Global Editions

پاکستان کے پہلے انٹرنیٹ ایکسچینج پوائنٹ کا آغاز

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے پاکستان کے پہلے انٹرنیٹ ایکسچینج پوائنٹ کا افتتاح کر دیا۔ اس سہولت کے ذریعے انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے والے اداروں کو غیرملکی سرکٹ استعمال میں لائے بغیر ملکی انٹرنیٹ ضروریات پورا کرنے کی صلاحیت حاصل ہو جائے گی۔ اس وقت یہ سہولت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹیڈ (PTCL) یا ٹرانس ورلڈ ایسویسی ایٹ لمیٹیڈ (TAL) ہی فراہم کر رہی ہے۔

اس پیشرفت کے بارے میں میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس کی مدد سے ڈومیسٹک انٹرنیٹ ٹریفک کو لیٹنسی یعنی ایک نیٹ ورک سے دوسرے تک سفر کرنے کے لیے ایک سگنل کو درکار وقت میں کمی آئے گی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک انٹرنیٹ ٹریفک مجموعی انٹرنیٹ ٹریفک میں بہت ہی معمولی شرح کی حامل ہے لہذا اس کے اثرات زیادہ نمایاں نہیں ہوں گے۔

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سابق مشیر سلمان انصاری کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں مجموعی انٹرنیٹ ٹریفک تقریباً سات سو گیگابائیٹ کے لگ بھگ ہے جبکہ ڈومیسٹک انٹرنیٹ ٹریفک تین گیگابائیٹ سے زیادہ نہیں اس طرح ملکی مجموعی انٹرنیٹ کھپت میں گھریلو استعمال کی شرح صرف 0.43 فیصد بنتی ہے۔

Qubee کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جمال ناصر کا کہنا ہے کہ یہ بہت ہی تاخیر سے اٹھایا جانیوالا قدم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں اس سہولت کا آغاز 1998 ءمیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس وقت غیر ملکی سرکٹ کی قیمت بہت زیادہ تھی۔ آج سے دو دہائیاں قبل دو میگابائیٹ کے غیرملکی سرکٹ کی قیمت دو لاکھ ڈالر فی مہینہ تھی جبکہ اس وقت اتنی ہی صلاحیت کے حامل فارن سرکٹ کی فیس دس سے پندرہ ڈالر سے زیادہ نہیں اس طرح ملکی سرکٹ کی نسبت غیر ملکی سرکٹ زیادہ کم خرچ ثابت ہو رہا ہے۔

تاہم دوسری جانب سلمان انصاری کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سروسز اور ڈیٹا کے نرخ کم کئے جا سکتے ہیں اس وقت ملک میں مجموعی طور پر کونیکٹ ایبل بینڈ وتھ کی مجموعی کھپت 80 ٹیرابائیٹ ہے اور اس پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی سے صارفین کو بہت سی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔
جمال ناصر کا انٹرنیٹ سہولیات میں اضافے کے حوالے سے کہنا تھا کہ اس وقت انٹرنیٹ سروسز پروائیڈرز اپنے اپنے صارفین کو بہترین سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا ہے کہ IXP کے آنے سے کوئی فرق پڑے گا۔

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر احسان اللہ قاضی کا کہنا ہے کہ ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی انٹرپرینئیورشپ اپنے قدم جما رہی ہے۔ بہت سی کمپنیاں جن میں پاک وہیلز اور زمین ڈاٹ کام شامل ہیں بہت ہی زیادہ انٹرنیٹ ٹریفک جنریٹ کر رہی ہیں۔ اگرچہ ابھی تک یہ کمپنیاں ملکی سطح پر ہی کام کر رہی تھیں تاہم اب یہ غیرملکی سطح پر بھی کام کا آغاز کر رہی ہیں۔ قاضی پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کی جانب سے بنائے جانیوالے اس ورکنگ گروپ کے رکن رہ چکے ہیں جس کا مقصد IXP کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا اس حوالے سے انکا کہنا تھا کہ اس سروس کی مدد سے ملک میں کلاؤڈ بیسڈ ڈیٹا سٹوریج کی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔

تحریر: عمیر رشید (Umair Rasheed)

Read in English

Authors
Top