Global Editions

پچھلی دہائی میں بھی ماحولیاتی تبدیلی میں کچھ خاص پیش رفت نہيں ہوسکی

گرین ہاؤس گیس کے اخراجات وہ واحد پیمائش ہے جس کے متعلق ہمیں فکرمند ہونے کی ضرورت ہے، اور انہی میں اضافہ ہوتا گيا۔

ایک اور دہائی گزر گئی، لیکن ماحولیاتی تبدیلی کا مسئلہ جوں کا توں ہی رہا۔

گرین ہاؤس گیسز میں تباہ کن حد تک اضافہ ہورہا ہے، اور اب تک کرہ ہوا میں ان کا اخراج ختم نہيں ہوپایا۔ پچھلی دہائی کے دوران اخراجات میں کمی لانے سے قاصر ہونے کے باعث عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود کرنے کا خواب ادھورا رہ گیا۔ اب تو اسے دو ڈگری سیلسیس تک محدود کرنا بھی ناممکن لگ رہا ہے۔

آدھے ڈگری کا یہ فرق دنیا کے لیے کسی عذاب سے کم ثابت نہيں ہوگا۔ اس سے نہ صرف سمندری حیات تہس نہس ہوجائی گی بلکہ دنیا کی 40 فیصد کے قریب آبادی گرمی کی جان لیوہ لہروں کا شکار بھی رہے گی۔

ایسا نہيں ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کی روک تھام کے لیے کوئی اقدام نہيں کیے گئے۔ قابل تجدید توانائی اور برقی گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے اور 2016ء میں پیرس میں طے ہونے والے ماحولیاتی معاہدے پر 200 ممالک نے دستخط کرکے گرین ہاؤس گیسز کے اخراجات کم کرنے کی جانب عہدبستگی کا اظہار کیا ہے۔

لیکن سچ تو یہ ہے کہ کئی ممالک اس معاہدے کے تحت اپنے وعدے پورے میں ناکام ثابت ہوچکے ہيں۔ امریکہ ہی کی مثال لے لیں جو اخراجات میں کمی کے بجائے پیرس کے معاہدے سے جان چھڑانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ س کے علاوہ، ایک طرف صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز کو فروع دیا جارہا ہے، لیکن دوسری طرف ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے کارخانوں، گاڑیوں، اور عمارتوں پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہيں کی جارہی۔

کاربن ڈائی آکسائيڈ میں اضافہ

ماحولیاتی تبدیلی میں صرف ایک ہی پیمائش اہم ہے، اور وہ ہے عالمی گرین ہاؤس گیس کے اخراجات، جس میں مستقل اضافہ ہوتا گیا۔

ایک وقت تھا جب کچھ امید تھی کہ گرین ہاؤس گیس کی آلودگی مستحکم ہوجائے گی۔ 2013ء سے لے کر 2016ء تک حیاتیاتی ایندھن سے پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائيڈ میں، جو انسانی سرگرمی کے باعث پیدا ہونے والے اخراجات کا 90 فیصد حصہ ہے، زيادہ اضافہ نہیں ہوا۔

اس تبدیلی کی وجوہات میں امریکہ اور یورپی یونین جیسے ترقی یافتہ ممالک میں توانائی کے بہتر استعمال اور قابل تجدید توانائی اور کوئلے کے بجائے قدرتی گیس کے استعمال میں اضافہ شامل ہیں۔ لیکن 2016ء کے بعد چین اور بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک میں معاشی ترقی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث گرین ہاؤس اخراجات میں بہت تیزی سے اضافہ سامنے آیا۔

گلوبل کاربن پراجیکٹ (Global Carbon Project) کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019ء میں حیاتیاتی ایندھن کے اخراجات 0.6 فیصد اضافے کے بعد 37 ارب میٹرک ٹن تک جا پہنچے۔

کرہ ہوا میں کاربن ڈائی آکسائيڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار پر نظر ڈالنے کے لئے تصویر پر کلک کریں:

ان رجحانات کے علاوہ دیگر سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے اخراجات کے باعث 2010ء کی پوری دہائی کے دوران کاربن ڈائی آکسائيڈ کے ارتکاز میں اضافہ جاری رہا۔

چوٹی تک پہنچنا

یہ بات بہت اہم ہے کہ ہم اخراجات کی چوٹی تک کب پہنچتے ہيں۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل چارٹس میں دکھایا گيا ہے، ہم اس میں جتنی زيادہ تاخیر کریں گے، درجہ حرارت میں خطرناک اضافوں اور کاربن کی آلودگی سے بچنے کے لیے اتنی ہی زيادہ تگ و دو کرنی ہوگی۔

یہ دیکھنے کے لیے کہ پچھلی دہائی میں وقت ضائع کرنے کی وجہ سے گلوبل وارمنگ کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود کرنے کا کام کس حد تک مشکل ہوچکا ہے، مندرجہ ذیل چارٹ پر کلک کرکے دیکھیں کہ 2010ء میں اخراجات کی سطح مستحکم ہونے اور 2020ء میں چوٹی تک پہنچنے کے درمیان کتنا زيادہ فرق ہے۔

(یہ چارٹس سینٹر فار انٹرنیشنل کلائیمیٹ ریسرچ کے روبی اینڈریوز کے ڈیٹا اور چارٹس کی مدد سے کاربن بریف کے لیے تیار کیے گئے تھے)۔

اس کے علاوہ، گلوبل وارمنگ کو دو ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کے لیے اخراجات میں تیزی سے کمی لانے کی ضرورت ہوگی۔

اخراجات میں کمی کے علاوہ، نئے ماڈلز کے ذریعے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان اہداف کے حصول کے لیے کرہ ہوا سے وافر مقدار میں کاربن ڈائی آکسائيڈ نکال کر ذخیرہ کرنے کے لیے درختوں اور کئی دیگر طریقہ کار کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہوگی۔ تاہم وسیع پیمانے پر ان”منفی اخراجات“ سے وابستہ اقدام عملدرآمد کرنا مہنگا بھی ثابت ہوگا اور اس سے زمین کھیتی باڑی جیسے دوسرے کاموں کے لیے استعمال نہیں کی جاسکے گی۔

ماحولیاتی اثرات

عرصہ دراز سے سائنسدان تنبیہہ کررہے ہیں کہ اخراجات میں اضافے کی صورت میں عالمی درجہ حرارت بھی بڑھ جائے گا، اور اب ایسا ہی ہورہا ہے۔

پچھلی دہائی کے دوران بیسویں صدی کے اوسط درجہ حرارت کے ساتھ موازنہ دیکھنے کے لیے تصویر پر کلک کریں:

کچھ عرصہ پہلے، ورلڈ میٹیورولوجیکل آرگنائزیشن (World Meteorological Organization) نے اعلان کیا کہ ”بے مثال گلوبل وارمنگ کی پوری دہائی“ میں 2019ء تاریخ کا دوسرا یا تیسرا سب سے گرم سال ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہيں ہے کہ پچھلے پانچ اور 10 سال پر مشتمل میعادوں کے درجہ حرارت تاریخ کے بلند ترین ہوں گے۔

پچھلی دہائی کے دوران سمندری سطح میں کتنا اضافہ ہوا؟ یہ جاننے کے لیے تصویر پر کلک کریں:

اس چارٹ میں نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمینیسٹریشن (National Oceanic and Atmospheric Administration) سے حاصل کردہ ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے عالمی زمینی درجہ حرارت کا بیسویں صدی کے اوسط درجہ حرارت کے ساتھ موازنہ کیا گيا ہے۔ اس میں پچھلے 10 سالوں میں اس درجہ حرارت کا اضافہ خاص طور پر واضح ہے۔

زمین کے ساتھ ساتھ سمندری درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے پانی کا حجم بھی بڑھ رہا ہے۔ ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا سے تیار کردہ اس چارٹ میں بتایا گيا ہے کہ پانی کے اس بڑھتے ہوئے حجم کے علاوہ برفانی تودوں اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث سمندری سطحوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

2010ء کی دہائی میں ماحولیاتی تبدیلی کے جو اثرات سامنے آئے ہیں، انہیں اب نظرانداز کرنا ناممکن ہوگيا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ بحیرہ شمالی کی سمندری برف ماڈلز کی پیشگوئیوں سے بھی زيادہ تیز رفتاری سے پگھل رہی ہے۔ سمندری حیات میں تباہ کن حد تک کمی آچکی ہے۔ اس کے علاوہ، دنیا کے کئی حصے تاریخ کے بدترین اور مہنگے ترین سیلاب، طوفان، گرمی کی لہریں، اور جنگلات کی آگ کا شکار ہوچکے ہيں۔

کاربن ڈائی آکسائيڈ کو پوری طرح گرمائش کا مظاہرہ کرنے میں کئی سال لگتے ہيں اور ہم نے اب تک اخراجات میں کمی لانے کی کوششیں شروع نہيں کی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگلی دہائی میں ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات شدت اختیار کرسکتے ہيں۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors

*

Top