Global Editions

گرین نیو ڈیل کےلئےمعاشی دلائل

امریکی نمائندہ الیگزنڈریا اوکیسیو کارٹیز اور دیگر ترقی پسندوں کی طرف سے تجویز کردہ گرین نیو ڈیل نے ماحولیاتی تبدیلی پر امریکی بحث کو ڈرامائی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔اس بحث نے ماحولیاتی تبدیلی اور دیگر سماجی چیلنجز خاص طور پر عدم مساوات سے نمٹنے کے لئے فیصلہ کن عوامی سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا ہے۔

اس قسم کی لائی گئی سرمایہ کاری “صنعتی پالیسی” کے طور پر جانی جاتی ہے اوریہ طویل عرصے سے معیشت دانوں میں متنازعہ رہی ہے۔ لیکن یونیورسٹی کالج لندن کی ایک ماہر اقتصادیات اور نئے قائم کئے گئے انسٹی ٹیوٹ آف انوویشن اینڈ پبلک پرپز کی بانی ماریانا مززکوٹا نے اس طرح کی اپروچز کی ضرورت کے بارے میں بہت زور دیا ہے اور وہ ان کو مشن پر مبنی جدت پسند کی پالیسیاں کہتی ہے۔

انٹرپری نیورل سٹیٹ اور حالیہ ویلیو آف ایوری تھنگ کی مصنف ماریانا مززکوٹا نے زور دیا ہے کہ ٹیکنالوجیکل پیش رفت میں عوامی فنڈنگ بائیو ٹیک سےلیکر انٹرنیٹ تک اہمیت رکھتی ہے۔ ہم نے ان کے ساتھ ایک نشست کی تاکہ گرین نیو ڈیل کے بارے میں پوچھیں اور یہ بھی جانیں کہ کس طرح صنعتی پالیساں ماحولیاتی تبدیلی اور دوسرے بڑے معاشرتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے استعمال کی جا سکتی ہیں۔

صنعتی پالیسی اکثر معیشت دانوں میں بری سمجھی جاتی ہے۔ آپ اس کے بارے میں کیوں اتنی پرجوش ہیں؟
سب سے پہلے صنعتی پالیسیوں کی مختلف اقسام ہیں۔ یہ مؤثر اور غیر موثرا قسام کی ہیں۔ مشکل صنعتی پالیسییاں وہ ہیں جو صرف معیشت کے ایک محدود حصے میں ترقی کو فروغ دینے کے لئے ہوتی ہیں اور یہ معیشت کو تبدیل کرنے کا ایک منظم طریقہ نہیں ہوتا۔میرے خیال میں فعال، مؤثر صنعتی پالیسیاں وہ ہیں جو تمام صنعتوں کے رویہ میں تبدیلی لاتی ہیں بجائے اس کے کہ وہ چند ایک صنعتوں کو پکڑیں اور ان کو سبسڈی دیں۔

کیا گرین نیو ڈیل صنعتی پالیسی کی ایک مثال ہے؟

اس چیز کا انحصار اس بات پر ہے کہ کس طرح اس کو سمجھا جاتا ہے۔ میں ستمبر میں اس کے بارے میں الیگزنڈریا اوکیسیو کارٹیزسے بات کر رہا تھی۔
اگر یہ وسیع معیشت کے بارے میں ہے تو تو گرین نیو ڈیل بہت زیادہ مؤثر ہوگی۔ اور یہ چیزالیگزنڈریا اوکیسیو کارٹیز اور ڈیموکریٹک پارٹی میں دوسرے لوگوں کی بحث کی روح ہے۔ یہ صرف قابل تجدید توانائی کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ پوری معیشت کو سبز کرنے کے بارے میں ہے۔ گرین نیو ڈیل صرف قابل تجدید توانائی کے ذرائع کے بارے میں نہیں ہےبلکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کے ہر حصے کو سبز سمت میں خود کو تبدیل کرنے کے بارے میں بھی ہے۔

نیوڈیل میں صدر روزویلٹ کا حوالہ کیوں دیا جا رہا ہے جو انہوں نے امریکی معیشت کو گریٹ ڈیپریشن سے نکالنے کے لئے دیا تھا ؟
گرین نیو ڈیل کے دو حصے ہیں۔ ایک سمت کی ترتیب ہے جس میں روزویلٹ نے نئی منصوبے مہیا کئے تھے۔یہ وہ نقطہ ہے جس میں معیشت کی وسیع تبدیلی کی جانب جانا ضروری ہے۔ ایک اور اہم حصہ لفظ “معاہدے” کے بارے میں ہے یا حکومت، بزنس اور شہریوں کے درمیان نیا سماجی معاہدہ ہے۔ جتنی زیادہ گرین نیو ڈیل سرمایہ کاری ، انوویشن اور پبلک پرائیویٹ کے بارے میں ہو گی، یہ اتنی زیادہ دلچسپ ہو گی۔ کمپنیوں کے ساتھ ہم کیا ڈیل چاہتے ہیں؟ ہمیں کونسی شرطیں لگانی چا ہیں؟

کیا یہ ممکن ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کا مسئلہ حل کرنے کے ساتھ ساتھ ہم معیشت میں ترقی کریں؟

ایک گرین نیو ڈیل کوسرمایہ کاری کے لئے نئے مواقع پیدا کرنا چاہئے تاکہ ترقی اور استحکام ساتھ ساتھ چلیں۔گروتھ کی ایک شرح اور ایک سمت ہے اور جی این ڈی اس سمت کے بارے میں ہے جسے ہم گرین گروتھ میں لے جاسکتے ہیں۔ عین اس وقت یہ نجی سرمایہ کاری کو کھولتی ہے۔اس ڈیل میں منافع واپس اسی کاروبار میں لگانے پر دباؤ ڈالنا چاہئے بجائے اس کے کہ یہ سرمایہ شئیر خریدنے میں لگایا جائے۔

آپ کی کتابوں میں سے ری تھنکنگ کیپٹلزم ماہرین اقتصادیات کی بڑے مسائل جیسا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سےسوچ پر تنقید کرتی ہے۔ ایساکیوں ہے؟

مین سٹریم معاشی فریم ورک پالیسی میکنگ کو صرف مارکیٹ کی ناکامی کے حوالے سے دیکھتا ہے۔ آپ کسی چیزکے غلط سمت جانے کا کچھ انتظار کر رہے ہیں اور پھر آپ اس کو ٹھیک کریں گے۔ لیکن ایک سبز تبدیلی کو زیادہ مہذب ہونے کی ضرورت ہے۔نیو ڈیل میں مارکیٹوںکو نجی شعبے کے ساتھ اشتراک کرنا چاہیے۔

عوامی مشنوں میں سرمایہ کاری مزید سرمایہ کاری کو فروغ دلا سکتی ہے اورانوویشن کو لانے میں مدد دے سکتی ہے لیکن اسے مائیکرومینجنگ کے بغیر کیا جانا چاہئے۔ ایک سمت مقرر کریں اور اس کے بعد تمام حکومتی آلات اوپر سے نیچے تک تجربات اور تلاش کے لئے استعمال کریں۔ اپنے مقصد پر توجہ مرکوز رکھیں اور گیسوں کے اخراج کو کم سے کم رکھیں۔ جی ہاں، اس صورت حال میں آپ اپنا مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔

تحریر: ڈیوڈ راٹمین(David Rotman)

Read in English

Authors
Top