Global Editions

پاکستان سے حاصل کردہ ایک نمونے میں 1,300 سے زائد غیر فعال جینز سامنے آ گئے

ریسرچرز کی ایک ٹیم نے ایک ایسا انوکھا خاندان ڈھونڈ نکالا ہے جس کے 11 افراد کی جیناتی تشکیل میں قدرتی طور پر کولیسٹرول پیدا کرنے والا پروٹین موجود نہيں ہے، جس کی وجہ سے ان میں امراض قلب کا شکار ہونے کا خطرہ کم ہوچکا ہے۔

نیچر (Nature) نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں Pakistan Risk of Myocardial Infarction Study PROMIS میں حصہ لینے والے 10,513 پاکستانیوں کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا گيا، جس کے نتیجے میں 1,317 غیر فعال جینز کا انکشاف ہوگیا ہے۔

قدرتی طور پر غیرفعال جینز رکھنے والے افراد، یعنی ایسے افراد جو ایک یا ایک سے زیادہ جینز غیرموجود ہونے کے باوجود بظاہر کسی مرض کا شکار نہ ہوں، بہت نایاب ہیں۔ ہر ایک شخص کو ورثے میں ہر جین کی دو نقول ملتی ہیں، ایک اپنے والد سے اور دوسری اپنی والدہ سے۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک نقل غیرفعال یا ناقص ہو تو دوسری نقل کے صحیح سلامت ہونے کی وجہ سے زیادہ تر جینیاتی امراض سے بچاؤ ممکن ہے۔ تاہم اگر کسی شخص کے دونوں والدین کے درمیان خون کا رشتہ ہو، تو دونوں نقول کے غیرفعال یا ناقص ہونے کے امکان میں اضافہ ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے ممکن ہے کہ دونوں میں سے کسی نقل میں فعال پروٹین موجود نہ ہو، اور یہ جین قدرتی طور پر غیرفعال ہوجائے۔

پاکستان میں غیرفعال جینز رکھنے والے افراد کی تعداد بہت زيادہ ہے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ کزنوں کی آپس میں شادی کا رواج ہے۔ پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک میں، جیسا کہ آئس لینڈ اور مملکت متحدہ میں، ان افراد کو ڈھونڈ نکالنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن یہ کوششیں زیادہ کامیاب ثابت نہ ہوسکیں۔

سائنسدان کسی بھی جین کے عمل کے مطالعے کے لیے عام طور پر جینیاتی انجنیئرنگ کی مدد سے ایسے چوہے پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن میں یہ جین تبدیل کردیا گيا ہو (کیونکہ انسانوں پر اس قسم کے تجربے کرنا ممکن نہيں ہے)۔ ان جینز کے کام کے تعین کے بعد، ایسی نئی ادویات تیار کی جاسکتی ہیں جن کی مدد سے جین کے نقصان دہ ہونے کی صورت میں اس کے عمل کو روکا جاسکے، یا اس کے فائدہ مند ہونے کی صورت میں اسے مزید کارآمد بنایا جاسکے۔

جانوروں میں غیرفعال جینز کے متعلق تحقیق سے معلومات میں اضافہ تو ہوتا ہے، لیکن اس تحقیق کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انسانوں کے لیے اس کا فائدہ محدود ہے۔ اس کی ایک مثال حال ہی میں کلیلی (coronary) امراض قلب کے روک تھام کے لیے نئی ادویات کی ٹیسٹنگ کے لیے منعقد ہونے والے کلینیکل ٹرائلز کی ناکامی کی بلند شرح میں سامنے آچکی ہے۔

اسی طرح، PCSK9 کی غیرفعالیت کی وجہ سے حیرت انگیز طور پر کم ایل ڈی ایل کولیسٹرول اور دل کے دورے کے 90 فیصد تک کم امکان کے باعث نئی قسم کی ادویات کی تیاری ممکن ہوئی ہے، جو امراض قلب کی روک تھام میں کردار ادا کرسکتے ہيں۔

چند غیرفعال جینز سے مختلف امراض کے خلاف تحفظ بھی ممکن ہے۔ مثال کے طور پر ALOX5 نامی جین کی غیرموجودگی کے باعث ذہنی دباؤ کے نتیجے میں حافظے کی کمزوری، سناپٹک ناکارہ پن اور ٹاؤپیتھی کے خلاف تحفظ ممکن ہے، جو الزائمرز کی روک تھام یا اس کی پیش رفت میں سستی میں معاون ثابت ہوسکتے ہيں۔ اسی طرح، PCSK9 کی غیرفعالیت کی وجہ سے حیرت انگیز طور پر کم ایل ڈی ایل کولیسٹرال اور دل کے دورے کے 90 فیصد تک کم امکان کے باعث نئی قسم کی ادویات کی تیاری ممکن ہوئی ہے، جو امراض قلب کی روک تھام میں کردار ادا کرسکتے ہيں۔

تحقیق کے مصنف ایک ایسے شخص کے ساتھ کھڑے ہیں جن کی غیرمعمولی جینیاتی تبدیلی امراض قلب کے ایک نئے قسم کے علاج کا باعث بن سکتی ہے۔
نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گيا ہے کہ APOC3 نامی جین سے محروم افراد کو کلیلی امراض قلب کے خلاف تحفظ حاصل ہے۔ APOC3 پروٹین Apo-CIII کی اینکوڈنگ کرتا ہے، جس کی وجہ سے جگر کی ٹرائی گلیسرائيڈز نامی چکنائیوں کو جذب کرنے کی صلاحیت محدود ہوجاتی ہے۔ ریسرچرز کی ٹیم نے ایک پاکستانی خاندان سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کا مطالعہ کیا جن میں APOC3 جین کی دونوں نقول موجود نہيں تھیں۔

اس تحقیق کے لیے ان تمام افراد کے جسم میں پہلے ملک شیک کی شکل میں چکنائی متعارف کی گئی، جس کے بعد ان کے خون میں چکنائی کے تناسب کی پیمائش کی گئی۔ اسی خاندان سے تعلق رکھنے والے دوسرے افراد کے مقابلے میں جن میں APOC3 جین موجود تھا، ان افراد کے خون میں چکنائی کی مقدار میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا، اور وہ مکمل طور پر صحت مند رہے۔ اس تجربے کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ غیرفعال جینز رکھنے والے افراد کے جسموں میں نہ صرف شریانوں میں رکاوٹ پیدا کرنے والی چکنائی کی شرح کم تھی، بلکہ ان کا دل کے دورے کا شکار ہونے کا خطرہ بھی دوسروں سے کم تھا۔ ریسرچرز کی ٹیم کے مطابق اس وقت کلینیکل ٹرائلز میں استعمال ہونے والی ApoC-III میں رکاوٹ پیدا کرنے والی ادویات امراض قلب کی روک تھام میں معاون ثابت ہوسکتے ہيں۔

یہ انکشاف پاکستان میں ایک پورے خاندان کی نشاندہی کے بعد ہی ممکن ہوا ہے جس میں APOC3 کے قدرتی طور پر غیرفعال جینز موجود تھے۔ ریسرچرز کی ٹیم پچھلے چار سالوں سے ایسے افراد کی تلاش میں تھی جن میں اس جین کی دونوں نقول موجود نہ ہوں، لیکن پورا امریکہ اور یورپ چھاننے کے باوجود بھی انھیں ایسا کوئی بھی شخص نہیں مل سکا۔ پاکستان وہ واحد قطعہ تھا، جس میں ریسرچرز ایسا خاندان ڈھونڈنے میں کامیاب ثابت ہوئے جس میں دونوں والدین کے ساتھ ساتھ نو بچوں میں بھی یہ جین موجود نہيں تھا۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان میں منعقد ہونے والی اس تحقیق میں پہلی دفعہ جن افراد میں یہ غیرفعال جینز پائے گئے ہيں، ان کی ٹیسٹنگ کی گئی ہے اور کولیسٹرول جیسے خون کے بائیومارکرز کی جانچ کے ذریعے ان کی صحت کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔

اس تحقیق کے ذریعے ایسے غیرفعال جینز سامنے آئے ہیں جو اب تک دنیا میں کہیں بھی دیکھنے کو نہيں ملے ہيں۔ ان میں NRG4، A3GALT2 اور CYP2F1 کے علاوہ دیگر غیرفعال جینز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، اس تحقیق کے نتیجے میں 734 جینز ایسے بھی سامنے آئے ہیں جن کی دونوں نقول میں پیش گوئیوں کے مطابق ایسی تبدیلیاں نظر آئی ہیں (جسے 'دہری غیرفعالیت' کا نام دیا گيا ہے) جن کے متعلق آج تک کسی نے کوئی تحقیق نہيں کی ہے۔
برٹش ہارٹ فاؤنڈيشن (British Heart Foundation) کے کلینیکل ریسرچ فیلو ڈاکٹر جیمز پیٹرز (James Peters) کہتے ہيں "ان افراد کی وجہ سے مزید تحقیق اور مزید وسیع فینوٹائپنگ (phenotyping) کا بہترین موقع دستیاب ہوا ہے۔" اس کے علاوہ وہ اس تحقیق کی خوبیوں کے بارے میں بتاتے ہيں کہ ایسے افراد جن میں جینز کی کوئی مخصوص تبدیلی سامنے آئی ہو، ان سے رابطہ کرکے انھیں مزيد پیمائشوں کے لیے واپس بلوایا جاسکتا ہے۔

تاہم چند ماہرین جینیات کا کہنا ہے کہ اس قسم کے جینیاتی تجزیات کے نتیجے میں تخلیق کی جانے والی ادویات کے غیرموثر ثابت ہونے کے امکان کو نظرانداز نہيں کرنا چاہئیے۔ شارلوٹزویل میں واقع یونیورسٹی آف ورجینیا سے وابستہ ماہر جینیات سٹیفن رچ (Stephen Rich) کہتے ہيں کہ ممکن ہے کہ پیدائش کے بعد ApoC-III کی مصنوعی روک تھام اس حد تک مفید ثابت نہ ہو جس حد تک زندگی بھر تحفظ فراہم کرنے والی پیدائشی APOC3 کی تبدیلی ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ ریسرچ کی ٹیم اب ایک "غیرفعال جینز رکھنے والے افراد پر مشتمل پراجیکٹ" کا مطالبہ کررہی ہے، جس کے ذریعے نئے جینیاتی مطالعہ جات سے حاصل کردہ معلومات کو ایک جامع ڈیٹابیس میں مرتب کیا جاسکے۔ اس پراجیکٹ کی مدد سے انسانوں کے فینوٹائپنگ کے مطالعہ جات کے ذریعے جینز کی قدرتی غیرموجودگی پر زیادہ منظم طور پر تحقیق ممکن ہوگی۔ آگے چل کر یہ ٹیم پاکستان سے تعلق رکھنے والے دو لاکھ شرکت کنندگان کے جینومز کی جانچ کے ذریعے تقریبا آٹھ ہزار غیرفعال جینز تلاش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ڈاکٹر صالحین کہتے ہیں ’’اس قسم کی تحقیقات جینز کے عملیات کو سمجھنے اور ادویات کی تیاری کے متعلق اہم انکشافات حاصل کرنے کے بے مثال مواقع فراہم کرتی ہیں۔‘‘

یہ تحقیق پاکستان، برطانیہ اورامریکہ سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کے درمیان بین الاقوامی تعاون کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔

تحریر: ماہ رخ سرور

Read in English

Authors
Top