Global Editions

کھیل کھیل میں سائنس سکھانا

ایک سماجی تنظیم پاکستانی بچوں میں سائنس کی دلچسپی بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔

الوموپولو میڈیا تھیٹر کے ایک کمرے میں 25 سے زیادہ بچے جمع ہیں، جنہيں رضاکار کارکن میزوں کے گرد چھوٹے گروپس میں بٹھا رہے ہيں۔ ان کا پہلا کام صابن سے بلبلے بنانا ہے۔ کچھ ہی دیر میں پورے کمرے میں سفید بلبلے ہوا میں اڑتے ہوئے نظر آتے ہیں اور بچے انہيں بھاگ کر پکڑنے کی کوشش کرنے لگ جاتے ہیں۔ بچوں کو کاربن ڈائی آکسائيڈ سے بنے ان بلبلوں کو پکڑنے کے لیے اپنی انگلیوں کو پانی میں ڈبونے کی ہدایات دی جاتی ہيں۔

یہ سرگرمی مزیدار تو ہے ہی، لیکن ساتھ ہی تدریسی بھی ہے۔ لالہ رخ ملک کہتی ہیں ’’صابن کے بلبوں کے پیچھے فزکس اور کیمیا کی شکل میں بہت سائنس چھپی ہے۔ ہم بچوں کو مختلف قسم کے مالیکیولز کے بارے میں بتاسکتے ہيں جن سے یہ بلبلے بنے ہيں۔‘‘

یہ ہے سائنس فیوز (Science Fuse)، ایک ایسا ادارہ جس کا نصب العین بچوں میں سائنس کی مقبولیت میں اضافہ ہے۔ لالہ رخ ملک سائنس فیوز کی بانی ہیں، اور ان کی ’سائنس کے رابطہ کاروں‘ کی ٹیم بچوں کو ان سائنسی اصولوں کا تجربہ کروانا چاہتی ہے جن کے بارے میں انہوں نے صرف کتابوں میں پڑھا ہے۔ ملک کہتی ہیں ’’کچھ اصولوں کا کوئی حقیقی وجود نہيں ہوتا، اور اب بچے انہیں اپنے ہاتھوں سے چھو سکتے ہيں اور اپنی زندگی میں ان کا استعمال دیکھ سکتے ہیں۔‘‘

وہ مزيد کہتی ہیں ’’ہم چاہتے ہيں کہ ان تجربات کو اس طرح تشکیل کیا جائے کہ بچے انہيں گھر پر دہراسکیں۔ ہمارا مقصد ان کے تجسس میں اضافہ کرنا ہے تاکہ گھر جانے کے بعد وہ اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہیں۔‘‘

سائنس ہمارے چاروں طرف موجود ہے۔ زندگی گزارنے کے لیے سائنس کے متعلق معلومات ضروری ہے، اور جیسے جیسے دنیا آگے بڑھتی رہتی ہے، بچوں کو کامیاب رہنے کے لیے سائنسی خواندگی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ سائنس فیوز کا مقصد بچوں کو سوالات پوچھنے اور صحیح طریقے سے تحقیق کرنے کا طریقہ سکھانا ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح سائنسدان حقیقی زندگی میں تحقیق کرتے ہیں۔ بلبلے بناتے وقت بچوں کو مختلف بلبلوں کے مکسچر کی ترکیبیں ایجاد کرنے کو کہا جاتا ہے، جنہیں وہ خود ٹیسٹ کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کو سائنسی طریقے سے تحقیق کرنے کے متعلق رہنمائی فراہم کی جاتی ہے، جہاں وہ پہلے مفروضہ تیار کرتے ہيں، تجربے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، اور پھر نتائج کا مشاہدہ کرکے انہيں ریکارڈ کرتے ہيں۔

ملک کہتی ہیں ’’بچوں سے تجربہ کروانے کے دوران یہ پورا پراسیس بہت ضروری ہے۔ اسے اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ بچوں کو نہ صرف سائنس کے بارے میں بتایا جاتا ہے (یعنی یہ صابن ملا پانی ہے اور یہ مالیکیولز سے بنا ہے)، بلکہ انہیں اس کا طریقہ بھی سمجھایا جاتا ہے، یعنی سائنسی تحقیق کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔‘‘ دو روزہ ورک شاپ کے اختتام پر سائنس فیوز کی ٹیم ایک بچے کو صابن کے بڑے بلبلے میں ڈال دیتی ہے، جس سے مزہ اور تعلیم کا توازن قائم رہتا ہے۔

آٹھ سالہ میکائیل، جو جلد ہی چوتھی جماعت میں داخلہ لینے والا ہے، کہتا ہے، ’’مجھے ورک شاپ میں سرفیس ٹینشن کے بارے میں سیکھنے کو ملا، اور اس کے بعد میں نے اپنے دوستوں کو بھی بتایا، جنہيں سمجھ میں نہيں آيا تھا۔ لیکن میرا پسندیدہ حصہ بلبلے بنانا ہی تھا۔‘‘

ایک اور تجربے میں سائنس فیوز کی ٹیم نے بچوں کو سلائم بنانا سکھایا۔ بچوں کو بتایا گيا کہ سلائم میں ایسا جز شامل ہے جس کے مالیکیولز لمبے اور دھاگے کے شکل کے ہیں، اور جب ان میں بوریکس ڈالا جاتا ہے تو یہ مالیکیولز مل کر مائع کو نیم ٹھوس شکل، یعنی سلائم کی شکل دیتے ہیں۔ تاہم سب سے نمایاں کردار ‘خشک’ برف، یا ٹھوس کاربن ڈائی آکسائيڈ ہی کا تھا۔ جب اس پر صابن ملا پانی ڈالا جاتا ہے، تو پھینس پیدا ہوتا ہے، جو چھوٹے بچوں کے لیے بہت مسحور کن ثابت ہوتا ہے۔ اس تجربے کی مدد سے بچے پانی کا کاربن ڈائی آکسائيڈ سے موازنہ کرکے دونوں کی کیفیت تبدیل کرنے کے عمل کے متعلق سیکھ سکتے ہیں۔ برف کو گم کرنے سے وہ مائع کی شکل اختیار کرتا ہے، لیکن ٹھوس کاربن ڈائی آکسائيڈ مائع میں تبدیل ہوئے بغیر گیس کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ عمل سات سے آٹھ سال کے بچوں کو سمجھانا بہت مشکل ہے۔

ملک اپنے ارادے پر قائم ہیں اور پچھلے سات سال سے سائنس کے رابطہ کار کی حیثیت سے کام کررہی ہیں۔  وہ کہتی ہیں "میں پاکستان میں بڑی ہوئی، اور مجھے معلوم ہی نہيں تھا کہ سائنس کی کمیونیکشن کیا چیز ہے۔ میں نے یہ لفظ سنا نہيں تھا، اور نہ ہی میرا اس قسم کا کوئی تجربہ ہوا تھا۔ میں نے کبھی بھی سائنس کا عجائب گھر نہيں دیکھا تھا، اور نہ ہی مجھے سائنس کے میلوں کے "وجود کے بارے میں کچھ معلوم تھا۔’’ ’’ملک نے ناروے کی ایک یونیورسٹی میں مالیکولر بائیالوجی اور بائیوٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کی، اور انہيں وہاں ایک سماجی تنظیم کے متعلق معلوم ہوا جو بچوں میں سائنس کی مقبولیت میں اضافہ پر کام کررہی تھی، جس کے بعد انہوں نے اس تنظیم میں پانچ سال تک کام کیا۔

انہوں نے 2013ء میں اس تنظیم کو پاکستان میں ایک تقریب کی بنیاد رکھنے پر آمادہ کیا۔ ان کی پہلی ورک شاپ کراچی میں دو کچی آبادیوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے والے خیراتی ادارے دی گیراج سکول (The Garage School - TGS) میں منعقد ہوئی۔ تین گھنٹے کی اس ورک شاپ کے بعد بچوں کا ردعمل دیکھ کر ملک نے اس کام کو آگے بڑھانے کا ارادہ کرلیا، اور اس طرح سائنس فیوز کی بنیاد رکھی گئی۔

TGS کی شبینہ مصطفی ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو ایک ای میل میں بتاتی ہیں کہ یہ ورک شاپ ان کے طلباء کے لیے معلوماتی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت لطف اندوز بھی رہی۔ ان کے مطابق ان تجربات کی مدد سے بچوں کے لیے سائنسی خیالات کو سمجھنا بہت آسان ہوگیا۔ وہ کہتی ہیں ’’ہم سمجھتے ہیں کہ کم عمر ہی سے سائنس پڑھانا بہت ضروری ہے، کیونکہ ہمارے اطراف ہر چیز ہی سائنس پر مشتمل ہے۔ بچوں پر ان چیزوں کا زيادہ اثر ہوتا ہے جو عملی طور پر پڑھائی جاتی ہے۔‘‘

اپنی ورک شاپس کی پہنچ میں اضافہ کرنے کے لیے سائنس فیوز سرکاری سکولوں کے علاوہ نجی سکولوں سے بھی رابطہ کرتی ہے۔ سرکاری یا خیراتی سکولوں میں ورک شاپس بالکل مفت یا نہایت کم قیمت میں منعقد کروائی جاتی ہیں، لیکن نجی سکولوں سے پوری رجسٹریشن فیس وصول کی جاتی ہے، جس سے اس تنظیم کو آگے بڑھایا جائے گا۔ ملک کہتی ہيں "ہمیں حکومت کی طرف سے عطیات یا رقم نہيں ملتی ہے۔’’سائنس فیوز ایک سماجی تنظيم ہے، اور اپنے کام کو پائیدار بنانے پر توجہ دیتے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ ان کے کام سے معاشرے پر گہرا اثر پڑے گا۔

سائنس فیوز پورا سال ورک شاپس منعقد کرواتی ہے اور اب تک 50 سکولوں کے ساتھ کام کرچکی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ملک بھر میں سائنس کے میلوں میں شوز اور تھیٹر بھی منعقد کیے ہیں۔ اس سال بچوں کے ادبی میلے میں سائنس فیوز کی ٹیم نے آئزیک نیوٹن اور قوتوں کی دنیا کے متعلق تقریب منعقد کی۔  ملک کہتی ہيں ’’ نیوٹن نے حرکت کے تین قوانین دیے تھے، جن کے بارے میں بچے صرف کتابوں میں پڑھتے ہيں۔ یہ قوانین بہت پیچیدہ ہیں، اور اکثر بچے انہيں صرف رٹتے ہيں۔ ہم نے ان قوانین کو بہت آسان اور دلجو طریقے سے لکھ کر بچوں کے سامنے پیش کیا، اور ساتھ ہی حقیقی دنیا کی مثالیں بھی دی ہیں تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ سائنس ہمارے چاروں طرف موجود ہے۔ یہ کوئی انجان چیز نہيں ہے۔

تعلیمی اصلاح کی تنظیم الف اعلان کے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستانی طلباء کی حساب اور سائنس میں کارکردگی سب سے بدتر ہے۔ بہت کم بچے سائنس پڑھنا چاہتے ہيں، اور اس سے بھی کم بچے آگے چل کر سائنسدان بننے کی خواہش رکھتے ہيں۔ سائنس کے فروغ کی اشد ضرورت ہے، اور ممکن ہے کہ سائنس فیوز جیسے ادارے اس خواب کو حقیقت کی شکل دینے میں کامیاب ہوجائيں۔

تحریر: ماہ رخ سرور

Read in English

Authors
Top