Global Editions

کرونا وائرس کے علاج میں استعمال ہونے والی ملیریا کی ادویات خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں

کچھ عرصہ قبل تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کی وجہ سے ملیریا کی ادویات کلوروکوئین (chloroquine) اور ہائیڈروکسی کلوروکوئین (hydroxychloroquine) کو کرونا وائرس کے علاج کے لیے بہت مفید سمجھا جارہا تھا۔ تاہم ایک نئے مطالعے کے مطابق یہ ادویات نہ صرف کرونا وائرس کے علاج کے لیے بے کار ہیں بلکہ ان سے امراض قلب اور موت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

 یہ ادویات کیوں استعمال کی جاتی ہیں؟ کلوروکوئین اور ہائیڈروکسی کلوروکوئین دونوں کو ملیریا کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔  کلوروکوئین کو 85 سال قبل دریافت کیا گیا تھا، اور اس پر اب تک بہت زیادہ تحقیق کی جاچکی ہے۔ اس کے علاوہ، اسے بہت کم لاگت میں بنایا جاسکتا ہے اور ہمیں اس کے ممکنہ نقصانات کے بارے میں معلوم بھی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، کلوروکوئین میزبان سیلز میں وائرسز کی نقول پیدا ہونے کی روک تھام کرسکتا ہے۔ تاہم اب تک یہ بات ثابت نہیں ہوسکی ہے کہ یہ دوا covid-19 کے علاج میں کس حد تک کامیاب ہوگی۔

نئی تحقیق کی تفصیلات: امریکی ریسرچرز کی ایک ٹیم نے ہسپتال میں داخل کرونا وائرس کے ایسے 14,888 مریضوں کا انتخاب کیا جن کا علاج کلوروکوئین، کلوروکوئین اور میکرولائیڈز (جو اینٹی بائیوٹکس کی ایک قسم ہے) کے امتزاج، ہائیڈروکسی کلوروکوئین، یا ہائیڈروکسی کلوروکوئین اور میکرولائیڈز کے امتزاج سے کیا گیا تھا۔ ان مریضوں کی پیش رفت کا موازنہ دوسرے 81,144 مریضوں سے کیا گیا جنہیں یہ ادویات نہیں دی گئی تھیں۔

اس تحقیق کے نتیجے میں کلوروکوئین اور ہائیڈروکسی کلوروکوئین کی افادیت کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آسکا۔ تاہم یہ بات ضرور سامنے آئی کہ ان دونوں ادویات سے امراض قلب اور موت کے خطرے میں اضافہ ممکن ہے۔ جن مریضوں کا علاج ہائیڈروکسی کلوروکوئین اور میکرولائیڈز کے امتزاج سے کیا گیا تھا، ان میں سے آٹھ فیصد افراد دل کی بے ضابطہ دھڑکن کا شکار ہوئے۔ اس کے برعکس، جن افراد کو کلوروکوئین یا ہائیڈروکسی کلوروکوئین نہیں دیا گیا، ان کے دل کی دھڑکن کی بے ضابطگی کا امکان محض 0.3 فیصد تھا۔

اس تحقیق کی خامیاں: اس تحقیق میں صرف مریضوں کے طبی ریکارڈز کا معائنہ کیا گیا تھا، اور اس وجہ سے اسے ہرگز ایک کلینکل مطالعہ نہیں تصور کیا جا سکتا۔ اس کا مطلب ہے کہ اس تحقیق سے کلوروکوئین اور ہائیڈروکسی کلوروکوئین کی افادیت کے بارے مین کوئی  حتمی رائے نہیں قائم کی جاسکتی۔

تحریر: نیل وی پٹیل (Neel V. Patel)

Read in English

Authors

*

Top