Global Editions

ٹیسلا دنیا کی سب سے بڑی لیتھیم آئن بیٹری بنانے والے ہیں

پیزا کی طرح، اس میں بھی "تاخیر کی صورت میں بالکل مفت" کی ضمانت ہوگی۔

ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ٹیسلا جنوبی آسٹریلیا میں لیتھیم آئن بیٹریوں کا ایک بینک قائم کرنے والے ہیں، جس کی کل گنجائش 129 میگاواٹ گھنٹے ہوگی اور جو دنیا کی سب سے بڑی لیتھیم آئن بیٹری ہوگی۔

اس سکیم کے ذریعے ایک بڑی سی گرڈ بیٹری دستیاب ہوگی جسے قریبی ہورنزڈیل ونڈ فارم (Hornsdale Wind Farm) سے متصل کیا جائے گا۔ ان بیٹریوں کو اضافی بجلی سے چارج کیا جائے گا اور جب مانگ میں اضافہ ہوجائے گا تو ان بیٹریوں کی مدد سے اس مانگ کو پورا کیا جائے گا۔

ان بیٹریوں کو نصب کرنے کا فیصلہ پچھلے سال جنوبی آسٹریلیا میں طوفانوں اور گرمی کی لہر کی وجہ سے پیدا ہونے والے بجلی کے بحران کے بعد کیا گیا تھا۔ ایسے اقدام سے گرڈ کے تحفظ میں اضافہ بھی متوقع ہے۔

مارچ میں مسک نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر یہ سسٹم 100 روز میں نصب نہیں ہوپایا تو وہ اس کے معاوضے کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ دی گارڈین (The Guardian) نامی اخبار کے مطابق جنوبی آسٹریلیا کی ریاستی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ ٹیسلا کے ساتھ ان کے معاہدے میں یہ شرط شامل ہے۔

ٹیسلا کو امید ہے کہ انھوں نے جس طرح جنوری میں کیلیفورنیا میں 80 میگاواٹ گھنٹے کے سسٹم کی تنصیب 90 روز میں مکمل کرلی تھی، اسی طرح وہ جنوبی آسٹریلیا میں 100 روز کے اندر تنصیب مکمل کرنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے۔ دی گارڈین کے مطابق مسک اس پراجیکٹ کو درپیش مشکلات کا اعتراف کرچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود انھیں پورا اعتبار ہے کہ وہ یہ اسے وعدے کے مطابق مکمل کر پائیں‬‎ گے۔

اس قسم کی گرڈ کے ذخیرے کی ٹیکنالوجی کے لیے لیتھیم آئن بیٹریوں کے استعمال کے فوائد محدود ہیں۔ نہ تو ان کی قیمت اتنی کم ہے، اور نہ ہی ان میں زيادہ چارج اور ڈسچارج سائیکل برداشت کرنے کی سکت ہے۔ کئی لوگوں نے اس کے متبادل ڈھونڈ نکالنے کی کوششیں تو کی ہیں، لیکن اب تک کوئی ٹھوس اور قابل عمل متبادل سامنے نہیں آیا ہے۔ جس رفتار سے لیتھیم آئن کی بیٹریوں کی قیمتیں گر رہی ہیں، ان کے جلد ہی منافع بخش ثابت ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ خاص طور پر اس صورت میں جب ان کی تنصیب میں چند روز کی تاخیر ہوجائے۔

تحریر: جیمی کونڈلیف (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top