Global Editions

کرونا وائرس کے ذرات کافی عرصے تک ہوا میں رہ سکتے ہيں

کئی مہینوں سے اس بات کا ثبوت سامنے آرہا ہے کہ کرونا وائرس ہوا میں رہنے والے چھوٹے ذرات کے باعث پھیل سکتا ہے۔

امریکی سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (Centers for Disease Control and Prevention) (سی ڈی سی) نے کرونا وائرس کے متعلق نئی ہدایات جاری کی ہیں، جن کے مطابق یہ وائرس ہوا میں رہنے والے چھوٹے ذرات کے باعث بھی پھیل سکتا ہے۔ سی ڈی سی کے مطابق کافی عرصے سے اس بات کا ثبوت سامنے آرہا ہے کہ covid-19 کے شکار افراد دوسروں سے چھ فٹ کا فاصلہ برقرار رکھنے کے باوجود یا کسی جگہ سے چلے جانے کے بعد بھی کرونا وائرس پھیلا سکتے ہيں۔ یہ تمام کیسز ایسی عمارتوں میں سامنے آئے جہاں ہواداری کے لیے درست انتظامات نہيں کیے گئے تھے یا جہاں لوگ گانا گانے یا ورزش جیسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے تھے، جن کے لیے گہری سانسیں لینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ نیز، سی ڈی سی نے ایک بیان میں کہا کہ ”ہمارا موقف اب بھی یہی ہے کہ covid-19 کا ایکسپوژر جتنا زيادہ ہوگا، اس کا شکار ہونے کے امکانات میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔“

اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ کرونا وائرس کے ہوا میں زيادہ لمبے عرصے تک رہنے والے ذرات کے باعث پھیلنے کے متعلق کئی مہینوں سے ثبوت سامنے آرہا تھا، اور جولائی میں 239 ماہرین نے ایک خط کے ذریعے عالمی ادارہ صحت کی توجہ اس کی طرف دلانے کی کوشش بھی کی تھی۔ تاہم عالمی ادارہ صحت نے اب تک ان ذرات کے کردار کو تسلیم نہيں کیا ہے۔ سی ڈی سی بھی پوری طرح قائل نہيں ہوا، اور ان کا موقف اب بھی یہی ہے کہ ان ذرات کے باعث کرونا کا شکار ہونے کے امکانات ”بہت کم ہیں۔“ کرونا وائرس پھیلانے والے ذرات کے ہوا میں زیادہ دیر تک قائم رہنے کے باعث رستوارن، جم، بار، سکولز، اور دفاتر کھولنا زيادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

اب کیا ہوگا؟ سی ڈی سی لوگوں کو دوسروں سے چھ فٹ کا فاصلہ برقرار رکھنے، ماسکس سے منہ اور ناک ڈھانپنے، باقاعدگی سے ہاتھ دھونے، صفائی برقرار رکھنے، اور بیماری کی صورت میں گھر پر رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ تاہم اس نئے انکشاف کے بعد اب انہيں عمارتوں میں ہواداری کے انتظامات، لوگوں کو ماسکس پہنے رکھنے اور دوسرے سے زيادہ فاصلہ رکھنے، اور لوگوں کو بند کمروں کے بجائے کھلی ہوا میں گھلنے ملنے کے متعلق نئی ہدایات جاری کرنے کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹی آف کولوراڈو، بولڈر، میں کیمیا کے پروفیسر ہوزے لوئیس جیمینیز (Jose-Luis Jimenez) کہتے ہیں کہ ”اسے سمجھنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ فرض کریں کہ آپ کے اطراف موجود ہر شخص سگریٹ پی رہا ہے اور آپ دھوئيں سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔“

تنقید: جیمینیز نے سی ڈی سی کی ترمیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس میں درست اصطلاحات کا استعمال نہيں کیا گيا ہے۔ اس کے علاوہ، جیمینیز کے مطابق ان ہدایات میں ذرات کے ہوا میں قائم رہنے کے باعث کرونا کا شکار ہونے کا اعتراف تو کیا گيا ہے، لیکن اسے زيادہ اہمیت نہيں دی گئی ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”ہم یہ بات اچھے سے جانتے ہیں کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں ایسی بند جگہوں کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے جہاں بہت سارے لوگ جمع ہوتے ہیں، اور اب تک ان تمام موقعوں پر ہوا میں ٹھہرنے والے ذرات کا کردار بہت اہم رہا ہے۔“ جیمینیز مزيد بتاتے ہيں کہ سی ڈی سی کے مطابق ایک ہی کمرے میں ایک ساتھ رہنے کے باعث ہوا میں برقرار رہنے والے ذرات کے ذریعے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات بہت کم ہیں، لیکن درحقیقت ایسا نہيں ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”مثال کے طور پر، وائٹ ہاؤس میں بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہوگا۔“

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

Read in English

Authors

*

Top