Global Editions

پاکستان میں ہیلتھ ٹیک کا ابھرتا ہوا نیا منظرنامہ

کئی نئی سٹارٹ اپ کمپنیاں ہیلتھ کیئر کی سہولیات کی فراہمی اور دواساز کمپنیوں کی کوالٹی کنٹرول کو بہتر بنانے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں کررہی ہیں۔

ستار خان سات سال تک ٹانگوں کا دائمی درد برداشت کرتے رہے۔ انھوں نے افغانستان کے شہر کابل میں کئی ڈاکٹروں سے مشورہ کیا، جنھوں نے انھیں ہپ جوائنٹ سرجری (hip-joint surgery) کروانے کی تجویز دی، لیکن یہ سرجری افغانستان کے کسی بھی ہسپتال میں دستیاب نہيں تھی۔

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، ستار کے لیے چلنا پھرنا مشکل ہوتا چلا گیا، اور وہ اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایک وقت ایسا آیا جب ان کے لیے گھر سے نکلنا بھی ناممکن ہوگیا۔ جنوری 2017ء میں جب ان کے رشتہ دار شوکت خان ان سے ملنے انگلینڈ سے کابل آئے، تو وہ ستار کی حالت دیکھ کر بہت پریشان ہوئے۔ شوکت نے لندن میں اپنے پاکستانی رفقاء کار سے لاہور کے کئی آرتھوپیڈک سرجنز کی بہت تعریفیں سنی تھیں، لیکن انھیں سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ اُن سے کس طرح رابطہ کریں۔ آخر کار شوکت کو گوگل کی مدد سے مرہم (‘پٹی’) نامی ہیلتھ کیئر کی سٹارٹ اپ کمپنی کی ویب سائٹ مل گئی، جو اپنی ویب سائٹ اور سمارٹ فون ایپلی کیشنزکے ذریعے مریضوں کا متعلقہ ڈاکٹروں کے ساتھ رابطہ قائم کرتی ہے۔

شوکت لاہور میں واقع نیشنل ہسپتال کے ایک آرتھوپیڈک سرجن کے ساتھ اپوائنٹمنٹ بک کرنے میں کامیاب ہوگئے، اور چند روز بعد انھوں نے مرہم کی شریک بانی عاصمہ عمر سے لاہور میں نقل و حمل اور قیام کے متعلق بات کی۔ شوکت بتاتے ہيں کہ ستار کا لاہور میں آپریشن ہوا، اور چند ہفتوں تک ہسپتال میں رہنے کے بعد وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ واپس کابل آگئے۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو مرہم کی جانب سے فراہم کردہ ایک ویڈیو میں شوکت بتاتے ہيں کہ ستار اب دوبارہ چلنے پھرنے لگے ہیں، اور جلد ہی دوبارہ ملازمت کرنے کا ارادہ رکھتے ہيں۔

پاکستان کا نجی ہیلتھ کیئر کا شعبہ متعدد ہسپتالوں، کلینکس اور تشخیصی مراکز کے ایک وسیع و عریض نیٹ ورک پر مشتمل ہے، لیکن ان میں سے تمام اداروں کے انٹرنیٹ پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے ہیلتھ کیئر کے متلاشی افراد کے لیے ایسی کوئی سہولت موجود نہيں ہے جس کی مدد سے وہ ایک ہی پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے متعلقہ ماہرین اور سہولیات تک رسائی حاصل کرسکیں۔

مرہم کی ویب سائٹ اور سمارٹ فون ایپلی کیشنز اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ یہ ایپس مریضوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کررہی ہیں جس کی مدد سے وہ پاکستان کے چودہ بڑے شہروں میں کہیں بھی نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں کام کرنے والے ڈاکٹر ڈھونڈ کر ان سے مشورہ کرسکتے ہيں۔

عمر کہتی ہیں کہ اس ایپ کے ذریعے صارفین آن لائن اپوائنٹمنٹس بک کرنے کے علاوہ ڈاکٹرز سے مفت مشورے بھی حاصل کرسکتے ہيں اور ان کے بارے میں ریویوز بھی لکھ سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ان ریویوز سے آگے چل کر ڈاکٹروں کی قابلیتوں کا بھی تعین کیا جائے گا اور مرہم کی سمارٹ فون کی ایپلی کیشن میں صرف وہی ڈاکٹرز نظر آئیں گے جن کو اچھے ریویوز ملیں گے۔

مرہم اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے مختلف ہسپتالوں کے متعلق تازہ ترین معلومات فراہم کرکے نجی ہیلتھ کیئر کے شعبے میں معلومات کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کررہے ہيں۔ عمر کہتی ہیں "ہمارے صارفین کو سہولیات کی دستیابی کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے ہر ایک ہسپتال میں جانے کی ضرورت نہيں ہے۔ وہ ہماری ایپ کے ذریعے معلوم کرسکتے ہیں کہ ان کی مطلوبہ سہولیات کن ہسپتالوں میں دستیاب ہیں، جس سے ان کا قیمتی وقت بچایا جاسکتا ہے۔"

یہ سٹارٹ اپ کمپنی جنوری 2016ء میں متعارف کرائی گئی تھی، اور اب یہ پاکستان کے کئی مختلف شہروں میں سہولیات فراہم کرتی ہے، جن میں کراچی، لاہور، پشاور، اسلام آباد، راول پنڈی، ملتان، فیصل آباد، سرگودھا، رحیم یار خان، سیالکوٹ، بہاول پور، گوجرانوالہ، قصور، ایبٹ آباد، صوابی اور چارسدہ شامل ہيں۔

اس کے پینل میں 1,500ہسپتالوں اور دس ہزار سے زائد ڈاکٹروں کے متعلق معلومات موجود ہے۔
عمر کہتی ہیں کہ مرہم کی ویب سائٹ پر روزانہ2,200 وزیٹرز آتے ہيں، جن میں سے کئی صارفین پاکستان سے باہر رہتے ہیں "ستار افغانستان سے آنے والے پہلے مریض تھے، لیکن ہمارے پاس مغربی ممالک میں رہائش پذیر کئی پاکستانی بھی آچکے ہیں۔ ان میں سے زيادہ تر افراد اپنے ممالک میں بیمہ کے اخراجات نہيں برداشت کر سکتے ہيں، لیکن ان کے لیے پاکستان کے نجی ڈاکٹر کم قیمت ثابت ہوتے ہيں۔"

ان کے مطابق روزانہ اوسطاً 30 ڈاکٹر ان کے پینل پر رجسٹریشن کے لیے ان سے رابطہ کرتے ہيں۔

عمر مزید بتاتی ہیں کہ ان کی ٹیم نے ویب سائٹ اور ایپ کو ہر ممکنہ حد تک آسان استعمال بنانے کے لیے دونوں کی ڈیزائن پر خاص دھیان دیا ہے۔ "لیکن وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ایپ کی ڈيزائن کا مرحلہ ہی سب سے زيادہ آسان تھا‘‘۔ ہمیں سب سے زيادہ مسئلہ ہمارے آئيڈیا کو عملی جامہ پہنانے کے دوران پیش آیا۔ ہمارے لیے سب سے مشکل کام ڈاکٹروں اور ہسپتالوں سے حاصل ہونے والے ڈيٹا کی تصدیق کا مرحلہ تھا"۔

اس کے نتیجے میں دو مختلف ایپلی کیشنز تخلیق کی گئيں، ایک مریضوں کے لیے اور دوسری ڈاکٹروں اورہیلتھ کیئر کی سہولیات کے لیے۔

جب بھی مرہم کے آن لائن فورم پر کوئی سوال پوسٹ کیا جاتا ہے تو تمام متعلقہ ڈاکٹروں کو ایپلی کیشن کے ذریعے مطلع کردیا جاتا ہے، تاکہ مریض کو فوری جواب دیا جاسکے۔

مرہم کے آن لائن فورم پر ہر سوال کے جواب کو مرتب کرکے جواب دینے والے ڈاکٹر کے پروفائل کے پیج پر مریضوں کے ریویوز کے ساتھ اپ لوڈ کردیا جاتا ہے۔ "اس طرح اپوائنٹمنٹ بک کرنے سے پہلے علاج کے متلاشی افراد کے سامنے تمام ضروری معلومات نظر آئيں گی۔"

اپوائنٹمنٹس بک کرنے کے طریقہ کار کی جھنجھٹ ختم کرنے کے علاوہ، مرہم کے آن لائن مینیجمنٹ کے سسٹم کے ذریعے ہیلتھ کیئر کے فراہم کنندگان اپنے اکاؤنٹس کا بھی بہتر انتظام کرسکیں گے۔ عمر کے مطابق یہ ادائيگی کے طریقہ کار میں شفافیت کا باعث بنے گا۔

یہ سٹارٹ اپ کمپنی اب تک تو نجی شعبے سے تعلق رکھنے والی سہولیات کے ساتھ کام کررہی تھی، لیکن اب اسے حال ہی میں اپنا پہلا سرکاری کلائنٹ بھی مل چکا ہے۔ عمر بتاتی ہيں کہ ان کا پلیٹ فارم اب مریضوں کو لاہور میں واقع شیخ زاید ہسپتال کے جگر کے ٹرانسپلانٹ کی سہولت تک بھی رسائی فراہم کرتا ہے۔

عمر امید کرتی ہیں کہ پبلک سیکٹر سے تعلق رکھنے والے ایسے ادارے جن میں آن لائن مینیجمنٹ کے سسٹمز موجود نہيں ہیں، مرہم کے ماڈل کو جلد ہی اپنالیں گے۔

وہ کہتی ہیں ’’یہ ہسپتال اب تک پرانے سسٹم پر ہی چل رہے ہیں۔ مریض پہلے قطار میں کھڑے ہونے کے لیے اپنا نام لکھواتے ہيں اور پھر اپنی باری کا انتظار کرتے ہيں۔ اس میں بہت بے ترتیبی ہوتی ہے۔ ڈاکٹروں کو معلوم نہيں ہوتا ہے کہ ان کے پاس کتنے مریض آئيں گے، اور مریضوں کو کئی گھنٹے ڈاکٹروں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔‘‘

سہولیات سے محروم افراد کے لیے سہولیات

پاکستان میں صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والی چند سٹارٹ اپ کمپنیاں انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (Information and Communication Technology - ICT) کی مدد سے دوردراز علاقوں میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہيں۔

ایسی ہی ایک کمپنی صحت کہانی ہے، جو میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پریکٹس کرنے سے قاصر خواتین کو اپنے گھروں سے ہی پریکٹس کرکے اپنی تعلیم کا فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ صحت کہانی کی شریک بانی اور چیف ڈيولپمنٹ افسر ڈاکٹر عفت ظفر آغا بتاتی ہیں کہ ان کی ریسرچ کے مطابق، پاکستان کے میڈیکل کالجوں سے ہر سال 70 ہزار خواتین گریجویٹ تو کرتی ہیں، لیکن ان میں سے صرف نو ہزار ڈاکٹروں نے میڈیکل ضابطہ کار اتھارٹی پاکستان میڈیکل اور ڈینٹل کونسل (Pakistan Medical and Dental Council) میں خود کو بطور پریکٹیشنرز رجسٹر کروایا ہے۔

وہ کہتی ہیں "ان میں سے صرف 13 فیصد خواتین ڈاکٹرز پریکٹس کررہی ہیں، جبکہ باقی معاشرے یا گھر والوں کے دباؤ میں آکر اپنی تعلیم کا فائدہ نہيں اٹھا پاتی ہيں۔‘‘

یہ ڈاکٹرز اب صحت کہانی کی ٹیلی میڈیسن (telemedicine) کی سہولت کے ذریعے گھر بیٹھے ہی مریضوں کو مشاورت فراہم کرسکتی ہيں۔

جب صحت کہانی کی ٹیم نے سہولیات سے محروم علاقہ جات میں آن لائن کلینکس کھولنے کا فیصلہ کیا تو انھیں جلد ہی احساس ہوگیا کہ کلینکس کھول کر انھیں ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا بہت مہنگا ثابت ہوگا۔

ظفر بتاتی ہيں کہ اس کے بعد ان کی ٹیم نے مختلف این جی اوز اور کمپنیوں کے دیہاتوں میں قائم کردہ کلینکس سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ کہتی ہیں، ’’ہم نے کئی این جی اوز اور کمپنیوں سے رابطہ کیا، اور آخرکار ہم ایک ایسی کمپنی کے ساتھ پارٹنرشپ کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کے پاکستان بھر میں 800 کلینکس ہیں۔‘‘

صحت کہانی ان کلینکس کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے علاوہ نرسز اور مڈوائفس (midwives) کو تربیت فراہم کرتے ہيں، اور آخرکار ایک جزوی حد تک فعال کلینک ٹیلی میڈيسن کی سہولت کی شکل اختیار کرلیتا ہے، جہاں پہلے ہر مریض کا معائنہ کیا جاتا ہے، اور اس کے بعد ایک لیپ ٹاپ کے ذریعے ان کا ڈاکٹر کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کردیا جاتا ہے۔

کوئی بھی نیا کلینک لانچ کرتے وقت، صحت کہانی کی ٹیم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے دو محرک (mobilizers) بھرتی کرتی ہے، جو گھر گھر جا کر پوری کمیونٹی کو اس کلینک کے متعلق معلومات فراہم کرتے ہيں۔

اس کے بعد جس دن کلینک کو لانچ کیا جاتا ہے، اس روز دواساز کمپنیوں اور سپانسرز کے تعاون کے ساتھ ایک مفت میڈيکل کیمپ منعقد کیا جاتا ہے۔

کوئی بھی نیا کلینک کھولنے کا فیصلہ ٹیکنالوجی کے قابل عمل ہونے کے مطالعے، کمیونٹی کی مالی استطاعت، اور علاقے میں پائے جانے والے امراض کے متعلق سرویز کے نتائج کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

ظفر کہتی ہیں ’’ہم بزنس ماڈل کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی سہولیات کی قیمتیں کم رکھتے ہيں۔‘‘

صحت کہانی اب تک سندھ، پنجاب اور خیبرپختون خواہ میں نو ٹیلی میڈیسن کے مراکز قائم کرچکے ہيں، جن میں سے دو مراکز نفسیاتی صحت کے لیے وقف ہیں۔

اس وقت صحت کہانی کے پینل میں گھر سے کام کرنے والی 15 خواتین ڈاکٹرز ہیں، جنھوں نے دو سال کے عرصے میں 30 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا ہے۔ ظفر کے مطابق ان کا ڈیٹابیس 75 سے 80 ڈاکٹرز پر مشتمل ہے۔

جعلی ادویات کے خلاف جنگ

سٹارٹ اپ کمپنیاں جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر صرف مریضوں کو علاج ہی فراہم نہيں کررہی ہيں، بلکہ دوسرے شعبہ جات میں بھی خدمات انجام دینے کی کوششیں کررہی ہیں۔

اب دواساز (pharmaceutical) صنعت میں بھی ایسی سٹارٹ اپ کمپنیاں قائم ہونے لگی ہیں جو جعلی ادویات جیسے مسائل کے حل کے لیے ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھارہی ہيں۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی جعلی ادویات بہت عام ہیں، اور آئے دن میڈیا میں مشکوک ادویات بنانے اور فروخت کرنے والی فیکٹریوں پر حکومتی چھاپوں کی رپورٹس سننے کو ملتی ہیں۔ حال ہی میں صوبہ پنجاب کے حکام نے سرگودھا میں ادویات کے نامور بین الاقوامی برانڈز کی نقول فروخت کرنے والی دو فیکٹریاں برآمد کی تھیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق جعلی ادویات کی تعریف کچھ یوں ہے: ’’جعلی ادویات سے مراد ایسی ادویات ہیں جن پر جان بوجھ کر غلط لیبل لگا کر ان کی شناخت کے حوالے سے غلط بیانی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ برانڈڈ اور جینرک ادویات، دونوں ہی کی جعل سازی ممکن ہے، اور جعلی مصنوعات میں درست اجزاء بھی استعمال کیے جاسکتے ہيں، غلط اجزاء بھی استعمال کیے جاسکتے ہيں، فعال اجزاء غیرموجود ہوسکتے ہيں یا غلط تناسب میں استعمال کیے جاسکتے ہیں، یا جعلی پیکیجنگ استعمال کی جاسکتی ہے۔‘‘

عالمی ادارہ صحت کے ایک اندازے کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں تخلیق کی جانے والی تقریباً 30 فیصد ادویات جعلی ہوسکتی ہیں۔

پاکستان میں پروچیک (Procheck) نامی

سٹارٹ اپ کمپنی موبائل فونز کی ایس ایم ایس ٹیکنالوجی اور دواساز کمپنیوں کے آٹومیٹڈ ڈیٹابیسز کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
2014ء میں لانچ ہونے والی یہ کمپنی سیریلائيزیشن (serialization) نامی عمل کی مدد سے دواساز کمپنیوں کی ادویات کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔ اس عمل کے ذریعے دوا کے ہر پیک کو ایک منفرد کوڈ متعین کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے جعلسازوں کے لیے پیکیجنگ کی نقل بنانا ناممکن ہوجاتا ہے۔ اس سے نہ صرف دواساز کمپنیوں کی آمدنی کو نقصان سے بچایا جاسکتا ہے، بلکہ صارفین کے لیے دوا کی تصدیق کرنا بھی ممکن ہوجاتا ہے۔ اس شناختی کوڈ کو بذریعہ ایس ایم ایس 8776 پر بھیج کر دوا اور اس کی میعاد دونوں کی فوری تصدیق کی جاسکتی ہے۔ دوا کے جعلی ہونے کی صورت میں، اسے دوافروش کو واپس کیا جاسکتا ہے، تاکہ تخلیق کار فوری اقدام کرسکے۔

پروچیک کے چیف ایگزیکٹو افسر صائم صدیقی بتاتے ہيں کہ یہ پروگرام عملدرآمد کرنے کے بعد ان کے پہلے کلائنٹ کی فروخت میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔ وہ کہتے ہيں ’’اب تک پروچیک چار کروڑ ادویات کے تحفظ کے لیے آرڈرز بک کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔‘‘

ادویات کو سیریلائز کرنے سے ہر مصنوعے کی ٹریکنگ ممکن ہوگئی ہے، جو پوری سپلائی چین میں شفافیت پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کے لیے تمام ادویات کے کوڈز کو جمع کرکے ان کا سپلائی چین کے ہر مرحلے میں شپر کارٹنز کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے۔

صدیقی کہتے ہیں ’’دواساز صنعت پر بہت سخت ضوابط کا اطلاق ہوتا ہے، جس کی وجہ سے سپلائی چین کے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے تک مصنوعات کی تیزرفتار منتقلی ممکن نہيں ہے، اور کچھ کمپنیوں نے شروع میں بہت شک و شبہات کا اظہار کیا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہيں کہ بینکنگ صنعت کے برعکس فارما کی صنعت بہت محنت طلب ہے، جس کی وجہ سے وہ ٹیکنالوجی کی شمولیت سے کتراتی ہے۔

اس وقت پروچیک چار دواساز کمپنیوں، گیٹز فارما (GetzPharma)، فیروزسنز لیباریٹریز لمیٹیڈ (Ferozsons Laboratories Limited)، سٹائل فارماسیوٹیکلز (Stile Pharmaceuticals) اور نبی قاسم انڈرسٹریز (Nabiqasim Industries) کے ساتھ کام کررہے ہیں۔

ای ہیلتھ کا پاس پورٹ

E-novatRX نامی ایک اور سٹارٹ اپ کمپنی نے پاکستان کی پہلی ای فارمیسی کے مراعات کے مینجمنٹ کا سسٹم قائم کیا ہے، جو مغربی ممالک میں تو کافی مقبول ثابت ہوچکا ہے، لیکن اب تک پاکستان میں متعارف نہيں ہوا ہے۔ یہ سسٹم پرائیوٹ اور کارپوریٹ صارفین کو جمع کرکے ان کی طرف سے ہیلتھ کیئر کے فراہم کنندگان اور دواساز کمپنیوں سے سہولیات اور ادویات کی قیمتوں میں کمی کے سلسلے میں مذاکرات کرتا ہے۔

ان سہولیات کی فراہمی کے لیے پہلے سے موجود ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارمز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، E-novatRX نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) (National Database and Registration Authority - Nadra) کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز کا ڈیٹابیس مرتب کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ اس طرح، ادائيگی کی پراسیسنگ کے لیے، انھوں نے ٹیلی نار کے ساتھ پارٹنرشپ قائم کی ہے، جس کے ذریعے انھیں ایزی پیسہ موبائل بینکنگ پلیٹ فارم تک رسائی حاصل ہوچکی ہے۔

ڈاکٹر حسن کہتے ہیں کہ اس کا مقصد سمارٹ چپ کارڈ استعمال کرکے ایک ای ہیلتھ کے پاس پورٹ کی تخلیق ہے، جس کی مدد سے ہیلتھ کیئر کے متلاشی افراد ملک بھر میں سہولیات کے اخراجات میں رعایت سے فائدہ اٹھاسکیں گے۔

وہ مزید بتاتےہيں کہ انھوں نے ایسے کئی لوگوں کی نشاندہی کی ہے جن کی ضروریات پوری نہيں ہورہی ہیں۔ ’’ہمارے ٹیک کے پلیٹ فارم کے ساتھ ایک ڈیجیٹل مالی ٹول منسلک کیا گيا ہے، جس کے ذریعے ہم ان افراد کو سہولت فراہم کرسکتے ہیں۔‘‘

یہ سٹارٹ اپ کمپنی ایک پرسنلائیزڈ کارڈ میں نصب سمارٹ چپ میں ضروری میڈیکل معلومات لوڈ کرنے کے بعد اسے کلاؤڈ پر چلنے والے میڈیکل ریکارڈ سسٹم سے لنک کرکے معلومات کا ذخیرہ بھی تیار کررہی ہے، جو اس وقت نہایت بے ربط ہیلتھ کیئر کے شعبے کو سٹریم لائن کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اس ڈیٹابیس میں صارفین کی الرجیز اور حالیہ نسخوں کے متعلق معلومات شامل ہوگی، اور مجاز ہیلتھ کیئر فراہم کنندگان اور دوا فروشوں کو اس معلومات تک ریئل ٹائم رسائی حاصل ہوگی۔

ڈاکٹر حسن کہتے ہیں کہ اس سے علاج کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔ ’’پاکستان کے ہیلتھ کیئر کے نظام میں بے ربطگی اس ملک کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔‘‘

اس وقت پاکستان کے تمام کلینکس یا ہسپتالوں میں یا تو ریکارڈز برقرار نہيں رکھے جاتے ہيں یا سرے سے موجود نہيں ہوتے ہيں، لیکن E-novatRX کے سسٹم کے باعث طبی ریکارڈز تک فوری رسائی ممکن ہے، جس کی وجہ سے ہیلتھ کیئر کے فراہم کنندگان کے پاس فیصلے لینے سے پہلے مریضوں کے متعلق مکمل طبی معلومات موجود ہوگی۔ نادرا کے ڈیٹابیس کے استعمال کی وجہ سے رقم کی ادائيگی کے وقت بائیومیٹرک تصدیق بھی ممکن ہوگی۔ اس سے بیمہ کمپنیوں کو بھی بہت فائدہ ہوگا کیونکہ وہ اس بات کی تصدیق کرسکیں گے کہ جس شخص کا علاج کیا جارہا ہے، وہ واقعی ان سہولیات کا حقدار ہے۔ ’’اس وقت کئی کمپنیاں اپنے ملازمین کو طبی مراعات تو فراہم کرتی ہیں، لیکن سسٹم میں جعلی رسیدوں اور ان مراعات کا غلط استعمال عام ہے۔‘‘

اس وقت یہ سٹارٹ اپ کمپنی اپنے مصنوعات کی کارپوریٹ ٹیسٹنگ کررہی ہے اور اس سلسلے میں وہ یونی لیور اور اس کے ویلیو چینز کے ساتھ کام کررہی ہے۔ یونی لیور کے ملک بھر میں تقریباً 4,500 ڈسٹری بیوٹرز ہیں، جنھوں نے E-novatRX کی سہولیات استعمال کرنا شروع کی ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’’اس کے علاوہ ہم چغتائی لیب کے ساتھ ہیپاٹائٹس کی آگاہی اور علاج کا بھی کیمپ چلا رہے ہیں جہاں سے ڈسٹری بیوٹرز اپنی سکریننگ کرواسکتے ہيں۔ ضرورت پڑنے پر وہ لاہور میں واقع فیروزسنز نامی دواساز کمپنی سے نہایت کم قیمت میں اپنا علاج بھی کرواسکتے ہيں۔‘‘

تحریر: نشمیا سکھیرا

Read in English

Authors
Top