Global Editions

2020ء کی ناکام ترین ٹیکنالوجیز

ایم ایس ٹیک ، گیٹی ، ان سپلیش
کرونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران ہمیں احساس ہوا کہ ٹیکنالوجی ہماری زندگیوں کے لیے کتنی اہم ہے۔ تاہم بعض دفعہ ٹیکنالوجی بھی ہمیں دھوکا دے جاتی ہے۔

گزشتہ سال کچھ عجیب سا ہی رہا۔ ایک کے بعد ایک پوری دنیا پر کوئی نہ کوئی آفت ٹوٹ رہی تھی۔ ایک عالمی وبا پھیلی ہوئی تھی اور کئی ممالک میں سیاسی عدم استحکام کا سما تھا۔ ان حالات میں اگر کوئی چیز دنیا کو بچا سکتی تھی تو وہ تھی ٹیکنالوجی، لیکن ایسا نہيں ہوا۔

2020ء میں کئی ٹیکنالوجیز آئیں اور گئيں۔ کچھ بہت کامیاب ثابت ہوئیں، جن میں covid-19 کی ویکسین سرفہرست ہے۔ لیکن آج ہم کامیاب ٹیکنالوجیز کی بات نہيں کریں گے۔ ہم آپ کو بتائيں گے کہ 2020ء کی ناکام ترین ٹیکنالوجیز کیا تھیں۔ اس فہرست میں اربوں ڈالر کے  بزنسز سے لے کر کم قیمت سیٹلائٹس اور ناکام کرونا وائرس کے ٹیسٹس، سب کچھ شامل ہیں۔

کرونا وائرس ٹیسٹنگ

کرونا وائرس ٹیسٹنگ کے لیے استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی، پولیمریز چین ری ایکشن (polymerase chain reaction) ٹیسٹنگ، نئی نہیں ہے۔ اسے 1980ء میں ایجاد کیا گيا تھا اور ایک دہائی بعد، اس کے موجد کو نوبل پرائز سے نوازا گيا۔ اس تکنیک کے ذریعے جسم میں مخصوص جینز کی موجودگی کی تصدیق کی جاتی ہے، اور اسے آج کئی اقسام کے ٹیسٹس اور ریسرچ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

کریڈٹ: گیٹی

اس قدر کامیاب ٹیکنالوجی کو ہم اس فہرست میں شامل کیوں کر رہے ہيں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ کرونا وائرس کی وبا شروع ہوتے ہی امریکی سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (US Centers for Disease Control and Prevention) نے ریاستی حکومتوں کو پولیمریز چین ری ایکشن ٹیسٹنگ کے غلط کٹس بھجوائے۔ یہ کوئی چھوٹی موٹی غلطی نہيں تھی۔ اس کے نتیجے میں کرونا وائرس کے پیتھوجن کو پھیلنے کا موقع ملا، اور امریکہ کی سب سے بڑی پبلک ہیلتھ ایجنسی ایک مذاق بن گئی۔ جس ملک نے پولیمریز چین ری ایکشن ٹیسٹنگ ایجاد کی تھی، اسی کے شہری اس سے محروم ہوگئے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق معیشت کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں ٹیسٹنگ کا کردار بہت اہم ہوگا، لیکن 11 مہینے گزرنے کے باوجود، آج بھی امریکی شہریوں کو ٹیسٹنگ کے حوالے سے تاخیر کا سامنا ہے۔

چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی قابو سے باہر

کچھ دیر کے لیے فرض کریں کہ کسی دکان میں چوری ہوتی ہے، اور پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج اور چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کی مدد سے مجرم کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ چند شہروں میں اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مجرموں کی شناخت پر پابندی عائد کی جاچکی ہے۔

چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کا شمار مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی کامیابیوں میں ہوتا ہے، اور یہ اب ہر جگہ نظر آنے لگی ہے۔ یہاں تک کہ بستیوں میں رہائش پذیر کم آمدنی سے تعلق رکھنے والے افراد کے گھروں میں بھی۔ پرائیویسی پامال ہونے کے خدشات کے پیش نظر، کئی شہری اور ریاستی حکومتوں کے علاہ کمپنیوں نے اس  پر پابندی عائد کردی ہے، جس سے اس ٹیکنالوجی کی پیش رفت کافی حد تک متاثر ہوسکتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اب ہر ایک شخص کی جیب میں کیمرہ موجود ہے اور ہم دل کھول کر اپنی اور دوسروں کی تصویریں کھینچتے ہیں۔ خصوصی کیمروں اور کسٹم امیجز کا ڈیٹابیس استعمال کرتے ہوئے سب سے پہلا چہرے کی شناخت کا سسٹم بنانے والے جوزیف ایٹک (Joseph Atick) کہتے ہيں کہ ”یہ مسئلہ ہم نے خود پیدا کیا ہے۔ اربوں لوگ تصویریں کھینچ کر سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر لگاتے ہيں، اور خود کو اور دوسروں کو ٹیگ بھی کرتے ہيں۔ اس سے چہرے کی شناخت کے سسٹمز کو وافر مقدار میں ڈیٹا ملا، اور اب اس اصطبل سے فرار ہونے والے گھوڑے پر قابو پانے کے لیے ہمیں ٹیکنالوجی کے ساتھ لوگوں کی عادات کو بھی تبدیل کرنا ہوگا۔“

مائیکروسافٹ اور ایمزان نے کچھ عرصے کے لیے اپنے چہرے کی شناخت کے سسٹمز کو پولیس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے۔ پورٹ لینڈ جیسے شہروں میں اس ٹیکنالوجی پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جس سے دکانوں اور ہوٹلز کے لیے بھی لوگوں کی نشاندہی کرنا ناممکن ہوجائے گا۔ اس وقت چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کے قابل قبول استعمالات کے تعین کے لیے ایک قومی فریم ورک کی اشد ضرورت ہے۔ اندھا دھند پابندیوں کے بجائے ایک پالیسی درکار ہے، جو جلد متعارف ہوتی نظر نہیں آرہی۔

کوئیبی کی ناکامی

اپریل میں کوئیبی (Quibi) نامی سٹریمنگ سروس متعارف ہوئی، جس میں زيادہ سے زيادہ 10 منٹ لمبے پروگرامز دکھائے جا رہے تھے۔

تاہم یہ کمپنی چھ مہینوں کے اندر ہی بند ہوگئی، اور اس کے بانیوں نے سرمایہ کاروں کی رقم واپس کرنا شروع کردی۔

کوئبی کے بانی ۔ کریڈٹ : گیٹی

2018ء میں نیوز کی ویب سائٹس نے بھی خبریں نشر کرنے کے لیے اسی قسم کی ایک کوشش کی تھی، جو بری طرح ناکام ہوئی۔ ان ویب سائٹس کی طرح کوئبی صارفین سے ایسے مواد کی قیمت طلب کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو وہ پہلے ہی یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر بالکل مفت دیکھتے ہيں۔

کوئبی کے بانی، فلم پروڈيوسر جیفری کیٹزنبرگ (Jeffrey Katzenberg) اور سی ای او میگ وٹمین (Meg Whitman) نے اعتراف کیا کہ انہوں نے بہت بڑی غلطی کی تھی۔ وہ مزيد کہتے ہيں کہ ان کی ناکامی میں کرونا وائرس کا بھی بہت بڑا ہاتھ تھا۔ کیٹزنبرگ اور وٹمین ایک مشترکہ تحریر میں لکھتے ہیں کہ ”ہم کبھی بھی نہيں جان پائيں گے کہ ہماری ناکامی کی وجہ کیا تھا۔ کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم لوگوں کو ایک ایسی چیز دے رہے تھے جس کی انہيں ضرورت نہيں تھی؟ یا کیا کرونا وائرس کے باعث لوگوں نے جانی مانی سہولیات کو زيادہ ترجیح دی؟ ہمیں اتنا ضرور معلوم ہے کہ ہم نے اس کمپنی کو بچانے کی پوری کوشش کی۔“

مائیکرو ویو لہریں استعمال کرنے والا اسلحہ

2016ء سے کیوبا اور چین میں رہنے والے درجنوں امریکی سفیر اور جاسوس عجیب و غریب بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہیں ایسی چیزیں سنائی دے رہی ہیں جو کسی اور کو نہيں سنائی دیتیں، ان کا جسمانی توازان بگڑ رہا ہے، اور انہيں ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے کسی نے انہيں طمانچہ مارا ہو۔ نیشنل اکیڈمیز آف سائنسز (National Academies of Sciences) کے مطابق ان عجیب و غریب علامات کی وجہ مائیکرو ویو لہریں ہیں۔

امریکی فضائیہ کی ریسرچ لیباریٹری۔ کریڈٹ : اے ایف آر ایل ڈائریکٹڈ اینرجی ڈائریکٹوریٹ

 ہم اس بات کی تصدیق نہيں کر پائے ہیں کہ یہ افراد آخر کیوں بیمار ہورہے ہیں۔ کیا اس کی وجہ کسی مشین کے ذریعے تخلیق کردہ ریڈيو توانائی کی شعاعیں تھیں؟ امریکی حکومت نے اس پر تحقیق کرنے میں تاخیر سے کام لیا اور وہ اب تک اس کی وجہ کا تعین نہيں کر پائے ہیں۔ تاہم یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مائیکرو ویو لہریں استعمال کرنے والے اسلحے کو بروئے کار لانا بہت بڑی بے وقوفی ہے۔ امریکہ سمیت کئی حکومتوں کے پاس اس سے بہتر ٹیکنالوجی ہے جسے مزید شدید سر کے درد اور متلی کے احساسات پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس قسم کی ٹیکنالوجی کا خفیہ استعمال ایک ایسی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے جس میں کچھ غلط لوگوں کے ہاتھوں میں انتہائی طاقتور ٹیکنالوجی آگئی ہو۔ اس اسلحے کا استعمال مستقبل میں نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہوگا۔

دفتری میٹنگز کے دوران فحاشی

کیا آپ کو کبھی ایسا خواب آیا ہے جس میں آپ گھر سے نکلنے سے پہلے اپنے کپڑے بدلنا بھول گئے ہوں اور آپ اپنے رات کے ہی کپڑوں میں دفتر یا سکول چلے گئے ہوں؟ زوم استعمال کرنے والے کئی افراد کے ساتھ ایسا ہی کچھ ہوا ہے۔

کرونا وائرس کے باعث کئی لوگ گھروں سے کام کرنے لگے، اور ان کے رفقاء کار کو ایسی کئی چیزیں دیکھنے کو ملیں جن کے بارے میں عام طور پر ایک دفتری ماحول میں بات نہيں کی جاتی۔ مثال کے طور پر، امریکی سپریم کورٹ میں پیشیوں کے دوران کسی کے باتھروم جانے کی آواز آئی، اور ایک میکسیکی سینیٹر کپڑے بدلنے کے دوران اپنے کمپیوٹر کا کیمرہ آف کرنا بھول گئيں۔

ٹوبن۔ کریڈٹ : گیٹی امیجز، نیو یارکر

کچھ لوگوں کو مزيد شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ سی این این اور نیو یارکر کے صحافی جیفری ٹوبن (Jeffrey Toobin) زوم پر ایک میٹنگ کے دوران اپنے کمپیوٹر کی دوسری ونڈو میں فحاش ویڈیوز دیکھ رہے تھے۔ ان کا کیمرہ آن رہ گیا، اور ان کی ٹیم نے انہيں برہنہ حالت میں ویڈیوز کا مزہ لیتے ہوئے دیکھ لیا۔ کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ جنسی ہراس کے متعلق عمومی اشتعال کے پیش نظر ٹوبن کو نوکری سے نکال دینا چاہیے تھا۔ دوسروں نے ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسان ہونے کے ناتے ان سے بھی ایک غلطی ہوگئی۔ آخر کار نیو یارکر نے ٹوبن کو معطل کردیا۔

سیٹلائٹس کے باعث روشنی کی آلودگی

کئی ارب سالوں سے چاند ستارے انسانوں کی دلچسپی کا مرکز رہے ہيں۔ تاہم اب آسمان پر تارے کم اور سیٹلائٹس زیادہ نظر آتی ہيں۔ ایمزان، ون ویب (OneWeb) اور سپیس ایکس (SpaceX) جیسی متعدد کمپنیاں پوری دنیا میں انٹرنیٹ کا جال بچھانے کا خواب دیکھ رہی ہیں، اور اسے پورا کرنے کے لیے انہوں نے خلاء میں ہزاروں سیٹلائٹس چھوڑ دی ہیں۔

سورج کی روشنی کی عکاسی کی وجہ سے ماہرین فلکیات کے لیے رات کو آسمان کا مشاہدہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔  کریڈٹ : ڈی کیم ڈیلو سروے

ماہرین فلکیت کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ سیٹلائٹس سورج کی روشنی کی عکاسی کرتی ہیں۔ سپیس ایکس 12،000 اور دوسری کمپنیاں 50،000 تک سیٹلائٹس لانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، جس کے باعث ماہرین فلکیت کے لیے آسمان کا مشاہدہ کرنا اور بھی مشکل ہوجائے گا۔

پہاڑوں کے اوپر نصب خلائی دوربینیں عام طور پر زمین کے قریب سے گزرنے والے اشیاء کا مشاہدہ کرکے زمین کے ٹکرانے کے امکانات کا تعین کرتی ہیں۔ سیٹلائٹس سے منعکس ہونے والی روشنی کے باعث انہيں بھی دشواری کا سامنا ہے۔ سپیس ایکس نے اپنی ایک سیٹلائٹ پر سیاہ رنگ کر کے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ سیٹلائٹ بہت جلدی گرم ہوگئی۔ اب وہ اپنے سیٹلائٹس میں دھوپ سے بچاؤ فراہم کرنے والے شیڈز نصب کر رہے ہيں۔

کرونا وائرس کی ویکسین جو آپ کو ایچ آئی وی کا شکار کر رہی تھی

کرونا وائرس کی ویکسین کو جس تیزی کے ساتھ متعارف کیا گيا، اس میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ تو ہونی تھی۔ تاہم جو آسٹریلیا میں ہوا، اس کی کسی کو توقع نہيں تھی۔

یونیورسٹی آف کوئینزلینڈ اور بائیو ٹیک کمپنی سی ایس ایل (CSL) نے مشترکہ طور پر ایک ویکسین تیار کی، جس کے ابتدائی نتائج بہت امیدافزا تھے۔ تاہم اس کی کامیابی کی وجہ ہی اسے آخر لے ڈوبی۔ اس ویکسین کو انسانی سیلز میں داخل ہونے میں معاونت فراہم کرنے کے لیے ایڈز کی وجہ بننے والے ایچ آئی وی وائرس کا استعمال کیا گيا تھا۔ جن رضاکاروں پر اس ویکسین کے تجربات کیے گئے تھے، ان کے ایچ آئی وی کے ٹیسٹس کے نتائج مثبت نکلنا شروع ہوئے۔ اس سے لوگوں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی اور سازشی تھیوریز پھیلانے والوں کو ویکسین کو بدنام کرنے کا موقع مل گیا۔

آسٹریلوی ٹیم نے صورتحال سنبھالنے کی کوششیں کی، لیکن کوئی فائدہ نہيں ہوا۔ دسمبر میں آسٹریلوی حکومت نے آخرکار ہار مان لی اور 5.1 کروڑ ٹیکوں پر مشتمل 75 کروڑ ڈالر کے آرڈر کو منسوخ کردیا۔ اس کے برعکس امریکہ میں کرونا وائرس کے ایسے علاج کو منظوری مل گئی جن کی افادیت کا ٹھوس ثبوت سامنے نہيں آیا تھا۔ جب بات انسانی جانوں کی ہو تو ہار مان لینا ہی بہتر ہوتا ہے۔ آسٹریلوی وزیر صحت نے کہا کہ ”سائنسی تجربات میں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔“

کرونا وائرس کے علاج کے لیے ملیریا کی ادویات

ایک روز امریکی سیاستدان روڈولف گیولیانی (Rudolph Giuliani) نے ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ ملیریا کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا ہائیڈروکسی کلوروکوئین (hydroxychloroquine) کرونا وائرس کے علاج میں ”100 فیصد موثر“ ثابت ہوگی۔

میڈیا اور دوسرے امریکی سیاستدان گیولیانی کی اس اشتہار نما ٹوئیٹ کو نظرانداز کرنے کے بجائے اچھل پڑے۔

مارچ میں کہا جارہا تھا کہ اس دوا سے کرونا وائرس کی علامات میں افاقہ ہو سکتا ہے۔ تحقیق سے یہ جلد ہی ثابت ہوگیا کہ ان باتوں میں کوئی سچائی نہيں ہے۔ تاہم اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے تحقیق کو نظرانداز کرتے ہوئے اس دوا کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیا۔ جریدے پولیٹیکو (Politico) کے مطابق اس وقت صدر ٹرمپ کو اپنی کرسی ہلتی ہوئی نظر آرہی تھی، اور وہ اسے بچانے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہے تھے۔ انہیں ہائیڈروکسی کلوروکوئین کی شکل میں امریکی انتخابات جیتنے اور دوسری بار صدر منتخب ہونے کے تمام خواب پورے ہوتے ہوئے نظر آئے۔

شروع میں تو ان کی کوششںیں رنگ لائيں۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (Food and Drug Administration) نے اس دوا کو کرونا وائرس کے علاج کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ تاہم جب کلینیکل ٹرائلز سے یہ بات سامنے آئی کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئین سے امراض قلب کا شکار ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے تو ڈاکٹروں نے اس کا استعمال ترک کردیا۔ ٹوئٹر نے گیولیانی کی ٹوئیٹ ہٹا دی۔ ایف بی آئی نے چار ہزار ڈالر کے عوض اس دوا کے پیکس غیرقانونی طور پر فروخت کرنے والے ایک ڈاکٹر کو تحویل میں لے لیا۔ جب صدر ڈانلڈ ٹرمپ کرونا وائرس کا شکار ہوئے، تو ان کے ڈاکٹرز نے بھی ہائیڈروکسی کلوروکوئین کا استعمال کرنا مناسب نہيں سمجھا۔

تحریر: اینٹونیو ریگالیڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors

*

Top