Global Editions

360 ڈگری کی سیلفی

گولے کی شکل کی تصویریں کھینچنے والے سستے کیمرے فوٹوگرافی کے ایک نئے دور کو جنم دے رہے ہیں، اور اسٹوری شئیر کرنے کے طریقہ کار کو بدل رہے ہیں۔

ہارورڈ یونیورسٹی میں ماحولیاتی ریسرچر کوئین ہفکنس (Koen Hufkens) ہریالی کی موسمی تبدیلیوں میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔ لہذا پچھلے موسم خزاں انہوں نے ایک ایسا نظام تیار کیا ہے، جو میساچوسیٹس کے ایک جنگل سے VirtualForest.io نامی ویب سائٹ کو مسلسل تصویریں براڈکاسٹ کرتا رہتا ہے۔ 360 ڈگری کی تصویریں کھینچنے والا کیمرہ استعمال کرنے کی وجہ سے ویب سائٹ دیکھنے والے افراد محض فیڈ دیکھنے کے علاوہ بھی بہت کچھ کرسکتے ہیں؛ وہ (اپنے کمپیوٹر سے) ماؤس کا کرسر یا (اسمارٹ فون یا ٹیبلیٹ سے) اپنی انگلی استعمال کرتے ہوئے پوری تصویر میں گھوم پھر سکتے ہیں یا اوپر اسکرال کرکے جنگل کی چھت دیکھ سکتے ہیں، یا نیچے اسکرال کرکے زمین کا نظارہ کرسکتے ہیں۔ ورچول رئیلٹی کا ہیڈسیٹ استعمال کرنے والے افراد اپنا سر گھما کر تصویر گھما سکتے ہیں۔

ہفکنس کے مطابق اس پراجیکٹ کے ذریعے نیو انگلینڈ میں پتوں کی نشونما پر موسمی تبدیلی کے اثرات کا ریکارڈ تیار کرنا ممکن ہے۔ اس کے کل اخراجات محض $550 ہیں، جس میں تصویر لینے والے ریکوح تھیٹا ایس (Ricoh Theta S) کیمرے کی قیمت، $350، شامل ہے۔

ہم اپنے چاروں اطراف خوبصورت نظاروں اور آواز کو 360 ڈگری میں دیکھتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک اس پورے سیاق و سباق کے تصویریں اور ویڈیو کھینچنے کے دو ہی طریقے تھے: یا تو مختلف زایوں پر مختلف کیمرے لگا کر یا $10,000 کا ایک خاص کیمرہ خرید کر۔ پراڈکشن کا کام بھی کافی سر کا درد تھا، اور اس میں اکثر کئی دن لگ جاتے تھے۔ پہلے تصویریں کھینچ کر انہيں کمپیوٹر میں منتقل کیا جاتا تھا، اور پھر مہنگے اور پیچیدہ سافٹ وئیر کے ذریعے ان سب تصویروں کو ایک تصویر میں جوڑا جاتا تھا، اور آخر میں فائل کو ایسے فارمیٹ میں تبدیل کرنا پڑتا تھا کہ لوگ باآسانی دیکھ سکیں۔

آج کل کوئی بھی $500 سے کم کا ایک اچھا سا 360 ڈگری کیمرہ خرید کر چند منٹ میں ویڈیو ریکارڈ کرکے فیس بک یا یوٹیوب پر اپ لوڈ کرسکتا ہے۔ اس میں سے بیشتر 360 ڈگری کے مشمولات صاف نہيں ہوتے ہیں، عمودی مشمولات سے خالی ہوتے ہیں، اور کافی حد تک بیزار کن بھی ہوتے ہیں۔ (کسی انجان شخص کی چھٹیوں کی ویڈیو چاہے گولے کی شکل میں ہو یا عام ویو میں، بیزاری اتنی ہی ہوتی ہیں۔) لیکن اگر Virtual Forest کی طرح اچھی 360 ڈگری کی تصویر یا ویڈیو بنائی جائے تو اس سے کوئی جگہ یا واقعہ زيادہ اچھا لگنے لگتا ہے۔

نیو یارک ٹائمز اور روئیٹر کے صحافی سام سنگ گئیر کے 360 (Samsung Gear 360) کیمرے، جن کی قیمت $350 ہے، استعمال کرکے ہیٹی میں طوفانوں کے نقصان یا غزہ میں پناہ گزین کے کیمپس جیسی چیزوں کو گولے کی شکل کی ویڈیو اور تصویر بنا کر پیش کررہے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی ایک ویڈیو میں نائجر کے عسکریت پسند گروپ بوکو حرم سے بھاگنے والوں کا ایک ہجوم دکھایا گیا ہے جنہیں امداد فراہم کی جارہی ہے۔ آپ کو پہلے تو ایک پک اپ ٹرک سے بوریاں اٹھانے والا ایک آدمی نظر آتا ہے، اور پھر بوریوں کی زمین پر گرنے کی آواز آتی ہے۔ سر گھمانے پر آپ کو کھانا لینے والوں کی بھیڑ اور ان کے ٹوٹے پھوٹے ٹھیلے نظر آتے ہیں۔ 360 ڈگری کا فارمیٹ اس قدر مسحورکن ہے کہ یہ خبروں کے لئے نیا معیار قا‏ئم کرسکتا ہے. بلکہ، ٹوئيٹر اپنے پیری اسکوپ (Periscope) ایپ کے ذریعے لائیو گولے کی شکل کی ویڈیو میں اسی چیز میں اضافہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

اس کی ایک اور مثال طبی شعبے کے لئے بنائی جانے والی گولے کی شکل کی ویڈیو زہے جن کے ذریعے لاس اینجیلس میں واقع اسٹارٹ اپ کمپنی گب لب (Giblib) طلباء کو سرجری سکھانے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ کمپنی آپریشن کی تصویریں اور ویڈیو کھینچنے کے لئے بیس بال کے سائز کے $500 کے 360fly 4K کیمرے کو مریض کے اوپر لگے سرجیکل لائٹ سے لگا دیتی ہے۔ اس 360 ڈگری کے منظر کے ذریعے طلباء سرجن اور سرجیکل سائٹ کے ساتھ ساتھ آپریٹنگ تھئیٹر کے لے آؤٹ اور عملے کے آپس میں تعلقات بھی دیکھ سکتے ہیں۔

کوڈیک کے Pixpro SP360 4K کی طرح، جس کی قیمت $450 ہے، باسکٹ بال، فٹ بال اور ہاکی کے میدانوں میں پیشہ ورانہ اور کالج کی ٹیموں کی مشقوں کےلئے دوسرے سستے کیمرے بھی نظر آنے لگے ہیں۔ کئی کوچوں کا کہنا ہے کہ عام ویڈیو کے مقابلے میں اس طرح کی ویڈیو سے کھلاڑیوں کی تیاری زیادہ بہتر ہوتی ہے۔

نت نئے اجزاء

يہ ایپلیکیشن اسمارٹ فون کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی اور متعدد لینس اور سنسر سے حاصل ہونے والی تصویروں کو ملانے والی کئی ٹیکنالوجیوں کی وجہ سے ممکن ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر 360 ڈگری کے کیمروں کو عام کیمرہ کے مقابلے میں زيادہ تونائی کی ضرورت ہوتی ہے، اور زيادہ گرمائش بھی پیدا کرتے ہیں، لیکن اسمارٹ فون میں استعمال ہونے والی چپس کی وجہ سے، جو توانائی کو بہتر طور پر استعمال کرتے ہیں، یہ اس قدر شدید مسئلہ نہيں رہا۔ 360fly اور ALLie کیمرہ میں سام سنگ کے مہنگے ترین فون میں لگے پراسیسر سے ملتے جلتے کوالکوم کے اسناپ ڈریگن (Qualcomm Snapdragon) کے پراسیسر لگے ہوئے ہیں۔

اسمارٹ فون کمپنیاں اپنے آلات میں اعلی معیار کی تصویریں کھینچنے کی صلاحیتیں شامل کرتی رہتی ہیں، اور اس وجہ سے کیمرہ کمپنیوں کو بھی بہت فائدہ ہوا ہے۔ مقابلے کی وجہ سے پرزے بنانے والی کمپنیاں، جیسے کہ سونی، زیادہ چھوٹے امیج کے سنسر بنانے کے علاوہ ان میں مدھم روشنی میں ہائی ریزولوشن کے ساتھ ساتھ اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت شامل کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں۔ اسمارٹ فون کی مارکیٹ اتنی بڑی ہے کہ پرزوں کے تخلیق کے اخراجات میں خاصی کمی آچکی ہے، جس کی وجہ سے 360 ڈگری کے کیمرہ بنانے والوں کے لئے اپنے آلات کی بھی قیمت کم رکھنا آسان ہوگيا ہے، اور اکثر کیمرے اب $500 سے بھی کم قیمت میں دستیاب ہونے لگے ہیں۔ 360 ڈگری کیمرہ بنانے والی اسٹارٹ اپ کمپنی سفیری کیم (Sphericam) کے سی ای او جیفری مارٹن (Jeffrey Martin) کہتے ہیں کہ اسمارٹ فون میں استعمال ہونے کی وجہ سے اب سنسروں کی قیمت $1،000 کے بجائے $1 ہوگئی ہے اور اب یہ اس قدر وسیع پیمانے پر تخلیق کئے جاتے ہیں کہ تخلیق کے اخراجات کافی کم ہوگئے ہیں۔ اس میں آپٹک ٹیکنالوجی میں بہتریوں کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔ روایتی کیمروں کے برعکس 360 ڈگری کیمروں میں فش آئی لینس نصب ہوتے ہیں جن میں تصویروں کو متعدد نقطوں پر فوکس کرنے اور ایک سیدھ میں لانے کے لئے خصوصی آپٹکس کی ضرورت ہوتے ہیں۔

زيادہ تر 360 ڈگری کے کیمروں میں ڈسپلے اور ویو فائنڈر نہيں ہوتے ہیں۔ اس کے بجائے کیمرہ بنانے والی کمپنیوں نے ایسے ایپس تیار کئے ہیں جنہیں آپ فون پر ڈاؤن لوڈ کرکے تصویریں کمپوز کرکے ان کی نظرثانی کرسکتے ہیں۔ کیمرے ان ایپس کے ساتھ وائرلیس طور پر متصل ہوتے ہیں، اور آپ ان میں سے کئی ایپس کے ذریعے تصویروں اور ویڈيو کو اپنے فون سے ہی فیس بک یا یو ٹیوب پر اپ لوڈ کرسکتے ہیں۔ ان سائٹوں نے بھی پچھلے سال لوگوں کو 360 ڈگری کے مشمولات لگانے کے ساتھ ساتھ انہین اسٹریم کرنے کی بھی سہولت پیش کی ہے۔

360 ڈگری کے مشمولات کے لئے متعدد تصویروں کو ایک ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہوتی ہے، اور لائیو اسٹریمنگ کو ممکن بنانے کے لئے عین وقت پر ان تصویروں کو جوڑنا کافی متاثر کن بات ہے۔ کمپیوٹر وژن کے الگورتھم سے یہ کام بہت آسان ہوگیا ہے اور اب یہ ساری چیزیں کیمرے کے ذریعے ہی کی جاسکتی ہیں، تاکہ ویڈیو کو لائیو اسٹریم کرنے میں کم سے کم تاخیر ہو۔ (صارفین کے استعمال کے لئے دستیاب کیمروں میں صرف دو ہی لینس ہوتے ہیں، اور لہذا اسٹیچ لائن بھی ایک ہی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ کام اور بھی آسان ہوگیا ہے۔ اس کے برعکس پیشہ ورانہ کیمروں میں چھ سے 24 لینس تک لگے ہوتے ہیں۔) ALLie کے کیمرے کے علاوہ ریکوح (Ricoh) کے جلد آنے والے ریکوح آر (Ricoh R) ڈیولپ منٹ کٹ کیمرہ اور کوڈیک کے آربٹ 360 4K سب (Orbit360 4K) میں فاسٹ اسٹیچنگ اور لائیو اسٹریمنگ کی سہولت موجود ہے۔

تحقیق کی کمپنی فیوچر سورس کنسلٹنگ (Futuresource Consulting) کے مطابق 2016 میں دنیا بھر میں فروخت ہونے والے کیمروں میں سے 1 فیصد کیمرے گولے کی شکل کی تصویریں بنانے والے تھے۔ توقع کی جاتی ہے کہ 2017 تک 4 فیصد کیمرے گولے کی شکل بنانے والے ہوں گے۔ ان آلات کی مقبولیت کی وجہ سے ورچول رئیلٹی کی صنعت کے علاوہ کیمرہ بنانے والوں کو بھی کافی فائدہ ہوگا۔ گولے کی شکل کی ویڈیو دیکھنے کے لئے خاص وی آر آلات کی ضرورت تو نہيں ہوتی، لیکن یوٹیوب کے مطابق کئی لوگ انہین دیکھنے کے لئے اپنے اسمارٹ فون کو گوگل کے کارڈبورڈ (Cardboard) اور دے ڈریم (Daydream) کے آلات جیسے وی آر ہیڈسیٹ استعمال کرتے ہیں۔ اور جیسے جیسے 360 ڈگری کے کیمروں میں تجربے کرنے والوں میں اضافہ ہوتا جائے گا، وی آر کے مشمولات میں بھی اضافہ ہوگا۔

فیس بک کی آکولس وی آر (Oculus VR) نامی ذیلی کمپنی کے چیف ٹیکنالوجی افسر جان کارمیک (John Carmack) کے مطابق لوگ وی آر پر گیمز کھیلنے کے علاوہ بہت کچھ کرنے والے ہیں۔ وہ ہیڈسیٹ استعمال کرکے، مثال کے طور پر، کسی کی شادی میں شریک ہوسکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق، گولے کی شکل کی ویڈیو دیکھنے کے بعد لوگوں کا ویڈیو دیکھنے کا طریقہ مکمل طور پر بدلنے والا ہے۔ تھری ڈی میں گولے کی شکل کی تصویر کھینچنے والا $800 بنانے والی کمپنی ہیومن آئیز (Humaneyes) کے مطابق لوگوں کو صرف 10 گھنٹے تک 360 ڈگری کے مشمولات دکھانے کی ضرورت ہے، اس کے بعد وہ خود بخود تمام ویڈیو کے ساتھ انٹر ایکٹ کرنے کی کوشش کرنے لگ جائيں گے۔ جب آپ کسی دوسری دنیا میں لے جانے والی 360 ڈگری کی تصاویر دیکھتے ہیں، اس کے بعدآپ کا دل انہین بار بار دیکھنے کو چاہے گا۔

تحریر: الیزابیتھ ووئيک (Elizabeth Woyke)

Read in English

Authors
Top