرسٹریل انرجی(Terrestrial Energy) اونٹاریو میں 190 میگا واٹ پلانٹ کی تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔اس کے مطابق 2030 سے ​​پہلے اس کا پہلا ری یکٹر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کی قیمت قدرتی گیس سے مقابلہ کرےگی۔

جنریشن فور کے ری ایکٹر جلد ہی آپریشن میں آ سکتے ہیں۔ ہیلیم سےٹھنڈک پیدا کرنے والے اور بہت زیادہ درجہ حرارت ہزار ڈگری سنٹی گریڈ پر چلنے والے ری ایکٹر آ چکے ہیں اوراورحکومت کی ملکیت میں چلنے والے چائنہ نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن نے مشرقی شیڈونگ صوبے میں 210 میگاواٹ کی پروٹوٹائپ تیار کی ہے جس کو گرڈ سے منسلک کیا جائے گا۔

تحریر:لی فلپس (Leigh Phillips)

Read in English

Authors
Top