Global Editions

ایک گلیکسی میں بلیک ہول ہماری سوچ سے چھوٹا ہے

ماہرین فلکیات نے پتا چلایا ہے کہ چھوٹی کہکشاں این جی سی 4395 کے مرکز میں بلیک ہول محققین کے اندازے سے چالیس گنا چھوٹا ہے۔

ماہرین فلکیات نے کیاپایا: زمین سے تقریباً 14 لاکھ ملین دور، بلیک ہول سورج کے وزن کا محض10,000گنا تھا جو کہ بلیک ہول کے سٹینڈرڈ سے چھوٹا ہے اور کچھ دوسرے پچھلے تخمینوں کے مقابلے میں مقدار میں چھوٹا ہے۔

انھوں نے کیسےپتاچلایا: نیچرآسٹرانومی میں شائع ہونے والی پیپر کے مطابق،محققین کی ٹیم ریوربیریشن میپنگ ٹکنیک کا استعمال کرتے ہوئے یہ پیمائش کرنے کے قابل تھی۔ اس عمل میں شعاعیں جذب ہوتی ہیں جو کہ بلیک ہول سے جمع کئے گئے مواد سے آتی ہیں۔ اس عمل کو ایکریشن ڈسک (Accretion Disk) بھی کہا جاتا ہے۔ جب شعاعوں کو پھینکا جاتا ہے تو یہ آگے چلنا شروع کر دیتی ہیں جب تک کہ گیسوں والے علاقے سے نہ ٹکرائیں جن سے شعلہ پیدا ہوتا ہے۔ جب اس علاقے میں آنے والی شعاعوں کا وقت اور فلیش کا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو محققین بلیک ہول کے سائز کا اندازہ لگاتے ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے: ماہرین فلکیات چھوٹی گلیکسیوں کی پیمائش کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ جب وہ وجود میں آئیں تو کیا ہوا تھا۔ پیپر کی ایک مصنف ایلینا گالوکا کہنا ہے کہ “کیا ان گلیکسیز میں بلیک ہول ہوتے ہیں اور اگر ہو تے ہیں، تو کیا ان کی پیمائش ایسے ہی ہوتی ہے جیسا کہ بڑے بلیک ہول کی ہوتی ہے۔”

ان سوالات کے جوابات دینے سے ہمیں کائنات کے آغاز میں بلیک ہول بننےکے عمل کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ “

تحریر: ایرن وینسک

Read in English

Authors

*

Top