Global Editions

فیس بک انسانی مشاہدے کا ایک عظیم ذریعہ

فیس بک اس حوالے سے بہت کامیاب ہے کہ اس نے باہمی رابطے کی خواہش کو پورا کرنے میں خاصی حد تک ہماری مدد کی۔ اسی خواہش کی پیروی کرتے ہوئے یہ کمپنی کروڑوں لوگوں کی سماجی زندگی کی اربوں یادداشتیں محفوظ کررہی ہے۔ ایک سماجی سائنسدان کے طور پر، میں اس بڑے ڈیٹا کے خزانے کا بہت بڑا مداح ہوں کیونکہ یہ انسانوں کا مشاہدہ اور مطالعہ کرنے کا ایک بہت عظیم ذریعہ ہے۔ بڑے اور پھیلتے ہوئے ڈیٹا کے طور پر فیس بک ہمیں معاشرے کو سمجھنے میں بہت مدد دیتی ہے۔ہم ان معلومات سے فائدہ اٹھا کر سیاسی اور سماجی پیغام رسانی کو استعمال کرتے ہوئے اسےجمہوریت کے فروغ اور بہتری کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔جیسا کہ اب سیاسی مہم میں ووٹرز کو فیس بک اور اس کے صفحات سے منسلک ہونے کیلئے مائل کیا جارہا ہے جس سے ووٹر کے رحجانات،خواہشات،سوچ ، باہمی اور سوشل رابطوں اور صحت کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔ اس سے ہمارے لئے بے پناہ مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

جس طرح فیس بک میں ڈیٹا استعمال کیا جاتا ہے اس سے ہمارے سماجی میل جول پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کی خامی یہ ہے کہ فیس بک کی نیوز فیڈ تمام اپ ڈیٹس ظاہر نہیں کرتی، لیکن آپ فیس بک پر ایک کلک سے اپنے تاثرات ریکارڈ کروا سکتے ہیں۔ نیوز فیڈ کسی بھی حلقے میں بہت جلد قبول کی جاتی ہے اور وہ آپ کو ردعمل دینے پر مجبور کردیتی ہے۔ فیس بک کا خیال ہے کہ فوٹو ٹیکسٹ زیادہ پر اثر ہوتی ہےکیونکہ کسی واضح ہدایت کے بغیر لوگ تصاویر پر اپنی رائے دیتے اور جوابی تصاویر پوسٹ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ فیس بک ہماری سماجی زندگی میں ہماری رہنمائی کرتی ہے ۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ فیس بک پر خوش کن پوسٹ زیادہ مقبول ہوتی ہیں۔ فیس بک پر شاید ہی کوئی ایسی پوسٹ ہو جس پر لوگوں نے ردعمل نہ دیا ہو۔

میں یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ فیس بک پر اٹھائے گئے سوالوں کا جواب دینا آسان ہے لیکن کسی بھی نیوز فیڈ کے کچھ منفی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ لیکن فیس بک پر کئے گئے سوالات اہم ہیں کیونکہ فیس بک پر لوگوں کا بہت بڑا حصہ موجود ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ کہ اتنے بڑے ڈیٹا کو کس طرح استعمال کیا جائے ، کتنا حصہ پبلک کیلئے ہو اور کتنےحصے تک رسائی دی جائے، جس سے سیاسی اور کارپوریٹ مہمات میں مدد لی جاسکتی ہے ہمیں اس ڈیٹا کے استعمال پر بات کرنے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

تحریر: زینپ توفیکسی (Zeynep Tufekci)

تعارف: زینپ توفیکسی نارتھ کیرولینا کی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر اوربرکمین اور ہارورڈ میں انٹرنیٹ سوسائٹی کے رکن ہیں۔

Read in English

Authors

*

Top