Global Editions

جدید دور میں کرکٹ اور ٹیکنالوجی کا ناطہ

نئی ٹیکنالوجیز کی مدد سے امپائرنگ کی درستی میں اضافہ اور انسانی غلطی کا امکان کم ہوا ہے۔ ایل بی ڈبلیو اور کوٹ بی ہائینڈ ووکٹ سے تعلق رکھنے والے فیصلوں میں گیند کے بلے پر لگنے (ہاٹ سپاٹ) اور اس ٹکرانے کی آواز کو تصویری شکل میں ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہونے والی انفراریڈ امیجنگ ٹیکنالوجی (سنیکو میٹر) بہت معاون ثابت ہوںگے۔

کرکٹ میں مختلف اقسام کی ٹیکنالوجیز متعارف کرانے کے بعد بہت تبدیلی آچکی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے باوجود بھی انسانی مداخلت کی ضرورت ختم نہیں ہوئی لیکن اس بات سے انکار نہيں کیا جاسکتا کہ ٹیکنالوجی سے کرکٹ کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔

سعید اجمل نے 32 سال کی عمر میں بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کھیلنا شروع کی اور انہوں نے جلد ہی پاکستان کے جانے مانے سپنر ثقلین مشتاق کی جگہ لے لی، جن کی 2004ء میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستانی ٹیم کو ایک موثر سپنر کی اشد ضرورت تھی۔

مشتاق ‘‘دوسرا’’ نامی  باؤلنگ تکنیک کے موجد کے طور پر کرکٹ کی دنیا میں جانے جاتے ہیں، جس میں گیند ایک عام لیگ سپن گیند کی طرح  دائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بلے باز سے دور گھومتی ہے۔ مشتاق اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بہت آگے بڑھ سکتے تھے لیکن وہ گھٹنوں کی چوٹ کی وجہ سے نو سال سے زیادہ کرکٹ نہیں کھیل پائے۔ جب اجمل نے کرکٹ کھیلنا شروع کی تو انہوں نے بہت جلدی دوسرا پر عبور حاصل کرلیا اور بڑے سے بڑے بلے باز ان کی  گیندبازی کے آگے بے بس ہوجاتے۔ محض چند سالوں میں سعید اجمل کا شمار سپن باؤلنگ کے جانے مانے گیندبازوں کی فہرست میں ہونے لگا، جس میں سری لنکا کے متیاہ مرلی دھرن اور بھارت کے ہربھجن سنگھ بھی شامل تھے۔

تاہم 2014ء میں اجمل پر جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ پندرہ ڈگری کے قانون کی خلاف ورزی کی وجہ سے ان کی گیندبازی پر پابندی عائد ہوگئی۔ آسٹریلیا کے شہر برسبین میں واقع ایک ہائی ٹیکنالوجی بائیو میکانکس لیباریٹری میں ٹیسٹس سے ثابت ہوا کہ گیندبازی کے دوران ان کی کہنی اوسطاً 42 ڈگری تک اٹھتی تھی، اور ان کی کوئی بھی گیند 15 ڈگری کی مجاز حد کے اندر نہيں تھی۔

لیب کے ٹیکنیشنز اور ماہرین کی معاونت کے ساتھ اپنی گیندبازی کی تکنیک پر کام کرنے کے بعد انہوں نے دوبارہ کرکٹ کھیلنا شروع کی لیکن اب سعید اجمل وہ سعید اجمل نہيں رہے جن کی گیندبازی کے آگے وکٹوں کے انبار لگتے تھے۔

2015ء تک اجمل کی پیشہ ورانہ کرکٹ آہستہ آہستہ ختم ہوتی گئی۔ اگلے سال پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو 460,000 ڈالر کی لاگت رکھنے والی ان بائیومیکانکس کی مشینوں کا خیال آیا جن پر آٹھ سالوں سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) میں رکھے رکھے دھول جم رہی تھی۔ ان مشینوں کو ایک تین سالہ معاہدے کے تحت لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ اینڈ سائنسز (لمز) کے محققین کے حوالے کردیا گیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں قائم کی جانے والی بائیومیکانکسکی لیب مشینوں اور مہارت کے حوالے سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ضروریات پر پوری اترتی ہے اور اگر اسے منظوری مل جائے تو یہ دنیا کی چھٹی لیب ہوگی جس میں مشکوک گیندبازی کی اطلاعات کے بعد گیندبازوں کی ٹیسٹنگ کی جاتی ہے۔

کرکٹ  کوایک طویل سفر کرنے کے بعد 1877ء میں بین الاقوامی حیثیت حاصل ہوئی اور اس وقت سے اس کھیل میں بہت تبدیلیاں سامنے آچکی ہيں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد اس کھیل کا سنہرا دور شروع ہوا جب عالمی گورننگ ادارہ قائم کیا گیا اور مینیول تیار کیے گئے جن میں قواعد و ضوابط واضح طور پر بیان کیے گئے۔

نئی ٹیکنالوجیز کی مدد سے امپائرنگ کی درستی میں اضافہ اور انسانی غلطی کا امکان کم ہوا ہے۔  ایل بی ڈبلیو اور کوٹ بی ہائینڈ  ووکٹ سے تعلق رکھنے والے فیصلوں میں گیند کے بلے پر لگنے (ہاٹ سپاٹ) اور اس ٹکرانے کی آواز کو تصویری شکل میں ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہونے والی انفراریڈ امیجنگ ٹیکنالوجی  (سنیکو میٹر) بہت معاون ثابت ہوںگے۔

کرکٹ کے روایتی طریقے میں خصوصی طور پر بلے بازی اور گیند بازی کی صورت میں تکنیک کو بہتر بنانے پر بہت توجہ دی گئی تھی۔ لیکن ساتھ ہی اس کھیل میں ٹیکنالوجی کا بھی بہت عمل دخل رہا ہے جس سے نہ صرف میدان میں کھیلنے اور دنیا بھر میں موجود شائقین کو نشر کیے جانے کے طریقے بلکہ کھلاڑیوں کی تربیت اور ان کی کارکردگی کی نگرانی کے طریقے متاثر ہوئے ہیں۔

گیندبازی کی تکنیک کی ہی مثال لے لیجیے۔ گیند بازوں کو دیکھ کر کسی گیند کے قوائد و ضوابط  کے مطابق ہونےیا خلاف ورزی کرنے کے متعلق اندازہ لگایا جاسکتا ہے، لیکن یہ معلوم نہيں کیا جاسکتا کہ وہ گیند کرواتے وقت اپنی کہنیاں کتنے ڈگری تک موڑتے ہيں۔

یہیں پر بائیو میکانکس کا کام شروع ہوتا ہے۔

اب اس ٹیکنالوجی کی مدد سے امپائر مشکوک تکنیک رکھنے والے گیندبازوں کو آئی سی سی کی بائیومیکانکس کی لیباریٹریوں کے پاس بھیج کر ان کا سائنسی ریویو کرواسکتے ہيں۔

اس ٹیکنالوجی کا سب سے زيادہ استعمال گیندبازوں کی تکنیک درست کروانے کے لیے کیا جاتا ے لیکن اس سے گیندبازی میں انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ گیندباز تربیت کے دوران پسینہ بہاتے ہیں، اور اپنی کلائی کی پوزیشن، رن اپ، فولو تھرو اور پیس پربہت محنت کرتے ہیں۔ بائیومیکانکس کی مدد سے بازو گھمانے کی وجہ سے زمین پر پیر رکھنے کے طریقے اور اس حرکت سے ان کے پٹھوں پر اثرات کی پیمائش کی جاسکتی ہے، جس کی بنیاد پر کوچنگ کی حکمت عملیاں تیار کی جاسکتی ہیں۔

بائیو میکانکس کی مدد سے گیندبازوں کے علاوہ بلے بازوں کی تکنیک کو بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے اور دوسرے پیشہ ورانہ کھلاڑیوں کی طرح کرکٹرز بھی اس ٹیکنالوجی کی مدد سے چوٹوں کی روک تھام کرسکتے ہيں اور اپنی کارکردگی کو بہتر بناسکتے ہیں۔

آسٹریا میں تربیت حاصل کرنے والی پاکستانی بائیومیکانکس کی ماہر ڈاکٹر حفصہ زینب کہتی ہيں ‘‘ان پیمائشوں کا تعلق حرکت کا مشاہدہ کرنے سے ہے۔ بائیو میکانکس کی مدد سے پیشہ ورانہ کھلاڑیوں کی حرکت کے پیٹرنز کی سمارٹ اور درست طریقے سے نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ ان پیٹرنز کے ذریعے نہ صرف گیندبازی کے طرز بلکہ کھلاڑیوں کے جسم کے استعمال اور جوڑوں کی ہم آہنگی کی حکمت عملیوں کو واضح کیا جاسکتا ہے۔’’

زینب کا کہنا ہے کہ حرکت کا تجزیہ کرنے والے سافٹ ویئر کی مدد سے گیندباز کی تکنیک یا بلے باز کے جسم کے استعمال کے مختلف عناصر کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اس تخمینے کی مدد سے جوڑوں اور پٹھوں کے متعلق وافر مقدار میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہے جو ماہرین کی تکنیکوں سے سیکھنے کی خواہش رکھنے والے نوجوانوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

اسی طرح بائیو میکانکس کے تخمینوں کی مدد سے کھلاڑی کے کھیلنے کے طرز میں مسائل کی نشاندہی شروع ہی سے کی جاسکتی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر اس میں بروقت اصلاح کی جاسکے۔

جب برسبین میں واقع بائیومیکانکس کی لیب میں سعید اجمل کی تکنیک کا تجزیہ کیا گیا تو ٹیسٹ کے دوران تمام 37 گیندوں میں، جن میں وکٹ کے اوپر اور گرد عام آف سپنرز، تیز گیند اور دوسرا شامل تھے، ان کی کہنی کے باہر نکلنے کا زاویہ 36 اور 43 ڈگری کے درمیان رہا۔

بائیومیکانکس کی مدد سے کرکٹ میں انقلاب آسکتا ہے۔ کھلاڑیوں کو میدان میں اپنے پٹھوں کی حرکت کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے جس سے کارکردگی کی بہتری اور چوٹوں میں کمی ممکن ہیں۔

وہ اپنے تجربے کے متعلق کہتے ہیں ‘‘میں اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی کے دوران اسی طرح گیندیں کرواتا رہا اور مجھے اب جاکر معلوم ہوا ہے کہ میری کہنی 15 ڈگریز سے زیادہ مڑرہی تھی۔

یہ بہت اچھی بات ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے لیکن میرے چند تحفظات ہیں۔ مثال کے طور پر اگر حرکت کی نشاندہی کرنے والے مارکرز گیندباز کے بازوؤں پر درست طریقے سے نصب نہ ہوں تو اس سے نتیجہ متاثر ہوگا۔ اس مشین کو انسان استعمال کررہے ہیں، غلطی کی گنجائش تو رہے گی۔’’

دوسری طرف ٹیکنیشنز کا کہنا ہے کہ یہ خدشات بے بنیاد ہیں۔ وہ بتاتے ہيں کہ ٹیسٹس کے دوران گیندبازوں کے جسموں پر مارکرز کی تنصیب کے متعلق آئی سی سی کے قواعد و ضوابط موجود ہيں۔

کوچنگ کے دوران ٹیکنالوجی کا استعمال

مطالعہ جات کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بائیومیکانکس سے جسم سے تعلق رکھنے والے مختلف عناصر، نیورومسکولر صلاحیتیں اور جسمانی اور نفسیاتی صلاحیتیں استعمال کرنے والے پٹھوں کی حرکت میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ ان مطالعہ جات کا حوالہ دیتے ہوئے لمز یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت کے پروفیسر اور بائیومیکانکس لیب کے ان چارج میاں محمد اویس کہتے ہيں کہ کوچز پٹھوں کی حرکت کے بائیومیکانکل معائنے کے ذریعے کھلاڑیوں کو ان کی تکنیک میں بہتری لانے کے متعلق مخصوص رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں۔

تجربہ کار کوچ خود سے کسی ہک شاٹ میں مسائل کی نشاندہی کرسکتے ہیں لیکن وہ بائیومیکانکل عناصر کا عددی شکل میں تجزیہ کرنے سے قاصر ہیں۔ اویس کے مطابق بائیومیکانکس  کی مدد سے کوچز بلے باز کے شاٹ کے دوران دورانیہ، پوزیشن اور زاویوں کی درست پیمائش کرسکتے ہیں جس کی بنیاد پر تکنیک میں بہتری لانے کے لیے حکمت عملیاں تیار کی جاسکتی ہيں۔

ایسے کئی پیچیدہ آلات موجود ہیں جو کھلاڑیوں کی فٹنس کی پیمائش کرنے کے لیے ان کی جسمانی سرگرمی کی نگرانی کرتے ہیں لیکن ایشائی ممالک بشمول پاکستان، انہیں استعمال کرنے سے ہچکچاتے ہیں یا انہیں صحیح طریقے سے استعمال نہيں کرتے۔ تاہم آسٹریلیا جیسی نمایاں ٹیموں نے ان ٹریکرز کا استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ مشینیں میدان میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کی پیمائش کے لیے ان کے جسم سے منسلک کی جاتی ہیں اور ان کے ذریعے حاصل کردہ ڈیٹا کی مدد سے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں اور کمزوریوں کے مطابق کوچنگ کی حکمت عملیاں تیار کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ویڈیو فوٹیج کا تجزیہ کرکے کھلاڑیوں کی تکنیک میں بہتری لانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔

تاہم جہاں تک کوچنگ کا سوال ہے کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے پیچیدہ مشینوں اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کوئی قواعد و ضوابط موجود نہيں ہیں۔ اس کا انحصار صرف اور صرف کوچز کی ترجیحات پر ہے۔ نیو زی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک کوچ کا کہنا ہے ‘‘ہم ٹیکنالوجی کو زیادہ تر صرف مخالفین کی کمزوریوں اور صلاحیتوں کا تجزیہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔’’

وہ مزید کہتے ہيں ‘‘میرے خیال سے بہت تجزیہ کرنا بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے اور ایک متوازن طریقہ کار اپنانا بہت  ضروری ہے۔’’ ان کے مطابق ان کی ٹیم کے لیے مخالفین کا مطالعہ بہت موثر ثابت ہوا ہے۔

کچھ کوچز ابھی بھی پرانے طریقے کار ہی استعمال کرنا پسند کرتے ہيں۔ ان کا ٹیکنالوجی پر انحصار میکانکس کو غیرپیچیدہ رکھتے ہوئے ویڈیو کے تجزیے تک ہی محدود ہے۔ وہ کہتے ہیں‘‘میرے خیال سے کھلاڑی بہت زیادہ تکنیکی حد تک جاسکتے ہيں اور میں اپنی کوچنگ کو جس حد تک ممکن ہو غیرپیچیدہ رکھنا چاہتا ہوں۔ اکثر کوچز کھلاڑیوں کو بہت زیادہ مشورے دے دیتے ہيں۔ ان کے ارادے تو نیک ہی ہوتے ہيں لیکن میرے خیال سے یہ طریقہ غلط ہے۔’’

جولین فاؤنٹین (Julien Fountain) کی رائے بالکل مختلف ہے۔ وہ ماضی میں پاکستان، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کی قومی ٹیموں کے کوچ رہ چکے ہيں اورانہوں نے اس دوران ٹیکنالوجی اورمشینوں کا بھرپور استعمال کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں ‘‘میں نے سب سے پہلے ڈیجٹل ویڈیو کیمرے کا استعمال کرنا شروع کیا۔ ویڈیو کھلاڑيوں کی تکنیک کا، چاہے وہ بلے بازی کی ہو یا گیندبازی یا فیلڈنگ کی ہو، تجزیہ کرنے میں بہت معاون ثابت ہوتی ہے۔ کھلاڑیوں کی حرکتیں ریکارڈ کرنے کے بعد انہيں یہ ویڈیو دکھانے کی وجہ سے کوچنگ میں بہت بڑا انقلاب آیا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کھلاڑی سمجھتے ہیں کہ ان کا جسم کسی مخصوص طریقے سے حرکت کررہا ہے لیکن حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ جب وہ خود کو سلو موشن ویڈیو میں دیکھتے ہيں تو انہيں واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ انہیں کن  چیزوں پر محنت کرنے کی ضرورت ہے۔’’

فاؤنٹین مزید بتاتے ہيں کہ بائیومیکانکل تجزیے کے سافٹ ویئر میں ویڈیو فوٹیج گزار کر کسی کھلاڑی کی حرکت کے مختلف عناصر کا تجزیہ کرکے انہيں زیادہ بہتر طریقے سے بتایا جاسکتا ہے کہ وہ کونسی چيزیں صحیح کررہے ہيں اور کن چیزوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ وہ وژن ٹریننگ کے لیے ہائی ٹیک گیندوں کا بھی استعمال کرتے ہيں جنہيں ویکٹر بالز (Vector Balls) کہا جاتا ہے۔ ‘‘یہ خاص طور پر بے ترتیب انداز

میں اثرکی وجہ سے شروع ہونے والی رنگین روشنی کی پلسز (pulses) خارج کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اس سے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کے مظاہرے کے دوران ان کی حسوں پر زیادہ بوجھ ڈال کر ان کی موٹر صلاحیتوں کو بڑھایا جاتا ہے۔’’

فاؤنٹین نے فیلڈنگ کے لیے مخصوص کارکردگی کا سافٹ ویئر (Fielding Specific Performance Software) بھی ڈیزائن کیا ہے جس

کے ذریعے کسی بھی ٹیم کی فیلڈنگ کی کارکردگی کے متعلق ڈيٹا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ‘‘مجھے معلوم ہوا ہے کہ بلے بازی اور گیندبازی کا جتنی تفصیلی مطالعہ کیا گيا ہے فیلڈنگ کو اتنا ہی نظرانداز کیا گيا ہے۔’’ ان کے مطابق اس سافٹ ویئر کا مقصد کسی ٹیم یا انفرادی کھلاڑی کی فیلڈنگ کے متعلق کارآمد ڈیٹا کا حصول ہے۔ وہ مزید بتاتے ہيں ‘‘آپ کے پاس جتنا زیادہ ڈیٹا ہوگا آپ کے لیے حقیقی کارکردگی کا خاکہ تیار کرنا اور بھی زيادہ آسان ہوگا اور اس سے جذبات کی وجہ سے تعصب بھی ختم ہوگا۔’’

جب بھی گیند کروائی جاتی ہے اسے کسی نہ کسی طرح سے فیلڈ بھی کرنے کی ضرورت ہے اور اس طرح اس سافٹ ویئر کو ہر گیند کے بعد ایک ڈیٹا پوائنٹ مل جاتا ہے۔ اس تمام ڈیٹا کی مدد سے کسی ٹیم یا کھلاڑی کی فیلڈنگ کارکردگی کا مجموعی خاکہ تیار کیا جاسکتا ہے۔ فاؤنٹین کے مطابق اس خاکے کا دوسری ٹیمز یا کھلاڑیوں کی فیلڈنگ کی کارکردگی کے ساتھ موازنہ کرکے ایک حقیقت پسند اور منصفانہ تخمینہ ممکن ہے۔

وہ کہتے ہيں ‘‘اگر باؤنڈری کے قریب کھڑا کوئی فیلڈر گیند کو باؤنڈری پار کرنے سے روکتا ہے تو کمینٹیٹر اکثر یہ کہتا ہے کہ اس نے چوکا نہيں ہونے دیا۔ لیکن اگر بلے باز دو رن بناچکے ہوں تو فیلڈر نے چار رنز نہيں صرف دو رن روکے ہوں گے۔’’

فاؤنٹین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی سے فیلڈنگ کی جانب رویہ تبدیل ہوسکتا ہے۔ وہ کہتے ہيں ‘‘جب بھی ناقص فیلڈنگ کی وجہ سے بلے باز رن بنانے میں کامیاب ہو یا گیندباز کو وکٹ نہ ملی ہو تو اس غلطی کو کسی طرح ریکارڈ کرکے کھلاڑیوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اس غلطی سے کھیل کا نتیجہ کس طرح متاثر ہوا۔ جس طرح بلے بازوں اور گیندبازوں کو جواب دہ ٹھہرایا جاتا ہے اسی طرح فیلڈنگ کے اعداد و شمار کیوں حاصل نہيں کیے جاتے؟’’

امپائرنگ میں تبدیلی

پچھلے سالوں میں ٹیلی ویژن پر کرکٹ کھیلنے کے طریقہ کار میں بہت تبدیلی آچکی ہے۔ اس میں نہ صرف گلیمر اور تفریح کے عناصر شامل ہوگئے ہيں بلکہ دنیا بھر میں سیٹلائٹ اور انٹرنیٹ کی سہولیات کے ذریعے کرکٹ میچوں کی ٹرانسمیشن کی وجہ سے  ناظرین  کی تعداد میں قابل قدر اضافہ ہوا ہے۔ 2019ء کے ورلڈ کپ کے خصوصی سٹریمنگ کے حقوق حاصل کرنے والے والٹ ڈزنی کے آن لائن پلیٹ فارم ہاٹ سٹار کے اعداد و شمار کے مطابق  پہلے 21 میچز کے بیس سے اسی لاکھ منفرد ویورز تھے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کے دوران  ناظرین کی تعداد 1.56 کروڑ تک جا پہنچی، جو آئی سی سی میڈیا زون کے مطابق کسی بھی بین الاقوامی میچ کے لیے ریکارڈ ہے۔ اگر کسی ورلڈ کپ کے میچ کی شروع سے آخر تک منفرد ویورشپ پر نظر ڈالی جائے تو بھارت اور سری لنکا کے درمیان 2011ء کا فائنل، جس کی ویورشپ 55.8 کروڑ تھی، بازی لے جاتا ہے۔

کرکٹ براڈکاسٹنگ اربوں ڈالر کی مالیت رکھنے والی صنعت ہے جس میں ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھایا گيا ہے۔ ناظرین کو سٹیڈیم کا 360 ڈگری کا ویو فراہم کرنے کے لیے براڈکاسٹرز نے سپائڈر کیمز، بگی کیمز اور ڈرونز کا استعمال کیا ہے۔ اس کے علاوہ، سٹمپس میں اور اپمائر کی ٹوپیوں اور جیکٹوں میں بھی کیمرے نصب کیے جاتے ہيں۔ نیز، براڈکاسٹ کو زیادہ دلچسپ بنانے کے لیے ہولوگرام ٹیکنالوجی بھی استعمال میں لائی جاتی ہے۔

کرکٹ  کی ٹرانسمیشن اور براڈکاسٹ میں استعمال ہونے والی پیچیدہ ٹیکنالوجی کے باعث آئی سی سی کے لیے فیصلوں میں غلطیوں کی روک تھام کے لیے ڈیسیژن ریویو سسٹم (decision  review  system – DRS) متعارف کرنا ممکن ہوا ہے۔

ڈی آر ایس کو 2008ء میں متعارف کیا گیا تھا تاکہ کھلاڑی امپائروں کے فیصلوں کو چیلنج کرسکيں۔ اسی طرح ہاک آئی (hawk-eye) ٹیکنالوجی کے ذریعے لیگ بیفور وکٹس (ایل بی ڈبل یو) کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی صورت میں گیند کے سفر کو ٹریک کیا جاسکتا ہے۔ ایل بی ڈبل یو اس وقت ہوتا ہےجب گیند وکٹ کے بجائے بلے باز کے پیڈز پر لگتی ہے۔ ہوا میں گیند کی حرکت کی ٹریکنگ کے لیے نصب کیے جانے والے متعدد کیمرے ان مقامات کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں گیند زمین اور پیڈز پر لگتی ہے، جس سے امپائر کے ایل بی ڈبل یو کے فیصلے کی نظرثانی میں معاونت ملتی ہے۔ ڈی آر ایس کو متعارف کرنے کے بعد سے اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کم از کم 2,100 فیصلوں کی نظرثانی کی گئی ہے، جن میں سے ایک چوتھائی فیصلوں کو بدلا جاچکا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک بائیومیکانکس لیب قائم کی ہے جو اب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے اکریڈیٹیشن کے آخری مراحل میں ہے۔

ہاٹ سپاٹ، الٹرا ایج اور سنیکو میٹر ٹیکنالوجیز کی مدد سے گیند کے بلے پر لگنے کے متعلق فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز ان صورتوں میں بہت مفید ثابت ہوسکتی ہیں جب وکٹ کیپرکیچ پکڑتا ہے لیکن گیند کی رفتار اس قدر تیز ہوتی ہے کہ امپائر کے لیے یہ جاننا ممکن نہيں ہوتا کہ گیند بلے کو لگی تھی یا نہيں۔

انیسویں صدی میں متعارف ہونے والے اس کھیل کی شکل آج بہت مختلف ہے۔ کھلاڑیوں کے نقطہ نظر سے بنیادی صلاحیتوں میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔ لیکن اب کرکٹ میں ٹیکنالوجی پر بہت زیادہ انحصار کیا جاتا ہے جس سے اس کھیل نے ایک بالکل نیا روپ اختیار کرلیا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اس کھیل میں ابھی بھی انسانی عمل دخل بہت زيادہ ہے لیکن اس بات سے انکار نہيں کیا جاسکتا ہے کہ ٹیکنالوجی نے کرکٹ کی کایا پلٹ ڈالی ہے۔

نئی ٹیکنالوجیز کی مدد سے امپائرنگ کی درستی میں اضافہ اور انسانی غلطی کا امکان کم ہوا ہے۔  ایل بی ڈبل یو اور کوٹ بی ہائینڈ سے تعلق رکھنے والے فیصلوں میں گیند کے بلے پر لگنے (ہاٹ سپاٹ) اور اس ٹکرانے کی آواز کو تصویری شکل میں ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہونے والی انفراریڈ امیجنگ ٹیکنالوجی (سنکومیٹر) بہت معاون ثابت ہوگی۔

تحریر: عمر فاروق  (Umar Farooq)

مصنف ای ایس پی این کرک انفو میں پاکستان کے نمائندے ہيں۔

Read in English

Authors

*

Top