Global Editions

میں نے ماحولیاتی تبدیلی کا مزہ چکھا

ہم میں سے ہر ایک کی زندگی میں ایسا لمحہ آئے گا جب ہم گلوبل وارمنگ محسوس کریں گے۔

نومبر کے ابتدا میں تندوتیز ہوائوں نے آگ کے شعلوں کو بھڑکایا جس سےکیلفورنیا کا ٹائون پیراڈائز تقریباً تباہ ہو گیا اور کم سے کم 86 افراد ہلاک ہو گئے۔
دوسری صبح تک میں آگ کی بو 130 میل دور برکلے میں اپنے گھر کے دروازے سے دور ایک فٹ پر محسوس کر سکتا تھا۔ گھر کے اندر رہنے کے باوجودایک ہفتے کے اندر میرا گلا اورآنکھیں خراب تھیں۔

ائیر کوالٹی کے نقشے نے خبردار کیا کہ بے ایریا سے ہوائیں بہت خطرناک لیول تک غیر صحتمند ہو چکی ہیں۔کئی دنوںتک تقریباً ہر کسی نے اپنے کتوں کو سیر کروانے کے دوران، ٹرین پر سفر کے دوران اور گھر سے باہر کسی ضروری کام سے باہر نکلتے ہوئے ماسک پہنے۔زیادہ ترپتلے کاغذ والےماسک مشکوک تھے۔سٹوروںسے اچھی کوالٹی والے ماسک N-95s جلد ختم ہو گئے اور ہوا صاف کرنے والے ماسک بھی جلدی بک گئے۔

لوگوں نے اچھے ماسکس کے حصول کے لئے ٹپس دینا شروع کر دیں اور نئی سپلائی والے سٹوروں پر دوڑ پڑے۔ کچھ لوگ اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے کئی گھنٹوں کی مسافت کرکےدور چلے گئے اورانتظار کیا۔ جب تک میرے ماسک ڈاک کے ذریعے پہنچے، میں اوہیو میں تھااور فیصلہ کر لیا تھا کہ میں دھواں سے بچنے کے لئے شکرانہ والے دن باہر سفر کروں گا۔

موسمیاتی تبدیلی جنگلوں میں آگ نہیں لگاتی لیکن موسم گرما میں گرمی اور خشکی کی صورتحال میں اضافہ کرتی ہےجس سے حالیہ برسوں میں کیلیفورنیا میں سب سے زیادہ بد ترین اور سب سے زیادہ تباہ کن آگ لگی۔

میں نے طویل عرصہ سے سمجھ لیا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے خطرات حقیقی ہیں اور بڑھ رہے ہیں۔ میں نے اس کی طاقت کو پگھلنے والے گلیشیروں، خشک جھیلوںاور سیری کے درختوں کے خشک پتوں کی صورت میں دیکھا ہے۔یہ پہلی بار ہوا ہے کہ میں نے اس کی بدبو اور ذائقے کو اپنے گھر میں چکھاہے۔
ظاہر ہے گلا کی خرابی اور پرواز میں تبدیلی کیمپ فائر میں ہونیوالے جانی اور مالی نقصانات کے مقابلے میں بہت چھوٹے مسائل ہیں۔ لیکن ایک ہفتہ دھویں میں رہنے کے باوجود،میں نے محسوس کیا کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی کو وقوع پذیر ہونے کی اجازت دے رہے ہیں۔

لاکھوں نہیں تو ہزاوں لوگ بھوکے مرنے جا رہے ہیں، ڈوبنے جا رہے ہیں،جل کر مرنے جا رہے ہیں،یا کسمپرسی کی زندگی میں دھکیلے جا رہے ہیں کیونکہ ہم سب اس مشترکہ المیہ سے نمٹنےمیں ناکام ہوئے ہیں۔بہت سارے لوگ آپ کو بنیادی سہولیات کےلئےچلاتے ملیں گے اور زیادہ آگ، آندھیوں اور موسم گرما کے جلتے دنوں کے بارے میں شکایت کرتے ملیں گے۔

اب موسمیاتی تبدیلی کا کوئی حل ڈھونڈنے والا نہیں ہے۔ہم صرف اس کے ساتھ رہ رہے ہیں اور نقصان کو محدود کرنے کے لئے اپنی طاقت میں رہ کر سب کچھ کر رہے ہیں۔

اور دنیا بھرکے سب سے امیر ترین علاقوں میں سے ایک کی مکمل آبادی ختم دیکھتے ہوئے اور دکانداروں کو عوامی ضرور یات کو پورا کرنے میں ناکامی دیکھ کر، مجھے اس بات کا دکھ ہوا کہ ہم اس چیلنج کو حل کرنے میں ناکام ہیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ جب دنیا ماحولیاتی تبدیلی کی آفت کو براداشت کریگی تو اس کا اجتماعی شعور جاگے گا اور اآخری منٹ میں اس مسئلہ کوحل کرنے کے لئے کچھ کرے گی۔ لیکن بہت سے لوگوں کاخیال ہے کہ تب بہت دیر ہو گئی ہو گی۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ گرمی پہنچانے کے لئے کئی سال لیتی ہے اور کئی ہزار سال رہتی ہے۔ شاید ہم نے پہلے سے ہی ایک خطرناک حد تک کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کر لی ہے جس سے درجہ حرارت ایک اعشاریہ پانچ سنٹی گریڈ تک بڑھ گیا ہے۔

اور جس شرح سے ہم جا رہے ہیں، ہمیں ایک ایسا نظام وضع کرنے لئے سیکڑوں سال لگیں گے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پمپ کر سکیں۔اس وقت ہرخارج ہونیوالا آلودگی کا ٹن صرف مسئلہ خراب کر رہا ہے۔

صد رباراک اوبامہ کے اعلیٰ سائنسی مشیر جان ہولڈرین نے ایک مرتبہ کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے ہمیں گیسوں کے اخراج میں کمی لانی پڑے گی، انفراسٹرکچر میں تبدیلی لانا ہو گی اور مصائب کو کم کرنا ہو گا۔

چونکہ ہم پہلی کیٹگر ی میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں تو ہم دوسر ی دو میں کام کر سکتے ہیں۔ ہم نےمسئلہ کی جڑ سےنمٹنے کا انتخاب نہیں کیا، اس لئے ہم اسے بہت ہی مہنگے، کم مدتی، تباہی والے اور ظالمانہ طریقے سے اس سے نمٹ رہے ہیں۔
ہم توانائی کے نظام کو بہتر بنا سکتے تھے۔ اس کے بجائےاب ہمیں زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو بہتر بنانا ہو گا۔ ہنگامی رسپانس کو بڑھانا، مزید ہسپتالوں کی تعمیر، ساحلوں کو مضبوط کرنا، اپنے تعمیراتی مواد کو اپ گریڈ کرنا، خوراک کے نظام کو ٹھیک کرنا اور بہت کچھ۔ ور اس تمام کی بہترین قیمت ادا کرنے کے باوجود،ہمیں برے ترین نتائج کے لئے تیار رہنا ہو گاکیونکہ ہم نے مسئلے کو شروع میں حل نہیں کیا۔ ہم نے ہمیشہ کے لئے معیار زندگی، سیکورٹی سنس اور مجموعی طور پر خوش اور صحت مند زندگی گزارنے کے احساس کو ختم کر دیا ہے۔ اور ہم نے یہ سب اپنے لئے ختم نہیں کیا بلکہ بچوں اورآنیوالی نسلوں کے لئے ختم کیا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی سے ہونیوالی تباہی مختلف جگہوں پر مختلف ہو گی اور بہت ہی عجیب اور اور غیر منصفانہ ہو گی : افریقہ اور آسٹریلیا میں شدید خشک سالی اور قحط سالی،تبتان پلیٹو میں رہنے والوں اربوں لوگوں کے لئے پانی کی کمی اورلاکھوں لوگوں کی جنوبی ایشا میں سطح سمندر بڑھنے کی وجہ سے گھروں سے بے دخلی ہو گی۔

کیلی فورنیا میں بہت زیادہ درجہ حرارت، برف کی کمی اور بارش کے نمونوں میں تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ خشک سالی اور آگ کے خطرے میں رہیں گے۔

میں نے گزشتہ دو سالوں میں چار اہم آگ کا ذائقہ چکھا ہے۔اس سال جولائی میں، ایک قریبی دوست اور اس کی حاملہ بہن انٹرسٹیٹ 580 میں بہہ گئے چونکہ شعلوں نے ان کو چاروں اطراف سے گھیر لیا تھا۔ ایک اور دوست پیرا ڈائزمیں اپنے باپ کے انخلا کے لئے اس وقت دوڑی جب کیمپ فائر نےٹائون کو چیرڈالا۔ کچھ دنوں بعدگھروں میں انسانی باقیات کی تلاش کے لئے ریسکیوآپریشن شروع کر دیا گیا۔

نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں چھپنے والی ابتدائی مطالعہ کے مطابق،گلوبل وارمنگ نےگذشتہ تین دہائیوں کے دوران امریکہ کے مغرب میں جنگلات سے آگ لگنے والے علاقے میں اضافہ کر دیا ہے۔ حالیہ امریکی قومی ماحولیاتی ادارے کے مطابق اگلی نصف صدی یہ نقصانات دو سے چھ گنا بڑھ سکتے ہیں۔

یہ وقت ہاتھ پر ہاتھ ملنے کا نہیں ہے بلکہ دلیل یہ ہے کہ ہم اپنی کوششوں کو ڈبل کریں۔ یہاں تک کہ اگر ہم ماحولیاتی تبدیلی کو حل نہیں کررہے ہیں تو ہمیں ایک دائمی بیماری سے نمٹنے کی طرح اس سے لڑنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ہمیں بیماری کی ان علامات کے بارے میں پتا ہونا چاہیے تاکہ ہم انہیں بدتر ہونے سے بچائیں۔

فضا میں ڈالا جانیوالا گرین ہاؤس گیسوں کا ہراضافی گیگاٹن صرف اقتصادی اخراجات بڑھاتا ہے، ماحولیاتی نظام کی تباہی لاتا ہے اور انسانی مصائب میں اضافہ کرتا ہے۔

لہٰذا سوال یہ ہے: کیا ہم بالاخر عوامی پالیسیاں، جدت میں اضافہ اور اجتماعی کوشش لائے ہیں تاکہ ہم ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کر سکیں؟
امید کی جا سکتی ہےجیسے جیسے ماحولیاتی تبدیلی سے انکار کرنا ناممکن ہو رہا ہے اور اس کے اثرات ہماری بقا کے لئےحقیقی اور فوری ہیں، عوام رہنماؤں اور صنعتوں سے جارحانہ کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔

ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ درجہ حرارت اور انتہائی موسمی واقعات کا تعلق ماحولیاتی تبدیلی سے ہے۔اور تاریک مستقبل کے خطرات دیکھنے والے نوجوان لوگ یقین رکھتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی حقیقی ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔

لیکن جیسا کہ میں نےگذشتہ مہینے کیلیفورنیا بھر میں آگ کی وجہ سے اموات میں اضافہ دیکھا ہے، مجھے لگتا ہےکہ نقصانات اور بڑھیں گے: ماحولیاتی تبدیلی سے ہونیوالی تباہی معاشرے کو اس طرح سے جکڑ لے گی جس میں زندہ رہنے کے لئے ہمیں قربانیاں دینا پڑیں گی۔

ہمیں ممکنہ طور پر ایک معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، ہنگامی رسپانس کے اخراجات بڑھ جائیں گے اور مختلف اقدامات کے لئے قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ یہ سب اس دوران ہو گا جب ہم گیسوں کے زیرو اخراج کی طرف بڑھنے کے لئے کریں گے۔

لوگ بعض اپنی حفاطت کے لئے اقدامات فوری کریں گے لیکن گیسوں کے اخراج کے لئے سرمایہ کاری کم ہو سکتی ہے کیونکہ انتہائی موسم زیادہ ہوتا جائے گا۔ وجہ یہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ پر کام تاخیر سے ہوتا ہےاورمسئلہ صرف کم ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔( اس وقت تک مسئلہ رہتا ہے جب تک ہم گیسوں کے اخراج میں ہم زیرو پر نہیں پہنچ جاتے ہیں)۔

جیسے جیسے ہم پیسہ، وقت، اور توانائی مختلف المیوں پر لگا رہے ہیں، مجھے خدشہ ہے کہ لوگ اس مشترکہ مسئلے کے لئے سرمایہ کار کم کریں گے۔ماحولیاتی تبدیلی کا ایک اثر یہ ہے کہ لوگ اس پر پیسہ لگانے کے لئے کم تیار ہونگے۔

جب میں پانچ سال قبل ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں سنجیدہ طور پر لکھنے لگے تو خطرات دور لگتے تھے۔ میرا خیال تھا کہ ہم بامقصد طریقے سے اس مسئلے کو حل کر لیں گے۔

ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ جلدی یا دیر ہمیں صحیح کام کرنا ہو گا۔

لیکن یہاں صاف توانائی کی ٹیکنالوجی پر دو برسوں سے قریب رپورٹنگ اور لکھنے کے بعد، یہ آہستہ آہستہ مجھ پر ہاوی ہو گئی ہے۔ ہم بالکل موجودہ یا ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ زیادہ ضروری تبدیلی کو پورا کرسکتے ہیں ۔

لہٰذا کیمپ فائر اور اس کے بعد کے واقعات نے صرف مجھے مثبت سے منفی رویہ کی طرف نہیں ڈالا۔جتنا زیادہ اس مسئلے کو میں نے قریب سے سمجھا، مجھ پر اس کے اثرات کےسپیکٹرم واضح ہو تے گئے۔

لیکن شہر سان فرانسسکو کے سین جس میں زیادی تنخواہ والے ورکرکے بدقسمتی سے پیلے رنگ کی ہوا میں سانس لے رہے تھے تو مجھے لگا کہ ہم واقعی ماحولیاتی تبدیلی کا مزہ چکھ رہے ہیں۔

تحریر:جیمزٹیمپل

Read in English

Authors

*

Top