Global Editions

جینیاتی علم الانساب کی نئی دنیا

ڈی این اے اور علم الانساب کا امتزاج دنیا کو بہت فائدہ تو پہنچا سکتا ہے، لیکن اسے ذمہ دار طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک صبح میں نے مشتبہ سلسلہ وار قاتل اور خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے والے جوزیف جیمز ڈی اینجیلو کی شناخت میں اوپن سورس جینیاتی علم الانساب کی ویب سائٹ جی ای ڈی میچ کے استعمال کے بارے میں سنا۔ بحیثیت ایک ماہر جینیات کے، میں جی ای ڈی میچ کافی عرصے سے استعمال کررہی ہوں، لیکن میں سمندر پار کسی جرم کی تفتیش کے سلسلے میں اپنے ڈی این اے کے استعمال کے خیال سے کچھ خاص خوش نہيں ہوں۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ انصاف کیا جارہا ہے، اور متاثرہ خاندانوں کے دلوں کو تسلی مل رہی ہے، لیکن اس قسم کی ویب سائٹس کے استعمال کے سلسلے میں کچھ اخلاقی پہلو ہیں جنہيں نظر انداز نہيں کیا جاسکتا ہے۔

ڈی این اے کسی بھی تاریخ دان کے لیے بہت اہم ٹول ثابت ہوسکتی ہے۔ بذات خود ڈی این اے سے زیادہ معلومات نہيں حاصل کی جاسکتی، لیکن اگر اس کا بڑے جینیاتی علم الانساب پر مشتمل ڈيٹابیسز کے ساتھ موازنہ کیا جائے یا آن لائن انسابی ذرائع اور سوشل میڈیا کی ویب سائٹس کے ساتھ استعمال کیا جائے، تو یہ بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ گود لیے جانے والے، یتیم خانے میں چھوڑے جانے والے، اور ڈونر کے مادوں کی مدد سے پیدا کیے جانے والے بچے اب ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ذریعے اپنی جینیاتی یا حیاتیاتی شناخت ڈھونڈ سکتے ہیں۔ معیاری انسابی طریقوں کی مدد سے، تمام لکیروں کو موجودہ دور تک کھینچ کر معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کون کس وقت کہاں تھا۔ کچھ لوگوں کو پہلی باری ہی میں اپنے والدین یا بہن بھائیوں سے میچ کرلیا جاتا ہے۔ روز ڈی این اے کے کامیاب میچز کی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں، اور جینیاتی معمے حل ہوتے ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹنگ سے کئی خاندانی راز فاش بھی ہوسکتے ہیں، لیکن اب عام طور پر اس بات کا اعتراف کیا جاتا ہے کہ بچوں کے حقوق والدین کے حقوق پر فوقیت رکھتے ہیں۔ جینیاتی علم الانساب سے پچھلی نسلوں کی غلطیوں کو سدھارنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ گود لیے جانے والے بچوں کو، جنہيں پہلے اپنی پیدائش کے ریکارڈز نہيں فراہم کیے جاتے تھے، اب باآسانی اپنی جینیاتی یا حیاتیاتی شناخت معلوم کرسکتے ہيں۔ اسی طرح گم نام سپرم ڈونر کے بچے بھی اس ڈونر کی شناخت کرنے کے بعد اپنے بھائی بہنوں سے رابطہ کرسکتے ہيں۔

شاید یہ بات ناگزیر تھی کہ جن تکنیکوں کو استعمال کرکے نامعلوم والدین کی تلاش ممکن تھی، انہی طریقوں کو جرائم کی تفتیش کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔ اس کی بنیاد ڈی این اے ڈو پراجیکٹ کے ساتھ رکھی گئی، جس کی مدد سے “بک سکن گرل” نامی مقتولہ کی شناخت ممکن ہوئی تھی۔ پوسٹ مارٹم کے دوران حاصل کردہ خون کے نمونوں سے ڈی این اے حاصل کیا گیا، جس کے بعد فل جینومز کارپوریشن نامی تجارتی جینیاتی انسابی کمپنی نے نیکسٹ جینریشن سیکوینسنگ کی مدد سے ایک مکمل ڈی این اے سیکیوینس تیار کیا۔ اس کے بعد نمونے کے طور پر ایک جی ای ڈی میچ کٹ تخلیق کیا گیا، اور کسی دور دراز رشتہ دار کے ساتھ میچ کے بعد مقتولہ کی شناخت ممکن ہوگئی۔ جوزیف جیمز ڈی اینجیلو کے کیس میں استعمال ہونے والے طریقے کی مکمل تفصیلات اس وقت دستیاب نہيں ہیں، لیکن ممکن ہے کہ کچھ اسی طرح کی تکنیک استعمال کی گئی ہوگی۔

میں ان کیسز میں ڈی این اے ٹیکنالوجی کے اس جدید استعمال کی داد ضرور دیتی ہوں، لیکن ساتھ ہی میں قانون نافذ کرنے والے حکام کے جی ای ڈی میچ کے خفیہ استعمال اور اس ویب سائٹ کے لاکھوں صارفین کی اجازت کے بغیر ان کے ڈیٹا کے استعمال کے متعلق کئی خدشات کا شکار بھی ہوں۔ ہم سب ہی اپنے ڈی این اے اور دیگر ڈیٹا کے استعمال کے متعلق فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ کسی دوسرے ملک کی پولیس کے پاس یہ فیصلہ کرنے کا حق نہيں ہونا چاہیے۔

دنیا کو ڈی این اے اور علم الانساب کے انضمام سے بہت فائدہ تو پہنچ سکتا ہے، لیکن اس ڈيٹا کا ذمہ دار طریقے سے استعمال نہایت اہم ہے۔ جب بھی جی ایڈ میچ جیسی ویب سائٹس کا استعمال کیا جائے، وہاں نفع اور نقصان کا موازنہ کیا جائے۔ گود لیے جانے والے افراد، گم شدہ افراد، اور نامعلوم لاشوں کی شناخت کی صورت میں نقصان کم اور فائدہ زيادہ ہے۔

تاہم جہاں جرائم کی بات کی جائے، وہاں صورتحال اتنی واضح نہيں ہے۔ اس صورت میں ڈيٹا کے غلط استعمال یا غلط تجزیے کی وجہ سے غلط افراد کی نشاندہی کی وجہ سے ٹیسٹنگ کے نقصان پہنچانے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ جی ایڈ میچ کے ڈیٹابیس کا عدالتی نگرانی کے بغیر استعمال خطرے سے خالی نہيں ہے۔

تاہم ہمارے سامنے ایک ڈسٹوپیائی مستقبل بھی نہيں ہے۔ طویل المیعاد عرصے میں ذمہ داری سے ڈی این اے کا ڈیٹا شیئر کرنے سے معاشرے کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اگر کسی دور دراز کے رشتہ دار کے ساتھ ڈے این اے میچ ہونے کے بعد جرائم پیشہ افراد کی شناخت ممکن ہے تو مستقبل میں جرم کی شرح میں کمی آئے گی۔ اسی طرح سے گم شدہ افراد، جنگ میں مارے جانے والے فوجیوں، اور قدرتی اور مصنوعی آفات میں جان بحق ہونے والے افراد کی شناخت بھی ممکن ہوگی۔ تاہم، اس بات کو نظر انداز نہيں کیا جاسکتا ہے کہ ہمیں خود فیصلہ کرنا چاہیے کہ ہمارا ڈی این اے کا ڈیٹا کون استعمال کرے گا۔

حریر: ڈیبی کینیٹ (Debbie Kennett)

Read in English

Authors

*

Top