Global Editions

خلائی سفر کے باعث خلابازوں کے جسم کس طرح متاثر ہوتے ہيں؟

ایک خلاباز بین الاقوامی سپیس سٹیشن پر آنکھوں کا معائنہ کر رہی ہيں۔ کریڈٹ : ناسا
خلابازوں کی صحت کے متعلق اب تک کے سب سے وسیع مطالعے سے ہمیں معلوم ہوا کہ مستقبل کی خلائی مہموں کے دوران کن چیزوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔

خلاباز سکاٹ کیلی (Scott Kelly) نے بین الاقوامی سپیس سٹیشن پر 340 روز گزارے تھے، جو خلا میں وقت گزارنے والے کسی بھی امریکی کے لیے ریکارڈ ہے۔ ان کی اس مہم کے نتیجے میں ناسا کو یہ معلوم کرنے کا موقع ملا کہ خلاء میں طویل عرصہ گزارنے کے بعد انسانی جسم میں کس قسم کی تبدیلیاں آتی ہيں۔ یہ اس وجہ سے ممکن ہوا کیونکہ سکاٹ کیلی کے جڑواں بھائی مارک کیلی (Mark Kelly) بھی خلاباز ہیں (اور اب امریکی سینیٹر کا عہدہ سنبھالنے والے ہيں)، اور اتفاق سے ان کی شکل صورت سکاٹ سے بھی ملتی ہے۔ اس سے ریسرچرز کو زمین پر رہنے والے اور خلاء میں جانے والے افراد کے جسم کا موازنہ کرنے کا نادر موقع میسر ہوا۔

2019ء میں منعقد ہونے والی اس تحقیق کو ناسا ٹونز سٹڈی (NASA Twins Study) کا نام دیا گيا، اور اس کی مدد سے ریسرچرز وہ تمام چیزیں ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے جن کا انہيں پہلے صرف شک تھا۔ اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ مائیکروگریوٹی کی حالت میں طویل عرصے تک ریڈیشن کا سامنا کرنے کے بعد ایک بند کیپسیول میں رہنے والے افراد کی قوت مدافعت کمزور پڑنے لگتی ہے، آنکھوں کی شکل خراب ہوجاتی ہے، اور پٹھوں اور ہڈیوں کا وزن کم ہوجاتا ہے۔

تاہم اس تحقیق کے ذریعے ایسی کچھ چيزیں بھی سامنے آئيں جن کی ریسرچرز کو توقع نہيں تھی۔ کیلی کے پیٹ کے مائيکروبائیومز میں تبدیلیاں نظر آئيں، ان کی دماغی صلاحیتیں کچھ حد تک کم ہوگئيں، ان کے کچھ جینز بغیر کسی وجہ کے آن اور آف ہونے لگے، اور ان کے کروموسومز کی شکل بگڑ گئی۔

ویل کارنیل میڈيسن (Weill Cornell Medicine) میں فزیولوجی اور بائیوفزکس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کرسٹوفر میسن (Christopher Mason) بتاتے ہيں کہ ”ٹونز سٹڈی میں ہمیں خلاء کا سفر کرنے والوں کے جسم کے مالیکیولز کی تبدیلیوں کو سمجھنے کا موقع تو ملا، لیکن چونکہ ہم نے صرف ایک ہی خلاباز کا مطالعہ کیا تھا، ہمیں اس تحقیق کا پیمانہ وسیع کرنے کی ضرورت تھی۔ ہمیں دوسرے خلابازوں اور دوسرے آرگانزمز پر خلائی سفر کے اثرات کی پیمائش کے لئے مزید تحقیق کی ضرورت تھی۔ دوسری بات یہ تھی کہ سکاٹ کیلی نے تقریباً ایک سال تک خلاء کا سفر کیا۔ اسی لیے ہم یہ بھی جاننا چاہ رہے تھے کہ خلا میں کم عرصے تک رہنے کی صورت میں نتائج کس حد تک مختلف ہوسکتے ہيں۔“

حال ہی میں ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس میں ٹونز سٹڈی کے ڈیٹا کا ازسر نو تجزیہ کیا گيا ہے اور دوسرے خلابازوں کے ساتھ موازنہ کیا گيا ہے۔ مختلف جرنلوں میں شائع ہونے والے 19 مطالعہ جات (اور 10 مطالعہ جات جن کا پیئر ریویو باقی ہے) میں میسن (جنہوں نے ان میں سے 14 پیپرز لکھے ہیں) سمیت متعدد ریسرچرز نے خلائی سفر کرے والے 56 خلابازوں (بشمول کیلی) کے جسمانی، بائیوکیمیکل، اور جینیاتی تبدیلیوں کا تجزیہ کیا ہے۔ یہ اب تک خلابازوں پر کی جانے والی سب سے وسیع تحقیق ہے۔

ان پیپرز میں سیل پروفائلنگ اور جین سیکوئینسنگ کی تکنیکوں کا بھی فائدہ اٹھایا گيا ہے، جو ماضی میں ممکن نہيں تھا۔ میسن کے مطابق اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ”خلاء میں جانے والے انسانوں، چوہوں اور دوسرے جانوروں میں کچھ حد تک ملتے جلتے اثرات نظر آئے۔ ابتدائی نتائج کو دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا ہے جیسے کہ تمام اقسام کے ممالیہ پر خلائی سفر کے اثرات ایک جیسے ہوتے ہيں۔“

نتائج کی تفصیلات

ریسرچرز کے مطابق خلائی سفر کے دوران چھ اقسام کی جسمانی تبدیلیاں سامنے آتی ہيں: 1) آکسیڈیٹو سٹریس (oxidative stress) (یعنی جسم کے سیلز میں فری ریڈیکلز کی تعداد بہت زيادہ ہونا؛ 2) ڈی این اے کی خرابی؛ 3) سیلز کے مائٹوکونڈریا (mitochondria) کو نقصان؛ 4) جینیاتی ریگیولیشن کی تبدیلیاں؛ 5) ٹیلومیئرز (telomeres) (یعنی کروموسومز کے کونے، جن کی لمبائی عمر کے ساتھ کم ہوتی ہے) کی لمبائی میں تبدیلیاں؛ اور 6) پیٹ کے مائیکروبائیومز میں تبدیلیاں۔

سائنسدانوں کے لیے سب سے زيادہ حیرانی کا باعث مائیٹوکونڈریا کا نقصان تھا۔ مائیٹوکونڈریا سیلز (اور سیلز کے ذریعے ٹشو اور اعضاء) کا کام جاری رکھنے کے لیے کیمیائی توانائی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ نئی جینومکس اور پروٹیومک تکنیکوں کی بدولت مائیٹوکونڈریا کی خرابی کی پیمائش اور اس کی زمرہ بندی ممکن ہوئی۔ ناسا میں بائیوانفارمیٹکس کی ماہر افشین بہشتی بتاتی ہيں کہ مائیٹوکونڈریا کے نقصان کو دیکھ کر سائنسدانوں کے لیے خلابازوں کو درپیش دوسرے مسائل (جیسے کہ قوت مدافعت کی کمزوری، سونے اور جاگنے کے اوقات میں خلل اندازی، اور اعضاء کو درپیش مسائل) کے آپس میں تعلقات کو سمجھنا ممکن ہوا ہے۔

بہشتی کہتی ہیں کہ ”خلاء میں صرف ایک حصہ ہی نہيں، پورا جسم متاثر ہوتا ہے۔ ہم نے جسم کے مختلف حصوں کے درمیان تعلق جوڑنا شروع کردیا ہے۔“

دیگر تحقیقات میں جینیاتی تبدیلیوں پر نظر ڈالی گئی۔ ٹونز سٹڈی سے یہ بات سامنے آئی کہ خلا میں کیلی کے ٹیلومیئرز لمبے ہوئے، لیکن زمین پر واپسی کے بعد ان کی لمبائی معمول سے بھی کم ہوئی۔ عمر کے ساتھ ساتھ ٹیلومیئرز کی لمبائی کم ہوتی ہے، زيادہ نہيں، اور ٹونز سٹڈی میں اس خلاف معمول مشاہدے کی وجہ معلوم نہيں ہوسکی۔

ٹیلومیئر ریسرچ اور خلائی ریسرچ کے متعدد پیپرز پر کام کرنے والی ماہر سوزن بیلی (Susan Bailey) بتاتی ہيں کہ اس نئی تحقیق کے مطابق، مزيد 10 خلابازوں کے ٹیلومیئرز خلاء میں مزيد لمبے ہوئے، اور زمین پر لوٹنے کے بعد دوبارہ چھوٹے ہوگئے۔ یہ تبدیلی مختصر خلائی مہموں میں حصہ لینے والے خلابازوں میں بھی نظر آئی۔

ان نئے پیپرز میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایوریسٹ پہاڑ پر چڑھنے والوں کے ٹیلومیئرز بھی اسی طرح لمبے ہوئے تھے۔ بیلی اور ان کی ٹیم نے اس کی بنیاد پر اندازہ لگایا ہے کہ آکسیڈیٹو سٹریس (جو پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھنے والوں اور خلابازوں، دونوں میں نظر آتا ہے) اور ٹیلو میئرز کے درمیان کسی نہ کسی قسم کا تعلق موجود ہے۔

تاہم وہ اب تک اس تعلق کی نوعیت کا تعین نہیں کرپائے ہیں۔ بیلی کہتی ہيں کہ ”ہمیں معلوم تو نہيں ہوا کہ یہ تعلق کیا ہے، لیکن ہمیں مزيد ریسرچ کی بنیاد مل گئی ہے۔ ہمیں معلوم ہوگيا ہے کہ ہمیں خلابازوں کو لمبے خلائی سفر پر بھیجنے سے پہلے کن چیزوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔“

بین الاقوامی سپیس سٹیشن پر ایک خلاباز اپنی نسوں سے خون نکال رہے ہيں۔ کریڈٹ : ناسا

ان میں سے کئی تبدیلیاں خلاف توقع تو ہیں، لیکن پریشانی کی وجہ نہيں۔ بیلر کالج آف میڈيسن (Baylor College of Medicine) کے سینٹر فار سپیس میڈیسن (Center for Space Medicine) کے ڈائریکٹر جیفری سٹن (Jeffrey Sutton) (جنہوں نے اس تحقیق میں حصہ نہیں لیا) کہتے ہيں کہ ”سب سے دلچسپ تو یہ بات ہے کہ ہمارا جسم خلاء میں رہتے ہوئے خود کو کس طرح تبدیل کرتا ہے۔“ میسن کو یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ خلائی سفر کے دوران کیلی کے خون کے سیلز کی شکل بگڑنے کی شرح میں واضح کمی نظر آئی۔ اس کے علاوہ، خلابازوں میں عمررسیدگی سے وابستہ حیاتیاتی علامات میں کمی اور ریڈیشن کے باعث ہونے والے نقصان اور مائیکروگریوٹی کے ردعمل کی وجہ بننے والے مائیکرو آر این اے کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ تاہم سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ خلابازوں کے پیٹ میں موجود مائیکروبائیومز اپنے ساتھ بین الاقوامی سپیس سٹیشن پر موجود خلائی مائیکروبائیومز واپس لائے تھے۔

سٹن کہتے ہيں کہ ”یہ نئے پیپرز انفرادی طور پر اور مجموعی طور پر بہت اہم ہیں۔ ہم خلائی بائیومیڈیکل ریسرچ کے ایک نئے دور میں داخل ہوگئے ہیں جس میں ہمارے لیے حیاتیات اور شعبہ طب کے اصولوں کی مدد سے خلائی سفر کے دوران انسانی جسم کی تبدیلیوں کو سمجھنا ممکن ہوا ہے۔“

طویل المیعاد خدشات

تاہم اس ڈیٹا سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ خلائی مہمیں انسانی جسم پر بہت بھاری پڑتی ہیں، جس سے لمبی خلائی مہموں کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے۔ کیلی کہتے ہيں کہ ”میرا خیال ہے کہ اس وقت ہم غیرتربیت یافتہ لوگوں کو لمبے عرصے تک خلاء میں نہيں بھیج سکتے۔“

تاہم ان کا خیال ہے کہ انسانوں کے جسم مریخ پر جا کر واپس آنے کی صلاحیت رکھتے ہيں۔ وہ کہتے ہيں کہ ”آگے چل کر، ہم مریخ تو کیا مشتری اور زحل کو بھی فتح کرلیں گے۔ اور اگر ایسا ہوگیا تو اس کا مطلب ہوگا کہ ہم کچھ دن نہيں بلکہ کئی سال تک خلاء میں رہیں گے، جس کے لئے انسانی جسم پر خلا کے اثرات کو کم کرنے کے لئے مصنوعی کشش ثقل پر غور کرنا ضروری ہوگا۔ کم از کم میں تو نہيں چاہتا کہ کسی دوسرے سیارے پر جانے کی خواہش کے نتیجے میں میرا جسم پوری طرح کام کرنا چھوڑ دے۔ یہ صورتحال ایک سال تک تو برداشت کی جاسکتی ہے، لیکن اس سے زيادہ عرصے کے لئے نہيں۔“

سکاٹ کیلی خلا می رہنے کے باعث جسم کے مائع مواد کا سر کی طرف جانے کی روک تھام کے لئے بنائے جانے والے آلے کی اثراندازی کی پیمائش کے لیے اپنی شہ رگ کا الٹراساؤنڈ کروا رہے ہيں۔ کریڈٹ: ناسا

اس وقت ہم اس قسم کے خطرات کا تخمینہ کرنے کی صلاحیت نہيں رکھتے۔ میسن اور ان کے ساتھی کہتے ہيں کہ خلاء سے لوٹنے والے سائنسدانوں کے اجسام پر کشش ثقل کے اثرات کو کم کرنے کے لیے دواشناسی سے وابستہ حکمت عملیوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

سٹن کا خیال ہے کہ خلابازوں کو مائیکروگریوٹی اور ریڈیشن کے اثرات سے تحفظ فراہم کرنے والی ادویات کی تیاری میں پریسیشن میڈيسن (precision medicine) کا بہت بڑا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، پہاڑ چڑھنے والوں کے جسم میں نظر آنے والے ردعمل کو دیکھ کر یہ بات واضح ہے کہ انہيں تحفظ فراہم کرنے والی حکمت عملیوں سے خلاباز بھی مستفید ہوسکتے ہيں۔

ہمیں اس وقت مزيد ڈيٹا کی ضرورت ہے۔ میسن، بیلی اور ان کے ساتھیوں نے مستقبل میں طویل المیعاد خلائی مہموں پر جانے والے خلابازوں کے سیلز اور جینز کی پروفائلز حاصل کرنا شروع کردی ہيں۔ وہ ریڈیو تھیراپی کے مریضوں، اور ہوائی جہاز کے پائلٹس جیسے افراد کا بھی ڈيٹا حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہيں جنہيں خلابازوں کی طرح کے حالات کا سامنا رہتا ہے۔

بیلی کہتی ہیں کہ ”ہمیں لمبی خلائی مہموں کے متعلق جتنی معلومات حاصل ہوں گی، ہمارے لیے ان کی صحت اور کارکردگی کا خیال رکھنا اتنا ہی آسان ہوگا۔ ان معلومات پر زمین پر رہنے والوں کو بھی فائدہ پہنچے گا، جنہيں عمر رسیدگی اور صحت کی خرابی کا خطرہ رہتا ہے۔“

تحریر: نیل وی پٹیل (Neel V. Patel)

 

Read in English

Authors

*

Top