Global Editions

تلور کا شکار – کہانی کے پیچھے چھپے حقائق

بہت سی جنگلی حیات کی بین الاقوامی تنظیموں نے خطرے کا الارم بجا دیا ہے کہ پاکستان میں تلورکی نسل نابود ہو رہی ہے پھر بھی ہر سال یہاں عرب شہزادے تلور کا شکار کرنے آتے ہیں۔ تلور کے شکار کیخلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں پٹیشن دائر کی گئی جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ نے 15اگست 2015ء کو تلور کے شکار پر پابندی لگا دی۔ عدالت نے وفاق اور تین صوبوں کی جانب سے نظر ثانی کی اپیل پر جنوری 2016ء میں پابندی اٹھا لی۔ وفاق نے اپنی نظر ثانی کی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ گلف کے شاہی خاندان کو تلور کے شکار کے پرمٹ جاری کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا لازمی حصہ ہے۔

تلور کن علاقوں میں پایا جاتا ہے؟

تلور مصر میں دریائے نیل سے لے کر چین اور منگولیا تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ اسرائیل ، اردن، لبنان، سعودی عرب، یمن، اومان، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، اومان، کویت، شام عراق، افغانستان، بھارت، آرمینیا، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان، کرغیزستان قازقستان اور روس میں پایا جاتا ہے۔پوری دنیا کے 50فیصد تلور صرف قازقستان میں پائے جاتے ہیں۔ پرندے سردیوں میں جنوب سے شمال کی طرف ہجرت کر جاتے ہیں۔ مغربی قازقستان کے پرندے عراق اور ایران کی طرف جبکہ وسطی اور مشرقی قازقستان کے پرندے افغانستان اور پاکستان کے صوبوں بلوچستان اور سندھ کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ پنجاب کے چولستان صحرا میں آنے والے پرندے چین سے ہجرت کرتے ہیں۔ یہ پرندے وسط ستمبر سے لے کر سال کے آخر تک ہجرت کرتے رہتے ہیں۔ وسط اکتوبر سے لے کر وسط نومبر تک ان پرندوں کی ہجرت عروج پر ہوتی ہے۔

تلور خطرے میں ہے؟

بہت سی جنگلی حیات کی بین الاقوامی تنظیموں نے تلور کو خطرے سے دوچار اور غیر محفوظ قرار دیا ہے۔ ان تنظیموں میں انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیجر بھی شامل ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی 2016ء میں جاری رپورٹ کے مطابق 2014ء میں ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں تلور کی 78960سے 97ہزار ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 20سال میں ان پرندوں میں 30سے 50فیصد کمی ہوئی ہے۔

کیا کنٹرولڈ شکار کی اجازت ہونی چاہئے۔

اگرچہ پرندوں کی یہ نسل خطرے کا شکار ہے لیکن کو تلور کی آبادی کیلئے خطرہ نہیں سمجھا جاتا۔ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنس لاہور میں وائلڈ لائف اینڈ ایکولوجی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر وسیم احمد خان نے ٹی آر پاکستان کو بتایا کہ حکومت کی غیرملکی شکاریوں کو 10روز کیلئے شکار کی اجازت دینے سے اس پرندے کو کوئی خاص خطرہ لاحق نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی ایک سالہ تحقیق کی بنیاد پر کہا کہ میڈیا میں اس کے شکار کیخلاف شور بے بنیاد ہے۔

پاکستان میں شکار

پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کے ذمہ دار صوبے ہیں۔ پاکستان کے تین صوبے تلور کے کنٹرولڈ شکار کے حامی ہیں جبکہ خیبر پختونخواہ صوبے نے دسمبر 2016ء میں تلور کے شکار پر مکمل پابندی عائد کردی تھی۔ پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نعیم بھٹی کہتے ہیں کہ ہر سال تلور کی آبادی پر دسمبر اور مارچ میں دو سروے کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے ماحولیات کی وزارت کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ اگر تلور کی آبادی نارمل سے کم ہونے لگے تو اس علاقے میں شکار پر پابندی عائد کردی جائے۔

ایک دوسرا نقطہ نظر

تلور فائونڈیشن کے سینئر رکن نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال 25سے 30ہزار پرندے ہجرت کرتے ہیں۔ اگر حکومت عرب شہزادوں کو سالانہ 3000پرندے شکار کرنے کی بھی اجازت دیتی ہے تو اس سے تلور کی آبادی میں فرق نہیں پڑے گا۔ عرب سے آئے ہوئے شکاری چولستان اور بلوچستان میں شکار کھیلتے ہیں وہ ان علاقوں کے بنیادی ڈاھنچے کی ترقی اور خدمات کی فراہمی پر سرمایہ کاری کرتے ہیں لہٰذا تلور کا شکار باہمی تعلقات کے فروغ کیلئے فائدہ مند ہے۔

تحریر: نشمیا سکھیرا (Nushmiya Sukhera)

Read in English

Authors

*

Top