Global Editions

مستقبل کی ٹریکنگ ٹیکنالوجی کا مظاہرہ گائیں پر کیا جارہا ہے

لائیوسٹاک لیبس گائیں کی جلد کے نیچے بائیومانیٹرز لگا کر کسانوں کو بیماریوں کی بروقت نشاندہی کرنے میں مدد کررہے ہیں۔ اب وہ چاہتے ہيں کہ اس ٹیکنالوجی سے انسانوں کو بھی فائدہ پہنچ سکے۔

امریکہ کی ریاست یوٹاہ کے شہر ویلز ویل کے ایک باڑے میں تین سائیبورگ گائيں موجود ہيں، جو بالکل حقیقی گائيوں کی طرح دکھتی ہيں۔

وہ بالکل دوسری گائیں کی طرح چارہ بھی کھاتی ہیں، پانی بھی پیتی ہیں اور جگالی بھی کرتی ہیں۔ اور وہ وقتاً فوقتاً جھاڑیوں میں جا کر خود کو کھجا بھی لیتی ہیں۔ لیکن دوسری گائیں کے برعکس، جو صرف اپنی پیٹھ کھجا کر نکل جاتی ہیں، یہ گائيں ڈیٹا فراہم کرتی ہیں۔ ان کے جسم میں نصب ٹریکرز کم توانائی استعمال کرنے والے بلوٹوتھ کے آلے کی مدد سے ایک قریبی بیس سٹیشن کو پنگ کرکے اسے اپنے ساتھیوں کے جگالی کے تعدد، درجہ حرارت اور ان کی نکل و حرکت کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہيں۔

ان گائیں پر پہلی دفعہ لائیوسٹاک لیبس نامی سٹارٹ اپ کمپنی کی تیار کردہ ڈیوائس ایمبیڈی ویٹ کی ٹیسٹنگ (EmbediVet) کی گئی ہے۔ ابھی فی الحال یہ صرف اپنے روزمرہ کے کام کررہی ہیں، اور اس دوران وہ غیرارادی طور پر ڈیٹا فراہم کررہی ہیں جس کی مدد سے ایک مصنوعی نیورل نیٹورک کو تربیت فراہم کی جائے گی۔ توقع کی جاتی ہے کہ آگے چل کر اس مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے ذریعے کسان گائیں اور دوسرے جانوروں کے متعلق ضروری معلومات حاصل کرسکیں گے، جیسے کہ وہ کتنا چارہ کھا رہی ہیں، کیا وہ بیمار ہيں، یا کیا وہ بچہ جننے والی ہیں۔ اس وقت یہ معلومات صرف گائیں کو دیکھ کر حاصل کی جاتی ہے، لیکن اگر آپ کے پاس ہزاروں جانور موجود ہوں، تو ان سب پر نظر رکھنا کافی مشکل ہوجاتا ہے۔

مویشیوں میں RFID سینسرز اور دوسرے ٹریکرز کا کافی عرصے سے استعمال کیا جارہا ہے، لیکن ان سے اب تک صرف ان جانوروں کی شناخت کی جارہی تھی۔ اس وقت مارکیٹ میں گائیں کی جگالی اور بیماریوں پر نظر رکھنے کے لیے سینسرز استعمال کرنے والے کالرز اور دیگر ویئیرایبیل آلات موجود ہیں، لیکن لائیوسٹوک لیبس کا کہنا ہے کہ ویئیرایبل آلے کے مقابلے میں ایمبیڈی ویٹ سے، جسے مقامی طور پر بے ہوش کرنے والی دوا استعمال کرنے والی معمولی نوعیت کی سرجری کے ذریعے نصب کیا جاتا ہے، گائے زیادہ تنگ نہيں ہوتی ہے، اور یہ ڈیٹا حاصل کرنے کا بہتر طریقہ کار ثابت ہوسکتا ہے۔

زیرجلد نصب ہونے والے اس ٹریکر کی کسی گائے پر لگانے سے پہلے انسانوں پر ٹیسٹنگ کی گئی تھی، اور اس کے تخلیق کار امید کرتے ہيں کہ گائیں پر ٹیسٹنگ کامیاب ہونے کے بعد اسے دوبارہ انسانوں کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔

لائیوسٹاک لیبس کے سی ای او ٹم کینن (Tim Cannon) کا کبھی بھی گائیں کے لیے فٹ بٹ کی طرح کی ڈیوائس بنانے کا ارادہ نہيں تھا۔ وہ صرف اس ٹیکنالوجی کی مدد سے خود کو، اپنی طرح کے دوسرے افراد کو، ری انجنیئر کرنا چاہتے تھے۔

کینن ایک سافٹ ویئر ڈيولپر اور بائیوہیکر ہیں، اور انہيں پہلی دفعہ 2010ء میں خود کو اپ گریڈ کرنے کا خیال اس وقت آیا جب انہوں نے لیفٹ انونم (Lepht Anonym) نامی سکاٹش بائیوہیکٹر کو ایک ویڈيو میں اپنی انگلی میں نصب مقناطیس سے پیدا ہونے والے احساسات کی بات کرتے دیکھا۔ کچھ عرصے بعد، کینن نے اپنی انگلی میں بھی ایک مقناطیس لگالیا، اور پٹسبرگ میں گرائنڈہاؤس ویٹ ویئر (Grindhouse Wetware) نامی بائیوہیکنگ کی سٹارٹ اپ کمپنی قائم کی، جو نصب کیے جانے والے الیکٹرانکس پر کام کرتی ہے۔

کینن اور ان کی ٹیم نے گرائنڈہاؤس میں کئی سال تک کام کیا، اور اس دوران، انہوں نے کئی سینسرز بنائے، جن میں جلد کے نیچے سے جلنے والی روشنیوں اور ایک تھرمامیٹر پر مشتمل سرکیڈيا (Circadia) نامی ڈیوائس بھی شامل تھی۔

کینن امید کررہے تھے کہ سرکیڈيا کی مدد سے ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد اسے مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر کے ساتھ استعمال کر کے بیماریوں کی پیشگوئی ممکن ہوسکے گی۔ اس پراجیکٹ پر ایک سال تک کام کرنے اور دو ہزار ڈالر لگانے کے بعد، انہوں نے 2013ء میں اپنے بازو میں ایک سرکیڈین کا سینسر نصب کرڈالا۔

وہ کہتے ہیں، "جب ہم نے یہ پراجیکٹ شروع کیا تھا، ہم میڈیکل اور ٹیکنالوجی کو چیلنج کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ ہم انہیں پیغام دینا چاہ رہے تھے کہ اگر کچھ بچے نشے کی حالت میں یہ کام کرسکتے ہيں، تو آخر مسئلہ کیا ہے؟"

مسئلہ یہ ہے کہ تھوڑے سے ہیکرز، گرائنڈرز اور مشاہدین کے علاوہ، عوام کو طبی طور پر غیرضروری امپلانٹس لگوانے میں کچھ خاص دلچسپی نہيں ہے۔

گرائنڈہاؤس نے اپنے تخلیق کردہ امپلانٹس فروخت کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ زيادہ منافع کمانے میں کامیاب نہيں رہے۔ سرمایہ کاروں نے بھی دلچسپی نہيں دکھائی، لہٰذا کینن اور ان کی ٹیم اس پراجیکٹ کے اخراجات اپنی جیب سے پورے کررہے تھے۔ وہ بتاتے ہيں کہ انہيں اچھی طرح معلوم تھا کہ غیرضروری امپلانٹس بنانے کی صورت میں انہيں کس قدر ضوابط کا سامنا ہوگا، اور انہيں اس بات کا بھی احساس تھا کہ اس کام میں کئی سال اور کئی ارب ڈالر لگنے والے تھے۔

پچھلے سال میاؤ لوڈ ڈسکو گاما میاؤ میاؤ (Meow-Ludo Disco Gama Meow-Meow) (ہم آپ سے مذاق نہيں کررہے ہيں) نامی آسٹریلوی بائیوہیکر نے کینن سے رابطہ کیا۔ آسٹریلیا میں مویشیوں کی صنعت 2.55 کروڑ جانوروں پر مشتمل ہے، اور سڈنی میں سیکاڈا انوویشنز (Cicada Innovations) نامی ٹیک انکیوبیٹر زرعی کھانے کی ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کو پروان چڑھانے والا پروگرام شروع کرنے والا تھا۔ کیوں نہ یہ سینسز انسانوں کے بجائے گائیں میں لگائے جائيں؟

کینن نے فورا ً ہی موقعے کا فائدہ اٹھانے کی ٹھانی۔ انہوں نے اپنے نئے منصوبے کو لائیوسٹاک لیبس کا نام دیا، اور اسے فورا ً ہی سیکاڈا کے گرولیب پروگرام میں داخلہ مل گیا۔ کینن پٹسبرگ سے سڈنی چلے گئے، اور جلد ہی سرکیڈیا کے سینسر کو جانوروں کے لیے موزوں بنانے پر کام کرنے لگے۔

لائیوسٹاک لیبس نے چند ماہ کے اندر مویشیوں پر ٹیسٹنگ کرنے کے لیے ایمبیڈی ویٹ نامی نئی ڈیوائس تیار کرڈالی۔ صاف شفاف ریزن سے ڈھکی ہوئی اس ڈیوائس میں اے آر ایم پراسیسر، بلو ٹوتھ اور لانگ رینج ریڈيو کے علاوہ دل کی دھڑکن، خون میں آکسیجن کی مقدار، درجہ حرارت اور بنیادی سرگرمی کی پیمائش کے لیے تھرمامیٹر، ایکسیلرومیٹر، دل کی دھڑکن کی پیمائش کے لیے مانیٹر اور پلس آکسی میٹر شامل ہیں۔ اس میں کوائن سیل بیٹری استعمال کی جاتی ہے، جو کمپنی کی توقعات کے مطابق تین سال تک چلے گی۔

فارم پر

یوٹاہ سٹیٹ کے یونیورسٹی کے سکول آف ویٹرینیری میڈيسن (School of Veterinary Medicine) کے ایسوسیٹ پروفیسر کیری روڈ (Kerry Rood) نے سکول کے ڈیری فارم کی تین گائیں میں ایمبیڈی ویٹ کے سینسر نصب کیے، جن میں سے دو کو نچلے جبڑے کے بائيں طرف اور ایک کو دو پسلیوں کے درمیان نصب کیا گیا۔ ویشیوں میں امپلانٹ کیے جانے والے ٹریکرز لگانے کی بہترین جگہ کیا ہے، اس وقت اس کے متعلق زیادہ ڈيٹا موجود نہیں ہے۔ لائیوسٹاک لیبس جگالی کی ٹریکنگ کرنا چاہتے تھے، لہٰذا ان کی نظر میں یہ مقامات سب سے زیادہ مناسب تھے۔

معمولی نوعیت کی اس سرجری میں، روڈ نے گائیں کو مقامی طور پر بے ہوش کرنے والی دوا دینے کے بعد، ان کی کھال میں مناسب مقامات پر چاق کرکے ایمبیڈی ویٹ پروٹوٹائپ نصب کرکے انہيں واپس سی دیا۔ ان کے مطابق یہ گائيں ایک ماہ بعد بھی ان گائیں کو ان امپلانٹس کی وجہ سے کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہيں ہے۔

یہ سب کرنے کی کیا وجہ ہے؟ روڈ کا خیال ہے کہ اس قسم کے آلے میں موٹی چمڑی رکھنے والے جانوروں میں بیماریوں سے تعلق رکھنے والی پیمائشیں، جیسے کہ درجہ جرارت، کی نگرانی کے لیے ویئرایبل ڈیوائس کے مقابلے میں زيادہ بہتر نتائج حاصل ہوسکتے ہيں۔

کینن کہتے ہيں کہ انہوں نے ابتدائی ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے لیے ایک چارٹنگ سافٹ ویئر بھی تیار کیا ہے، جس کی مدد سے گائیں کے ایمبیڈی ویٹ ڈیوائسز سے حاصل کردہ ڈیٹا کو گراف کی شکل میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ لائیوسٹاک لیبس آگے چل کر ایک سمارٹ فون کی ایپ کے ذریعے کسانوں کو ان کے مویشیوں کی حالات اور مسائل کے متعلق تنبیہات فراہم کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہيں۔

روڈ کہتے ہیں "بحیثیت جانوروں کا ڈاکٹر، اگر مجھے جانوروں کی بیماریوں اور ان کی پریشانی کی ابتدائی مراحل ہی میں نشاندہی کرنے کا کوئی طریقہ مل جائے، تو میرے لیے ان کی دیکھ بھال کرنا زیادہ آسان ہوجائے گا۔"

کینن بتاتے ہيں کہ لائیوسٹاک لیبس روڈ کے ساتھ شراکت کے علاوہ، آسٹریلیا کی چارلز سٹرٹ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف نیو اینگلینڈ کے ساتھ کام کررہے ہيں، اور چند تجارتی فارمرز کے مویشیوں پر بھی ٹیسٹنگ کررہے ہيں، جن کا انہوں نے نام بتانے سے انکار کردیا۔ وہ امید کرتے ہيں کہ اگلے مارچ تک ایمبیڈی ویٹ کی پبلک بیٹا ٹیسٹنگ شروع ہوجائے گی۔

وہ کہتے ہيں "ہمیں ایک ایسی چیز مل گئی ہے جس کی دنیا کے اس خطے میں مانگ ہماری توقعات سے کہیں زيادہ تھی۔"

بڑا گوشت فراہم کرنے والے مویشیوں کا مطالعہ کرنے والے اوکلاہوما سٹیٹ یونیورسٹی میں جانوروں کے سائنس کے ایسوسیٹ پروفیسر رائن روئیٹر (Ryan Reuter) کا خیال ہے کہ یہ ٹریکر بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم، وہ یہ بھی تبیہہ دیتے ہيں کہ اس کی ڈیزائن کے سلسلے میں بہت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ گائیں کا سائز بہت بڑا ہوتا ہے، اور انہيں خود کو کھجانے کا بہت شوق ہے، لہٰذا ان کے لیے جو بھی چیز بنائے جائے گی، اس کا مضبوط ہونا بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، جن جانوروں سے غذا حاصل کرنے کا ارادہ ہو، ان جانوروں میں آلے کا ایک ہی جگہ ٹکے رہنا بہت ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں "امپلانٹ کو ایسی جگہ نصب کرنا بہت ضروری ہے جہاں کسی انسان کے کھانے میں پہنچنا کا کوئی امکان نہ ہو۔"

دوسرا مسئلہ اس امپلانٹ کی قیمت کے تعین کا ہے، کیونکہ دودھ سے بنے مصنوعات اور گائے کے گوشت کی پیداوار میں منافع کی شرح بہت کم ہے۔ کینن بتاتے ہيں کہ اس وقت ایمبیڈی ویٹ کے پرزوں کی قیمت 20 ڈالر ہے، لیکن اس کی حتمی قیمت کے بارے میں اس وقت کچھ نہيں کہا جاسکتا ہے۔ روئیٹر کہتے ہیں کہ فارمرز کو صرف اسی وقت دلچسپی ہوگی اگر قیمت 10 سے 20 ڈالر کے درمیان ہوگی۔

اسے انسانوں پر کب آزمایا جائے گا؟

آج کل کینن اپنا وقت پٹسبرگ اور سڈنی کے درمیان سفر کرتے رہتے ہیں۔ لائیوسٹاک لیبس کو آسٹریلیا کے مویشیوں کے صنعتی گروپ، میٹ اینڈ لائیوسٹاک آسٹریلیا (جو گرولیب کے پارٹنر بھی ہيں) کے علاوہ کئی امریکی سرمایہ کاروں سے 20 لاکھ ڈالر کی ابتدائی فنڈنگ حاصل ہوچکی ہے۔

کینن کی ساری توجہ اس وقت سائبورگ گائیں میں امپلانٹس کے غیرمطلوبہ اثرات کی روک تھام پر مرکوز ہے۔ وہ مذاق میں کہتے ہيں "ان کا انسانوں کو تباہ و برباد کرنے کا ارادہ تو ہے، لیکن ہم اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔"

کینن کا حتمی مقصد فارمرز اور ان کے مویشیوں کی مدد کرنے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ وہ امید کرتے ہيں کہ ان کی کمپنی کی کوششوں کی وجہ سے ایک دن انسان اپنے جسم بھی امپلانٹس لگانے پر آمادہ ہوں گے۔ وہ ایک نہ ایک دن انسانوں کو دوبارہ سینسرز فروخت کرنے پر بضد ہے، لیکن اس وقت انہيں یہ بات معلوم نہيں ہے کہ کیا وہ اس کے لیے ایک بالکل نئی کمپنی قائم کريں گے، یا لائیوسٹیک لیبس کے تحت ہی کام کريں گے۔ وہ اعتراف کرتے ہيں کہ "لائیوسٹاک لیبس ہی کے تحت سینسرز پیش کرنا شاید لوگوں کو ہضم نہ ہو۔"

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top