Global Editions

ٹیکنالوجی نے رقم کی ادائیگی کے منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا ہے

جیسے جیسے رقم کی ادائیگی کے جدید طریقے سامنے آرہے ہیں، کیش کے استعمال کو کافی سخت مقابلے کا سامنا ہورہا ہے لیکن ممکن ہے کہ اس دوڑ میں آگے نکلنے والے بینک اور کریڈٹ کارڈ کمپنیاں ہی ہوں گے۔

ترقی یافتہ ممالک میں پیسہ کئی دہائیوں سے ڈیجیٹل شکل میں استعمال ہورہا ہے۔ مغرب میں بہت ہی کم ایسے افراد ہوں گے جن کوان کی تنخواہیں چیک کی شکل میں ملتی ہوں گی۔ ہماری تنخواہوں کو ڈائریکٹ ڈپازٹ کے ذریعے الیکٹرانک طریقے سے ہمارے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح ہمارے کمپنی کے بیمہ اکاؤنٹس کے لیے رقم کی کٹوتی بھی ہوجاتی ہے اور ہمارے گھر کے کرایے، بجلی کے بل یا دیگر اخراجات کی ادائیگی ہوجاتی ہے۔

لیکن آج بھی معیشت کیش ہی پر انحصار کرتی ہے اور دنیا بھر میں 85 فیصد ٹرانزیکشنز میں نوٹوں اور سکوں ہی کا استعمال ہوتا ہے۔ سنگاپور اور نیدرلینڈز جیسے چند ممالک میں کیش صرف چند ہی جگہوں پر استعمال ہوتا ہے لیکن ماسٹرکارڈ ایڈوائزرز (MasterCard Advisors) کی تحقیق کے مطابق بھارت، میکسیکو، اٹلی اور تائیوان جیسے کئی ممالک میں 90 فیصد سے زائد ٹرانزیکشنز کیش سے ہی ہوتے ہیں۔ امریکہ میں بھی 55 فیصد ٹرانزیکشنز میں کیش ہی کا استعمال ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل والٹ، کرپٹوکرنسیاں اور موبائل پیئر ٹو پیئر ادائيگيوں جیسی نئی ٹیکنالوجیز اس توازن میں تبدیلی لانے کی کوشش کررہی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجیز ان ممالک میں جہاں بینک اور کریڈٹ کارڈ کے متبادل موجود ہیں، صارفین کو کیش سے دور لے جارہی ہیں اور اب وہ ترقی پذیر ممالک میں بھی ایسا ہی کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

اس بزنس رپورٹ میں جو سوال اٹھایا گيا ہے وہ یہ ہے کہ اس تبدیلی میں کونسی ٹیکنالوجیز اور کمپنیاں نمایاں رہیں گی۔

ان نئی ٹیکنالوجیز کو طویل عرصے سے قائم ادائیگی کے طریقہ کار کے ساتھ تعلقات کے نقطہ نظر سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایپل پے (ApplePay) اور لوپ پے (LoopPay) جیسی ٹیکنالوجیز بینک اور کریڈٹ کارڈ کمپنیوں کے موجودہ نیٹ ورک کو ہی استعمال کرتی ہیں۔ ان نئی ٹیکنالوجیز کا کام ان قائم شدہ نظاموں کو زيادہ تیز، زيادہ سہل یا زيادہ محفوظ بنانے اور کیش کے ٹرانزیکشنز کو ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کرنا ہے۔ ایک مختلف قسم کی ٹیکنالوجی موجودہ نظاموں کی جگہ نیا نظام متعارف کروانے کی کوشش کررہی ہے، جس کی وجہ سے ادائیگیاں، ان کی ضمانت اور ان کی ٹریکنگ کی صنعت کو بنیادی چیلنج کا سامنا ہوگا۔ ان میں پرسن ٹو پرسن ادائیگی اور سوشل نیٹ ورک ایپ وین مو (Venmo)، جو سالانہ3 ارب ڈالر کی ادائیگیاں پراسیس کرتا ہے اور ویزا اور دیگر نیٹ ورکس کی حریف کمپنی ڈووالا (Dwolla) شامل ہیں۔

بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کی پیش گوئی کے مطابق 2023‍ء تک ٹیکنالوجی کی وجہ سے چیزیں خریدنے کے طریقہ کار میں تبدیلی سے اس صنعت کی آمدنی 2013ء کی آمدنی سے دگنی ہو کر2 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اس میں ترقی پذیر ممالک میں کیش کے استعمال میں کمی کا کافی بڑا ہاتھ ہوگا۔ لیکن بی سی جی یہ بھی پیش گوئی کرتے ہیں کہ یہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کریڈٹ کارڈ کے موجودہ نظام کو یہ ثابت کرنے کا موقع فراہم کریں گی کہ وہ دوسروں سے کس قدر بہتر ہے؟

میٹرکس پارٹنرز (Matrix Partners) سے وابستہ وینچر کیپیٹلسٹ ڈینا سٹالڈر (Dana Stalder) کے مطابق، جو پہلے ای بے (eBay) اور پے پال (PayPal) سے بھی وابستہ رہ چکی ہیں، اور اب سمارٹ کریڈٹ کارڈ ٹرمینل متعارف کرنے والی کمپنی پوائنٹ (Poynt) کے بورڈ کی رکن بھی ہیں، اس صنعت میں انقلاب سمارٹ فون کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔ ڈیٹا ٹریکنگ کمپنی سی بی انسائٹس (CB Insights) کے مطابق جنوری 2013ء سے لے کر جون 2014ء تک وینچر کیپیٹلسٹس رقم کی ادائیگی کی ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی کمپنیوں میں 2 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرچکے ہیں۔

تاہم اس تازہ ترین صورتحال کی وجہ سے موجودہ بینکس اور کریڈٹ کارڈ کمپنیوں کو ہی زيادہ مستحکم ہونے میں مدد ملی ہے۔ اس کی ایک بہت اچھی مثال ایپل پے (Apple Pay) ہے۔ گوگل والٹ (Google Wallet) اور پے پال (PayPal) کے برعکس ایپل پے دنیا بھر کے بینکوں اور کریڈٹ کارڈ کمپنیوں کی جگہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ ایپل پے کا ڈیجیٹل والٹ آپ کے والٹ میں رکھے ہوئے کارڈ ہی کی طرح ہے۔ لوپ پے (LoopPay) نامی ڈیجیٹل والٹ ایپل پے سے زيادہ ٹرمینلس میں استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں آپ کے کریڈٹ کارڈ کی مقناطیسی سٹرپ کی کوڈنگ کو سیمولیٹ کرنے کے لیے پیتل کے لوپ کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، اور یہ موجودہ کریڈٹ کارڈ سسٹم پر ہی انحصار کرتا ہے۔

لوپ پے کے سی ای او ول وینگ گرے لن (Will Wang Graylin) کہتے ہیں کہ اس انفراسٹرکچر کو کھڑا کرنے میں بہت وقت لگا تھا کیونکہ مرچنٹس کے طور طریقوں کو تبدیل کرنا آسان نہیں تھا۔

ہوسکتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں، جہاں آج بھی کیش ہی کا راج ہے، ادائیگی کے طریقہ کار میں جدت پسندی زیادہ کامیاب ہوجائے۔ ان ممالک میں رہنے والے افراد لینڈ لائن اور کیبل کی طرح اے ٹی ایمز اور چیکس کو چھوڑ کر کیش سے سیدھا موبائل پیسے کی طرف جارہے ہیں۔ کینیا اور تنزانیہ میں زور پکڑنے والی کمپنی ایم پیسہ (M-Pesa) نے پیسے کو سیلولر کرنسی میں تبدیل کردیا ہے جس سے موبائل فون کے بیلنس کے ساتھ ساتھ اور بھی دوسری چیزیں خریدی جاسکتی ہیں۔ آج، کینیا میں 60 فیصد بالغ افراد موبائل فون کے ذریعے رقم بھیجتے بھی ہیں اور وصول بھی کرتے ہیں۔

وہ کونسی ایسی چیز ہے جو ادائیگی کی ٹیکنالوجیز کی اس تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے؟

تحفظ اور سلامتی کے مسائل

کنسلٹنگ کمپنی ایکسنچر (Accenture) نے حال ہی میں شمالی امریکہ میں 4,000 صارفین کا سروے کیا، جس سے انھیں معلوم ہوا کہ موبائل ادائیگیوں کے استعمال کی توقع رکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن ان میں سے 57 فیصد افراد کو ان ٹرانزیکشنز کے تحفظ کی فکر ہے۔ دو سال پہلے یہ شرح 45 فیصد تھی۔

نئے طریقے اس سلسلے میں فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایپل پے، گوگل والٹ اور دیگر کمپنیاں صارفین کے کریڈٹ کارڈ کے معلومات کے بجائے ہر ٹرانزیکشن کے دوران ایک دفعہ استعمال کیا جانے والے ڈیجیٹل ٹوکن بنا کر بھیجتی ہیں۔

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موبائل سے رقم کی ادائیگی سے فنانس کے عالمی ایکو سسٹم میں انقلاب نہ بھی آئے تو بہتری تو ضرور آجائے گی۔

تحریر: نینیٹ برنس (Nanette Byrnes)

Read in English

Authors
Top