Global Editions

عالمی سطح پر جینومک ڈیٹا اکٹھا کرنے میں درپیش مسائل

جینوم ڈیٹا جمع کرنے کی شرح بھارت سمیت پوری دنیا میں بہت کم ہے۔ خصوصا بھارت میں یہ شرح 0.2فیصد ہے جبکہ بھارت کی آبادی دنیا کا 20فیصد ہے۔ اسی وجہ سے بھارت میں بڑی آنت کے کینسر سمیت مختلف بیماریوں کی تشخیص اور نئی ادویات کی تیاری میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ بھارت میں بڑی آنت کے کینسر کے مریض امریکہ سے کم ہیں ۔ ہندوستانیوں کو بڑی آنت کے کینسر میں مغربی ممالک کے مریضوں کے مقابلے میں مختلف جینیاتی خرابی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے زیادہ تر نوجوان متاثر ہوتے ہیں ۔ بھارتی اور مغربی ممالک کے مریضوں میں فرق یہ ہے کہ مغربی ممالک کے مریضوں کے پاس اس بارے میں پہلے سے ہی تمام معلومات ہوتی ہیں۔ بھارتی شہری چونکہ سبزی خور ہیں شاید اس لئے یہ شرح ذیادہ ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ نوجوانوں کے علاوہ کچھ چھوٹی عمر کے ہندوستانیوں میں بھی یہ بیماری کیوں شدت اختیار کرجاتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ دو گروپوں میں جینوم کا فرق اس کی وضاحت میں مدد کرسکتا ہے۔ بھارت میں نوجوانوں میں مرض کے پھیلاؤ کے پیش نظر ایک نئی کمپنی گلوبل جین کارپوریشن بھارتی مریضوں میں کینسر کی تشخیص کیلئے جینوم کا تجزیہ کرنا چاہتی ہے تاکہ ان کا بہتر علاج کیا جاسکے۔

کمپنی مریضوں کے ڈی این اے کے ساتھ کینسر کے خلیات کا بھی تجزیہ کرے گی اور مریضو ں کے علاج کو بہتر بنانے کیلئے الگورتھم استعمال کرے گی۔ اس علاج کے دوران جمع ہونے والا مجموعی ڈیٹا فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور پالیسی سازوں کو نئی ادویات بنانے کیلئے مدد کرے گا۔ گلوبل جین کارپوریشن کا خیال ہے کہ جینیاتی نمونوں کا معائنہ کرکےبھارتی شہریوں کو لگنے والی بہت سی بیماریوں کے بارے میں بھی بہت سی معلومات حاصل ہو سکیں گی جن میں ذیابیطس، ولسن نامی جگر کی بیماری اور کچھ کینسر کی اقسام شامل ہیں اور یہ معلوم کیا جاسکے گا کہ متذکرہ شخص بیماری کا حامل ہے یا نہیں یا اور اگر بیماری ہے تو کہیں اسے وراثتی بیماری تو نہیں ہے ان معلومات کی بنیاد پر علاج کیلئے بہترین دوا تجویز کی جاسکے گی۔ کمپنی کو امید ہے کہ جینیاتی رازوں سے پردہ اٹھنے کے بعد معلوم ہو سکے گا کہ مغرب کی بہ نسبت کیوں زیادہ تر بھارتی شہریوں کو ذیابیطس کی بیماری ہوتی ہے۔

جین کارپوریشن کی فرم سنگاپور میں قائم ہے جس نے بوسٹن سے 2013ء میں اپنا کام اس وقت شروع کیا جب ہارورڈ میڈیکل سکول کے دو ڈاکٹروں نے ترقی پذیر ممالک میں صحت کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے اور جینومکس استعمال کرنے کا طریقہ دریافت کرنے کیلئے بطور ایگزیکٹوز اس میں شامل ہوئے۔ وہ اپنے کام کے سلسلے میں بھارت گئے جہاں کی آبادی کا حجم بہت بڑا اور متنوع ہے۔ بھارت میں جینوم کو 2003ء میں سب سے پہلے ترتیب دیا گیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت کی آبادی دنیا کا 20فیصد ہے لیکن بھارت سے جینومک ڈیٹا صرف 0.2فیصدموصول ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں بھی صورتحال اسی طرح کی ہے۔ اگرچہ امریکہ سے باہر یورپ اور جاپان دنیا کی آبادی کا 60فیصد ہیں لیکن وہ عالمی سطح پر جینوم ڈیٹا کا ایک فیصد فراہم کرتے ہیں۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ غریب ممالک میں امریکہ ، برطانیہ کی طرح انسانی جینوم کو ترتیب دینے کے منصوبوں پر کام نہیں کیا جاتابلکہ صحت سے متعلق اپنے ذرائع کو چھوتی بیماریاں ختم کرنے پر خرچ کیا جاتا ہے۔ گلوبل جینز کارپوریشن کی نظر میں یہ ایک بڑی خامی ہے لیکن وہ اس خامی کو بھی کاروباری نقطہ نظر سے دیکھتی ہے۔ کمپنی کا موقف ہے کہ بھارت کی آبادی ، کینسر کے اعدادوشمار اور ملک میں فارماسیوٹیکل اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئےکینسر کے علاج اور دوا کی تیاری کے حوالے سے بھارتی مارکیٹ انہیں 1.9ارب ڈالر کا بزنس دے سکتی ہے۔ اگر اس میں چین، جنوب مشرقی ایشیائی اور وسط ایشیا کے ممالک کو بھی شامل کرلیا جائے تو اس مارکیٹ کا حجم 8.1 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا جس میں سالانہ 14 فیصد اضافہ ہو گا جہاں پر جینوم سیکونسنگ میں اضافے کی توقع ہے۔

کمپنی اپنی آمدن تو ظاہر نہیں کرے گی لیکن اس نے ایشیا اور یورپ میں مختلف 48 کاروباری اداروں، حکومتوں اور سائنسی تنظیموں کے ساتھ پارٹنر شپ کررکھی ہے۔ کمپنی پہلے ہی مریضوں کی مرضی سے 10000جینوم کی ترتیب کیلئے ڈی این اے نمونے جمع کرچکی ہےاسی بنیاد پر کمپنی بھارت میں سب سے بڑا جینومک بائیو بنک بنا رہی ہے اور بھارتی شہریوں کیلئے حوالہ جاتی جینوم مرکزقائم کررہی ہے۔ یہ حوالہ جاتی جینوم بھارت میں بیماریوں کو سمجھنے میں مدد کرے گی۔ ایشیا میں صرف گلوبل جین کمپنی ہی کام نہیں کررہی بلکہ دیگر کمپنیاں بھی کام کررہی ہیں۔ ان میں سے ایک کمپنیوں اور ماہرین پر مشتمل غیر منافع بخش کنسورشیم جینوم ایشیا 100کے (GenomeAsia 100 K)بھی شامل ہے۔ یہ کنسورشیم شمال، جنوب اور مشرقی ایشیا کے ایک لاکھ افراد کے جینوم کو ترتیب دینا چاہتا ہے۔ جس میں وہ پچاس سے 100حوالہ جاتی جینوم بنانا چاہتا ہے جو اگلے چار سالوں میں تمام ایشیائی نسلی گروہوں کی نمائندگی کریں گےمثلاً جیسے جاپان ہے جس کے بارے میں نانیانگ (Nanyang)ٹیکنالوجی یونیورسٹی سنگا پور میں ماحولیاتی حیات سائنسز انجینئرنگ سنگاپور سنٹر کے ڈائریکٹر تحقیق پروفیسر سٹیفن شوسٹر کہتے ہیں کہ جاپان میں کچھ اختلاف کے ساتھ تین بڑے نسلی گروہ ہیں۔

جنوبی ایشیا کے بارے میں ناکافی معلومات ہونے کے سبب انسانی جینیاتی اختلاف کو دستاویزی شکل دینے کی سابقہ کوششیں ناکام ہو گئیں تھیں۔ یہ کوششیں اس لئے ناکام ہوئیں کہ سال 2008 ءسے لے کر 2015ء تک ایک ہزار جینوم جمع کرنے کا منصوبے کیلئے ایشیا میں محض چند ایک نسلی گروہوں کے نمونے لئے جاسکے جن میں پاکستانی پنجاب اور بھارتی گجرات کے نمونے شامل ہیں۔ اس سے قبل ہیپ میپ نامی بین الاقوامی پراجیکٹ میں صرف بھارتی گجرات سے ڈی این اے کے نمونے جمع کئے جاسکے تھے۔ جینومک ڈیٹا اکٹھا کرنے کے آئندہ کے منصوبوں کو ناکامی سے بچانے کیلئے تجویز دی گئی ہے کہ اس کام میں حکومت کی مدد لی جائے۔ انگلینڈ میں بی جینومکس کمپنی کینسر اور دیگر نایاب بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے ایک لاکھ جینوم نمونے اکٹھا کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جس کے تحت مریضوں کے نسلی گروہوں کے ریکارڈ اور ان کی حالت سے متعلق معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں ۔ ان معلومات سے یہ پتہ چلایا جائے گا کہ کس طرح ان معلومات کو مریضوں کے علاج کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

امریکہ میں صدر اوباما نے تشخیصی ریکارڈ پر مشتمل تجرباتی دوا کے منصوبے انیشی ایٹو کوہیرنٹ پروگرام (Initiative Coherent Program)کے نام سے منظوری دی ہے جو اسی سال شروع ہو جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت مریضوں کے دیگر ڈیٹا کے ساتھ نسلی گروہ کا بھی پتہ چلایا جائے گا۔ اس کامقصد مریضوں کا صحت اور بیماری ڈیٹا جمع کر کے ان کے اختلافات کا مطالعہ کرنا ہے۔ گلوبل جین کارپوریشن مختلف ذرائع مثلاً ہسپتالوں تحقیقی منصوبوں اور رضاکاروں سے نمونےحاصل کررہی ہے۔ پینسلوانیا کی وارٹن سکول یونیورسٹی میں ہیلتھ کیئر مینجمنٹ کے پروفیسر لائٹن آر برنس (Lauton R. Burns) کا کہنا ہے کہ اس کی ادائیگی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ (انہوں نے چین اور بھارت پر کتابیں بھی لکھ رکھی ہیں۔)ان کا کہنا ہے کہ صرف 25فیصد بھارتی شہریوں نے صحت کی انشورنس کروا رکھی ہے اس انشورنس میں جینیاتی ٹیسٹ شامل نہیں ہے۔ اس کام کیلئے آپ کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو نہ صرف رضاکارانہ طور پر جینیاتی ٹیسٹ کرانے پر آمادہ ہوجائیں بلکہ اس کے خود اخراجات بھی اٹھانے پر راضی ہو جائیں۔

گلوبل جین کارپوریشن میں ایک جینیاتی کلینکل ٹیسٹ 75سے 538ڈالر لاگت آتی ہے۔برنس کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ایک اور بڑا مسئلہ ہےکہ اگر مریض پیسے خرچ کرکے ٹیسٹ کروا لیتے ہیں تو انہیں یہ ہی معلوم نہیں کہ وہ حاصل کردہ معلومات سے کس طرح فائدہ اٹھائیں گے۔ گلوبل جین کمپنی ٹیسٹوں کو مفید بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ ٹیسٹوں سے حاصل کئے گئے ڈیٹا سے لوگوں کی جینیاتی خصوصیات کی شناخت کرنے میں مدد لی جاسکتی ہے۔ ان معلومات کو فارماسیوٹیکل کمپنیاں نئی اور موثر ادویات بنانے میں استعمال کرسکتی ہیں۔ ہاورڈ میڈیکل سکول میں جینیاتی ماہر اور گلوبل جین کمپنی کے بانی جوناتھن پکر (Jonathan Picker)کہتے ہیں کہ صحت کے تصور کو تبدیل کرنے کیلئے ہمیں جینومک ڈیٹا کے حوالے سے پوری دنیا کی نمائندگی کرنا ہو گی۔ چند جینیاتی نمونے حاصل کرکے ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ ہر کسی کے بارے میں جان گئے ہیں۔

تحریر: الزبتھ ووئیک (Alizabeth Woyke)

Read in English

Authors
Top