Global Editions

پاکستان میں فِن ٹیک کی نئی صبح

مالی سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے کاروباروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے

کمرشل بینکنگ کے شعبے میں 18 سال گزارنے کے بعد قاصف شاہد نے حال ہی میں ملازمت چھوڑ کر اپنی کمپنی قائم کی۔ انھوں نے 10لاکھ ڈالر کی وینچر کیپیٹل کی سرمایہ کاری حاصل کرکے ایک ایسا ڈیجیٹل والٹ تیار کیا ہے جس کے ذریعے کیش کے استعمال کو کم کیا جاسکتا ہے۔

ان کی کمپنی فنجا کی سافٹ ویئر ایپ کو صارفین کے کرنٹ اکاؤنٹس سے متصل کردیا جائے گا تاکہ وہ اپنے سمارٹ فون ہی کے ذریعے پارٹنر کاروباروں کو رقم کی ادائيگیاں کرسکيں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ڈیبٹ کارڈ کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔

سمارٹ فونز کو بینک اکاؤنٹ کی معلومات سے منسلک بارکوڈ پڑھنے کی صلاحیت سے آراستہ کرنے والی یہ ٹیکنالوجی ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کا متبادل ثابت ہوسکتی ہے۔

ایک شفاف کانفرنس ٹیبل پر فلو چارٹ کی مدد سے مالی شعبے کو ہلا کر رکھ دینے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، شاہد سمجھاتے ہیں کہ ہر صارف کے والٹ کو کسی ایک پارٹنر بینک کے منفرد کرنٹ اکاؤنٹ سے متصل کیا گیا ہے اور ان کی کمپنی کی ایپ انڈرائيڈ اور آئی او ایس کے ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ہر سمارٹ فون پر استعمال کی جاسکتی ہے۔ ان کے پیچھے ایک اور کانفرنس ٹیبل پر ان کی کمپنی میں کام کرنے والے چند نوجوان کام کررہے ہیں۔

شاہد کی کمپنی اب تک سو بزنس اور 25,000 کے قریب صارفین سائن اپ کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔ یہ مالی سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی کمپنی، یعنی فِن ٹیک کمپنی کی ایک مثال ہے۔

پرائس واٹر ہاؤس کوپرز  (Pricewaterhouse- Coopers-PwC) کی 2016ء میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق فِن ٹیک کے شعبے میں دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہورہا ہے۔ 2014ءمیں فِن ٹیک کی سٹارٹ اپ کمپنیوں کی سرمایہ کاری 5.6 ارب ڈالر تھی جو 2015ء میں دگنی ہو کر 12.2 ارب ڈالر ہوگئی۔ تحقیق میں یہ دعویٰ بھی کیا گيا ہے کہ کرنٹ اور سیونگز اکاؤنٹس، غیرتجارتی قرضےاور رقوم کی ٹرانسفر جیسی کمرشل بینکنگ کی سہولیات پر پوری مالی صنعت میں سے سب سے زيادہ اثر فِن ٹیک ہی کا ہوگا۔

فِن ٹیک کسی نئی صنعت کا نام نہیں ہے۔ اس صنعت کی بڑی کمپنیاں 1950ء کی دہائی سے کام کررہی ہیں۔ ان کمپنیوں کے ابتدائی مصنوعات میں اے ٹی ایم اور ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائيگی کی سہولت شامل تھی۔ اندرونی ذرائع نے ان کمپنیوں کو روایتی فِن ٹیکس کا نام دیا ہے کیونکہ یہ کمرشل بینکس کو مصنوعات اور سہولیات فراہم کرتی ہیں۔

پاکستان میں قطعے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں اے ٹی ایم اور پوائنٹ آف سیل کی مشینوں کا استعمال کم ہے۔2015ء میں عالمی بینک کے ایک تخمینے کے مطابق پاکستان میں ہر 100,000 افراد کے لیے 8.79 اے ٹی ایمز موجود تھیں، جبکہ بھارت میں 19.71 اے ٹی ایمز تھیں۔

کارانداز پاکستان نامی خیراتی ادارے کے مطابق ملک پھر میں 44,000 پوائنٹ آف سیل مشینیں کام کررہی ہیں۔ Seeding Innovation: A Framework for Rooting Fintechs in Pakistan نامی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن ممالک کی آبادی پاکستان سے کم ہے، ان میں بھی ان مشینوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے (ترکی میں 7.8 کروڑ کی آبادی ہے اور 25 لاکھ پوائنٹ آف سیل مشینیں ہیں جبکہ ایران کی آبادی ساڑھے 7کروڑ ہے اور پوائنٹ آف سیل مشینوں کی تعداد 15 لاکھ ہے)۔

اے ٹی ایم اور پوائنٹ آف سیل مشینوں کی قلیل تعداد پاکستان کے مالی شعبے اوراس کی ترقی کے امکانات کا صرف ایک ہی پہلو ہے۔ اس کے دوسرے پہلو کا تعلق انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز، جیسے کہ براڈ بینڈ اور وائرلیس انٹرنیٹ کی سہولیات اور سمارٹ فون ٹیکنالوجی کی ترقی سے ہے۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے فِن ٹیک کی کمپنیوں کی ایک نئی نسل نے جنم لیا ہے۔ یہ ابھرتی ہوئی فِن ٹیک کمپنیاں موجودہ مالی اداروں کو سہولیات فراہم کرنے کے بجائے خود مالی سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کررہی ہیں۔

کارانداز کی تحقیق کے مطابق 3.2 کروڑ انٹرنیٹ کے صارفین پر مشتمل اس ملک میں جن میں سے 2.9 کروڑ افراد 3 جی یا 4 جی ٹیکنالوجی کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، اور جہاں ایک تہائی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، ابھرتی ہوئی فِن ٹیک کمپنیوں کی اختراعی مالی سہولیات ،جیسے کہ شاہد کی کمپنی کی ایپلی کیشن، میں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

صارفین کسی بھی کرنٹ اکاؤنٹ سے فنجا کی ایپ کے ذریعے اپنے والٹ میں پیسے ڈال سکتے ہیں۔ اس کمپنی کی ٹارگیٹ مارکیٹ کو پہلے ہی چند بڑے کمرشل بینک سہولیات فراہم کررہے ہیں لہٰذا اس کمپنی نے صارفین کی تعداد میں اضافے کے لیے اس ایپ کے ذریعے کی جانے والی تمام ٹرانزيکشنز کی فیس ختم کردی ہے۔ شاہد کا کہنا ہے کہ کمرشل بینکس کے لیے آمدنی کا ایک طریقہ اپنے صارفین کی ہر ٹرانزیکشن پر اخراجات کا اطلاق ہے۔

وہ کہتے ہیں ‘‘ہر ٹرانزیکشن پر پیسے لینا بے وقوفی ہے۔ ہمارے صارفین کتنی بھی ٹرانزیکشنز کرلیں، ہم ان سے ایک پائی بھی نہیں لیں گے۔’’ اس کے بجائے ان کی کمپنی صارفین کے پارٹنر بینکس کے کرنٹ اکاؤنٹس میں ڈپازٹ کردہ رقم پر اور بعد میں صارفین کو فراہم کردہ قرضوں پر سود کمائے گی۔

ادائيگیوں کے لیے سمارٹ فونز کا استعمال

ڈیجیٹل ادائيگی کے پلاٹ فارمز کی ایک اور اختراعی خوبی یہ ہے کہ ان میں مختلف بینکس کے اکاؤنٹس کو ایک دوسرے کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انوو8  (Inov8) نامی ایک اور فِن ٹیک کمپنی کے حسنین شیخ جلد ہی فون پے (Fonepay) نامی ایپلی کیشنلانچ کرنے والے ہیں جس میں سمارٹ فونز کے ذریعے ادائيگیاں ممکن ہوں گی لیکن اس کا پیمانہ اس سے کہیں زيادہ وسیع ہوگا۔ اس میں صارفین کو موجودہ کمرشل بینکس میں جمع کردہ رقم کو ٹرانسفر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ شیخ کی کمپنی بینکس کے ساتھ ساتھ نقل و حمل، ریٹیل، اشیائے خوردونوش، تفریح، بجلی، گیس اور ٹیلی فون کی بڑی کمپنیوں کو بطور پارٹنر سائن اپ کررہی ہے۔ وہ فون پے ایپ کے فیچرز کا مظاہرہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اب تک 12 بڑے بینکس سائن اپ ہوچکے ہیں۔

شیخ کی کمپنی نے حال ہی میں صارفین کو سہولیات پیش کرنا شروع کی ہیں لیکن وہ پاکستانی مارکیٹ میں 2004ء  سے کام کررہی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ امریکہ میں مالی سہولیات کے شعبے میں 10 سال گزارنے کے بعد انھوں نے اپنے شریک بانی کے ساتھ مل کر یہ کمپنی قائم کی تھی۔ پہلے وہ اور ان کے شریک بانی کاروباری اداروں کو سہولیات فراہم کرتے تھے۔2006ء میں انھوں نے ڈیجیٹل ادائيگيوں کی سہولت رکھنے والا سافٹ ویئر لانچ کرنے کے لیے ایک نمایاں موبائل سہولت کے فراہم کنندہ، یوٹلٹی کی سہولت کے فراہم کنندہ اور کئی بڑے کمرشل بینکس کے ساتھ معاہدہ کیا۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعے موبائل فون اور یوٹلٹیسروس کے فراہم کنندگان کو بینک اکاؤنٹس سے، جن میں صارفین نے رقم جمع کی ہو، رقم ٹرانسفرکرنے کی سہولت فراہم کی جانی تھی۔اسے لانچ ہی کیا جانے والا تھا جب ضابطہ کار اتھارٹی نے انھیں روک دیا۔ وہ کہتے ہیں ‘‘ہمیں بتایا گيا تھا کہ ایسے کوئی ضوابط موجود نہیں ہیں جن کے تحت ہمیں یہ خدمت متعارف کرنے کی اجازت دی جاسکتی تھی۔ ہم اس وقت بہت آگے کی سوچ رہے تھے۔’’

شیخ کہتے ہیں کہ ضابطہ کار نے ان سے مطلوبہ ضوابط کی تیاری کے لیے ڈیجیٹل ادائيگی کے میکانزم اور ملک کے مالی شعبے پر اس کے اثرات کی تحقیق کے لیے ایک سال کا وقت مانگا۔ وہ کہتے ہیں ‘‘اس سے ہمارے عملیات میں

خلل اندازی بھی ہوئی، مارکیٹ میں ہمارا نام بھی خراب ہوا، اور دوسری کمپنیاں بھی متاثر ہوئيں۔’’

انوو8 کے سی ای او کہتے ہیں  کہ ان کی کمپنی جلد ہی دوبارہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ‘‘ہم نے ادائيگی کی سہولت کی بس تیار کی، جس کے ذریعے بڑے بینکس کے اکاؤنٹس کا باہمی استعمال ممکن تھا۔ ہماری کمپنی نے بڑی موبائل کمپنیوں کو سائن اپ کرلیا۔’’

شیخ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ان کی ٹیم نے برانچ لیس بینکنگ کی سہولت رکھنے والا سافٹ ویئر تیار کیا اور کئی بینکس کے ساتھ معاہدہ بھی کرلیا۔  2015ء میں کمپنی کی مالیت 18 لاکھ ڈالر تھی اور وہ مالی سہولیات کی تخلیق کے کئی منصوبہ جات ،جیسے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال ،کے لیے 54 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکی تھی۔

کاروباری ضروریات کے لیے مارکیٹ میں پہلے سے دستیاب مالی سہولیات کو جمع کرکے کسٹمائزڈ سہولیات پیش کرنے والے زا رام ڈیجیٹلفنانشل سروسز(Szaram Digital Financial Services) کے احمد جبران کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی خدمت فراہم کنندگان (کمرشل بینکس) اور صارفین (کاروباری اداروں) کے درمیان خلیج کو پر کررہی ہے۔ وہ کہتے ہیں ‘‘کمرشل بینکس کے سیلز ڈپارٹمنٹ مارکیٹ کی مکمل طور پر تحقیق نہیں کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے صارفین کی ضروریات سے ناواقف رہتے ہیں۔’’

جبران نے دنیا کے مختلف شہروں کے کمرشل بینکس میں چند دہائیاں گزارنے کے بعد ہی یہ کمپنی قائم کی تھی۔ اس طرح انھیں اپنی آنکھوں کے سامنے ٹیکنالوجی کے اپ گریڈ نظر آئے۔ ان میں سے ایک تبدیلی ڈیجیٹل ادائيگی کے طریقہ کاروں کی سہولت تھی۔ وہ کہتے ہیں  کہ اس کا فروغ خصوصی طور پر ان ممالک میں کیا گیا جن میں آبادی کی اکثریت کمرشل بینکنگ استعمال نہیں کرتی ہے۔

ڈیجیٹل ادائيگیوں کو قابل عمل بنانے کے لیے ٹیلی کمیونیکیشنز اور مالی سہولیات کے فراہم کنندگان کے درمیان پائیدار تعاون ضروری ہے۔ ٹیلی کمیونیکیشن کی کمپنیوں کے پاس مالی سہولیات سے محروم افراد کو سہولیات پہنچانے کے لیے انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی موجود ہیں جبکہ مالی سہولیات کے فراہم کنندگان کے پاس ضوابط کا ساتھ ہے۔ پاکستان میں سب سے پہلے یہ سہولت ایزی پیسہ (Easypaisa)، جیزکیش (JazzCash) اور یو بی ایل اومنی (UBL Omni) کی شکل میں سامنے آئی۔

مالی شمولیت

شاہد اور شیخ نے مکمل خوداعتمادی کے ساتھ اپنے خیالات کی جانچ کے لیے ٹیکنالوجی پر مشتمل سہولیات کا فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی اپنی ملازمتیں چھوڑ دیں لیکن آج کل کے زمانے میں فِن ٹیک کے شعبے میں قدم رکھنے کے خواہش مند افراد خیراتی اداروں، انکیوبیشن اور ایکسیلیریشن کے مراکز کے نیٹ ورک سے، جنھیں ٹیک کی زبان میں ایکو سسٹم کہا جاتا ہے، سرمایہ کاری اور ماہر مشاورت سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

کارانداز پاکستان ایسا ہی ایک خیراتی ادارہ ہے۔ اسے 2014ءمیں مملکت متحدہ کے ڈپارٹمنٹ فارانٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ( DFID - Department for International Development) اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن (Bill and Melinda Gates Foundation) سے حاصل کردہ سرمایہ کاری سے قائم کیا گیا تھا۔ اس کا نصب العین مالی شمولیت کا فروغ ہے۔ کارانداز پاکستان میں ڈیجیٹل مالی سہولیات کے شعبے کے مینیجر بلال قریشی کے مطابق یو کے ایڈ اور گیٹس فاؤنڈیشن سے حاصل ہونے والی سرمایہ کاری کو فِن ٹیک کی امید افزا سٹارٹ اپ کمپنیوں کو عطیات دینے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ سٹارٹ اپ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے کارانداز نے ڈسرپٹ چیلنج (Disrupt Challenge )نامی مقابلہ شروع کیا تھا۔

مئی 2017ء میں دوسرا ڈسرپٹ چیلنج منعقد ہوا۔ اس مقابلے میں کریڈٹ فکس (CreditFix) نامی سٹارٹ اپ کمپنی بازی لے گئی، جو ڈیجیٹل ڈیٹا کی مدد سے کمرشل بینکس کی سہولیات سے محروم افراد کو قرضے فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر انوائس وکالہ (Invoice Wakalah)، یونی کریو (UniKrew)، اور ایگری گیٹ (Agrigate) نامی کمپنیاں رہیں۔

قریشی کے مطابق کارانداز پاکستان نے اس سال مالی سہولیات تک رسائی کے علاوہ چار شعبہ جات میں، یعنی کہ ای کامرس، ادائيگیاں، باہمی استعمال اور موبائل والٹ کے استعمال، ٹیکنالوجی کے ذریعے مالی سہولیات کے متعلق آگاہی، صارفین کے تجربے اور انگیجمنٹ، مائیکرو کریڈٹ اور ڈیجیٹل سیونگز کے ابتدائی مراحل کے متعلق آئیڈیاز حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

پہلا مقابلہ 2016ء میں لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز (Lahore University of Management Sciences) میں منعقد ہوا تھا۔ قریشی کہتے ہیں کہ انھيں 60 درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جن کی جانچ پڑتال ان ہاؤس ججز کے ایک پینل نے کی تھی۔ ان میں سے 20 کو مقابلے کے لیے چنا گيا تھا، جن میں سے ریکلٹ پاکستان (Ricult Pakistan)، پبلش ایکس (PublishEX) اور پے سس سولیوشنز (Paysys Solutions) بازی لے گئے۔ ان سٹارٹ اپ کمپنیوں میں سے ہر ایک کو کام کرنے کے لیے ایک لاکھ ڈالر کا عطیہ دیا گيا تھا۔

 ریکلٹ اس عطیے سے زرعی صنعت کے لیے ایک موبائل والٹ تیار کررہا ہے جس کے ذریعے ایک آن لائن مارکیٹ پلیس میں خرید و فروخت ممکن ہے۔ اس مارکیٹ پلیس میں کاشت کاروں کا خریداروں اور زرعی اجزاء کے فروخت کنندگان کے ساتھ رابطہ قائم کیا جاتا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے ان مصنوعات کے لیے ڈیجیٹل ادائيگیاں ممکن ہیں۔ آگے چل کر یہ ٹیم ایپ کے ذریعے دستیاب سہولیات میں آسان اور کم شرح سود کے قرضے، مٹی کی جانچ پڑتال اور پیداوار میں اضافے کے لیے مشاورت کی خدمات متعارف کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

2016ء میں مقابلہ جیتنے والوں کے اعلان کے بعد ریکلٹ کے سی ای او عثمان جاوید نے ایک اخبار کے انٹرویو کے دوران بتایا کہ ان کی مارکیٹ پلیس میں کاشت کاروں کو وینڈر، خریدار، بینک قرض خواہ، بیمہ کمپنیوں، جانوروں کے ڈاکٹر، مشاورتی خدمات بلکہ ہر وہ سہولت فراہم کی جاتی ہے جس سے ان کی کاشت کاری میں بہتری ممکن ہے۔

پبلش ایکس عطیے کی رقم سے ایک ڈائریکٹ کیریئر بلنگ کا پلاٹ فارم بنا رہے ہیں جس کے ذریعے صارفین اپنے موبائل فون کے بیلنس سے شریک کاروباری اداروں کو ادائيگیاں کرسکتے ہیں۔ پبلش ایکس نے پانچ موبائل فون کمپنیوں میں سے تین (یعنی کہ زونگ پاکستان ، وارد اور موبی لنک) کو سائن اپ کرلیا ہے۔ آگے چل کر یہ سٹارٹ اپ کمپنی گوگل پلے سٹور (Google PlayStore) اور نیٹ فلکس (Netflix) کے لیے بھی موبائل فون کے بیلنس کے ذریعے ادائيگی کی سہولت فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پے سس لیبس اپنے عطیے سے بائیومیٹرک کی شناخت کی تصدیق کی سہولت متعارف کروانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس سٹارٹ اپ کمپنی کی تیار کردہ ایپ کے ذریعے صارفین اپنے سمارٹ فون کے کیمروں سے کھینچی جانے والی تصویروں کے ذریعے انگلیوں کے نشانات کی بائیومیٹرک تصدیق کرسکتے ہیں تاکہ بائیومیٹرک آلے کی مزید ضرورت نہ رہے۔

ڈسرپٹ چیلنج میں شرکت سے پہلے ریکلٹ پاکستان کو ایم آئی ٹی انٹرپرائيز فورم اور سٹارٹ اپ کمپنیوں کو ابتدائی سرمایہ کاری اور ایکسیلیریشن فراہم کرنے والے پلانیٹ این کے بپلش ایکس میں ایکسیلریٹ کیا گيا تھا۔

پلانیٹ این کے 10 لاکھ پاکستانی روپے تک کے عطیات کی ضرورت رکھنے والی سٹارٹ اپ کمپنیوں کو سہولت فراہم کرنے والی 10xC کے چیف ایگزیکٹو افسر سیف اختر کا کہنا ہے کہ پبلش ایکس کے علاوہ پلانیٹ این کے تحت پانچ فِن ٹیک کی اسٹارٹ اپ کمپنیاں ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پلانیٹ این کے ساتھ کام کرنے والی فِن ٹیک کی سٹارٹ کمپنیاں خودمختار طریقے سے کام کررہی ہیں لیکن ایک وقت آئے گا جب انھیں ایک ہی ڈیجیٹل بینکنگ کے پلاٹ فارم پر ضم کردیا جائے گا جس کا نام تیز مالی خدمات ہوگا۔ مکمل طور پر سمارٹ فون کے ذریعے دستیاب اس پلاٹ فارم کے ذریعے نہ صرف ڈیجیٹل ادائيگی کی خدمات میسر ہوں گی بلکہ پلانیٹ این سے وابستہ فِن ٹیک کمپنیوں کی اختراعی دیگر مالی سہولیات بھی دستیاب ہوں گی۔

زیرتعمیر مصنوعات میں تیز کمیٹی (روٹیٹنگ سیونگز اور کریڈٹ کی سہولت) اور تیز بیمہ (کم رقم کے قرضے) شامل ہیں۔ تیز مالی سہولیات کی ٹیم کے بزنس ڈیولپمنٹ کے ذمہ دار بلال بتاتے ہیں کہ تیز کمیٹی میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے ذریعے کئی صارفین کی رقم کو جمع کرنے کے بعد بولی کے ذریعے وصول کنندہ کا انتخاب کیا جائے گا۔ روایتی سیونگز اور کریڈٹ کی تنظیم کے برعکس تیز کمیٹی میں رقم فراہم کرنے والے صارفین کے درمیان کسی بھی قسم کا تعلق ضروری نہیں ہوگا بلکہ صارفین کو معلوم ہی نہیں ہوگا کہ ان کے علاوہ کون کون حصہ لے رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی یہ ایپ صارفین کو جمع کرکے خودکار بولی کے ذریعے وصول کنندہ کا انتخاب کرے گی۔ سب سے کم بولی لگانے والے کو رقم مل جائے گی اور باقی رقم کو جمع کرکے آنے والے مہینوں میں باقی صارفین میں تقسیم کیا جائے گا۔

اسی طرح تیز بیمہ چھوٹے قرضوں کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرے گی۔ بلال کہتے ہیں‘‘ہم سوشل میڈیا صارفین کو ٹارگیٹ کریں گے اور سہولت کی مشہوری کے لیے جلد ہی آن لائن تشہیری مہم چلائيں گے’’۔ ان کا کہنا ہے کہ بینکس کے قرضوں کے برعکس تیز بیمہ کے قرضوں کے لیے ضمانت کی فراہمی ضروری نہیں ہوگی۔ ‘‘ہم اپنے صارفین کے ساتھ قریبی تعلق قائم کریں گے۔ ہم انھیں بتائيں گے کہ وہ کس طرح بروقت ادائيگی کرکے اپنے کریڈٹ پروفائل کو بہتر بنا کر مستقبل میں زيادہ بڑے قرضوں کے اہل ہوسکتے ہیں۔’’

سیف اختر کہتے ہیں کہ قرضوں کے پروگرام میں پلانیٹ این گروپ سے تعلق رکھنے والی ایک دوسری کمپنی کا الگارتھم استعمال کیا جائے گا جو ممکنہ صارفین کے قرضے کی واپسی کی صلاحیتوں کا تخمینہ کرسکے گا۔ مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے اس الگارتھم میں خودکار تربیت کے ذریعے عدم ادائيگی کے کیسز سے سیکھ کر غلطی کے امکانات میں کمی ہوگی۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پلانیٹ این سے وابستہ فِن ٹیک کی سٹارٹ اپ کمپنیاں جلد ہی اپنی سہولیات کی فراہمی شروع کردیں گی لیکن ضوابط ایک جامع ڈیجیٹل بینکنگ پلاٹ فارم کی راہ میں رکاوٹ بنيں گے۔

ابھرتی ہوئی فِن ٹیک کمپنیوں کو اختراعی سہولیات کی فراہمی کی وجہ سے سراہا تو جارہا ہے لیکن متعلقہ فریقین مالی صنعت کو درہم برہم کرنے کی توقع نہیں رکھتے ہیں۔ کارانداز کے قریشی صاحب کہتے ہیں کہ یہ بات تو طے ہے کہ فِن ٹیک کمپنیوں کو ایک مین سٹریم بینک کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ان کے مطابق فِن ٹیک کمپنیاں اختراعی خیالات اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے ترقی تو کریں گی لیکن وہ مرکزی مالی اداروں کے مددگار کے طور پر ہی کام کریں گی۔

فِن ٹیک کی کمپنیوں کو بھی بینکس کے بغیر کوئی مستقبل نظر نہیں آتا ہے۔ مثال کے طور پر شاہد کہتے ہیں کہ اگر فِن ٹیک کمپنیاں ڈیجیٹل والٹ کے استعمال کو فروغ دینے میں کامیاب ہوجائيں تو کمرشل بینکس بھی ،جو اس وقت اپنے سائز کی وجہ سے برانچز اور کیش ہی میں پھنسے ہوئے ہیں، دباؤ میں آکر اسی راہ پر چل پڑيں گے۔  اس طرح، پاکستانی معیشت زیادہ تیزی سے کیش کے مکمل خاتمے کی جانب بڑھے گی لیکن یہ صرف اس وقت ہی ممکن ہوگا جب فِن ٹیک کمپنیاں اور کمرشل بینکس ایک ساتھ کام کریں گے۔

Read in English

Authors
Top