Global Editions

امریکی نومنتخب صدر جو بائيڈن مصنوعی ذہانت کے حوالے سے کیا کرنے والے ہیں؟

جو بائيڈن نے اب تک مصنوعی ذہانت کے حوالے سے اپنے ارادے نہيں بتائے ہيں۔ تاہم ان کے اب تک کے فیصلوں سے کچھ حد تک اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

صدر ڈونلد ٹرمپ وائٹ ہاؤس چھوڑ کر جاچکے ہيں اور صدر جو بائيڈن نے امریکی حکومت کی باگ دوڑ سنبھال لی ہے۔ صدر بائيڈن نے وائٹ ہاؤس میں آتے ہی متعدد ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کرکے اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔

اس وقت ان کی اولین ترجیح کرونا وائرس ہے، اور ان کے منصوبہ جات میں امریکی شہریوں کو مالی امداد کی فراہمی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، جو بائيڈن کا ماحولیاتی تبدیلی، خارجہ پالیسی، اور امیگریشن کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو پہلی فرصت میں منسوخ کرنے کا بھی ارادہ ہے۔ توقعات کے مطابق مصنوعی ذہانت ان کی ترجیحات میں شامل نہيں ہے۔ تاہم جو بائيڈن نے ایسے کچھ اقدام اٹھائے ہیں جن سے صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کے متعلق ضرور کچھ سوچا ہے۔

سب سے پہلے تو جو بائيڈن نے ایم آئی ٹی ہارورڈ بروڈ انسٹی ٹیوٹ (MIT-Harvard Broad Institute) کے بانی ڈائریکٹر، ماہر جینیات ایرک لینڈر (Eric Lander)، کو آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی (Office of Science and Technology Policy) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر بٹھایا ہے اور اس محکمے کو کابینہ کا درجہ دیا ہے۔ آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کا کام صدر کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے مشاورت فراہم کرنا اور حکومت کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی پالیسی کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ اس سے موجودہ اور سابق حکومتوں کے درمیان ایک بہت بڑا فرق واضح ہوتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے نزدیک مصنوعی ذہانت کی اہمیت چین سے مقابلہ کرنے کے ایک طریقے سے زيادہ کچھ نہيں تھی۔ تاہم صدر بائيڈن اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے امریکہ میں ایک بار پھر سائنس کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت دفاع کے علاوہ دوسرے مقاصد کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال میں مزيد سرمایہ کاری کرے گی۔ اس کے علاوہ، میں امید کرتی ہوں کہ حکومتی ایجنسیاں مل کر مصنوعی ذہانت کے حوالے سے معیارات کی تشکیل پر بھی کام کریں گی۔ اوپن اے آئی (OpenAI) کے سابق پالیسی ڈائریکٹر جیک کلارک (Jack Clark) کافی عرصے سے ان معیارات کا مطالبہ کر رہے ہيں۔ ان کا خیال ہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی (National Institute of Standards and Technology) جیسے اداروں کو مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کی کارکردگی کے معیارات کی پیمائش کرنے اور ان کی ٹیسٹنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، اس سے حکومت کے لیے اس ٹیکنالوجی کو بہتر طور پر سمجھنا ممکن ہوگا، جس سے بہتر پالیسیاں سامنے آسکتی ہیں۔

اس کے علاوہ، بائيڈن نے آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کی سربراہی کے لیے ایک نمایاں ماہر عمرانیات کا انتخاب کیا ہے۔ الونڈرا نیلسن (Alondra Nelson) انسٹی ٹیوٹ فار اینڈوانسڈ سٹڈی (Institute for Advanced Study) کی پروفیسر ہیں، اور انہوں نے جین ایڈيٹنگ اور مصنوعی ذہانت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا بہت تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بائيڈن کی انتظامیہ یہ بات اچھے سے جانتی ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی پالیسیاں اس وقت تک موثر ثابت نہيں ہوسکتیں جب تک سائنسی ترقی کے سماجی اثرات پر غور نہ کیا جائے گا۔ عہدہ سنبھالتے ہی نیلسن نے ایک خطاب میں بڑی اچھی بات کہی: ”کسی بھی الگارتھم کو تربیت فراہم کرنے، آلات کی پروگرامنگ کرنے، اور ٹیسٹنگ اور ریسرچ کرنے کے دوران، ہم جو بھی فیصلے لیتے ہيں، اس سے انسان متاثر ہوتے ہیں۔“

اس پیش رفت کو دیکھنے کے بعد مجھے ایسا لگتا ہے کہ آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی ٹیک سے وابستہ جوابدہی کو زيادہ اہمیت دی گی، جو چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی، الگارتھمز میں شامل تعصب، ڈیٹا کی پرائیویسی، اور ریسرچ میں کارپوریشنزکا عمل دخل جیسے مسائل کے لیے انتہائی اہم ہوگی۔

بائيڈن کے سیکریٹری آف سٹیٹ نے یہ بات واضح کردی ہے کہ ٹیکنالوجی اس نئی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کا بہت اہم عنصر ہوگی۔ اتنٹونی بلنکن (Antony Blinken) کے مطابق ”اس وقت ٹیکنو جمہوری ممالک اور ٹیکنو آمرانہ ممالک کے درمیان دراڑ مزيد گہری ہورہی ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ آمریت یا جمہوریت میں سے جیت کس کی ہوتی ہے۔ جو حکومت یہ دوڑ جیتنے میں کامیاب ہوجائے گی، اسی کا پلڑا آنے والی کئی دہائیوں تک بھاری رہے گا۔“ انہوں نے کسی ملک کا نام تو نہيں لیا، لیکن یہ بات واضح ہے کہ وہ چین کی بات کر رہے تھے۔ ان کی باتوں سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ امریکہ واقعی مصنوعی ذہانت اور فائیو جی جیسی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں چین کے ساتھ مقابلہ کر رہا ہے۔ صحافی ڈیو گیرش گورن (Dave Gershgorn) نے 2019ء میں ایک تحریر میں بتایا تھا کہ واشنگٹن میں مصنوعی ذہانت کی ایک کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ کے سیکریٹری آف ڈیفینس مارک ایسپر (Mark Esper) نے بھی یہی کہا تھا۔ ایسپر کے مطابق ”یہ ٹیک کی جنگ ہے، اور ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ آمریت جیتتی ہے کہ جمہوریت“

بلنکن کی باتوں سے واضح ہے کہ جو بائيڈن کی انتظامیہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو ہی آگے بڑھانے والی ہے۔ اس صورت میں حساس مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے برآمدات پر پابندیاں مزید سخت ہوجائيں گی اور چینی ٹیک کمپنیاں امریکی کمپنیوں کے ساتھ کام نہيں کر پائيں گی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکومت چین سے ناتہ توڑنے کے لیے مصنوعی ذہانت کی چپس کی تخلیق کاری کی صنعت امریکہ منتقل کرنے کے لیے بھاری بھرکم سرمایہ کاری بھی کرے۔

Read in English

Authors

*

Top