Global Editions

ٹیکنالوجی معاشرے میں دراڑیں پیدا کرنے کی ذمہ دار نہیں

سوشل میڈیا کے بلبلے معاشرتی دراڑوں کا صرف ایک ہی پہلو ہیں۔ دوسرے پہلو کا تعلق ہماری سوچ سے ہے۔ پچھلے سال امریکہ کے سوشل میڈیا کے نمایاں ماہر دیب رائے (Deb  Roy)نے  جو ایم آئی ٹی کی میڈیا لیب،

لیباریٹری فار سوشل مشینز(Laboratory for Social Machines )چلاتے ہیں،وسطی امریکہ کے چھوٹے قصبوں جیسے وسکانسن کے شہر پلیٹ ول اور آئیووا کے شہر ایناموسا میں گول میز کانفرنسز کی ایک سیریزمیں شرکت کی۔ انہيں یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ ان کمروں میں نہ تو کمپیوٹرسکرینز موجود تھیں اورنہ ہی کسی ٹوئیٹ یا پوسٹ پر تبصرہ کیا گیا۔ یہاں صرف کمیونٹی کے لیڈران اور مقامی رہائشی اپنے ہمسایوں کے بارے میں بات کررہے تھے۔

دیب رائے ان لوگوں کی باتیں سن کر چونک گئے۔ ان کے مطابق ایک عمر رسیدہ خاتون نے بتایا کہ ان کے پڑوسیوں کے فیس بک کے پوسٹس میں اس قدر شدت پسند خیالات کا اظہار کیا گیا تھا کہ انہیں اب ان کے ساتھ بات کرنا بھی گوارا نہيں تھا۔ دوسرے لوگوں کی بھی کچھ اسی قسم کی رائے تھی۔

رائے کہتے ہيں، “یہ وہ لوگ ہیں جن سے ان چھوٹے شہروں میں رہنے والوں کا روزانہ ملنا جلنا ہے۔ پہلے وہ ایک دوسرے کی باتوں کو نظرانداز کردیا کرتے تھے۔ اگر دوسروں تک رسائی ہونے کے باوجود ڈیجیٹل دنیا میں کہی گئی باتوں کی وجہ سے ہم حقیقی دنیا میں ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے ہوں، جس کی وجہ سے انتہائی مقامی سطح پر دراڑیں پڑ رہی ہوں اور جارحیت میں اضافہ ہورہا ہو، تو کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔”

2014ء میں رائے نے سوشل میڈیا کی مدد سے لوگوں میں دراڑیں پیدا کرنے والے مباحثوں کو سلجھانے کے طریقوں کا مطالعہ کرنے کے لیے اپنی ایم آئی ٹی کی لیب قائم کی تھی۔ شاید ان کے علاوہ کوئی اور شخص یہ ذمہ داری نہيں سنبھال سکتا تھا۔ 2013ء اور 2017ء کے درمیان کینیڈا میں پیدا ہونے والے يہ انجنیئر ٹوئیٹر کے چیف میڈیا سائنس دان کے عہدے پر فائز تھے، اور اس دوران وہ سوشل میڈیا کے مکالموں کو جمع کرکے ان کا تجزیہ کیا کرتے تھے۔ جب انہوں نے اپنی لیب کھولی تو  ٹوئیٹر نے نہ صرف اپنے پلیٹ فارم پر موجود ایک ٹوئیٹ تک ریئل ٹائم رسائی فراہم کی بلکہ عوامی مفاد کے لیے لوگوں کی دلچسپیوں اور سرگرمیوں کے متعلق تمام معلومات کو منظم کرنے کے لیے ایک کروڑ ڈالر بھی دیے۔

رائے اور ان جیسے کئی ریسرچرز کے لیے جو معاشرے پر انٹرنیٹ کے اثرات کا تجزیہ کرتے ہیں، 2016ء کے انتخابات کے حوالے سے سب سے پریشان کن بات یہ نہيں تھی کہ روسی حکومت نے ٹوئیٹر اور فیس بک کے ذریعے پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش کی، اور نہ ہی یہ بات تھی کہ کیمبرج اینالیٹکا کو غیرقانونی طور پر فیس بک کے پانچ کروڑ سے زيادہ صارفین کی نجی معلومات تک رسائی حاصل ہوگئی۔ سب سے زيادہ پریشان کن بات یہ تھی کہ ہم سب نے اپنی مرضی سے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بنا رکھی ہیں، اور اس کی ایک بہت بڑی وجہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کمپنیاں ہیں جو ہماری ماضی کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہیں اور ہمیں صرف انہی موضوعات پر نیا مواد فراہم کرتی رہتی ہیں۔ اس طرح ہمیں صرف وہی مشمولات دکھائے جاتے ہیں جو ہمارے موجودہ عقائد کو تقویت دیتے ہیں، اور جو مواد ہمارے خیالات و نظریات کے خلاف ہوتے ہیں وہ ہماری نظر کے سامنے سے نہیں گزرتے۔

یہی وہ صورتحال ہے جسے “فلٹر ببل” (filter bubble) کہا جاتا ہے، اور جس کا ذکر سب سے پہلے 2011ء میں انٹرنیٹ کے کارکن اور وائرل ویڈیوز پر مشتمل سائٹ اپ وردی (Upworthy) کے بانی ایلی پیریسر (Eli Pariser) نے کیا تھا۔ پیریسراپنی

کتاب میں، جس کا نام بھی “فلٹر ببل” ہے، لکھتے ہیں، “ جمہوریت صرف اسی صورت میں کامیاب ہوسکتی ہے اگر ہم بحیثیت شہری اپنی دلچسپیوں سے آگے دیکھنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ تاہم ایسا کرنے کے لیے ہمیں اس دنیا میں رہنے والے دوسرے لوگوں کے خیالات کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔ لیکن یہ فلٹر ببل ہمیں ایک مختلف سمت کی طرف لے کر جاتا ہے۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اس دنیا میں ہماری اپنی دلچسپی کے علاوہ کچھ بھی نہيں ہے۔”

یہ بات کس حد تک درست ہے؟ ریسرچ کے مطابق معاملات کہیں زيادہ پیچیدہ ہيں۔

ایک قسم کی جنگ

ماہر قانون کیس سن سٹائن (Cass Sunstein) نے 2007ء میں تنبیہہ کی تھی کہ انٹرنیٹ کی وجہ سے ڈیڑھ اینٹوں کی مسجد بنانے کی ثقافت جنم لینا شروع ہوگی۔ انہوں نے 2005ء میں کولوریڈو میں ایک تجربے کی مثال دی جس میں ایک دوسرے سے 100 میل کے فاصلے پر واقع کولوریڈو سپرنگز کے ایک قدامت پسند اور بولڈر کے ایک آزاد خیال شہر سے تعلق رکھنے والے 60 افراد کو چھوٹے گروپس میں تقسیم کرکے تین متنازعہ موضوعات (مثبت اقدام، ہم جنس پرستوں کی آپس میں شادیاں، اور گلوبل وارمنگ کے متعلق ایک بین الاقوامی معاہدہ) پر مباحثہ کرنے کو کہا گیا۔ تقریباً ہر ایک صورت میں اپنے سے ہم خیال افراد کے ساتھ بات کرنے کے بعد لوگوں کے خیالات مزید شدت اختیار کرنے لگے۔

سن سٹائن کرونیکل آف ہائیرایجوکیشن (Chronicle of Higher Education) میں لکھتے ہیں

“چاہے آپ کوشش نہ بھی کررہے ہوں، انٹرنیٹ کے ذریعے کولوریڈو تجربے کی نقالی کرنا بہت آسان ہے۔ ایک ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے افراد، چاہے وہ ایک دوسرے سے انٹرنیٹ پر بات چیت کررہے ہوں یا حقیقی زندگی میں، پراعتماد بھی ہوں گے اور غلط بھی، کیونکہ انہيں مخالف رائے سننے کا موقع نہيں مل رہا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ یہ بھی سمجھیں کہ ان کے مخالفین نے ان کے خلاف محاذ جنگ کھڑا کرلیا ہے۔”

لیکن کیا واقعی یہ سب سوشل میڈیا ہی کی وجہ سے ہوا ہے؟ اس سال Proceedings of the National Academy of Sciences

میں شائع ہونے والے ایک مطالعے میں سٹین فورڈ یونیورسٹی کے محققین نے امریکہ میں سیاسی شعبے میں لوگوں  کے درمیان اختلاف رائے پر نظر ڈالی، جس کے نتیجے میں انہیں یہ بات معلوم ہوئی کہ ان گروپس میں زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے جن میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ استعمال کرنے کے امکانات سب سے کم ہیں۔ اس مطالعے کے صدر مصنف لیوی باکسیل (Levi Boxell) کہتے ہیں، “65 سالہ افراد میں نوجوانوں کے مقابلے میں زيادہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ اگر سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ ہی اس اختلاف کی وجہ ہیں، تو یہ نتائج ہماری توقعات کے بالکل خلاف ہیں۔”

نیز، آکسفرڈ انٹرنیٹ انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ فیلو گرانٹ بلینک (Grant Blank) اور ان کے کچھ

ساتھیوں کو برطانیہ اور کینیڈا میں بالغ افراد پر تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ لوگ اس حد تک اپنے ایکو چیمبرز میں نہيں پھنسے ہوئے جتنا ہم سمجھ رہے تھے۔

بلینک کہتے ہیں ،“ہم نے پانچ مختلف طریقوں سے ایکو چیمبر کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے، اور آپ کوئی بھی طریقہ استعمال کرلیں، نتیجہ وہی نکلے گا۔ ایکو چیمبر نام کی کوئی چیز نہيں ہے۔ لوگ میڈیا پر خبریں پڑھتے ہیں۔ انہيں روزانہ اوسطاً پانچ مختلف ذرائع سے خبریں موصول ہوتی ہيں، جن میں سے تین آف لائن اور دو آن لائن ہیں۔ وہ مختلف لوگوں کی آراء بھی سنتے ہیں۔ ہر ایک کے سامنے ایسی چیزیں آتی رہتی ہيں جن سے وہ متفق نہيں ہوتے، اور میڈیا کی وجہ سے ان کے خیالات میں تبدیلی بھی آتی رہتی ہے۔”

پیریسر کا بھی خیال ہے کہ صرف انٹرنیٹ کو ہی ذمہ دار نہيں ٹھہرایا جاسکتا۔ ممکن ہے کہ آزاد خیال اشرافیہ کے لیے ٹرمپ کی صدارت صرف اسی وجہ سے غیرمتوقع تھی کیونکہ انہیں اپنی سوشل میڈیا فیڈز میں ٹرمپ کے بیشتر حمایتی نظر ہی نہيں آئے۔ بلکہ بلینک کے کام سے بھی یہی بات سامنے آتی ہے کہ بیشتر محققین صرف انہی اشرافیہ کا مطالعہ کررہے تھے۔ دوسری طرف، ٹرمپ کے بیشتر حمایتیوں کے لیے ریڈیو، مقامی خبریں اور فاکس نیوز ٹوئیٹس اور فیس بک پر جعلی خبروں سے زیادہ اہم ذرائع ثابت ہوئے۔

پیو (Pew) نامی پولنگ کمپنی سے حاصل کردہ ڈیٹا سے بھی اسی خیال کو تقویت ملتی ہے کہ صرف انٹرنیٹ ہی اختلاف رائے کی بنیادی وجہ نہيں ہے۔ 2016ء کے انتخابات کے بعد پیو نے یہ انکشاف کیا کہ 62 فیصد امریکیوں کو سوشل میڈیا ویب سائٹس سے خبریں تو موصول ہوتی ہیں، لیکن ان میں سے صرف 18فیصد افراد کو یہ خبریں “اکثر” ملتی ہیں، اوراس بات کا اس مطالعے کے متعلق بیشتر مضامین میں ذکر ہی نہیں کیا گیا تھا۔ ایک حالیہ پیو کے مطالعے کے ذریعے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ صرف پانچ  فیصد افراد کو اس معلومات پر “بہت زیادہ” بھروسہ تھا۔

ایم آئی ٹی کے سینٹر فار سوک میڈیا (Center for Civic Media) کے ڈائریکٹر ایتھن

زکرمن (Ethan Zuckerman) کہتے ہيں، “انٹرنیٹ بالکل بھی اس اختلاف رائے کی وجہ نہيں ہے۔ لیکن میرے خیال سے ایسی صورتحال سامنے آرہی ہے جو فاکس نیوز سے شروع ہوئی تھی اور اب سوشل میڈیا کی طرف بڑھ رہی ہے۔”

اگر ہم یہ بات مان لیں تو اس کے بارے میں کیا کیا جاسکتا ہے؟

ٹھیک کرنے کی تین کوششیں

2016ء کے انتخابات کے بعد زکرمین اور ان کے کچھ ساتھیوں نے گوبو (Gobo) نامی ایک ٹول ڈیزائن کیا تھا جس کے سلائڈرز کو کھسکا کر مشمولات کے فلٹرز میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ مثال کے طور پر “سیاست” کے سلائيڈر کو “میرے نظریے” سے تبدیل کرکے “کئی نظریے” پر سیٹ کیا جاسکتا ہے، جس کے نتیجے میں آپ کو ایسے کئی میڈیا کے ذرائع نظر آئيں گے جن پر شاید عام طور پر آپ کی نظر نہ پڑے۔

تاہم فیس بک نے گوبو میں کچھ خاص دلچسپی کا مظاہرہ نہيں کیا۔ زکرمین کا کہنا ہے، “فیس بک کو شاید اس بات کی پریشانی لاحق ہے کہ لوگ اپنی فیڈ میں کئی مختلف نوعیت کی چیزیں نہيں دیکھنا چاہیں، اور ہوسکتا ہے کہ ان کی بات غلط نہ ہو۔”

اس کے علاوہ، دیب رائے کے لیب نے بھی سوشل مرر (Social Mirror) نامی ایک ٹول تیار کیا تھا، حس میں ڈیٹا ویزولائزيشن کی مدد سے ٹوئیٹر کے صارفین کو دکھایا جاتا ہے کہ ٹوئیٹر کی مجموعی دنیا میں ان کا نیٹ ورک کہاں موجود ہے۔ اس سال انہوں نے اس ٹول کے ساتھ ایک تجربے کے نتائج افشاء کیے، جس میں اس ٹول پر تجربہ کرنے والے افراد، جن میں سے بیشتر افراد سیاسی طور پر فعال بھی تھے، یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ اپنے بلبلوں میں کس حد تک قید تھے۔

اس تجربے کے نتائج زيادہ عرصے تک برقرار نہيں رہے۔ اس کے اختتام کے ایک ہفتے بعد تک تو شرکت کنندگان نے پہلے سے زيادہ متنوع ٹوئیٹر اکاؤنٹس فالو کیے، لیکن دو سے تین ہفتے بعد زيادہ تر افراد واپس اپنے بلبلوں ميں چلے گئے۔ اور مزے کی بات یہ کہ جن لوگوں نے محققین کے مشورے کے مطابق اپنی ٹوئیٹر فیڈز میں تنوع متعارف کرنے کے لیے مختلف رائے رکھنے والے اکاؤنٹس فالو کیے، انہوں نے آگے چل کر بتایا کہ ان کا اپنے سے مختلف سیاسی آراء رکھنے والے افراد سے بات کرنے کا امکان اور بھی کم ہوگیا۔

اس تجربے کی ناکامی کے بعد زکرمین نے فلٹر ببلز کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید انتہا پسند آئیڈیا ڈھونڈ نکالا ہے۔ وہ اب ٹیکس کی رقم سے ایسا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جو لوگوں کو “دنیا کا متنوع اور عالمی نظریہ پیش کرے گا”۔

وہ ایٹلانٹک (Atlantic) کی ایک تحریر میں بتاتے ہيں کہ شروع میں امریکہ کے اخبارات میں صرف ایک جانبدارانہ نظریہ پیش کیا جاتا تھا، جو مخصوص قارئین کے لیے لکھا جاتا تھا۔ تاہم ناشر اور مدیر ملک کے مختلف حصوں سے اور مختلف سیاسی نظریات پر مبنی خبریں بھی شائع کرتے تھے۔ کئی جمہوری ممالک میں بھی سرکاری براڈکاسٹرز نے مختلف نظریے فراہم کرنے کی کوششیں کی ہے۔ تاہم زکرمین کا کہنا ہے کہ فیس بک جیسے پلیٹ فارمز سے اس قسم کی توقع نہيں رکھی جاسکتی، کیونکہ لوگوں کی اپنے جیسے افراد کے ساتھ گھلنے ملنے کی قدرتی خواہش سے فائدہ اٹھانا ہی ان کی آمدنی کا ذریعہ ہے۔

زکرمین کہتے ہيں کہ غیرتجارتی مقاصد رکھنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ہماری فیڈز میں نامانوس نظریات پیش کرکے ہمیں نئی چیزوں پر غور کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہيں کہ لوگ اپنے ٹیکس کے پیسوں سے اس قسم کے پلیٹ فارم کی تخلیق کی مخالفت ضرور کریں گے اور اس کی غیرجانبداری پر شک کریں گے، لیکن اس وقت کوئی دوسرا حل موجود نہيں ہے۔

اصل مسئلہ ہم خود ہيں

نیو یارک یونیورسٹی میں سماجی ماہر نفسیات جے وین بیول (Jay Van Bavel) نے سوشل میڈیا کا

مطالعہ کرکے جاننے کی کوشش کی ہے کہ کس قسم کی پوسٹس سب سے زيادہ مقبول ثابت ہوتی ہیں۔ انہیں یہ بات معلوم ہوئی کہ “گروپ کی شناخت” کی پوسٹس سے دماغ کے سب سے زيادہ قدیم غیرعاقلانہ حصے فعال ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی ری پبلکن سیاست دان یہ کہے کہ مہاجرین ملک میں داخل ہو کر اس کی ثقافت کو تبدیل کررہے ہیں یا مقامی لوگوں سے ان کی نوکریاں چھین رہے ہيں، یا اگر کوئی ڈیموکریٹ خواتین طلباء کو یہ کہے کہ مذہبی کارکنان عورتوں کے حقوق ختم کرنا چاہ رہے ہيں، تو ان کی باتوں میں دم ہوگا۔ بیول کی تحقیق کے مطابق اگر آپ جانبدارانہ دراڑوں سے بچنا چاہتے ہيں تو آپ کو ذہانت کے بجائے جذبات پر دھیان دینا ہوگا۔

سوشل مرر کے تجربے کے بعد رائے کے لیب کے کچھ ممبران نے فلپ فیڈ (Flip Feed) نامی

ایک پراجیکٹ کی بنیاد رکھی، جس میں ٹوئیٹر کے صارفین کو مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے افراد کی پوسٹس دکھائی گئيں۔ اس مطالعے کے بانی مارٹن سیوسکی (Martin Saveski) بتاتے ہيں کہ اس تجربے کا مقصد لوگوں کو مخالفین کے متعلق اپنی رائے تبدیل کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔ ایک تجربے کے دوران شرکت کنندگان کو کہا گیا کہ جب بھی ان کے سامنے کوئی مختلف رائے پیش کی جائے، تو وہ تصور کریں کہ ان کے سامنے ان کا کوئی دوست کھڑا ہے۔ جن شرکت کنندگان کو یہ ہدایات دی گئیں تھیں، ان کا اس شخص سے آگے چل کر بات کرنے کا اور اس کی رائے مختلف ہونے کی وجہ سمجھنے کا زيادہ امکان تھا۔

یہ نتائج پیریسر کے ایک اور مشاہدے کے مطابق تھے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ انٹرنیٹ پر بہترین مباحثے کھیلوں کے فورمز میں نظر آتے ہيں جہاں لوگوں کا اپنی ٹیم کی مشترکہ حمایت کی بنیاد پر تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ مفروضہ یہ ہے کہ ان فورمز میں موجود ہر شخص پہلے اس ٹیم کا شیدائی ہے اور اس کے بعد کسی مخصوص سیاسی پارٹی کا حامی ہے۔ اس طرح سیاست کے میدان میں اترنے سے پہلے ہی ایک جذباتی تعلق موجود ہوتا ہے۔

زکرمین، رائے اور دوسرے افراد کے مختلف پراجیکٹس کا اصل مقصد ہمیں ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے سیاسی بلبلوں سے باہر موجود مشمولات سے متعارف کروانا ہے۔ لیکن کیا یہ قابل عمل ہے؟ رائے کہتے ہیں، “میرے خیال سے اس وقت ٹیکنالوجی پر مکمل طور پر انحصار نہيں کیا جاسکتا ہے۔”

ہوسکتا ہے کہ آخر میں ہم خود ہی کئی مختلف ذرائع سے مشمولات پڑھنا شروع کردیں گے۔ اگر آپ کو یہ تصور پسند نہيں آیا، تو اس بات پر ضرور غور کریں کہ آپ نے اشتعال میں جو سیاسی پوسٹ شیئر کی تھی، اس کا کوئی خاص فائدہ نہيں ہوا، کیونکہ تحقیق کے مطابق جنہوں نے آپ کی پوسٹ پڑھی، وہ پہلے ہی سے آپ کے رائے سے متفق تھے۔

تحریر: ایڈم پیور (Adam Piore)

ایڈیم پیور 2017ء میں شائع ہونے والی کتاب The Body Builders: Inside the Science of the Engineered Human کے مصنف ہيں۔

Read in English

Authors

*

Top