Global Editions

ہوا سےکاربن ڈائی آکسائیڈ ہٹانے والے مصنوعی پودے

ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنےوالے مصنوعی پودے۔

ساتھیوں کے شکوک و شبہات کے باوجود سائنسدانوں کا ایک چھوٹا سا گروہ ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اب یہ گروہ اچانک کافی مشہور ہو گیا ہے۔

اس ہفتے ڈبلن، آئر لینڈ میں واقع ایک سٹارٹ اپ نے اس فیلڈ کے ایک بانی اور ایروزونا سٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر کلاز لیکنر کی طرف سے بنائی گئی ٹیکنالوجی کے ذریعے کاربن کیپچرنگ ٹیکنالوجی کے حقوق حاصل کیے۔ سلیکون کنگڈوم ہولڈنگز (Sillicon Kingdom Holdings) کا کہنا ہے کہ یہ ایک پائلٹ پروجیکٹ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جو ہر روز 100 میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ پکڑسکتا ہے اور آخر میں وسیع پیمانے پر ایسے پلانٹس بنائے گا جو ہرسال تقریباً 4 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ ہوا سے ہٹائیں گے۔

یہ پلانٹس دوسرے "براہ راست ہوا میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ" پکڑنے والے حالیہ فنڈنگ کے سٹارٹ اپس کے فالو اپ کی ایک سیریز ہیں۔  کیلگری میں واقع کاربن انجنیئرنگ سٹارٹ اپ نے مارچ میں اعلان کیا ہے کہ اس نے 70 ملین ڈالر اضافی فنڈز حاصل کیے ہیں۔ اس فیلڈ میں سرمایہ کاری کرنے والوں میں بڑی تیل اور گیس کی کمپنیاں شامل ہیں جیسے بی ایچ پی، شیوران اور آکسیڈینٹل پیٹرولیم۔ گزشتہ سال کے آخر میں سوئٹرزرلینڈ کے سٹارٹ اپ کلائم ورکس نے بتایا کہ اس نے 30 کروڑ ملین ڈالر سے زائد کی رقم حاصل کی ہے جس سے اس کی مجموعی فنڈنگ 50 ملین ڈالر سے بڑ ھ گئی ہے۔

فناننشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ اس کے علاوہ گلوبل تھرموسٹیٹ نے کہا کہ یہ کمپنی 20 ملین ڈالرزتک بڑھانے کی امید کر رہی ہے۔ اور آخر میں، وائی کمبینیٹر(Y Combinator)نے کیلیفورنیا میں واقع فرم پرومیتھیس میں سرمایہ کاری کی ہے(پرومیتھیس کے بانی نے انتہائی مشکوک دعویٰ کیا ہے کہ وہ اگلے سال مسابقتی قیمتوں والے ایندھن فراہم کرے گا)۔

محققین کی بڑھتی ہوئی تعداد نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے لئے دنیا کو ہوا میں سےکاربن ڈائی آکسائیڈ کو ہٹانے کے زیادہ سے زیادہ طریقوں کی ضرورت ہو گی۔ لیکن کچھ مشکل سوال براہ راست ہوا میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ والے طریقے کے اوپر لٹک رہے ہیں۔یہ عمل بالاخر کتنا سستا ہو سکتا ہے؟ سٹار ٹ اپس کس طرح کے کاروبار شروع کر سکتے ہیں؟ کیا ہوا میں سے نکالی گئی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وجہ سے ہم ماحولیاتی تبدیلی میں واضح فرق لا سکیں گے؟

ان سوالات کے بہتر جوابات یہ ہیں کہ ہم خلا میں مزید رقم لگا رہے ہیں۔ خاص طور پر سائنسدانوں کو یہ پتہ چلا ہے کہ یہ عمل سستا ہو سکتا ہے، اور کچھ کاروباری ماڈل سامنے آئے ہیں جو کم از کم بعض مارکیٹوں میں کافی عوامی پالیسی کی حمایت کے ساتھ کام کرسکتے ہیں۔

کئی سٹارٹ اپس نے ہوا میں سے نکالی گئی کاربن ڈائی آکسائیڈ سے کاروں، ہوائی جہازوں اور عمارتوں کے لئے مصنوعی ایندھن تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ کاربن نیوٹرل سمجھی جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نکالی گئی کاربن دوبارہ جائے گی لیکن نقصان دہ نہیں ہو گی۔

لہٰذا کچھ توانائی کی کمپنیاں نے اس فیلڈ میں دلچسپی لی ہےکیونکہ توانائی کےنئے ذخائر کی دریافت مشکل ہے۔

خلا میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ سرمایہ کاروں کو کاربن کے آف سیٹ کریڈٹس حاصل کرنے کے طریقے فراہم کر سکتے ہیں۔ فضا میں کاربن کو پکڑنے سے وہ مراعات حاصل کر سکتے ہیں جیسا کہ "45Q" ٹیکس کریڈٹ جو پچھلے سال امریکہ نے پاس کیا تھا یا صرف ماحول دوست پالیسیوں کی تشہیر۔

ہارورڈ میں ماحولیات کے سائنسدان اور کاربن انجینئرنگ کے شریک بانی ڈیوڈ کیتھ نے نوٹ کیا کہ تیل و گیس کی سرمایہ کاری صرف کہانی کا ایک چھوٹاسا حصہ ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور فنڈنگ اس فیلڈ میں اس لئے زیادہ ہیں کہ کاربن ہٹانے والی ٹیکنالوجی ماحولیاتی تبدیلی کا شاید مقابلہ کر سکتی ہے۔

ایروزیناسٹیٹ کےسنٹر برائے نیگیٹو کاربن ایمیشن میں لیکنر اور ان کے ساتھیوں نے ایک نسبتاً سادہ "میکینکل ٹری" تیار کیا ہے جو ہوا میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ لانے پر انحصار کرتا ہے اور اس کے مالیکول سینکڑوں پولیمر سٹرپس کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔

مشین پانی میں سٹرپس کو ڈبکی لگواتی ہے جس سے ایک ایسا عمل شروع ہو جاتا ہےجو دوسرے مقاصد کے لئے پھر گیس خارج کرتا ہے اور صاف کرتا ہے۔ان مقاصد میں کھادوں کے پلانٹس کے لئے کاربن ڈائی آکسائیڈ نکالنا ،کاربونیٹیڈ مشروبات کی پیداوار ، مصنوعی تیل اور کنوؤں سے اضافی تیل نکالنا شامل ہیں۔

لیکنر، جو نئی کمپنی کے مشیر کے طور پر کام کریں گے ،کا کہنا ہے کہ بجلی اور ہیٹ پر انحصار کرنے کی بجائے ہوا اور پانی پر انحصار قیمتیں کم کرے گا۔ پیر کے روز جاری کردہ ایک پریس ریلیز نے زور دیا ہےکہ اس عمل پر کاربن انجینئرنگ اور کلائم ورکس کے کم کے کم اہداف کے مطابق،مکمل تجارتی پیمانے پر اس کی قیمت سو ڈالر فی ٹن سے کم ہوگی۔

ایک ای میل میں، سلیکون کنگڈوم کے چیف ایگزیکٹو پول او مورین، جنہوں نےپہلے نے زروکس وینچر فنڈ کے ساتھ کام کیا ہے، کہا کہ پائلٹ پلانٹ کی جگہ اور وقت کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کی مالیاتی شرائط پر تبادلہ خیال کرنے سے انکار کردیا۔

تحریر: جیمز ٹیمپل

Read in English

Authors
Top