Global Editions

جدیدٹیکنالوجی: چمکتی سکرینوں میں پنہاں اندھیرا

ڈیجیٹل مواصلت ہمیں ہمہ وقت دوسروں سے جڑا رکھتی ہے، لیکن اس سے ہماری ذہنی صحت کس طرح متاثر ہورہی ہے؟

2020ء شروع ہوتے ہی کئی لوگ اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کے حوالے سے کافی پریشانی کا شکار تھے۔ ہم میں سے کئی لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے ’زمانے کے ساتھ چلنے‘ کے چکر میں ہر سال کے طرح بے تکے اور غیرسنجیدہ عزم کرنے کے بجائے اپنی زندگیوں پر غوروفکر کرنے کا ارادہ کیا۔

لیکن سچ پوچھیں تو ملینیلز (یعنی جنریشن وائی) اور جنریشن زیڈ سے تعلق رکھنے والے نوجوان اس نئی دہائی کا خیرمقدم ناامیدی اور ڈپریشن کے ساتھ کررہے ہيں۔ ہم اپنی زندگیوں میں ہر عیب، ہر نقص، ہر کمی ختم کرنے کی کھوج میں رہتے ہيں، لیکن ہماری ہر کوشش ناکام ہی رہتی ہے، اور ہمارے چاروں طرف ہر کوئی ہماری طرح اپنی زندگی تباہ کرنے میں لگا ہوا ہے۔

مسئلہ کس حد تک پھیلا ہوا ہے؟

کتنے لوگ ایسے ہیں جو کسی نہ کسی ذہنی مرض کا شکار ہیں؟ ہمارے  پاس اس سوال کا جواب دینے کے لیے  پورا ڈیٹا تو موجود نہيں ہے، لیکن یہ بات طے ہے کہ ایسے افراد کی تعداد کم نہيں۔ مینٹل ہیلتھ پاکستان (Mental Health Pakistan) کے 2015ء  میں جاری کردہ ایک مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہمارے یہاں ذہنی صحت کو جتنی اہمیت دینی چاہیے، اس پر اتنی توجہ نہيں دی جارہی۔ ہر دس ہزار افراد کے لیے صرف ایک، اور چالیس لاکھ بچوں کے لیے ایک ماہر نفسیات موجود ہے۔ بیس کروڑ افراد کی آبادی رکھنے والے اس ملک میں صرف چار نفسیاتی ہسپتال قائم کیے گئے ہيں، اور وہ بھی صرف بڑے شہروں میں۔

حالیہ رپورٹوں کے مطابق پاکستان کی ایک تہائی آبادی ذہنی اضطراب کا شکار ہے۔ یہی نہيں، خودکشی کے اعداد و شمار پر نظر دوڑانے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اپنی جان لینے والے افراد میں سے 71 فیصد ڈپریشن کے باعث اور 12 فیصد افراد ذہنی اضطراب کے باعث ایسا کرتے ہيں۔

کیا ان بڑھتے ہوئے اعداد و شمار کا ہماری حد سے زيادہ کنیکٹڈ دنیا سے کوئی تعلق ہے؟ معلومات کی بھرمار سے لے کر ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سے تھکاوٹ تک، ہم سب ہی ٹیکنالوجی سے کسی نہ کسی وجہ سے پریشان ہیں۔ ذہنی صحت اور ٹیکنالوجی کے درمیان تعلق کے بارے میں عوام الناس کے کیا تاثرات ہیں؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے میں نے ان لوگوں سے بات کرنے کا فیصلہ کیا جو ٹیکنالوجی سے سب سے زيادہ متاثر ہورہے ہیں۔ جواب دہندگان کی پرائیوسی کے تحفظ کے لیے کچھ افراد کے نام تبدیل کیے گئے ہيں۔

28 سالہ خالد* کے والد ایک دفتر میں صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کام کرنے کے بعد گھر آجایا کرتے تھے۔ ان کے پاس نہ تو لیپ ٹاپ تھا اور نہ ہی موبائل فون، جس کے باعث ان کے لیے رات گئے گھر بیٹھے اپنے دفتر کی ذمہ داریاں پوری کرنا ناممکن تھا۔ خالد بتاتے ہيں کہ ”ان کے مینیجر کے لیے دفتری اوقات کے بعد ان کے گھر آنے کے علاوہ ان سے رابطہ کرنے کا کوئی طریقہ نہيں تھا۔“

لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ہمارے لیے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے جان چھڑانا ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ خالد ایک ڈيجیٹل مارکیٹر کے عہدے پر فائز ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس ہمہ وقت کنیکٹیویٹی سے ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگیوں کے درمیان توازن قائم کرنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ ٹیکنالوجی ایک طرف تو ہمیں سنہرے خواب دکھاتی ہے، لیکن دوسری طرف ہماری زندگیوں میں اندھیرے پھیلاتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی بدولت ہمیں ایسے ٹولز میسر ہوئے جن سے ہماری زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہوئی ہيں، لیکن ساتھ ہی ہمارے آجروں کو بھی ہمارے سر پر 24 گھنٹے سوار رہنے کا سامان دستیاب ہوگیا ہے۔ آج کل کے دور میں مقابلہ سخت ہوتا جارہا ہے اور ہمارے پاس اب اپنی پیشہ ورانہ زندگیوں کو زيادہ سے زیادہ وقت دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہيں ہے، جس سے ہماری ذاتی زندگیاں بری طرح متاثر ہورہی ہيں۔

خالد کہتے ہیں کہ ”میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ میں بری طرح پھنس گیا ہوں۔ بعض دفعہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ میرے پاس کوئی راستہ نہيں ہے اور میری زندگی کی ڈور میرے بجائے میرے اطراف موجود صورتحال کے ہاتھ میں ہے۔“

ہم روز اپنی زندگی سنوارنے کے لیے کسی نہ کسی ڈیجٹل ایپ کا استعمال کرتے رہتے ہيں۔

معلومات کی بھرمار ہمیں کہیں کا نہيں چھوڑے گی

1990ء کی دہائی میں میڈیا تھیورسٹ اور ثفاقتی نقاد نیل پوسٹ مین (Neil Postman) نے ایک ایسے دورکے متعلق انتباہ کیا تھا جس میں لوگ معلومات کی تخلیق پر حد سے زيادہ توجہ مرکوز کریں گے، لیکن اس معلومات کو منظم کرنا ضروری نہيں سمجھا جائے گا۔ ہمارے اطراف موجود دنیا پہلے ہی سے ہماری سمجھ سے باہر ہے، اور اس پر ہم نے گویا دنیا بھر کی تمام معلومات کے عوض اپنی ذات ہی کو گروی رکھوا لیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم اب ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہوگئے ہیں جہاں ہمیں معلوم تو بہت کچھ ہے، لیکن ہماری سمجھنے کی صلاحیت محدود ہوچکی ہے۔ معلومات میں اضافہ کرنے سے زندگی ہر وقت آسان نہیں ہوتی، اور اب ہر چیز کے متعلق اس قدر زيادہ معلومات موجود ہے کہ لوگ ہر چیز سے بے زار نظر آنے لگے ہیں۔

ہم ماضی میں بھی مذہب، سیاست اور حالات حاضرہ پر طویل و عریض بحث و مباحثہ کرتے تھے، لیکن پہلے ہماری باتیں ہمارے گھروں میں شروع ہو کر وہیں ختم ہوجایا کرتی تھیں۔ اب ہم انٹرنیٹ فورمز میں انجان لوگوں کے ساتھ بحث کرتے ہيں جو ذرا سے اختلاف پر دوسروں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیتے ہيں۔

حالیہ ترین جنرل الیکشنز کے دوران جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) زور پکڑ رہی تھی، اس وقت کئی لوگ نوجوانوں کو پچھلی نسلوں سے زیادہ معلومات رکھنے پر داد دے رہے تھے۔ معلومات کی آن لائن دستیابی کے باعث نوجوان ووٹرز کو اچھے سے معلوم تھا کہ وہ کس کو ووٹ دے رہے ہیں اور کیوں، اور کہا جارہا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات پاکستانی تاریخ کے سب سے زيادہ معنی خیز تھے۔ تاہم سوشل میڈیا پر ان انتخابات کے متعلق جو بحث و مباحثہ چل رہا تھا، اس میں ایک عجیب قسم کا وحشی پن نظر آرہا تھا۔

ماضی میں طلباء کی سیاسی سرگرمیاں صرف ریلیوں میں شرکت اور بیان بازی تک محدود تھیں، لیکن اس بار نوجوان سوشل میڈیا پر اپنے فلٹر ببلز (filter bubbles) میں رہتے ہوئے سٹیٹس اپڈیٹس اور توہین آمیز سیاسی میمز (memes) کا سہارا لے رہی تھے۔ مسعود*، جن کے تین جوان بچے ہيں، کہتے ہيں کہ ”ہماری نسل کے سیاسی طور پر فعال افراد صرف یونینز اور ریلیوں میں ہی حصہ لیتے تھے، لیکن یہ نوجوان نسل اس کے علاوہ بہت کچھ کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اب ہر چیز سے بدزن ہوتے جارہے ہيں۔ سب کو سب کچھ پتا ہے، اور ہر کوئی ہر ایک چیز کو سمجھنے کی کوشش کررہا ہے۔“

میمز کا سہارا

یہ بات سچ ہے کہ جنریشن وائی اور جنریشن زیڈ سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایسے مسائل کا شکار ہيں جن کا پچھلی نسلوں نے شاید نام بھی نہ سنا ہو۔ تاہم ان کی زندگیاں ان مسائل کی وجہ سے نہيں بلکہ اختیارات کی بہتات کی وجہ سے مشکل ہورہی ہيں۔ آسٹریلیا میں اپنا پی ایچ ڈی مکمل کرنے والی 33 سالہ ماریہ* کا خیال ہے کہ اختیارات اور ذمہ داری میں اضافے سے زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔

وہ کہتی ہيں کہ ”ہمارے پاس ایسے اختیارات موجود ہیں جو ہمارے والدین، خاص طور پر ہماری ماؤں، کے پاس کبھی نہيں تھے۔ ہم ذہنی صحت کے تصور سے اچھی طرح واقف ہيں اور ہمارے پاس مشکل صورتحال سے باہر نکلنے کے راستے بھی موجود ہیں۔ اگر کسی کے پاس کوئی چارہ نہ ہو تو وہ چپ چاپ ناگوار صورتحال میں گزارہ کرلیتا ہے۔ لیکن دستیاب وسائل کی مدد سے صورتحال تبدیل کرنا بہت زيادہ مشکل ثابت ہوتا ہے۔“

ملینیلز اور ان کے بعد آنے والی نسلیں نہ صرف اپنے ذہنی مسائل سے واقف ہيں بلکہ وہ دنیا کی باتوں کی پرواہ کیے بغیر ان کے بارے میں بات کرنے کو تیار بھی ہيں۔ بعض دفعہ وہ اپنا غم غلط کرنے کے لیے میمز کا سہارا لیتے ہيں۔ بلکہ کبھی کبھار تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا کے تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے ہنسی مذاق سے ہی کام لیا جاتا ہے۔ جب کسی کو اپنے چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آرہا ہو تو مزاحیہ میمز بنانے میں دیر نہيں لگتی۔

آگاہی اور ناامیدی

ذہنی صحت کی کاؤنسلر ماہا عباسی اعتراف کرتی ہيں کہ جنریشن وائی اور زیڈ کئی مشکلات کا شکار ہيں، لیکن ان کے خیال میں ان کی صورتحال پچھلی نسلوں سے بہتر ہے۔

وہ کہتی ہيں کہ ”ہم اس وقت نفسیاتی مسائل کے لیے مدد حاصل کرنے کے تصور کو معاشرتی طور پر زیادہ قابل قبول بنانے کے لیے جد و جہد کررہے ہیں، جس کے نتیجے میں اب ذہنی امراض کے شکار زيادہ لوگ آواز اٹھا رہے ہیں اور تھراپسٹس سے رابطہ کررہے ہیں۔ زندگی کی ہر پریشانی کو نظرانداز نہيں کیا جارہا۔ ماضی میں لوگوں اور ان کی ذہنی صحت کے متعلق زیادہ ڈیٹا موجود نہيں تھا، اور میرا خیال ہے کہ اس محدود معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا غلط ہوگا کہ موجودہ نسل پچھلی نسل سے زیادہ پریشان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ نوجوان نسل اپنی پریشانی کا حل ڈھونڈنے کے لیے زيادہ تیار ہے۔“

ماہا کہتی ہيں کہ ٹیکنالوجی ایک طرف تو لوگوں کو درست معلومات کے حصول میں معاونت فراہم کرتی ہے، لیکن دوسری طرف ان کے ڈپریشن میں اضافہ بھی کررہی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ”میرے پاس اکثر ایسے کلائنٹس آتے ہيں جنہوں نے گوگل سے اپنے مرض کے متعلق پہلے سے معلومات حاصل کی ہوتی ہیں۔ یہ سچ ہے کہ معلومات لوگوں کو بااختیار بناتی ہیں، لیکن ہمارے بڑوں نے بھی خوب کہا ہے: نیم حکیم، وبال جان۔ میرے کلائنٹس اکثر یہی شکوہ کرتے ہيں کہ انہيں انٹرنیٹ پر ‘دوسروں’ کی خوش باش زندگیاں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کچھ حاصل نہيں کیا۔“ ماہا کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو آپس میں جوڑ کر رکھتا ہے، لیکن ساتھ ہی ہمیں دوسروں سے الگ بھی کررہا ہے۔

ایسے کئی لوگ ہيں جو سمجھتے ہيں کہ انہوں نے واقعی اپنی زندگیوں میں کچھ نہيں کیا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی ماہر تعلیم زنیرہ ندیم نے ایک دہائی پہلے سوشل میڈیا استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ اس وقت تو انہيں بہت مزہ آیا لیکن ایک وقت ایسا آیا جب انہیں احساس ہوا کہ سوشل میڈیا پر دکھاوے کے باعث وہ ذہنی اضطراب اور ڈپریشن کا شکار ہورہی تھیں۔ انہیں اکثر محسوس ہوتا تھا کہ دوسروں کے مقابلے میں ان کی زندگی میں کچھ کمی ہے۔

بحیثیت ایک ماہر تعلیم، زنیرہ کو صاف نظر آتا ہے کہ ٹیکنالوجی ان کے طلباء پر حاوی ہورہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”میرے طلباء اپنی زندگیاں، یہاں تک کہ اپنی تعلیمی زندگیاں، فون پر ہی گزار دیتے ہيں۔ اگر انہيں کسی کلاس میں مزہ آئے یا اگر ان کے اساتذہ ان کی دلچسپی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائيں، تو وہ اس کے بارے میں بھی اپنے سوشل میڈيا پر پوسٹ کرتے ہيں!“

زنیرہ کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے طلباء ہمیشہ ہی نئی نویلی چیزوں کی کھوج میں رہتے ہیں اور وہ اس رجحان سے خاصی پریشان ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان کے طلباء کی ترجیحات میں منفی تبدیلی آرہی ہے۔ اس کے علاوہ، انہيں لگتا ہے کہ زیادہ وقت آن لائن گزارنے سے ہمارا وجود بے معنی اور بے مقصد ہوتا جارہا ہے اور ہم دوسروں کی زندگیوں کو بہت قریب سے دیکھ سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہيں کہ ”جتنے زيادہ لوگوں کی آپ پر نظر ہوگی، آپ پر اتنا ہی زيادہ دباؤ پڑے گا۔ پچھلی نسلوں کو یہ مسئلہ درپیش نہيں تھا۔ ہماری طرح ان کے ہر کام پر نظر نہيں رکھی جاتی تھی، اور وہ اپنی پوری زندگی گمنامی میں گزارسکتے تھے۔“

زنیرہ کا مشاہدہ کچھ حد تک درست ہے۔ یونیورسٹی آف واٹرلو کے ایک مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہماری نوجوان نسل ہمیشہ بہتر سے بہتر کی تلاش میں رہتی ہے، اور ان کی یہ کھوج اکثر پریشانی، ذہنی اضطراب، ڈپریشن، حتی کہ خودکشی کی وجہ بنتی ہے۔

سوشل میڈیا پر کچھ لوگ اپنے حقیقی مسائل پوشیدہ رکھ کر ہمیشہ حقیقت سے بھی زيادہ مثبت صورتحال پیش کرنے میں کامیاب رہتے ہيں، لیکن ماہا کا خیال ہے کہ سوشل میڈيا کی بدولت دوسروں کو زيادہ محفوظ ڈیجیٹل دنیا تک بھی رسائی حاصل ہوئی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ”ذہنی صحت کی سپورٹ کے لیے اب پہلے سے زیادہ آن لائن کمیونٹیز موجود ہيں، جن میں انسان خود کو تنہا محسوس نہيں کرتا ہے۔ ہر چیز کی طرح، ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے جہاں فوائد ہیں وہاں نقصانات بھی ہيں، اور اسے اچھے اور برے دونوں قسم کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔“

 بیک وقت ہزاوں لوگ ٹیکنالوجی استعمال کرکے خوش بھی ہوتے ہیں اور ناامید بھی۔

اس کا حل کیا ہے؟

اس وقت ٹیکنالوجی سے بچنے کا کوئی طریقہ نہيں ہے۔ یہ ہماری زندگی کا اتنا اہم حصہ بن چکا ہے کہ ہم اسے چٹکی بجاتے ہی ترک نہيں کرسکتے۔ ہم روز اپنی زندگی سنوارنے کے لیے کسی نہ کسی ڈیجٹل ایپ کا استعمال کرتے رہتے ہيں۔

مثال کے طور پر، میں نت نئی سیلز کے متعلق یا دوسرے شہروں میں کوئی نہ کوئی کام کروانے کے لیے فیس بک گروپس پر انحصار کرتی ہوں۔ آسانہ جیسے سافٹ ویئر کی بدولت میرے لیے وقت کی بچت اور ایک دن میں زيادہ کام کرنا مکمن ہوتا ہے، جبکہ سلیک کے ذریعے میں دن بھر اپنی ٹیم سے رابطے میں رہتی ہوں۔

اور صرف ملینیلز ہی اپنی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے سافٹ ویئر کا استعمال نہيں کرتے ہيں۔ آج کل بچے بھی اپنا ہوم ورک کرنے کے لیے ایپس کا سہارا لیتے ہیں۔ بچپن میں مجھے جن مضامین سے خوف آتا تھا، آج ایپس کی وجہ سے بچےوہی اسباق نہایت شوق سے پڑھ رہے ہيں۔

جو لوگ ڈیجیٹلفورمز کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنا چاہتے ہيں، ان کے لیے کئی اقدام موجود ہیں جن کی مدد سے انہيں کنکٹیویٹی برقرار رکھتے ہوئے اپنی ذہنی صحت پر زیادہ اختیار حاصل ہوسکتا ہے۔

پچھلے چند سالوں میں کئی ڈیجیٹل طریقے بھی سامنے آئے ہیں۔ صحت کہانی، پلیرو (Pliro)، اور ریلیوناؤ (RelieveNow) جیسے سٹارٹ اپس کے ذریعے آپ کو بس چند کلکس سے ہی مدد مل سکتی ہے۔ ان میں سے کسی بھی ایپ پر سائن ان کرنے کے بعد آپ کو موزوں ہیلتھ کیئر کے فراہم کنندگان تک رسائی ملتی ہے۔

دو سال قبل قائم کی جانے والی کمپنی ریلیوناؤ صرف اور صرف ذہنی صحت سے وابستہ سہولیات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کی سی ای او اور بانی آمنہ آصف نے یہ سٹارٹ اپ اس وقت قائم کیا تھا جب وہ خود ذہنی اضطراب کا شکار تھیں۔ وہ آخرکار اپنے گھر والوں اور دوست احباب کی وجہ سے اضطراب کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوگئيں، لیکن انہيں یہ محسوس ہوا کہ دوسرے لوگوں کو ایسے مواقع دستیاب نہیں ہیں۔

 ان کے فکریں بجا ہیں۔ 2013ء سے لے کر اب تک ڈپریشن کی تشخیصوں میں 47 فیصد اضافہ ہوا ہے اور مجموعی طور پر ملینیلز میں پچھلی کسی بھی نسل سے زیادہ ڈپریشن پایا جاتا ہے۔ ہمیں ”سب سے زيادہ تنہا نسل“ کا خطاب بھی مل چکا ہے۔ ہماری زندگی سے ٹیکنالوجی اس قدر جڑی ہوئی ہے کہ یہ ہمارے لیے مزيد نقصان دہ ثابت ہوتی جارہی ہے۔ ٹیکنالوجی کے سبب ہم اپنی آنکھیں کھول کر اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کا بہت قریب سے مشاہدہ کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں، اور ہمارے ہاتھ بے بسی کے علاوہ کچھ بھی نہيں آتا۔

اسی لیے یہ بات سننے میں عجیب لگتی ہے کہ جس ٹیکنالوجی کے باعث ہم تنہائی کا شکار ہیں، ہم معاونت حاصل کرنے کے لیے اسی کا سہارا لے رہے ہيں۔ ریلیوناؤ کو قائم ہوئے دو سال ہوچکے ہيں اور آمنہ نے اس عرصے میں ذہنی پریشانیوں کا حل تلاش کرنے والوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ دیکھا ہے۔

وہ کہتی ہيں کہ ”ہماری سب سے پہلی تقریب میں صرف 20 سے 30 لوگوں نے شرکت کی تھی، لیکن پچھلے سال عالمی یوم ِذہنی صحت کی تقرییب میں 90 سے 100 افراد نے شرکت کی۔“

ٹیکنالوجی کے منفی نتائج عالمی پیمانے پر بھی نظر آرہے ہيں اور دنیا بھر میں ٹیک کمپنیوں اور ان کی مصنوعات کے اثرات کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ بحث و مباحثہ ہورہا ہے۔ کئی افراد ٹیکنالوجی سے خود کو علیحدہ کرنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈ رہے ہيں۔ سیلیکون ویلی کی ناقص مصنوعات اور پالیسیوں کے متعلق اکثر خبریں سننے کو ملتی ہیں، لیکن اب یہی کمپنیاں کوشش کررہی ہیں کہ ڈيجیٹل فلاح و بہبود فراہم کرنے والے فیچرز کے ذریعے اپنے ہی تخلیق کردہ مسائل کا حل پیش کریں۔

گوگل نے اپنے فونز کے لیے ڈیجیٹل فلاح و بہبود کی کئی سیٹنگز متعارف کی ہیں، جبکہ ون پلس کے فونز میں زین موڈ (Zen Mode) کا فیچر موجود ہے، جس کے ذریعے صارفین کچھ دیر کے لیے وقفہ لے کر خود کو ڈیجیٹل دنیا سے علیحدہ کرسکتے ہيں۔ آئی فونز میں ایسے فیچرز موجود ہیں جن کی مدد سے فون کے استعمال کو محدود رکھا جاسکتا ہے۔ اس کی سب سے اچھی مثال فون کی سکرین کو رنگین سے بلیک اینڈ وائٹ کرنے والی سیٹنگ ہے جس کے نتیجے میں صارفین کا دل فون سے زیادہ جلدی اچاٹ ہوجاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدام ٹیکنالوجی اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق کی پیچیدگی سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں؟ اس وقت اس سوال کا جواب دینا ناممکن ہے۔ ٹیکنالوجی کو بالکل اچھا یا بالکل برا قرار دینا نہایت بے وقوفی ہوگی۔ بیک وقت ہزاوں لوگ اسے استعمال کرکے خوش بھی ہوتے ہیں اور ناامید بھی۔ ممکن ہے کہ فیس بک کی نیوزفیڈ میں سکرال کرنے والے کسی شخص کو صرف اور صرف مایوس کن خبریں نظر آئيں اور کسی دوسرے شخص کو تھراپی سے وابستہ گروپس میں صرف مثبت مواد ملے۔ ایسے لوگوں کے لیے جن کی زندگیوں میں پریشانی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، مدد اور معاونت صرف ایک ہی کلک کی دوری پر ہے۔

آج کل کے دور میں سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی ہماری بنیادی ضروریات میں شامل ہوچکے ہيں، اور خود کو ان سے دور کرنا صاف پانی اور بجلی کا استعمال ترک کرنے کے مترادف ہوگا۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کا مقابلہ کس طرح سے کیا جائے؟

سب سے پہلے تو خود کو اپنی خامیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے سے گریز کریں۔ یہ بات یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ کسی کی آن لائن زندگی کتنی ہی خوبصورت ہو، وہ اس کی زندگی ہے، ہماری نہيں، اور ہماری پریشانیاں دوسروں سے مختلف ہی ہوں گی۔ ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے دوران خود آگاہی سے کام لیں، اور ڈیجیٹل ٹولز اور فورمز کے ساتھ انٹریکٹ کرنےکے دوران حدود قائم کریں اور ان کی پابندی کریں۔ یہ درست توازن قائم کرنے کا واحد طریقہ ہے۔

اور اس وقت تک میمز  تو ہیں ہی۔

مصنفہ لاہور میں رہائش پذیر صحافی ہيں۔

تحریر: لبت زاہد

ترجمہ: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top