Global Editions

تخریبی مواد انٹرنیٹ سے ہٹانے کیلئے تمام ٹیک کمپنیاں متحد

فیس بک، ٹوئیٹر، مائیکروسافٹ اور یو ٹیوب نے انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سے داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموںکے مواد کو پہلے سے زیادہ موثر انداز میں ہٹانےکی مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیاہے۔ بہت عرصے سے یہ بات کہی جا رہی تھی کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو شرپسند عناصر اور دہشت گرد تنظیمیں اپنے مواد کی اشاعت اور عام لوگوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے استعمال کر رہی ہیں۔ گزشتہ برس ہم نے بھی اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ آئی ایس آئی ایس خاص طور پر اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی کو قرون وسطی کے نظریات کی ترویج کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ جس میں قتل عام، ٹارچر، عصمت دری، غلام بنانا اور آثار قدیمہ کی تباہی شامل ہے۔ اب ٹیک کمپنیوں نے اپنی ویب سائٹس جو ان مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کی جاتی تھیں کو ایسے مواد سے پاک کرنے کے لئے مشترکہ کاوشوں کا آغاز کیا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اس ضمن میں ایک تکنیک جو ہیش کے نام سے جانی تھی کو بروئے کار لائے گی۔ اس کے تحت میڈیا فائل کو ایک یونیک نمبر دیا جائیگا اور پھر تمام ویب سائٹس اس مواد کے متعلق معلومات کا تبادلہ کرتے ہوئے اس سائٹ سے ہٹا دیں گی۔ اس امر کی بھی اطلاعات موجود ہے کہ رواں سال کے آغاز میں ہی گوگل اور فیس بک نے تجرباتی بنیادوں پر انتہاپسندانہ مواد کو ہٹانے کے کام کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم اب اس نئی ڈیٹا بیس کے تحت جو سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹس کے ساتھ شئیر کی جائیگی کے تحت کسی ایک ویب سائٹ سے ایسا مواد ہٹائے جانے کے بعد دیگر ویب سائٹس سے بھی یہ مواد ہٹا لیا جائیگا۔ نئےڈیٹا بیس کے تحت آئندہ برس کے آغاز سے کام کا آغاز ہو جائیگا۔ بلیک لسٹڈ مواد کو کسی خاص الگورتھم کے ذریعے ازخود ڈیٹا بیس سے نہیں ہٹایا جائیگا بلکہ یہ فریضہ انسان ہی سرانجام دینگے۔ تاہم اس ضمن میں اس امر کا خیال رکھا جائیگا کہ دہشت گردی کے حوالے جرنلسٹک مواد کو نہ چھیڑا جائے۔ اس حوالے ڈرٹمائوتھ Dartmouth کالج کے کمپیوٹر سائنٹسٹ ہینی فرید (Hany Farid) نے ’’گارڈین‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس تمام عمل کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ اس کے لئے آپکو ان لوگوں کی مدد لینا ہو گی جنہیں انتہاپسندانہ مواد میں مہارت حاصل ہو ان کے موجودہ رحجانات کو بھی مانیٹر کرنا ہو گا ورنہ آپ محض ٹیک کمپنیوں کے اقدامات تک محدود ہو جائیں گے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی جانب سے اٹھایا جانیوالا حالیہ اقدام ستائش کے لائق ہے روایتی طور پر ٹیک کمپنیاں ایسے مواد کی موجودگی کی اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں تک پہنچانے سے گریز کرتی تھیں تاہم بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤنے اب ان کو اپنی ترجیحات اور سوچ میں تبدیلی لانے پر مجبور کر دیا ہے۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top