Global Editions

کیا مقامی زبانوں میں مواد نہ ہونے کے باعث انٹرنیٹ پاکستانیوں کی پہنچ سے باہر ہے؟

کچھ دیر کے لیے فرض کریں کہ آپ ایک ایسے ریلوے پلیٹ فارم پر کھڑے ہيں جہاں صرف 10 فیصد افراد کو ریل گاڑی میں سوار ہونے کا موقع ملتا ہے۔ پاکستانی صارفین کے لیے انٹرنیٹ اسی ریلوے پلیٹ فارم کی طرح ہے۔

یہ کہنا غلط نہيں ہوگا کہ موجودہ ٹیکنالوجی کا انقلاب انٹرنیٹ ہی کے دم سے ہے۔ تاہم اس پر موجود بیشتر مواد انگریزی زبان میں ہی پیش کیا جاتا ہے، ایک ایسی زبان جو صرف پاکستانی اشرافیہ سمجھ پاتی ہے۔ اس طرح اپنے اور اپنے ساتھ پورے ملک کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھنے والے لاکھوں پاکستانی انٹرنیٹ کی معیشت میں قدم رکھنے سے قاصر ہیں۔

2017ء میں شائع ہونے والی گوگل کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کا شمار ان چار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے جہاں اگلے ایک ارب سمارٹ فونز فروخت ہوں گے۔ اس رپورٹ کو تین سال گزر گئے ہیں اور ایسے لگ رہا ہے کہ عنقریب اس کی پیشگوئی پوری ہوجائے گی۔ ملک بھر میں تھری جی اور فور جی کنیکٹیوٹی کا جال بچھایا جاچکا ہے اور کم قیمت چینی موبائل فون ہینڈسیٹس تک رسائی کے باعث پاکستان میں سمارٹ فون صارفین کی تعداد سات کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگلے دو سے تین سال میں اس شرح میں تین کروڑ کا اضافہ متوقع ہے، جس کے بعد موبائل فون صارفین کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔

ایک ریلوے سٹیشن کی مثال لیتے ہيں۔ فرض کریں کہ انٹرنیٹ نیٹورک ریل گاڑی کا جال ہے اور سمارٹ فونز ریلوے کا پلیٹ فارم۔  لوگوں کو پلیٹ فارم تک تو رسائی مل گئی ہے، لیکن وہ گاڑی پر سوار نہيں ہو رہے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟

زبان کا مسئلہ

ایکنامسٹ انٹیلی جینس یونٹ (Economist Intelligence Unit) کی اس سال شائع ہونے والی انکلوزو انٹرنیٹ انڈيکس (Inclusive Internet Index) رپورٹ کے مطابق، پاکستان 100 ممالک میں سے 76ویں نمبر پر تھا، اور جنوبی ایشیائی ممالک میں انٹرنیٹ شمولیت کی کم ترین شرح بھی پاکستان ہی میں ہے۔ اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں ڈیجٹل مواد کے لیے مقامی رسم الخط استعمال نہ کرنے کے باعث عوام اسے پڑھنے اور سمجھنے سے قاصر ہے۔

اب تک بہت کم ویب سائٹس ایسی ہیں جنہوں نے پاکستان کی قومی زبان، یعنی اردو، کو پوری طرح ڈيجٹائز کرنے کی زحمت گوارا کی ہے۔ جن ویب سائٹس پر اردو یا دیگر علاقائی زبانوں میں مواد دستیاب ہے، انہیں اکثر نہایت بے ہنگم اور بے ڈھنگے طریقے سے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ خبروں کی ویب سائٹس کی مثال لے لیں۔ انگریزی خبروں کی ویب سائٹس (بشمول پاکستانی ویب سائٹس) پر سرچ کے فیچر کو ایک بنیادی عنصر سمجھا جاتا ہے، لیکن مقامی زبانوں میں شائع ہونے والی خبروں کی ویب سائٹس پر سرچ بٹن کا سرے سے کوئی وجود ہی نہيں ہوتا۔ اسی طرح اردو رسالے اور کتابیں پرنٹ سے آگے نہيں بڑھ پائيں ہیں، اور حکومتی ویب سائٹس، جنہیں پہلے ہی جدید رجحانوں کے مطابق نہيں ڈیزائن کیا جاتا، بھی اردو اور علاقائی زبانوں سے زیادہ انگریزی کو ترجیح دیتی ہیں۔ بیشتر ٹیک ویب سائٹس بھی انگریزی میں ہی متعارف کی جاتی ہیں۔ مختصر یہ کہ مقامی رسم الخط اور مشمولات کو اب تک پوری طری ڈیجٹائز کرنے میں بہت وقت لگے گا۔

پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ملک ہے۔ یہاں شروع ہی سے قومی اور علاقائی زبانوں کے متعلق حکومت کا موقف عجیب سا ہی رہا ہے۔ آئين کی شق 251 کے تحت اردو کو قومی اور سرکاری زبان قرار دیا گيا، لیکن اردو صرف آٹھ فیصد پاکستانیوں کی مادری زبان ہے۔ انگریزی کو شروع ہی سی پاکستان کی دفتری زبان کا درجہ حاصل تھا، جس سے سماجی طبقوں کے درمیان دراڑ مزيد گہری ہوتی گئی۔

 2020ء میں زيادہ سے زيادہ 10 فیصد پاکستانیوں کو سکولوں میں انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ زيادہ تر طلباء سرکاری سکولوں اور مدرسوں میں پڑھتے ہيں جہاں اردو، سندھی، اور پشتو جیسی علاقائی زبانوں کا زيادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان میں بیشتر بچوں کو بچپن میں قرآن پڑھانے کی غرض سے عربی زبان پڑھنا بھی سکھایا جاتا ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ پڑھنے اور سیکھنے کے لیے مقامی زبان سے بہتر کوئی چیز نہيں ہے۔

انٹرنیٹ میں تنوع

انٹرنیٹ پر زيادہ تر مواد انگریزی میں ہونے کی وجہ سمجھ آتی ہے۔ انٹرنیٹ کے موجد ٹم برنرز لی (Tim Berners-Lee) برطانوی شہری ہیں، اور اس کے زيادہ تر ابتدائی صارفین شمالی امریکہ میں رہائش پذیر تھے۔ تاہم انٹرنیٹ ورلڈ سٹیٹسٹکس (Internet World Statistics) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، چینی، جاپانی، ہسپانوی، اور عربی زبان بولنے والے انٹرنیٹ کے صارفین کی تعداد انگریزی بولنے والوں سے کہیں زيادہ ہے۔

لیکن کیا انٹرنیٹ پر پاکستانی زبانیں، بالخصوص اردو، انٹرنیٹ پر عام ہونے میں کامیاب ہوئی ہيں؟ میرا خیال ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ پاکستانی صارفین کو آج بھی انٹرنیٹ کا استعمال کرنے کے لئے برطانوی سامراج کی زبان کا سہارا لینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ وکی پیڈیا اس کی سب سے اچھی مثال ہے۔ یہاں انگریزی زبان میں 60 لاکھ سے زائد مضامین موجود ہیں، لیکن اردو زبان میں صرف 158،000، جس کی وجہ سے اردو کو اس سائٹ پر 53واں درجہ حاصل ہے۔ اس کے برعکس سویڈن، ڈینمارک، اور پولینڈ جیسے ممالک کی مقامی زبانوں کی صورتحال دیکھیں۔ ان ممالک کی کل آبادی کراچی اور لاہور جیسے شہروں سے کئی گنا کم ہے، اور یہاں انگریزی بولنے والوں کی تعداد پاکستان سے زیادہ ہے، لیکن وکی پیڈیا پر ان کی زبانوں میں اردو سے زيادہ مواد موجود ہے۔

پاکستان دوسرے ایشیائی ممالک کے مقابلے میں بھی انٹرنیٹ پر مقامی زبانوں کے استعمال کے حوالے سے بہت پیچھے ہے۔

تعلیمی کارکردگی میں اضافہ

عام طور پر پاکستانی گھروں میں انگریزی کے بجائے اردو یا دوسری علاقائی زبانوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہيں ہوگا کہ ”اس ملک کے رہنے والے مقامی زبانوں میں سوچتے ہيں۔ “ قومی تعلیمی نصاب کے حوالے سے اکثر مقامی زبانوں میں تعلیم کی فراہمی کے حوالے سے بڑی گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ تعلیمی ماہرین اور پالیسی ساز اعتراف کرتے ہيں کہ ثقافتی روایات برقرار رکھنے اور تعلیمی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے مادری زبان سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پوری تعلیم انگریزی زبان میں دینے کے بجائے اسے صرف بطور دوسری یا تیسری زبان سکھانا چاہیے۔

اقوام متحدہ تعلیمی، علمی و ثقافتی تنظیم (یونیسکو) 1953ء سے یہی کہتی آرہی ہے کہ ”تعلیم کی فراہمی میں ہر ممکنہ حد تک مادری زبان کے استعمال کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ “ بھارت میں جولائی 2020ء میں متعارف ہونے والی نیشنل ایجوکیشن پالیسی (National Education Policy) میں بھی یہی تجویز دی گئی ہے۔ پاکستان میں صوبہ پنجاب کے وزیر برائے تعلیم مراد راس کے مطابق ”پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والی تحقیق سے یہ بات واضح ہے کہ اگر تعلیم فراہم کرنے کے لیے عام استعمال ہونے والی زبان (اردو) کو بروئے کار لایا جائے تو تعلیمی کارکردگی میں اضافہ ممکن ہے۔ “ ولسن سینٹر (Wilson Center) کی عالمی فیلو نادیہ نوی والا کے مطابق پاکستان میں تعلیمی بحران کی سب سے بڑی وجہ ”تعلیمی شعبے میں بیرون ملکی زبانوں کا استعمال “ ہے۔ برٹش کاؤنسل کے ایک سروے کے مطابق پنجاب میں نجی انگریزی میڈيم سکولوں کے 94 فیصد اساتذہ انگریزی نہيں بول سکتے۔ اس کے علاوہ، مکسڈ انڈی کیٹرز کلسٹر سروے (Mixed Indicators Cluster Survey) اور اینیول سٹیٹس آف ایجوکیشن رپورٹ (Annual Status of Education Report) کے مطابق، صوبہ پنجاب میں 50 فیصد طلباء سکول میں ایک دہائی سے زيادہ عرصے سے انگریزی پڑھنے کے باوجود انگریزی الفاظ اور جملے پڑھنے سے قاصر ہيں۔

ریسرچ سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ عام استعمال ہونے والی زبان کو تعلیم کی فراہمی کی زبان کے طور پر بروئے کار لانے سے ”رٹّا مارنے “ کا رواج بھی ختم ہوسکتا ہے۔ اس سے تعلیمی کارکردگی میں بہتری، سکول کی تعلیم نامکمل چھوڑنے کی شرح میں کمی، خواندگی میں اضافہ، اور مادری زبان اور سرکاری یا اکثریت کی زبان میں زيادہ روانی بھی ممکن ہيں۔

انتہائی منافع بخش موقع

اگلا ارب ڈالر کی مالیت کا یونی کارن سٹارٹ اپ بنانے کے خواہشمند پاکستانیوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس مالیت کی کمپنی کے لیے اس کا پیمانہ وسیع کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ کمپنیاں مقامی زبانوں میں مصنوعات اور سہولیات پیش کرکے انگریزی کو ترجیح دینے والے حریفوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ہوسکتا ہے کہ فیس بک جیسی عالمی ٹیک کمپنی کو پاکستان میں سرائیکی بولنے والوں کے لیے مواد فراہم کرنے میں بہت وقت لگے، لیکن ایک مقامی کمپنی زيادہ تیز رفتاری سے ان کی ضروریات پوری کرسکے گی۔

پاکستان کو سہولیات فراہم کرنے والی زیادہ تر بین الاقوامی ٹیک کمپنیاں اپنی مصنوعات کو عالمی پیمانے پر متعارف کرنے کے لئے ایک پہلے سے طے شدہ طریقہ کار اپناتی ہیں جس میں زيادہ رد و بدل نہیں کی جاتی، اور سب سے پہلے انگریزی بولنے والوں کو ہی مصنوعات اور سہولیات پیش کرتی ہیں۔ مقامی زبان بولنے والے صارفین کی باری بہت دیر سے آتی ہے۔

پاکستان میں وہی کمپنیاں کامیاب ہوئی ہیں جنہوں نے مقامی افراد کی ضروریات سب سے پہلے پوری کی ہيں۔ ایک عالمی معیار کے بجائے مقامی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مصنوعات اور سہولیات پیش کرنا کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ موبائل والٹس کی مثال لے لیں، جن کی بدولت صارفین کو بینک کے چکر کاٹے بغیر بینکنگ کی سہولیات میسر ہوئیں اور آج موبائل اکاؤنٹس کی تعداد روایتی اکاؤنٹس سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح کریم نے مقامی مارکیٹ کے مطابق سہولیات فراہم کرکے اوبر کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

مانگ میں اضافے کی علامات

انٹرنیٹ پر مقامی زبانوں کی بھرمار نظر آرہی ہے، جس کو دیکھ کر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مقامی زبانوں میں متعارف کردہ مصنوعات اور سہولیات بہت کامیاب ثابت ہوسکتی ہيں۔ متعدد اردو ویب سائٹس کا شمار پاکستان میں 15 سب سے زيادہ دیکھی جانے والی ویب سائٹس میں ہوتا ہے۔ فیس بک پر ٹاپ ٹرینڈ کرنے والی ویب سائٹس بھی مقامی زبانوں میں ہوتی ہیں (البتہ یہ پاکستانی کم اور بھارتی سائٹس زيادہ ہوتی ہيں)۔ اسی طرح ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک پر پوسٹ کرنے والے سیاستدان بھی اردو میں (یا انگریزی اور اردو دونوں) میں لکھتے ہيں۔ اردو زبان کے میمز عام ہوتی جارہی ہیں اور ٹوئٹر کے ٹرینڈنگ موضوعات کے ہیش ٹیگز بھی اکثر مقامی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ کسی بھی پوسٹ کے کمینٹس میں صارفین اکثر اردو اور دیگر علاقائی زبانوں میں ایک دوسرے سے بات کرتے نظر آئيں گے۔ ان میں سے زيادہ تر افراد انگریزی کی بورڈ کی مدد سے رومن رسم الخط میں اردو لکھتے ہيں، لیکن اب اردو کی بورڈز کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ ان میں سے ایک کی بورڈ ایک کروڑ سے زائد بار ڈاؤن لوڈ ہوچکا ہے۔

کئی ایشیائی کمپنیاں مثبت طور پر اثرانداز ہونے کے حوالے سے مقامی زبان کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ گئی ہيں، اور پاکستانی انوویٹرز، خاص طور پر ٹیک انوویٹرز، ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہيں۔ بائیجوز (Byju’s)، پولیسی بازار، ان موبی (InMobi)، زوماٹو (Zomato)، اور اویو (Oyo) جیسے بھارتی یونی کارنز دو اور بارہ کے درمیان علاقائی زبانوں میں مواد پیش کرتے ہيں۔ اسی طرح، انڈونیشیا، چین، جاپان اور تائیوان میں واقع ٹیک اور میڈيا کمپنیاں مقامی زبانوں کو فروغ دے کر اپنے صارفین کی تعداد میں بہت اضافہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہيں۔

پاکستان کی زیادہ تر آبادی دیہی علاقہ جات میں رہتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں اضافے کی وجہ بڑے شہر نہيں ہوں گے۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں انٹرنیٹ پر اردو اور علاقائی زبانوں میں مواد کی مانگ میں اضافہ نظر آنے والا ہے۔

ہمارے سامنے بھارت، چین، اور انڈونیشیا جیسے ایشیائی ممالک کی مثالیں موجود ہیں، جہاں ٹیکنالوجی کی کمپنیاں اور ڈیجٹل مواد کے پروڈیوسرز پیمانہ وسیع کرنے کی اہمیت کو آہستہ آہستہ سمجھنے لگے ہیں۔

فیس بک کی طرف سے بھارت میں منعقد ہونے والے ایک سروے سے یہ بات سامنے آئی کہ جیسے جیسے بھارت میں سمارٹ فونز تک رسائی میں اضافہ ہوتا گیا، مقامی زبانیں انگریزی کو بہت پیچھے چھوڑتی گئيں۔ اس رپورٹ کے مطابق 2021ء تک بھارت میں علاقائی زبانیں بولنے والے انٹرنیٹ کے صارفین کی شرح 75 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

انٹرنیٹ پر پاکستانی زبانوں کے مستقبل کے رجحانوں کو دیکھتے ہوئے، ہمیں آگے چل کر کیا نظر آئے گا؟

1: عالمی پلیٹ فارمز پر انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ: فیس بک اور ٹوئٹر اپنی ویب سائٹ پر ترجمے کا فیچر شامل کرچکے ہیں، اور توقع کی جارہی ہے کہ دوسرے پلیٹ فارمز بھی ایسا ہی کريں گے۔

2: مقامی زبانوں میں ڈیجٹل اشتہار: پاکستان میں ڈیجٹل اشتہار، ٹی وی پر چلنے والے اشتہاروں اور دیواروں پر چاک سے بنائی گئی تصویروں کی طرح اردو میں پیش کیے جائیں گے۔

3: ایپس کو انگریزی زبان کے بجائے مقامی زبان میں بنایا جائے گا: اس وقت ٹیک کی مصنوعات بنانے والی کمپنیاں پہلے ایپس انگریزی میں بناتی ہيں اور پھر ان کا اردو میں ترجمہ کرتی ہیں۔ تاہم مستقبل میں مقامی زبانوں، فونٹس، اور لے آؤٹس کو ترجیح دی جائے گی۔

4: ایگری گیٹرز کی تعداد میں اضافہ: انٹرنیٹ پلیٹ فارمز مشمولات کے نئے ایگری گیٹرز (aggregators) سامنے آئيں گے اور پاکستانی زبانوں کے صارفین کو زیادہ موا قع دیے جائيں گے۔

5: حد سے زيادہ لوکلائزیشن: مقامی زبان کے نئے صارفین پوری دنیا کے بجائے اپنے ملک اور اپنے محلے میں زیادہ دلچسپی رکھیں گے۔ عالمی پلیٹ فارمز کے لیے انہیں مواد فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوگ ا، جس کی وجہ سے پاکستانی انوویٹرز کو مزید مواقع دستیاب ہوں گے۔

6: صارفین کی طرف سے تخلیق شدہ مواد کی بھرمار: ایک دفعہ صارفین کو مقامی پلیٹ فارمز پر مقامی زبانوں میں اپنی رائے کا اظہار کرنے کا موقع مل جائے، ہمیں اردو فورمز اور مقامی زبان میں پیش کردہ میمز وغیرہ کی شکل میں صارفین کی طرف سے زيادہ مواد نظر آئے گا۔

انٹرنیٹ کی شمولیت کو ممکن بنانے میں مقامی زبانوں کہ بہت بڑا ہاتھ ہوگا

آنے والے سالوں میں پاکستان میں ڈیجیٹل شمولیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مقامی زبان میں اور مقامی دلچسپی کے مطابق مواد کا فقدان ہوگا۔ دنیا بھر کے موبائل نیٹورک آپریٹرز کے مفادات کی نمائندگی کرنے والے ادارے جی ایس ایم اے (GSMA) کے مطابق موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں ہینڈسیٹ کی قیمتوں اور عمومی خواندگی کے بعد تیسری سب سے بڑی رکاوٹ کی وجہ زبان ہوگی۔

اس سے یہ صاف واضح ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ پر اردو، سندھی، اور پشتو زبانوں میں مواد میں اضافے کی اشد ضرورت ہے۔ جب تک انٹرنیٹ پر وہ زبانیں نظر نہيں آئيں گی جو پاکستانی بولتے ہیں، یہاں سو فیصد ڈیجٹل خواندگی اور ڈیجٹل شمولیت کا خواب محض خواب ہی رہے گا۔

اس چوتھے انقلاب سے سب ہی کو فائدہ پہنچانے میں انوویشن ہی نہيں بلکہ انوویشن کی پہنچ کا بہت بڑا ہاتھ ہوگا۔ صحت، تعلیم، حالات حاضرہ، مقامی تقریبات، کہانیاں، تفریح اور خبروں جیسے موضوعات کے متعلق مکمل اور مساوی معلومات تک رسائی اس وقت تک عام نہيں ہوسکتی جب تک یہ مواد مقامی زبانوں میں دستیاب نہ ہو۔ زبان کے مسئلے کو ختم کرکے ہر کسی کو انٹرنیٹ تک مساوی رسائی فراہم کرنا ممکن ہوگا۔


دانش امجد پاکستان کے سب سے پہلے مقامی خبروں اور مشمولات کے ایگری گیشن پلیٹ فارم Pencil.pk کے شریک بانی اور سی ای او ہيں۔

تحریر: دانش امجد

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top