Global Editions

پودوں میں آر این اے استعمال کرنے کی نئی تکنیک

آر این اے ایک ایسا محلول ہے جسے پودوں پر سپرے کرنے سے ان کے باغی جینز کو کام کرنے کیلئے کچھ عرصے کیلئے روکا جا سکتا ہے ۔سائنسدان کوشش میں مصروف تھے کہ کسی طرح آر این اے سپرے کے بعد پودوں کے باغی جینز کے کام کرنے سے روکنے کے دورانیے کو بڑھایا جائے ، سائنسدان اس سپرے کا پہلے بھی مظاہرہ کرچکے ہیں جس کے تحت پودوں میں سپرے کرکے پلانٹس کے باغی جینز کو خاموش کرکیا جاسکے لیکن اب سائنسدانوں نے ایک ایسی تکنیک اپنائی ہے جس سے پلانٹس کی وائرس کیخلاف مزاحمت کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ آسٹریلیا میں کوئنز لینڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی ٹیم نے سفوف سے بھی باریک مٹی کے ذرات میں آر این اے شامل کرکے اسے پودوں کے پتوں پر سپرے کرکے باریک ترین تہہ کی طرح پھیلا دیا۔ یہباریک تہہ پلانٹس کے پتوں کے ساتھ چمٹ جاتی ہے اور بتدریج اترتی ہے۔ اس تہہمیں موجود آر این اے کا محلول پودوںمیں منتقل ہو جاتا ہے پھر یہی آر این اے باغی جینز کو ان کے کام سے روکنے کیلئے مداخلت کرنا شروع کردیتا ہے ۔حال ہی میں رسالے نیچر پلانٹس میں چھپنے والے ایک تحقیقی مقالے میں تحقیقاتی ٹیم نے بتایا کہ ایک بارآر این اے سپرے کرنے سے تمباکو کے پودے پیپر مائلڈ موٹل وائرس سے 20روز کے لئے محفوظ رہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مٹی خاصی دیر تک پودا سے چمٹی رہتی ہے اور آر این اے اچھی طرح پودے کے پتوں میں جذب ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ پلانٹس میں آر این اے داخل کرنے کی محض ایک کوشش نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ ماضی میں مونسانٹو کمپنی نے اپنا آر این اے سپرے بنایا تھا۔ لیکن اس کی کامیابی صرف حشرات تک محدود تھی جو پودوں کو کھاجاتے ہیں۔ اس طرح آراین اے پودے میں مزاحمت کی قوت بڑھانے کی بجائے صرف حشرات کو ختم کرتا تھا۔ ایم آئی ٹی کے انٹونیو ریگالڈو مونسانٹو کے کام کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آر این اے کو پودوں پر استعمال کرنے کا کچھ فائدہ تو بحرحال ہے۔ اسے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصل کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔رسالے نیو سائنٹسٹ نے نشاندہی کی ہے کہ سپرے کی خاصیت صرف پودوں کو بیماریوں سے محفوظ کرنے تک محدود نہیں ہے۔ سپرے کو پودوں میں خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت بڑھانے ، فصلوں کو پکنے میں تیزی پیدا کرنا اور مزید جینیاتی کنٹرول حاصل کیا جاسکتا ہے۔ سپرے کے حامی کہتے ہیں کہ آر این اے انسانی خوراک میں شامل ہونے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا جبکہ مخالفین کہتے ہیں کہ آر این اے انسانوں، جانوروں اور پودوں کی زندگی کیلئے نقصان دہ ہے۔

تحریر: جیمی کونڈلف (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top