Global Editions

یہ کرپٹوکرنسی کی سٹارٹ اپ کمپنیاں ارجنٹائن کو بچانے کی کوشش کررہی ہیں

نسبتاً زيادہ مستحکم کرپٹوکرنسی میں سرمایہ کاری ارجنٹائن کے شہریوں کو اپنی کرنسی کے اتار چڑھاؤ کے خلاف تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔ لیکن کیا انہيں آمادہ کرنا ممکن ہوگا؟

1988ء میں ایک راک گانے کے بعد ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس کا "غصے کا شہر" پڑ گیا، اور آج تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی اس شہر اور اور اس کے باشندوں کا غصہ صاف نظر آتا ہے۔ آئے دن کسی نہ کسی ہڑتال یا احتجاج کی وجہ سے سڑکیں بند ہوجاتی ہیں اور گرمی کے موسم میں بجلی غائب ہوجاتی ہے۔ ہر محلے اور علاقے میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں مختلف ہیں۔

اس وقت سب سے بڑے مسئلے ارجنٹائن کی معیشت اور تیزی سے کم ہونے والی شرح زرمبادلہ ہے۔ لیکن کیا ڈیجٹل کرنسی سے اس ملک کے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں؟ پچھلے چند مہینوں میں بیونس آئرس کے سب وے کی سرنگوں میں کھانے کی ڈیلوری کی ایپس، جوتوں اور ٹریول پیکیجز کے اشتہاروں کے ساتھ نظر آنے والے کرپٹوکرنسی کے اشتہار تو یہی دعویٰ کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک اشتہار ریپیو نامی کمپنی کا بھی ہے، جو بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ ان کے صارفین کی تعداد ڈھائی لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ ریپیو اور اس جیسی کئی سٹارٹ اپ کمپنیوں کے خیال میں اب لاطینی امریکہ میں کرپٹوکرنسیاں متعارف کرنے کا وقت آچکا ہے۔

2001ء میں ارجنٹائن کی حکومت ملک پر چڑھا قرض اتارنے میں ناکام ثابت ہوئی، جس کے بعد شہریوں کا بینکس پر سے بھروسہ اٹھ گیا۔ اور پچھلے چند سالوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں ارجنٹائن کی کرنسی پیسو کی قیمت تیزی سے کم ہونے کی وجہ سے ملک میں نیا بحران شروع ہوگیا، جس کے بعد لوگوں ڈالر خرید کر گھر میں چھپا کر رکھنے لگے۔

ممکن ہے کہ ایک مستحکم ڈیجیٹل کرنسی سے ارجنٹائن کے شہریوں کو گدے کے نیچے ڈالر بلز چھپانے سے زیادہ فائدہ ہو۔ کرپٹوکرنسیوں کو مرکزی اداروں کے بجائے غیرمرکزی کمپیوٹر نیٹورکس کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ اسی وجہ سے ارجنٹائن میں کامیاب ثابت ہوں۔ اس وقت حکومت بلاک چین پراجیکٹس کو معاونت فراہم کررہی ہے، جس کی وجہ سے بیونس آئرس میں ڈیولپرز کا ایک مرکز قائم ہوچکا ہے۔ تاہم جب تک صارفین کو صارف دوست اور قابل اعتماد سسٹمز نہيں فراہم کیے جائیں گے، وہ اپنے جانے پہچانے ڈالر چھوڑ کر کرپٹوکرنسیاں اپنانے کو تیار نہيں ہوں گے۔

ریپیو کرپٹوکرنسیاں خریدنے، بیچنے، خرچ کرنے اور ان میں تجارت اور سرمایہ کاری کرنے کے لیے آسان استعمال ٹولز بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ آج شاید زیادہ لوگ ریپیو کے نام سے واقف نہ ہوں، لیکن یہ کمپنی درحقیقت چھ سال پرانی ہے اور انہیں بلاک چین میں خاصا تجربہ بھی حاصل ہے۔ ان کا پرانا نام بٹ پیگوس تھا، اور 2017ء میں انہوں نے کاروباروں کے بجائے عام صارفین کو سہولیات فراہم کرنا شروع کیں، جس کے بعد انہوں نے اپنا نام تبدیل کرکے ریپیو رکھ لیا۔ آج اس کمپنی کے ارجنٹائن، برازیل اور میکسیکو میں تین لاکھ صارفین ہیں، جن میں سے 85 فیصد صارفین کا تعلق ارجنٹائن سے ہے۔

یہ کمپنی صارفین کو ایک کرپٹوکرنسی ایکسچینج اور ڈیجیٹل اثاثہ جات ذخیرہ کرنے کے لیے سافٹ ویئر کی شکل میں ایک "والٹ" پیش کرتی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک ایسی سروس بھی لانچ کی ہے جس میں سمارٹ کانٹریکٹس، یعنی بلاک چین استعمال کرنے والے کمپیوٹر پروگرامز استعمال کرتے ہوئے پیچیدہ مالی ٹرانزیکشنز کو آٹو میٹ کرنے کمپیوٹر پروگرام، استعمال کرتے ہوئے پیئر ٹو پیئر تجارت کو آسان بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایتھیریم بلاک چین استعمال کرنے والی اس سہولت کے ذریعے ارجنٹائن کے باشندے مقامی کرنسی میں بینک کے مقابلے میں کم شرح سود پر قرضے حاصل کرسکتے ہیں۔

ریپیو جلد ہی ایک ایسا پلیٹ فارم متعارف کرنے والے ہیں جس میں ان سہولیات کے علاوہ مضامین، ویڈیوز، اور ٹیوٹوریلز جیسے مشمولات شامل ہوں گے۔ کمپنی کے برانڈ افسر ہوان مینڈیز کے مطابق اس سہولت کا مقصد ریپیو کے صارفین کو "نئی معیشت" تک رسائی کی فراہمی ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں "ہم یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہيں کہ معیشت تبدیل ہورہی ہے اور بینکس ڈیجٹل سہولیات کی طرف جارہے ہیں، اور ہم اس موقع کا فائدہ اٹھا کر انہيں رسائی، مالی سہولیات اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں۔" ان کی کمپنی امید کرتی ہے کہ کرپٹو اثاثہ جات روایتی مالی سہولیات کے ساتھ استعمال کیے جاسکيں گے اور وہ ان تمام اختیارات کے لیے مرکزی پلیٹ فارم فراہم کرنا چاہتی ہے۔

تاہم ان اقدام سے کرپٹوکرنسیوں کی مقبولیت میں اضافہ تو ہوگا، لیکن اس کے علاوہ بھی بہت کام باقی ہے۔ اس سے بھی بڑا مسئلہ لوگوں کا نئے کرنسیوں پر اعتماد پیدا کرنا ہے۔ اس وقت کرپٹوکرنسیوں کو سمجھنا اور استعمال کرنا بہت مشکل ہے اور کئی قسم کی کرنسیوں کی قیمتوں میں بہت تیزی سے اتار چڑھاؤ سامنے آتا ہے۔

ممکن ہے کہ ایک نئی قسم کی کرنسی اس اتار چڑھاؤ کا حل فراہم کرسکے۔ "مستحکم سکے" نامی اس کرنسی کا مقصد امریکی ڈالر جیسی مستحکم حکومتی کرنسیوں کی قیمت کی برقراری ہے۔ نومبر میں ریپیو نے اپنی ایکسچینج اور والٹ میں ڈائی نامی مستحکم سکے کا اضافہ کیا تھا۔ میکر ڈاؤ نامی فاؤنڈیشن کی طرف سے جاری کردہ یہ کرنسی ایتھیریم بلاک چینز پر مشتمل سمارٹ کانٹریکٹس استعمال کرنے والے پیچیدہ میکانزمز کی مدد سے ڈالر کے مقابلے میں اپنی قیمت برقرار رکھتے ہیں۔ ریپیو کے علاوہ دوسری ایکسچینجز نے بھی اپنے والٹ میں ڈائی کو شامل کیا ہے، جس میں بوئن بٹ نامی کمپنی سرفہرست ہے۔

ڈالر کا آسان استعمال اور ڈیجیٹل ورژن بہت مقبول ثابت ہوسکتا ہے۔ صارفین اب ایکسچینج جانے کے بجائے، اپنی قریب ترین دکان سے اپنے والٹ میں پیسو ڈال کر ڈائی خرید سکتے ہيں۔ بعد میں وہ ریپو کی کنورشن کی سہولت استعمال کرکے اس کرنسی کو واپس پیسو میں تبدیل کرکے ای کامرس ویب سائٹ میرکاڈو لیبر سے خریداری کرسکتے ہيں۔

کچھ لوگوں نے ریمٹنس بھیجنے یا بچت کرنے کے لیے ڈائی کا استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ تاہم میکر ڈاؤ کا خواب اس سے بھی زیادہ وسیع ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ڈی سنٹرلائڈز بینکنگ کی مدد سے نہ صرف ارجنٹائن بلکہ پوری دنیا میں مالی سہولیات کا استعمال عام ہو۔

لیکن بیونس آئرس میں اب تک کرپٹوکرنسی زيادہ مقبول ثابت نہيں ہوئی ہے۔ پورے شہر میں کئی بٹ کوائن کے اے ٹی ایمز نظر تو آتے ہیں، لیکن اس کے علاوہ، بٹ کوائنز کا استعمال کافی محدود ہے۔ جہاں دکانداروں نے اپنی کھڑکیوں پر ویزا، ماسٹر کارڈ اور امیریکن ایکسپریس کے سٹکرز لگائيں ہیں، وہاں کسی بھی کرپٹوکرنسی کا سٹکر دکھائی نہيں دیتا۔ کیش سے ادائيگی نہ صرف عام ہے بلکہ دکاندار کیش استعمال کرنے والوں کو رعایتیں بھی پیش کرتے ہیں۔ کچھ دکاندار مرکاڈو پیگو نامی سہولت کی مدد سے کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائيگیوں کی سہولت پیش کرتے ہیں، لیکن وہ کرپٹو ادائيگیاں سے ہچکچاتے ہیں۔

اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ لوگ اگر پیسو پر بھروسہ نہيں کرتے ہیں تو وہ کرپٹوکرنسی پر کیوں کريں؟ ارجنٹائن کے 32 فیصد باشندے غربت کا شکار ہیں اور ان کی تنخواہیں 50 فیصد سالانہ مہنگائی کی شرح کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ وہ اپنا اکاؤنٹ ہیک ہونے یا ڈیجٹل اثاثہ جات کی قدر اچانک کم ہونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔

لاطینی امریکہ میں میکر ڈاؤ کی بزنس ڈیولپمنٹ ایسوسیٹ نادیہ ایلواریز کے مطابق سب سے پہلے تو صارفین کو ڈائی خریدنے، فروخت کرنے اور خرچ کرنے کے بنیادی اصول کے متعلق مکمل سمجھ بوجھ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتی ہیں "سب سے بڑا مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ کرپٹو کی تمام سہولیات صرف تیکنالوجی کی سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد ہی کے لیے محدود ہیں۔" وہ مزید بتاتی ہیں کہ میکر ڈاؤ کا خیال ہے کہ اگر ان کے سکوں کی قیمت ڈالر کے مطابق متعین کی جائے تو لوگوں کو اسے سمجھنے میں زيادہ آسانی ہوگی۔

تاہم مشکل یہ ہے کہ بعض دفعہ ڈائی کے لیے پیگ برقرار رکھنا بہت مشکل ثابت ہوا ہے، اور ناقدین کا خیال ہے کہ یہ سسٹم زيادہ عرصے تک مستحکم نہيں رہ پائے گا۔

ایم آئی ٹی کے سلون سکول آف مینیجمنٹ کے عالمی ایکنومکس اور مینیجمنٹ گروپ کے سربراہ سائمن جانسن کے مطابق صارفین کو کرپٹوکرنسیوں کے خطرات سے واقف ہونے کی ضرورت ہے۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ بینکنگ کے سسٹم میں بھی خامیاں ہیں، لیکن کرپٹوکرنسیاں اب تک اس سسٹم سے زيادہ مستحکم ثابت نہيں ہوپائی ہیں اور ایک غیرمستحکم سرکاری فریم ورک کے ہوتے ہوئے نجی سسٹم عملدرآمد کرنے سے مشکلات کم نہیں ہوں گے بلکہ مزید بڑھ جائيں گی۔ وہ کہتے ہیں "ارجنٹائن میں بچت کرنے کا کوئی اچھا طریقہ ہے ہی نہيں۔ آپ کو ہر طرف سے خطرہ ہی ہے۔"

تاہم اس وقت بلاک چینز اور کرپٹوکرنسی کی ابتداء ہی ہوئی ہے اور ان کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ دنیا میں کہیں بھی کرپٹوکرنسی کے استعمال میں اضافہ کرنے میں وقت لگے گا، اور اس اضافے میں آگاہی کا کردار بہت اہم ثابت ہوگا۔ صارفین کو زبردستی کرپٹوکرنسیاں فروخت کرکے کوئی فائدہ نہيں ہوگا۔

تحریر: کرسٹن میجچر (Kristin Majcher)

Read in English

Authors
Top