Global Editions

جینیاتی طور پر تبدیل شدہ پودے۔۔۔۔ سبز انقلاب کی جانب اہم قدم

جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلوں  کے حوالے سے سب سے زیادہ تنقید اس امر پر ہوتی ہے کہ یہ فصلوں کی فی ایکٹر پیداوار میں اضافے کا سبب نہیں بن رہے۔ تاہم اب سائنسدانوں نے ایسا طریقہ دریافت کر لیا ہے جس سے فصلوں سے حاصل ہونے والی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔ اس ضمن میں تحقیق کاروں نے تمباکو کے پودوں میں فوٹو سینتھیسز(Photosynthesis) یعنی وہ عمل جس میں سبز پودے شمسی توانائی استعمال کر کے اس مخفی کیمیائی توانائی میں تبدیل کرتے ہیں کے ذریعے پیداوار میں اضافہ کر کے دکھایا ہے۔ اس طریقہ کے تحت پودے بیس فیصد تک زیادہ پروان چڑھے، زیادہ اونچے ہوئے، ان کے پتوں کا پھیلاؤ زیادہ رہا اور ان کی جڑیں زیادہ مضبوط ہوئیں۔ برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق اس سٹڈی کے ذریعے فوٹو سینتھیسز کے عمل کی افادیت کو تقویت ملی ہے اور اس کے ذریعے اقوام متحدہ کے پراجیکٹ کے تحت آئندہ بیس برس کے دوران سبز انقلاب لانے میں مدد ملے گی کیونکہ آئندہ بیس برس کے دوران خوراک کی طلب میں70 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ سبز پودے سورج کی روشنی میں فضائی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی سے کار بوہائیڈریٹس اور توانائی بناتے ہیں۔ اگرچہ سورج کی تیز روشنی میں وہ اپنی ضرورت سے زیادہ فوٹون (Photon) بنانا بند کر دیتے ہیں تاہم جب مطلع ابر آلود ہو تو وہ فوٹو سینتیھسز کا عمل دوبارہ شروع کر دیتے ہیں مگر اس دوران یہ عمل سست روی کا شکار رہتا ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس کے بارے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ وہ اس کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں اور انہوں نے ایسا کر کے دکھایا۔ سائنسدانوں نے توانائی کی تیاری کے لئے پودوں میں موجود سوئچ اوور کو ریگولیٹ کرنے کے لئے جینز کی اضافی کاپیوں کا شامل کیا اس کے ساتھ ساتھ فوٹو سینتھیسز ریکوری ٹائم کا دورانیہ مختصر کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پودوں نے سورج کی روشنی سے زیادہ استفادہ حاصل کرنا شروع کر دیا۔ تحقیق کاروں کی ٹیم نے اس حوالے سے چاول اور مکئی پر اسی طرح کی جین ایڈیٹنگ کی تکنیک کے تجربات کا اغاز کر دیا ہے اور جریدے سائنس کے مطابق امید کی جا سکتی ہے کہ پودے بھی سورج کی روشنی سے زیادہ جلدی ردعمل کا اظہار کرینگے۔ اس حوالے سے یونیورسٹی آف الینوائے کے تحقیق کار سٹیفن لانگ (Stephen Long) کا کہنا ہے کہ یہ بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ یہ تکنیک دیگر فصلوں پر کس طرح کے اثرات دکھائے گی تاہم ان تجربات میں فصلوں اور پودوں کی نشوونما کے قدرتی طریقہ کو ٹارگٹ کیا گیا ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ یہ طریقہ موثر ثابت ہو گا۔

تحریر: انٹونیو ریگالڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors

*

Top