Global Editions

مصنوعی حیاتیات خوردبین کے نیچے

ڈاکٹر فیصل خان پشاور میں واقع سی ای سی او ایس (CECOS) یونیورسٹی میں انٹیگریٹیو بائیو سائنسز انسٹی ٹیوٹ (Integrative Biosciences Institute) کے بانی ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں سیل بیالوجی اور سسٹمز بیالوجی کے مشترکہ موضوعات میں اپنی ڈاکٹریٹ کی تعلیم مکمل کی، اور وہ آکسفورڈ پروٹین انفارمیٹیکس گروپ (Oxford Protein Informatics Group) کے سابقہ رکن بھی رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر خان خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ خیبر پختونخواہ کے آئی ٹی بورڈ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹریٹ کی ایڈوائزی کمیٹی، نئے قائم شدہ ہائر ایجوکیشن ریسرچ اینڈومنٹ فنڈ اور کے پی یوتھ ڈیولپمنٹ کمیشن کے بھی رکن ہیں۔ نیز، سٹارٹ اپ پشاور ٹوپوائنٹ زیرو (2.0 Peshawar)، جو بیس کیمپ نامی کوورکنگ سپیس کی ذمہ دار ہے اور ری وولٹ (Revolt) نامی ‘سٹارٹ اپ کی فیکٹری’ کا سہرا بھی انہی کے سر جاتا ہے اور ری وولٹ (Revolt) نامی ‘سٹارٹ اپ کی فیکٹری’ کا سہرا بھی انہی کے سر جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈاکٹر خان خیبر پختونخواہ حکومت اور پریسیشن میڈیسن لیب (Precision Medicine Lab)، جو حال ہی میں لانچ کیے جانے والےنیشنل سینٹر برائے بگ ڈیٹا اینڈ کلاؤڈ کمپیوٹنگ (National Center for Big Data and Cloud Computing) کا حصہ ہے، کے مصنوعی حیاتیات کے پراجیکٹ سن بائیو کے پی (SynBioKP) کے پرنسپل انوسٹی گیٹر ہیں۔ ان کی سرپرستی میں پاکستان سے دو ٹیموں نے بوسٹن میں منعقد ہونے والے آئی جیم (iGEM) مقابلے میں 2016ء میں کانسی اور 2017ء میں چاندی کے تمغے جیتے۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو نے مائیکرو بیالوجی کے شعبے میں ان کی تحقیق اور پاکستان میں اس کے استعمال کے علاوہ سرکاری شعبوں میں ان کے کام پرتبادلہ خیال کے لیے ان کے ساتھ ایک نشست کی۔

س: ہمیں اپنی تحقیقی دلچسپیوں کے بارے میں بتائیں۔

ج: میرا ڈاکٹریٹ کا مقالہ خلیات کی تقسیم اور اس وجہ سے جسم میں کینسر کے پھیلاؤ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بارے میں تھا۔ اس میں گراف تھیوری سے حاصل کردہ اسباق سے فائدہ اٹھایا گیا تھا، جوکہ پروٹین کا مطالعہ کرنے کے لیے سماجی نیٹ ورکس پر تجزیہ کی مانند ہے۔

کسی بھی خلیے میں کوئی پروٹین اکیلے کام نہیں کرتی۔ آپ کہہ سکتے ہیں یہ ایک فوج کی شکل میں ایک لاکھ دیگر پروٹینز کے ساتھ مل کرکام کرتی ہے۔ میں مطالعہ کرنا چاہتا تھا کہ وہ (یعنی مختلف پروٹین) کس سےبات کرتے ہيں اور ان کے اطراف کا علاقہ کیسا ہے۔ ہم نا معلوم پروٹینز کو آس پاس موجود پروٹینز کے معلوم شدہ کام کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کررہے تھے۔ اس مطالعے کی بدولت ہم اب لیب میں پشاور میں ڈینگی، ہیپاٹائیٹس اور ملیریا جیسی موذی بیماریوں کو سمجھنے کی کوششیں کررہے ہيں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں مائیکروبیالوجی کا سکوپ

یہ طریقہ ادویات کی ٹیسٹنگ کے لیے افراد کی نشاندہی میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے ذریعے تمام ڈیٹا استعمال کرکے پروٹینز کے اوپر اس کی تہہ بچھا کر مصنوعی ذہانت کے ذریعے سب سے زيادہ امکان رکھنے والے امیداوروں کی نشاندہی کرنے کے بعد لیب میں مشین کی پیشگوئیوں کا حقیقت سے موازنہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اس تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے، میں اپنے مقالے کی تحقیق میں 26 ایسے پروٹینز کا خلیات کی تقسیم میں کردار جاننے میں کامیاب رہا جس کے بارے میں پہلے کوئی معلومات موجود نہيں تھی۔

س: حیاتیاتی تحقیق کے کچھ اہم خدشات کیا ہیں؟ آپ کے خیال میں عالمی سطح پر اس شعبے کی کیفیت کیا ہے؟ نیز، آپ کے خیال میں اس کا ہماری مقامی صورتحال سے کس طرح موازنہ کیا جاسکتا ہے؟
ج: اگر ہم ایک عملی اور پاکستان پر مرکوز نقطہ نظر سے دیکھیں تو ہمیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ حیاتیاتی تحقیق کی لیباریٹریوں اور باورچی خانوں میں کچھ خاص فرق نہيں ہے۔ ہر چیز زندہ ہے اور ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جو بڑی جلدی خراب ہوسکتی ہيں۔ اس کے باعث حیاتیاتی تحقیق بہت مہنگی ثابت ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ زیادہ فعال لیبز نظر نہیں آتیں۔

محققین اب صرف خوردبین کی مدد سے خلیات کے تجزیے نہیں کر رہے ہیں۔ آج کل سیدھے مالیکولز کی سطح پر تحقیق کی جارہی ہے۔ لہٰذا اگر لیبز کو ضروری سامان مہیا بھی کیا جائے تو ان کو فعال رکھنے کے لیے فنڈز کی مستقل ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح، وسائل کی کمی بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوسکتی ہے۔

دوسرا مسئلہ مختلف شعبہ جات کا ایک دوسرے پر انحصار میں اضافہ ہے۔ حیاتیات کے شعبے میں ڈیٹا کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ مثال کے طور پر، حیاتیات کے طلباء کو عام طور پر ریاضی اور شماریات کا زیادہ شوق نہیں ہوتا، لیکن اب ڈیٹا سائنس کے متعلق معلومات کے بغیر ماہر حیاتیات بننا ناممکن ہے۔ پاکستان میں طلباء کو بہت کم عمر ہی میں ریاضی، کمپیوٹر سائنس اور حیاتیات میں سے کوئی ایک مضمون چننے کو کہا جاتا ہے، اور ماہرین تعلیم کے لیے اب ان طلباء کی مختلف شعبہ جات میں بیک وقت دلچسپی پیدا کروانا بہت بڑا چیلنج ثابت ہورہا ہے۔

کچھ عرصے سے، بڑے ڈیٹا سیٹس کی دستیابی کی وجہ سے مشین لرننگ اورمصنوعی ذہانت بھی میدان میں اترچکے ہيں۔ بحیثیت ایک محقق، اگر میرے پاس لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کنکشن ہے تو مجھے لیب بھی جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے اس طرح دیکھیں۔ ہر زندہ آرگانزم یا نسل میں جینومز موجود ہیں۔ دنیا بھر میں کروڑوں نسلیں ہیں، لہٰذا جینومک ترتیب کا ڈیٹا بھی سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہے۔ ان میں سے زيادہ تر ڈيٹا، بلکہ دیگر کئی قسم کا ترتیب کا ڈیٹا پہلے ہی پبلک ڈومین میں بالکل مفت دستیاب ہے۔ آپ کو صرف انہيں براؤز کرنے، صحیح قسم کے سوالات پوچھنے اور جوابات تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
سائنسدانوں کو حیاتیات کے شعبے میں جو سب سے بڑا سوال درپیش ہے وہ یہ ہے کہ اس ڈی این اے کوڈ کو جسے ہم پڑھ سکتے ہيں (بلکہ کسی ٹیکسٹ کی فائل میں کاپی اور پیسٹ بھی کرسکتے ہيں) کسی فینوٹائپ (یعنی ڈی این اے کوڈ کی کلینکل اور حقیقی شکل) سے کس طرح جوڑا جاسکتا ہے۔ ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ مخصوص قسم کے جینز اور ڈی این اے کے ٹکڑے کچھ چیزوں کی وجوہات بنتے ہیں (جیسے کہ کوئی بیماری، یا کوئی دوسرا فنکشن) لیکن ہم ہر نسل کے مجموعی جینومز کا باقی 90 فیصد حصہ نہيں سمجھ پائے ہیں۔

حیاتیاتی تحقیق بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور اس کی لاگت میں بڑی تیزی سے کمی ہورہی ہے۔ اگر آپ دنیا کے سب سے پہلے جینوم پراجیکٹ کی لاگت کا آج کل کے کسی پراجیکٹ سے موازنہ کريں گے تو یہ بات صاف واضح ہوجائے گی۔ اس پہلے پراجیکٹ میں ایک دہائی سے زائد عرصہ اور تین ارب سے زیادہ ڈالر لگے۔ اب اس پراجیکٹ کے لیے محض ایک ہزار ڈالر کافی ہیں۔ یہ بات ڈی این اے کی ترتیب کے ڈیٹا کو کہیں کا کہیں لے جاسکتی ہے، اور اس سے بے شمار نئے مواقع فراہم ہوں گے۔

س: ایسے جینوم پراجیکٹس کے حوالے سے کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے جنہیں کئی مختلف چیزوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، جن میں کسی کے بھی آباء و اجداد کے متعلق معلومات حاصل کرنا شامل ہے۔ کیا اس طرح کا کام پاکستان میں ممکن ہے؟
ج: ہم اب اس دور میں نہيں رہتے ہیں جب کسی کے جینومز کا مطالعہ بہت بڑی بات ہوا کرتی تھی۔ اب لوگ لاکھوں جینومز کی ترتیب کی بات کرتے ہيں۔ برطانیہ میں جینومکس انگلینڈ نامی ایک پراجیکٹ پر کام ہو رہا ہے جس میں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے اور بیماریوں کے شکار 100,000 مریضوں کے ڈی این اے کی ترتیب کے ذریعے جینوم کی تبدیلوں میں فرق کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ امریکہ اور قطر میں بھی اسی طرح کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ خوش قسمتی سے ہمارے پاس پاکستان میں بھی اس طرح کے منصوبے کے لیے ضروری ہائی ٹیک آلات موجود ہیں۔ کراچی میں آغا خان یونیورسٹی اور پشاور میں رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے پاس جدید ترین الومینا کی مشینیں موجود ہیں۔ پشاور میں ہم نے رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں پریسیش میڈیسن لیب (Precision Medicine Lab) کو متعارف کرنے کے لیے عطیہ بھی حاصل کرلیا ہے، جس سے پاکستان کا سب سے پہلا نیشنل کینسر جینوم پراجیکٹ شروع کیا جائے گا۔ سب سے پہلے ہم کینسر کے سو مریضوں سے حاصل کردہ ڈی این اے کے نمونوں کی ترتیب کا ارادہ رکھتے ہیں، جن کے ذریعے ہم مختلف اقسام کے کینسرز کے حوالے سے اپنی سمجھ بوجھ کو بہتر بنانے اور مزید موثرعلاج کی تجویز پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

ہمیں ذہن میں یہ بات رکھنی ہوگی کہ تمام بیماریوں کے لیے جو ادویات لکھ کر دی جاتی ہیں، انہيں ہمارے ملک کے لوگوں پر ٹیسٹ نہيں کیا جاتا ہے۔ بلکہ انہیں امریکہ میں زيادہ تر سفیدفام افراد پر ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ لہٰذا ممکن ہے کہ ان ادویات پر درج مضر اثرات اور دیگر معلومات کا اطلاق ہمارے ملک کے لوگوں پر نہ ہو۔ اس صورت میں پریسیشن ادویات کام آتی ہیں کیونکہ ایک ہی شخص میں موجود دو کینسر کی ٹیومرز کی مختلف علامات سامنے آسکتی ہیں، جن کے لیے مختلف قسم علاج کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ کینسر کے علاج کا منصوبہ ادویات کو مقامی سطح پر ٹیسٹ کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

س: بحیثیت ٹیم سپروائز اور پرنسپل انوسٹی گیٹر، آپ نے ایم آئی ٹی میں منعقد ہونے والے آئی جیم مقابلے میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی ٹیمز کے ایوارڈ جیتنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ ہمیں اس پراجیکٹ کے حوالے سے بتائیں۔
ج: آئی جیم کے مقابلے کی بنیاد 2004ء میں ایم آئی ٹی میں پڑھائے جانے والے ایک کورس کے دوران رکھی گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اسے دنیا بھر سے متعلقہ شعبے سے تعلق رکھنے والے طلباء میں شہرت ملنے لگی۔ ہر سال اکتوبر میں بوسٹن میں پوری دنیا کے گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ طلباء انجنیئرڈ شدہ زندہ بیکٹیریا، خمیر یا پودوں پر مشتمل مصنوعی حیاتیات (synthetic biology – SynBio) کے شعبے میں مقابلہ کرتے ہيں۔
ہمارے لیے وہاں پر تیز رفتار سے سیکھنے کے ماحول کی وجہ سے اس میں حصہ لینے والے طلباء کے لیے یہ تجربہ بہت زیادہ خوش آئند رہا۔

شروع میں ہمیں خیبر پختونخواہ حکومت کو قائل کرنا پڑا کہ ملک بھر سے تعلق رکھنے والے طلباء کو اس مقابلے میں حصہ لینے کی اجازت دے۔ 2016ء میں ہم سوات اور وزیرستان سے لے کر حیدرآباد سے قلات تک طلباء کو لے کر گئے۔ قلات سے تعلق رکھنے والا طالب علم خاص طور پر یادگار رہا۔ اس نے اس مقابلے میں حصہ لینے کے لیے بس پر 26 گھنٹے پشاور تک سفر کیا اور گرمی اور سفر کی تھکاوٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سیدھا فائنل انٹریو کے لیے آئی جیم پشاور کی ٹیم کے سامنے پیش ہوا۔ اب اس نے حال ہی میں بلوچستان یونیورسٹی سے گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔ ایک اور طالب علم نے کراچی یونیورسٹی کو چھوڑا اور سی ای سی او ایس میں اپنے کریڈٹس ٹرانسفر کروا لیے۔ کچھ شرکاء اب اپنی سٹارٹ اپ کمپنیاں چلا ررہے ہیں،دوسروں کو بیرون ملک اسکالرشپس مل گئے ہیں، اور جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہيں اس ایک پراجیکٹ کے پیچھے پوری کمیونٹی کھڑی ہوچکی ہے۔f

مزید پڑھیں: پاکستانی ریسرچرز نینو اینٹی بائیوٹکس کے پیٹنٹس حاصل کرنے میں کامیاب

کورس کا فارمیٹ یہ ہے کہ ملک بھر سے شرکاء تین مہینے تک ہمارے پاس پشاور میں رہتے ہیں۔ ہم ان کے قیام کے اخراجات برداشت کرتے ہيں، اس دوران، وہ کئی کلاسوں، اور تربیتی سیشنز اور ٹیم کی میٹنگز میں شرکت کرتے ہیں۔

اس پوری کوشش کا انحصار طلباء پر ہے، اور وہ آئیڈیاز دیتے رہتے ہیں اور ہم انہیں چھانٹنے میں ان کی مدد کرتے ہيں۔ ایک اچھے آئی جیم کے آئیڈیا کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں پہلے سے موجود ڈی این اے کے وسائل کا استعمال کیا جائے (جسے بائیو برکس کہا جاتا ہے)، اسے محدود وسائل اور وقت میں پورا کیا جاسکے، اور اسے پاکستان کو متاثر کرنے والے کسی مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے، جو ہمارے لیے سب سے ضروری بات ہے۔ اس آئی جیم کے نتیجے میں 12 سے 14 افراد پر مشتمل ٹیم وجود میں آتی ہے جس کی پوری توجہ اس مخصوص مسئلے کے حل کی تلاش پر مرکوز ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ اس پراجیکٹ میں آؤٹ ریچ کا عنصر بھی شامل ہے۔ یہاں سے تربیت حاصل کرنے والی آئی جیم پشاور کی دو ٹیموں نے ہائی سکول کے 20,000 طلباء سے رابطہ کرکے انہیں مصنوعی حیاتیات اور اس کے تصورات سے باور کروایا۔

اس مرحلے میں ہم اس منصوبے کو بڑھانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں لیکن یہ سب صرف اسی وجہ سے ممکن ہوا کہ ہم نے ایک ٹیم بنائی، اپنے مقاصد پیش کیے اور حکومت کو اس بات پر قائل کیا کہ مصنوعی حیاتیات میں تحقیق سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔ شروع میں تو کافی پاپڑ بیلنے پڑے لیکن کامیابی نے ہمارے قدم اس وقت چومے جب بوسٹن میں پہلی آئی جیم نے کانسی کا تمغہ جیت لیا۔ اس سے حکومت پر یہ بات واضح ہوگئی کہ نہ صرف منصوبے کے لیے فنڈنگ مفید اور اہم تھی، بلکہ یہ سب پشاور میں مقامی لوگوں کے ساتھ قابل عمل بھی ہے۔

اگلے مرحلے میں اس پراجیکٹ کو صنعتوں کے لیے قابل استعمال بنانا شامل ہے کیونکہ ہماری بیشتر صنعتیں حیاتیاتی مصنوعات، یعنی چارہ، کھانا، چمڑا وغیرہ، پر منحصر ہیں۔ ہمارے سامنے پوری دنیا ہے، لیکن ہمیں دوڑ میں رہنے کے لیے تیزی سے کام شروع کرنا ہوگا۔

س: پاکستان میں مصنوعی حیاتات کس طرح فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے؟
ج: مصنوعی حیاتیات ایک نئی چیز ہے۔ اس میں کمپیوٹر پر جینیاتی سرکٹس ڈیزائن کرنے کے بعد انہيں کلاؤڈ کی سہولیات کی مدد سے کیمیائی طور پر پرنٹ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس پرنٹڈ ڈی این اےکے سرکٹ کو بیکٹریا اور خمیر میں ڈال کر اپنی مرضی کی مختلف مصنوعات بنائے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، آپ گلابوں کے بغیرعرق گلاب، مکڑیوں کے بغیر ان کے جالے، اور نایاب جڑی بوٹیوں کے بغیر ان سے حاصل ہونے والی ادویات تخلیق کرسکتے ہيں۔

آپ تھوڑی سی ذہانت متعارف کرکے ایسے بائیو سینسرز بھی بناسکتے ہيں جن میں کوئی بھی ان پٹ ڈال کر کسی بھی مسئلے کے حل کی بنیاد پر کوئی آؤٹ پٹ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 2016ء میں ہماری جیتنے والے ایک پراجیکٹ میں کاربن مونوآکسائڈ کی نشاندہی کرنے والا بیکٹیریا استعمال کیا گيا تھا۔ کاربن مونوآکسائیڈ ایک زہریلی گیس ہے، لیکن اس کی نہ تو کوئی بو ہے اور نہ ہی کوئی رنگ، اور سردیوں میں گیس کے ہیٹر استعمال کرنے والے کئی لوگ اس گیس کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہيں۔ اس پراجیکٹ میں استعمال ہونے والا بیکٹیریا فضا میں اس گیس کی موجودگی کی صورت میں سرخ رنگ کے الرٹ جاری کرتا تھا۔ مصنوعی حیاتیات کے یہ تمام کارنامے ڈی این اے کی ترتیب اور ڈی این اے کی تیاری کی لاگت میں کمی کی وجہ سے ممکن ہوسکے ہيں۔

اشیائے خوردونوش اور چمڑے کے شعبہ جات میں استعمال ہونے والے اجزا پر کروڑوں ڈالر خرچ ہوجاتے ہيں۔ ہمیں تجارت میں خسارے کا مسئلہ رہتا ہے۔ اگر ہم سنجیدگی سے مصنوعی حیاتیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں، اور اپنے لیے چند سنگ میل قائم کریں، تو ممکن ہے کہ ہم درآمدات کا خاتمہ کرنے، بلکہ چند سالوں میں برآمدات کا سلسلہ شروع کرنے میں کامیاب ہوجائيں۔

مصنوعی حیاتیات میں درجنوں تربیت یافتہ طلباء پہلے ہی سے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں بے روزگاربائیو ٹیکنالوجی کے گریجویٹ بھی موجود ہیں جن کا اس طرح کے کام میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اگر ہم ان سارے وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھائيں تو ہم باآسانی اپنے اہداف حاصل کرسکیں گے اور اپنی ضروریات پوری کرسکیں گے۔ سنگاپور میں دو ارب ڈالر کی صنعت کی بنیاد اس سے بھی کم حیاتیات کے گریجویٹس پر رکھی گئی تھی۔ انہوں نے ایک بہترین حکمت عملی کے تحت اپنے اہداف حاصل کیے جس میں محقیقین کو فنڈنگ، انفراسٹرکچر اور تربیت شامل تھے۔

اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آپ کواس طرح کے کام کے لیے بڑی لیباریٹریاں اور پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کی ضرورت نہیں ہے۔ پوری دنیا میں ڈی آئی وائی (Do It Yourself – DIY) لیباریٹریاں وجود میں آنا شروع ہوگئی ہیں۔ اخراجات کم ہونے کی وجہ سے آپ اپنے گیراج میں حیاتیاتی تحقیق کرسکتے ہیں۔ بلکہ ایسا ہی ہورہا ہے۔ اس سے یہ بات صاف واضح ہے کہ جدید قسم کی حیاتیات تک ہرکسی کی رسائی ممکن ہے، اور ہر سطح پر انوویشن تیزی سے آگے بڑھنے والی ہے۔ اگر ہم مصنوعی حیاتیات کے اس رجحان کو نظر انداز کرتے رہیں گے تو ہم ماضی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طرح یہ موقع بھی گنوادیں گے۔

ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ پاکستان میں جو حیاتیات کی تعلیم دی جاتی ہے، وہ کافی فرسودہ ہوچکی ہے۔ گولڈن رائس پراجیکٹ کی مثال لے لیں، جس کے تحت روائتی بائیو ٹیکنالوجی اور جینیٹک انجنئیرنگ کا استعمال کرتے ہوئے چاول میں وٹامن اے شامل کرنے کے لیے 10 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے۔ مصنوعی حیاتیات کی مدد سے یہی کام 5,000 ڈالر سے 10,000 ڈالر میں کیا جاسکتا تھا۔ اگر ہم مصنوعی حیاتیات استعمال کرسکتے ہيں تو پاکستان میں روایتی بائیوٹیکنالوجی پڑھانے کا کیا فائدہ؟ روایتی طریقوں سے حیاتیات پڑھانےکا معاشی حوالے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں اسی طرح چھلانگ لگانے کی ضرورت ہے جس طرف کئی ممالک نے ٹیلی کام سیکٹر میں 2G سے 4G کے لیے لگائی۔

‎س: آپ نے پالیسی ساز اداروں کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ پالیسی ساز اداروں اور ریسرچ کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنے میں آپ کس حد تک کامیاب رہے ہیں؟
ج: میری ان پالیسی ساز اداروں کے ساتھ وابستگی حادثاتی طور پر شروع ہوئی۔ میں شروع میں ہچکچایا لیکن مجھے ان پالیسی ساز اداروں اور کمیٹیوں میں زبردستی شامل کیا گیا۔ اب جب میں اپنے ماضی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ مجھے ان کے ساتھ کام کر کے اچھا تجربہ ملا۔ اس کے نتیجے میں مجھے جو بات معلوم ہوئی وہ یہ کہ حکومت اورماہرین تعلیم کے درمیان بہت عدم اعتماد کی فضا قائم ہے۔ کسی بھی دیگر سرمایہ کار کی طرح حکومت بھی کارکردگی دیکھنا چاہتی ہے اور ان کو یہ لگتا ہے کہ ماہرین تعلیم کوئی کام نہیں کررہے ہيں۔

ایک نوجوان پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر کی حیثیت سے میں نے ان کو آئیڈیا پیش کیا کہ ہم اپنے پرانے طور طریقے ترک کردیں، اور نئے دور کے ساتھ چلنے کی کوشش کريں۔ میرا تعلق حیاتیات کے شعبے سے تھا، اور اسی وجہ سے میں نے انہیں مصنوعی حیاتیات پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔ اس طرح سے سن بائیو کے پی کی بنیاد رکھی گئی، اور آئی جیم پراجیکٹ کو اس کی فنڈنگ حاصل ہوگی۔ لیکن ہمارا کام اس وقت بنا جب ہم نے امریکہ میں پراجیکٹ پیش کیے اور انعامات جیتے۔

میں ہائر ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے بورڈ کا سب سے کم عمر رکن تھا۔ مجھے ان کو گرانٹ دینے کے طریقہ کار کے سلسلے میں تجربات کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے بہت پاپڑ بیلنے پڑے۔ میں نے اس حوالے سے درخواست دینے کے عمل کو دوبارہ ڈیزائن کرنے میں مدد کی، اور ذیلی کمیٹیاں تخلیق کرکے انہيں فنڈنگ کے دوسرے اداروں سے سبق حاصل کرنے اور طریقہ کار تبدیل کرنے پر آمادہ کیا۔ مجھے امید ہے کہ اس کے کچھ نہ کچھ مثبت اثرات تو سامنے آئيں گے۔

خیبرپختونخواہ آئی ٹی بورڈ میں، میں نے کم عمر میں پروگرامنگ، ڈیجیٹل ڈسٹرکٹ، اور کوورکنگ سپیسز کی تجاویز پیش کی، اور نجی شعبے کی جانب سے بھی بات کی۔ یہاں سٹارٹ اپ کمپنیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ سامنے آرہا ہے، اور اسے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ شکر ہے کہ حکومت کو یہ بات سمجھ آرہی ہے۔

س: مقامی سطح پر آپ کو حیاتیاتی سائنسز میں تحقیق کا کیا مستقبل نظر آرہا ہے؟ پاکستان جینیاتی تحقیق میں کتنا پیچھے ہے؟
ج: اس کی حالت بہت بری ہے۔ مجھے مشکل سے ہی ایسی کوئی لیب ملی ہے جس کو صحیح سے فنڈنگ دی جا رہی ہو۔ لوگ موجودہ وسائل کے اندر رہتے ہوئے جو بھی تحقیق ممکن ہے، کررہے ہیں، لیکن اس تحقیق کو زیادہ چیزوں میں استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ زیادہ تر لوگ صرف بیکٹیریا پیدا کرنے اور اینٹی مائيکروبیل اور اس قسم کی سرگرمیوں کی ٹیسٹنگ ہی کررہے ہیں۔ یہ بہت بنیادی قسم کی تحقیق ہے۔ میرے خیال میں کچھ 60 فیصد مقالے اسی قسم کی سرگرمیوں کے متعلق ہيں۔

اس وقت ہمیں جس چیز کی سخت ضرورت ہے وہ سوچنے والی قیادت ہے۔ مسئلہ صرف پیسے کا نہیں ہے۔ اس حوالے سے ایجنڈا قائم کرنے اور حکمت عملی واضح کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے سائنسدانوں کی مختلف شعبہ جات میں تحقیق میں رہنمائی ممکن ہوسکے۔ ہم سب کچھ تحقیق دانوں پر نہیں چھوڑ سکتے ہیں کیونکہ اس طرح ہر کوئی چھوٹے مسائل کے حل کی طرف چل پڑے گا جس کا قومی سطح پر کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ہمیں لمبے عرصے کے لیے مستقل اور کافی زیادہ فنڈنگ کی ضرورت ہے اور غیر متعلقہ مسائل پر رقم ضائع کرنے سے اجتناب کرنا ہوگا، جو اس وقت فنڈنگ کے سارے ادارے کررہے ہيں۔

میں کہوں گا کہ صورتحال خراب بھی ہے اور امیدافزا بھی۔ فی الحال اہل اقتدار کو صورتحال کا صحیح پتا نہيں ہے، لیکن ہمارے پاس اب بھی وقت ہے۔ بہت جلد ایسے لوگ اقتدار سنبھالنے لگیں گے جو ٹیکنالوجی سے واقفیت رکھتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ میں مستقبل کے حوالے سے پر امید ہوں لیکن ایسے کئی مسائل ہیں جو ہماری راہ میں رکاوٹ بنیں گے، جن میں رقم اور صلاحیتوں کا فقدان سرفہرست ہیں۔ ٹیکنالوجی کسی کا انتظار نہیں کرتی اور ہمیں ان مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

تحریر: عاصم ظفر خان

Read in English

Authors

*

Top