Global Editions

ڈرونز حادثے اب مکمل طور پر محفوظ ہونے والے ہیں

جب تک ڈرونز صحیح سے ایمرجنسی لینڈنگ نہیں کرپائیں گے، اس وقت تک ڈرونز کے ذریعے ڈیلوری کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔

ایک شادی شدہ جوڑا ڈرون کے ذریعے پیکیجز کی ڈیلوری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہوا میں اڑنے والے جن مشینوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں پائلٹ نہيں ہے، وہ بھی درحقیقت پائلٹ کے بغیر نہيں اڑتی ہیں۔ امریکی قانون کے مطابق، ایک پائلٹ کو جہاز پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ڈرونز کو جس وسیع پیمانے پر لانچ کیا جارہا ہے، اور جن مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جانے والے ہے، اس کے لیے یہ سب ممکن نہیں ہے۔

ایئروسپیس ٹیکنالوجسٹ اور ناسا کے ریسرچر لو گلاب (Lou Glaab)، اور ان کی اہلیہ سافٹ ویئر انجنیئر ٹرش گلاب (Trish Glaab) نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک سسٹم تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک علیحدہ فلائٹ کے کمپیوٹر یا آٹو پائلٹ میں انٹیگریٹڈ موڈ کی شکل میں سافٹ ویئر الگارتھمز پر مشتمل Safe2Ditch نامی اس سسٹم کا مقصد میکانیکی نقص یا بیٹری ختم ہونے کی صورت میں ڈرون کی بحفاظت لینڈنگ کو ممکن بنانا ہے۔

لو اور ٹرش گلاب امید کرتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی امریکی فیڈرل اوییشن ایڈمنسٹریشن (U.S. Federal Aviation Administration) کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ثابت ہوگی کہ خودکار ڈرونز کو بحفاظت استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ سافٹ ویئر خاص طور پر چھوٹے اور کم قیمت ہوائی جہازوں کے لیے بنایا گیا ہے۔ ڈرون مختلف سسٹمز کی نگرانی کرنے کے بعد یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کیا اسے اسی طرح چلتے رہنا چاہئیے، یا اسے محفوظ لینڈنگ سائٹ کے انتخاب کے بعد لینڈ کروادیا جائے۔ اس سسٹم میں محفوظ ہنگامی لینڈنگ سائٹس کی مکمل فہرست موجود ہے اور رینج، سائز، سطح زمین اور وقت یا دن کی بنیاد پر کسی محفوظ لینڈنگ سائٹ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ (بعد میں اس سافٹ ویئر میں ڈرون کی فیڈ کے تجزیے کی مدد سے ڈیٹابیس سے ہٹ کر لینڈنگ سائٹس منتخب کرنے کی سہولت شامل کی جائیں گی)۔

ٹرش کہتی ہیں "Safe2Ditch کو اس پائلٹ کی طرح فیصلہ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، جسے ایمرجنسی میں جہاز لینڈ کرتے وقت خود کی اور دوسرے لوگوں کی جان بچانی ہے۔" یہ سافٹ ویئر مستقل جہاز پر نظر رکھتا ہے، اور مشن پلان اور پاور کی ضروریات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایمرجنسی میں، یہ سسٹم اپنے ڈیٹابیس کی چھان بین کے بعد ڈرون کی موجودہ کارکردگی کو دیکھ کر لینڈنگ کے لیے سب سے محفوظ سائٹ کا انتخاب کرتا ہے۔ کوئی بھی سائٹ نہ ملنے کی صورت میں ڈرون دستیاب وقت میں اپنے اطراف میں محفوظ ترین لینڈنگ کے لیے محفوظ جگہ ڈھونڈنے لگ جاتا ہے۔

یہ موجودہ UAV میں استعمال ہونے والے سسٹم سے بہت بہتر ہے، جن کے لیے ایک "ہوم" پوائنٹ متعین کرنے کی ضرورت ہے، جہاں ڈرون ہاڑدویئر کے نقص یا بیٹری ختم ہونے کی صورت میں لوٹ جائے۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر بیٹری ہوم پوائنٹ تک جانے کے لیے کافی نہ ہو یا اگر ہوم پوائنٹ اپ ڈيٹ نہ کیا گیا ہو، تو ڈرون واپس پہنچ نہیں پائے گا۔

ایم آئی ٹی میں ایئروناٹکس کے پروفیسر نیکولس رائے (Nicholas Roy) کہتے ہیں کہ موجودہ سسٹم UAV کے درست سیٹ اپ پر انحصار کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص نیا ہوم پوائنٹ ڈالنا بھول جائے تو ڈرون پرانے ہوم پوائنٹ پر ہی جائے گا، چاہے وہ کتنا ہی دور کیوں نہ ہو۔ بعض دفعہ کمرشل UAV کچھ دیر کے لیے ہوا میں ہوور کرتے ہیں، تاکہ پائیلٹ کو صورتحال بچانے کا موقع مل جائے۔

اس کے برعکس Safe2Ditch کے سسٹم میں ایک کیمرہ نصب ہے، جو کسی ممکنہ حادثے کی سائٹ پر لوگوں اور گاڑیوں کی حرکت کی نشان دہی کرکے اپنا رخ بدل لیتا ہے۔ یہ فیچر ٹیم کے لیے سب سے زيادہ مشکل تھا، کیونکہ کیمرہ حرکت کی نشان دہی کے دوران مستقل حرکت کرتا رہتا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے برگ ہیم ینگ یونیورسٹی Brigham Young Univers کی ایک ٹیم کی مدد حاصل کی ہے۔

Safe2Ditch کے سسٹم میں ابھی بھی چند مسائل ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کیبل ہل جانے یا آٹو پائلٹ کے نقص کی صورت میں بیٹری جواب دے دے تو یہ سسٹم ناکارہ ہوجاتا ہے۔ ٹیم ان مسائل کو حل کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

رائے کا کہنا ہے کہ اگر یہ مسائل حل ہوجائیں تو FAA کو Safe2Ditch یا اس طرح کے دوسرے سسٹمز کو UAV کی تخلیق کاری کے لیے ضروری قرار دینے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے۔

رائے کے مطابق "ماضی میں جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی انسانی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے سامنی آئی، تو FAA نے بڑی پھرتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سب سے بڑی رکاوٹ ایسے سسٹمز کی تخلیق ہے جس کے ذریعے ان اقدام کو قانون کا حصہ بنایا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ Safe2Ditch اس قدر امید افزا ہے۔"

تحریر: سائمن پارکن (Simon Parkin)

Read in English

Authors
Top