Global Editions

گوگل گلاس ختم ہوگیا ہے؛ اسمارٹ عینک زندہ باد

وگل کا سر پر لگایا جانے والا کمپیوٹر تو ناکام ہوگیا، لیکن اس کی ٹیکنالوجی یقینی طور پر آگے بڑھنے والی ہے۔

ڈھائی سال پہلے سرگئے برن (Sergey Brin) نے گوگل گلاس متعارف کروانے کے لئے سان فرانسیسکو کے اوپر سفری غبارے سے کودنے والے اسکائی ڈائیوروں کا استعمال کیا تھا، لیکن اب چہرے پر لگایا جانے والا کمپیوٹر موت کے گھاٹ اتر رہا ہے۔ یہ اب تک مکمل کنسیومر مصنوعہ نہیں بن پایا ہے۔ یہ اب تک ایسی بھی کوئی چیز بننے میں کامیاب نہیں ہوپایا ہے جس کی ابتدائی رسائی کے لئے $1500 کی رقم دینے والے گلاس ایکسپلورر کے علاوہ کسی کے اندر شوق پیدا ہو۔

گوگل کہتے ہیں کہ وہ گلاس کے لئے اب بھی کوشاں ہیں لیکن کئی کمپنیوں نے، جن میں ٹوئیٹر بھی شامل ہے، اس کے لئے ایپ بنانا چھوڑ دئیے ہیں۔ گلاس کے تخلیق کار بابک پارویز (Babak Parviz) نے جولائی میں گوگل چھوڑ کر ایمازون (Amazon) کے نائب صدر کا عہدہ سنبھال لیا، اور وہ وہاں ٹیکنالوجی کے نئے شعبہ جات دیکھ رہے ہیں۔ شروع میں آلہ استعمال کرنے والے چند افراد بھی اب اس آلے سے تنگ آچکے ہیں۔ بوسٹن یونیورسٹی کے کالج آف کمیونیکیشن میں ابھرتے ہوئے میڈیا کے مطالعے کے صدر جیمز کیٹز(James Katz) کہتے ہیں کہ "مجھے اس کا زيادہ فائدہ نظر نہیں آیا، اور میرے آس پاس کے لوگوں کو میرے پاس اسے دیکھ کر کافی پریشانی ہوتی تھی۔"

اس میں کافی حد تک گوگل کا قصور ہے۔ گلاس کو خفیہ طور پر تیار کرنے میں کئی سال لگانے کے بجائے، گوگل نے اسے ابتدائی "بیٹا" مصنوعے کا نام دے کر نکالا، جو کچھ حد تک کام کرتا تھا، لیکن اس میں کافی مسائل بھی تھے، اور یہ کافی سا بھی تھا۔ انہیں امید تھی کہ سافٹ وئیر ڈیولپر نہایت زبردست قسم کی ایپلیکیشن بنائيں گے، اور پہننے والے اس کے گن گائین گے۔ شاید اس حکمت عملی کی وجہ سے اگلے ورژن کے لئے چند دلچسپ بصیرتیں حاصل ہوئی ہیں – گوگل کے آن لائن گلاس کا فورم ابتدائی صارفین کے سوالات اور خصوصیات کی درخواستوں سے بھرا پڑا ہے۔ لیکن، جیسا کہ کیٹز نے بتایا ہے، اس کی وجہ سے کافی شدید ردعمل بھی دیکھنے کو ملا ہے۔ "ایکسپلورر" کو عام طور پر "گلیس ہول" (glassholes) بھی کہا جانے لگا ہے۔ اس کی کیا وجہ؟ وجوہات کافی لائق غور ہیں، اور ہمیں یہ باآسانی نظر آرہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اب کہاں جائے گی۔

گلاس صرف اسی وجہ سے ناکام نہیں ہوا تھا کہ وہ دیکھنے میں تھوڑا عجیب تھا۔ اس کی ایک بہت بڑی غلطی وہ تھی جس کا تذکرہ کیٹز نے پہلے کیا تھا۔ دوسرے لوگ گلاس سے اس وجہ سے بھی چڑ گئے تھے کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا: دوسروں سے بات چیت کے دوران آپ اسے چہرے پر کیوں پہنیں گے، وہ سب کی سمجھ سے باہر تھا۔ گلاس چند چيزیں کرسکتا ہے – وہ ویڈیو بنا سکتا ہے، آپ کو ہر موڑ پر راستہ بتاسکتا ہے، فون کال کرسکتا ہے، یا ویب پر سرچ کرسکتا ہے – لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی چیز اچھے طریقے سے نہیں کرپاتا۔ اگر یہ عجیب لگنے کے ساتھ ساتھ زبردست قسم کی چیزیں کرسکتا تھا تو شاید یہ کامیاب ہوجاتا (آنے والے آکیولس رفٹ (Oculus Rift) کا ورچول ریلیٹی ہیڈسیٹ عجیب سا لگتا ہے لیکن لوگ اسے خوشی سے استعمال کریں گے)۔ اگر یہ اس قدر نمایاں نہ ہوتے ہوئے کوئی خاص کام نہیں کرتا، تو بھی شاید زیادہ لوگ اسے پسند کرتے۔

لیکن مجھے سمجھ آگیا ہے کہ اسمارٹ عینک کے ان دونوں پہلوؤں کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ گلاس جس تصور کی نمائندگی کررہا ہے – یعنی کہ ایک ہی نظر میں ڈیجیٹل معلومات کی فراہمی – بہت طاقت ور ہے۔ میں نے جلد ہی گوگل گلاس پہننا چھوڑ دیا تھا، لیکن مجھے پھر بھی اس وقت فائدہ مند لگتا تھا جہاں میں آن لائن رہنا تو چاہتی تھی، لیکن کسی قسم کی مداخلت نہیں چاہتی تھی، جیسے کہ کھانا پکانے یا سائیکل چلانے کے دوران۔ میں اپنا سر اوپر کرکے کسی بھی ترکیب کے اجزا باآسانی دیکھ سکتی تھی، یا ڈھلان پر اپنی رفتار چیک کرسکتی تھی۔ ایسا ڈسپلے جو آپ کی نظر کے سامنے ہو، اس سے اسمارٹ فون کے مقابلے میں بہتر نیویگیشن یا رئیل ٹائم زبان کے ترجمے ممکن ہیں۔

اس کے علاوہ اور بھی دلچسپ چیزيں ممکن ہیں۔ ایسا آلہ جو کسی بھی وقت آپ کی سرگرمیوں کے مطابق آپ کے سامنے متعلقہ معلومات لا کر پیش کرسکتا ہے، حافظے میں معاونت اور پیداواری میں اضافے کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ جیورجیا ٹیک کے پروفیسر اور گلاس کے تکنیکی لیڈ تھیڈ اسٹارنر(Thad Starner) جیسے پہننے کے قابل کمپیوٹنگ کے حامی، جو 1993 سے اس قسم کے گیجٹ بنارہے ہیں اور پہن رہے ہیں، اس قسم کی ایپلیکیشنوں کی مثالیں پیش کرتے رہتے ہیں)۔ اسٹارنر کے ساتھ میرا جولائی/اگست 2013 کا انٹرویو دیکھیں)۔

ان امکانات سے متاثر ہونے والے محققین، اور خصوصی ایپلیکیشن کے لئے پہننے کے قابل آلات بنانے والی کمپنیاں اس امید میں ایسی ٹیکنالوجی بنانے میں کام کرتی رہیں گی جو عینک کے اوپر لگانے کے بجائے اس میں ضم ہوجائيں۔ اب تصور کريں کہ چند سالوں میں ایسی اسمارٹ عینک نکل آئے جو باآسانی نظر انداز ہوجائے۔ ان کے لینس میں چھوٹا سا ڈسپلے لگا ہو، اور اس کے الیکٹرانک اور بیٹری فریم میں چھپے ہوئے ہوں۔ انہیں ہاتھ یا آنکھ کے چںد اشاروں یا جہاں مناسب ہو آواز کے کمانڈ سے باآسانی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ٹیکنالوجی کے اس ورژن سے آپ کے اطراف کے لوگ بھی زیادہ تنگ نہیں ہوں گے۔ اور ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ سے سافٹ وئیر ڈیولپر بھی ایسی ایپلیکیشن بنانے کی دوسری کوشش کرنے لگيں جو معلومات سے بھرپور طرز زندگی فراہم کرنے میں کامیاب ہوسکيں جسے اسٹارنر نے "اعلی وجود" کا نام دیا ہے۔

گھل مل جانا

اس ٹیکنالوجی کو کئی طریقوں سے ہموار بنایا جاسکتا ہے۔

گوگل گلاس کے موجودہ ورژن کے منشور جیسے ڈسپلے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ وہ فریم سے باہر نکلتا ہے اور آپ کے آنکھوں کے اوپر بیٹھتا ہے۔ جب ڈسپلے آن ہوتا ہے، آپ جو دیکھ رہے ہوتے ہیں، دوسرے لوگوں کو اس کا چھوٹا سا عکس نظر آتا ہے۔ جب ڈسپلے بند بھی ہوتا ہے تو منشور ایک ڈلے کی طرح آپ کے دائيں آنکھ کے سامنے ہی رہتا ہے، جسے نظرانداز کرنا ناممکن ہے۔ ایسے آلے کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ڈسپلے زیادہ نمایاں نہ ہو۔

اس کا ایک حل اس قسم کی کوئی چيز بھی ہوسکتی ہے جس پر مائیکروڈسپلے بنانے کے لئے ایل ای ڈی استعمال کرنے والی اسٹارٹ اپ کمپنی لومیوڈ (Lumiode) کام کررہے ہیں۔ عام طور پر ایل ای ڈی کسی ڈسپلے کے پچھلے حصے میں روشنی کا ذریعہ ہوتی ہیں، اور یہ روشنی فلٹر سے گزر کر وہ پکسل بناتے ہیں جنہیں جوڑ کر تصویریں بنائی جاتی ہیں۔ لومیوڈ ان فلٹروں کا استعمال نہیں کرتا ہے۔ اس کے بجائے وہ انفرادی ایل ای ڈی کے روشنی کے اخراج کو کنٹرول کرنے کے لئے ٹرانسیسٹر کی ایک تہہ شامل کرتے ہوئے ان ایل ای ڈی کو بطور پکسل استعمال کرتے ہیں۔ لومیوڈ کے بانی اور سی ای او ونسینٹ لی (Vincent Lee) کہتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے ایسے چھوٹے ڈسپلے ممکن ہوں گے جن کی دیگر ڈسپلے ٹیکنالوجیوں کے مقابلے روشنی 10 گنا زیادہ تیز ہوگی اور جو توانائی کا زیادہ موثر استعمال کرسکیں گے۔ اس کی وجہ سے ڈسپلے کو عمومی عینک میں ضم کرنا، بڑی بیٹریوں کو کم کرنا، اور عینک اور گھر کے باہر زيادہ بہتر طریقے سے کام کرنا زيادہ آسان ہوجائے گا۔

لومیوڈ بتیوں کو خراب کئے بغیر ایل ای ڈی کے اوپر لگے ہوئے ٹرانسیسٹر تخلیق کرنے کے عمل کو بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ لی کے مطابق اسمارٹ عینک کے جوڑے میں لگایا جانے والا لومیوڈ ڈسپلے کس حد تک نمایاں ہے، اس کا انحصار چند عناصر پر ہے، جس میں عینک میں استعمال ہونے والے آپٹکس شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بالآخر وہ فریم میں لگ ہی جائيں گے۔

اسمارٹ عینک کے حجم کو کم کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عینک کے باہر لگے ڈسپلے کو بڑا کرنے کے لئے درکار لینس کو آنکھ کے قریب لایا جائے۔ انوویگا (Innovega) نامی ایک کمپنی اس کے لئے ایسے کانٹیکٹ لینس تیار کررہی ہے جس میں ایک چھوٹا سا ابھار ہے جو عینک کے ایک جوڑے کے اندر سے اسٹریم ہونے والے مشمولات کے لئے مائیکرواسکوپ کی طرح کام کرتا ہے۔ جب آپ اپنے اطراف دیکھ رہے ہوتے ہیں، اس وقت تو لینس کچھ نہیں کرتے ہیں، لیکن جب عینک میں لگائے گئے ڈسپلے پینل یا پروجیکٹر سے آپ کی آنکھوں کی طرف میڈیا کو اسٹریم کیا جاتا ہے، تو وہ ہر کانٹیکٹ پر موجود ابھار سے گزر کر آنکھ کے سامنے فوکس ہوجاتا ہے۔ اس سے دونوں آنکھوں کو مشمولات دکھانا مکمن ہوجاتا ہے - اور وہ انہیں جگہ سے ہلانے پر بھی فوکس میں ہی رہتے ہیں۔ وہ تھوڑا بے ہنگم تو ہے، لیکن گلاس 2011 میں جہاں تھا، وہ اس سے کافی آگے نکل چکا ہے، جب وہ صرف ایک اسکوبا ماسک کی طرح تھا جس کے ساتھ فون اور کیبل لگائے گئے تھے۔

انوویگا نے لاس ویگس میں منعقد ہونے والے 2014 کے بین الاقوامی کنسیومر الیکٹرانکس شو میں ہائی ڈیفینیشن مشمولات کی اسٹریمنگ کرنے والی ٹیکنالوجی کے ابتدائی پروٹوٹائپ کا مظاہرہ کیا تھا۔ عینک معمولی لیکن تھوڑے بے وقوفانہ سے دھوپ کے چشموں کی طرح لگتے ہیں اور چیف ایکسیکٹو اسٹیو ولی (Steve ­Willey) کے مطابق کمپنی صارفین کے لئے کانٹیکٹ لینس تیار کررہی ہے۔ وہ 2015 میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمینسٹریشن سے منظوری کی درخواست دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اگر ڈسپلے کو پوشیدہ اور توانائی کے لحاظ سے زیادہ موثر بھی بنایا جاسکے تو اسمارٹ عینکوں کو ایسی بیٹری کی ٹیکنالوجیوں کی ضرورت پیش آئے گی جنہیں ایک پورے دن کے لئے استعمال کیا جاسکے، اور گلاس سے متصل پھولی ہوئی بیٹریوں کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔

اس کے لئے شاید بیک وقت کئی دریافتوں کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ سافٹ وئیر کو توانائی کے زیادہ کفایت شعار استعمال کے لئے بہتر بنانے کی ضرورت ہے (گلاس کی ٹیم نے اس سلسلے میں پیش رفت کرلی ہے)۔ اور فریم میں امپرنٹ انرجی (Imprint Energy) نامی اسٹارٹ اپ کمپنی کی پتلی، لچک دار، پرنٹ کردہ اور دوبارہ چارج کرنے کے قابل بیٹریاں بھی لگائی جاسکتی ہیں۔ زنک کی ان بیٹریوں کی وجہ سے لیتھیم آئیون بیٹریوں کے برعکس حجم کم ہوگا، کیونکہ لیتھیم آئیون بیٹریوں کو آکسیجن کی حساسیت کی وجہ سے حفاظتی تہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ پاور ہارویسٹنگ کے کسی طریقہ کار کے ذریعے بیٹریوں کو دوبارہ چارج کیا جاسکتا ہے۔ پرپیچوا پاور(Perpetua Power) نامی کمپنی بجلی بنانے کے لئے جسم کی گرمائش استعمال کرنے والی ٹیکنالوجی پر کام کررہی ہے؛ نظریے کے طور پر اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کی اسمارٹ عینک کی بیٹری لائف میں اضافہ آپ کی ناک کے بانسے یا کنپٹی جیسی جگہوں سے آپ کی جلد پر لگائے گئے چھوٹے تھرموالیکٹرک جنریٹر کے ذریعےممکن ہے۔ ابھی فی الحال پرپیچوا کا ماڈيول بہت بڑا ہے: بلکہ ایک تو دو سنٹی میٹر بڑا ہے۔ اور ہر ایک ایک فٹنیس ٹریکنگ ویسٹ بینڈ چلانے جتنی توانائی بھی پیدا نہیں کرسکتے ہیں۔ پرپیچوا کے بریسلیٹ کی شکل کے پروٹوٹائپ میں آٹھ سے 10 ماڈیول شامل ہیں۔

فیشن کی سمجھ نہیں ہے

گوگل نے گلاس کو زيادہ فیشن ایبل بنانے کی بہت کوشش کی ہے۔ اس نے دنیا کے سب سے بڑے عینک بنانے والی کمپنی لکسوٹیکا گروپ (Luxottica Group) کے ساتھ، جس کے برانڈوں میں رے بین (Ray-Ban) اور اوکلی (Oakley) شامل ہیں، شراکت کی ہے۔ (انٹیل بھی لکسوٹیکا کے ساتھ اسمارٹ گلاس پراجیکٹ پر کام کررہا ہے۔) اس نے ڈيزائنر ڈیان وون فرسٹن برگ (Diane von ­Furstenberg) کے ساتھ بھی تعلقات قائم کئے ہیں جنہوں نے "شائنی لگون" اور "روز گولڈ فلیش" جیسے رنگوں میں گلاس کی فریم اور ایویٹر اسٹائل کی عینکیں ڈیزائن کئے ہیں۔

نومبر میں سان فرانسیسکو میں گوگل کی میزبانی میں ایک ڈيزائن کانفرنس کے موقع پر بات کرتے ہوئے گلاس کی نگران کار ڈيزائنر ازابیل اولسن (Isabelle Olsson) کہتی ہیں کہ گوگل ہمیشہ ہی گلاس کو مکمل حد تک خوبصورت بنانے کی کوشش کرتے آرہے ہیں، لیکن لوگوں کو سر پر لگائے جانے والے ڈسپلے کو پہننے کے لئے آمادہ کرنے کے لئے انہیں خوبصورت فریم اور رنگ پیش کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ زيادہ فیشن ایبل اختیارات "کافی معمولی سی بات لگتی ہے" لیکن یہ ٹیکنالوجی کو چھوٹا کرنے سے بھی زيادہ اہم ہے۔

اولسن نے کہا “اگر آپ وہ فریم منتخب کرسکتے ہیں جس کا آپ عام طور پر انتخاب کرتے، اور جس کے ساتھ آپ کو بے آرامی بھی نہ ہو، تو آپ کی شخصیت کے مطابق یہ زيادہ بہتر لگے گا"۔ وہ ہماری گفتگو کے دوران کالے میٹ گلاس پہنے ہوئے تھیں۔

مجھے توقع نہیں تھی کہ اولسن گلاس کی برائی کریں گی؛ وہ گوگل میں ملازمت کرتی ہیں اور کمپنی میں کئی لوگوں کی طرح گلاس میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ وہ اسے 2011 والی شکل سے آگے لانے میں کامیاب ہوچکی ہیں۔ انہوں نے اس پروٹوٹائپ کو اسکوبا ماسک کا نام دیا، جس کے ساتھ فون اور کیبل لگے ہوئے تھے۔ لیکن یہ کہنا غلط ہوگا کہ صارفین کو آمادہ کرنے کے لئے فریم کا سجیلا ہونا بہت ضروری ہے۔ یہ صرف اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ گوگل بہت بڑی غلطی کررہا ہے: وہ لوگوں کو اپنے چہرے پر کمپیوٹر پہننے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں دے پائے تھے، اور اب انہیں یہ بھی نظر نہیں آرہا ہے کہ زيادہ تر لوگوں کو یہ آلات پسند نہیں آئيں گے۔ اس کا حل خوبصورت فریم نہیں ہیں؛ اس سے صرف اس ہی صورت میں فرق پڑے گا جب ٹیکنالوجی ان کے اندر گھل مل جائے گی۔

میں اولسن سے ایک ہم نقطے پر تو متفق ہوں: بات اعداد و شمار کی ہے۔ ان کی منطق ہے کہ جتنے زيادہ لوگ اسے پہنیں گے، یہ اتنے ہی نارمل لگنے لگیں گے۔ عام عینک، جو 700 سالوں سے زائد عرصے سے مختلف شکلوں میں موجود ہیں، صرف آخری صدی ہی میں جا کر فیشن ایبل ہوئے تھے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ عینکوں کا کام بہت اہم ہے۔ جب اسمارٹ عینک بھی ایسا کرنے لگیں گے تو ان کی خوبصورتی سے فرق پڑنے لگے گا۔

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top