Global Editions

سٹار بکس موبائل پر داؤ لگا رہا ہے

کافی فروخت کرنے والی اس کمپنی نے ادائيگی کی ایک ایسی ایپ بنائی ہے جس پر پوری ریٹیل صنعت رشک کر رہی ہے۔ کیا یہ ایپ مقابلے کے باوجود سٹار بکس میں نئی زندگی پھونک سکے گی؟

اگر آپ سے کسی بھی سٹور میں خریداری کی ادائيگی کے لیے سب سے نمایاں سمارٹ فون ایپ کا نام پوچھا جائے، تو آپ کیا کہیں گے؟ ایپل پے؟ پے پال؟ گوگل والٹ؟

یا پھر شاید ویزا یا ماسٹرکارڈ یا کوئی بھی بڑا بینک؟

اب تک تو آپ نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ ان میں سے کسی بھی ایپ کی بات نہيں ہورہی ہے۔ سٹاربکس ریٹیل سٹورز پر موبائل ادائيگیوں میں نمایاں مقام حاصل کرچکا ہے۔ اب 1.2 کروڑ صارفین صرف اپنا فون ہلا کر کافی خریدتے ہيں۔ 2013ء میں امریکہ میں سمارٹ فون کے ذریعے 1.6 ارب ڈالر کی خرید و فروخت ہوئی تھی اور سٹار بکس کا دعویٰ ہے کہ اس میں ان کا حصہ 90 فیصد تھا۔ ماہرین کو اس میں کوئی شک نہیں ہے۔

سٹار بکس کا موبائل والٹ اس کے مقبول گفٹ کارڈ کی طرح ایک ڈیجیٹل ویلیو کارڈ ہے۔ ان کی ہفتہ وار 4.7 کروڑ ٹرانزیکشنز میں سے 16 فیصد اس ایپ کے ذریعے ہوتی ہیں (یہ پچھلے سال کی شرح سے 50 فیصد زيادہ ہے) جو دوسری ریٹیلر اور ٹیک کمپنیوں کی ادائيگی کی ایپس کے لیے ایک مثال ہے۔

سٹار بکس کے سی ای او ہاؤرڈ شلٹز(Howard Schultz) موبائل ادائيگیوں کے شعبے میں اس کے علاوہ بہت کچھ کرنا چاہتے ہيں۔ 2014ء میں انھوں نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ وہ اس ایپ کو کمپنی کی ترقی کے منصوبہ جات کا اہم حصہ سمجھتے ہيں۔ سٹار بکس کے مطابق، اس سے ادائيگی زیادہ جلدی ہوتی ہے اور قطار میں رہنے کی ضرورت کم ہوجاتی ہے۔ اس سے ریوارڈ پوائنٹس کو ٹریک کرنا بھی زيادہ آسان ہوگيا ہے، جس کی وجہ سے صارفین کو مفت مشروبات جیسے فوائد پیش کرکے انھیں زیادہ خریداری پر آمادہ کیا جاسکتا ہے۔

لیکن اس کا سب سے بڑا فائدہ ڈیٹا کا حصول ہے۔ صارفین کی پسند اور ناپسند کے متعلق معلومات کو سسٹم میں درج کیا جاسکتا ہے۔ سٹار بکس آن لائن مرچنٹس کی طرح خریداری کا ڈیٹا استعمال کرکے اپنے صارفین کے لیے پرسنلائيزڈ آفرز بھی تیار کرسکتا ہے۔ اس کی وجہ سے خریداری میں اضافہ ہورہا ہے۔ ریٹیلرز کو سٹار بکس کی طرح کے سافٹ ویئر بنانے میں معاونت فراہم کرنے والے بوسٹن ریٹیل پارٹنرز (Boston Retail Partners) کے پرنسپل کین مورس (Ken Morris) کہتے ہيں کہ اس سے ان کے سٹور میں ایمزان کی طرح کا ماحول پیدا ہوگا۔

ایپ کے استعمال اور ریوارڈز پروگرام میں شمولیت میں اضافے کے لیے سٹاربکس نے 2015ء میں نئے فیچرز متعارف کروائے تھے۔ان میں سے ایک آرڈرز کی پیشگی ادائيگی کی سہولت ہے جسے سب سے پہلے آریگن کے شہر پورٹ لینڈ میں شروع کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، کچھ مارکیٹس میں صارفین کو اس ایپ کے ذریعے اپنے دفتروں میں کھانا اور مشروبات کی ڈیلوری کی سہولت فراہم کی گئی۔

شلٹز ڈیجیٹل دنیا میں اس سے بھی زيادہ آگے نکلنا چاہتے ہيں۔ جس طرح ایمزان دوسری کمپنیوں کو کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی خدمات فروخت کررہا ہے، اسی طرح سٹاربکس کے سی ای او ادائيگی اور ریوارڈز کے سافٹ ویئر کی لائسنسنگ کے لیے ٹیک کمپنیوں اور ديگر دکان داروں سے مذاکرات کررہے ہيں۔ سٹار بکس کا اپنے سٹور ویلیو کارڈز، ایپ اور ریوارڈ پوائنٹس کو ایک وسیع تر کرنسی میں تبدیل کرنے کا ارادہ ہے، جسے دوسری دکانوں پر کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے بدلے استعمال کیا جاسکے گا۔

جنوری 2011ء میں وسیع پیمانے پر لانچ ہونے والی یہ ایپ سمارٹ فون پر ایک بار کوڈ جنریٹ کرتی ہے جسے دکانوں میں پہلے سے نصب کردہ چیک آؤٹ ریڈرز پر سکین کیا جاسکتا ہے۔ اُس وقت ٹیک کمپنیاں بار کوڈز کو چھوڑ کر نیئر فیلڈ کمیونیکیشن نامی ریڈیو ٹیکنالوجی پر اپنی توجہ مرکوز کرچکی تھیں۔ اب
ایپل پے ادائيگی کی معلومات بھیجنے کے لیے اس ٹیکنالوجی کا استعمال کررہا ہے۔ لیکن چک ڈیوڈسن (Chuck Davidson) کے مطابق، جو اُس وقت سٹار بکس کے پری پیڈ کاروبار میں ملازمت کرتے تھے اور اب موبائل کامرس کمپنی کارڈ فری (CardFree) کے کسٹمر انگیجمنٹ کے ہیڈ ہیں، سٹاربکس کی اولین ترجیح استعمال میں آسانی تھی۔

یہ حکمت عملی کامیاب ثابت ہوئی۔ صرف دو مہینوں کے اندر اندر، اس ایپ سے ادائيگی کرنے والوں کی تعداد 30 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ سٹار بکس کو اپنے نام، سمارٹ فون کی سکت رکھنے والے صارفین اور اپنی کافی کے روزانہ استعمال کی وجہ سے بہت فائدہ ہوا۔

لیکن ڈیوڈسن اور ادائيگی کے دوسرے ماہرین کہتے ہيں کہ اس کی کامیابی کی اصل وجہ اس کے دوسرے فیچرز تھے۔ کارڈ کے بیلنس اور ریوارڈ پوائنٹس کی اس آسان ٹریکنگ کی وجہ سے صارفین اس کا زيادہ استعمال کرنے لگے۔

سٹاربکس کو ایپل پے اور اپنے حریفوں کی ایپس کی وجہ سے کافی چیلنجز درپیش ہیں۔ ڈنکن ڈونٹس کے مطابق جنوری 2014ء میں ان کی موبائل ایپ کو نئے ریوارڈ پروگرام کے ساتھ متعارف کرنے کے ایک سال کے اندر ایک کروڑ مرتبہ ایپ ڈاؤن لوڈ ہوچکی تھی اور 20 لاکھ ریوارڈ ممبرز سائن اپ ہو چکے تھے۔

سٹار بکس نے مقبول ترین موبائل ادائيگی کی ایپ تو بنا لی ۔ اب اس کے صارفین اپنے فون سے دوسری جگہوں پر ادائيگی کرنا بھی سیکھ گئے ہيں۔

تحریر: رابرٹ ڈی ہاف

Read in English

Authors
Top