Global Editions

قطب جنوبی کی سمندری برف میں بہت تیزی سے کمی ہورہی ہے

آرکٹک کی سمندری برف میں کافی عرصے سے بہت تیزی سے کمی ہورہی تھی لیکن اب انٹارکٹکا نے اس کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

پس منظر

آرکٹک کی سمندری برف کی کمی 1990ء سے ماحولیاتی ماڈلز کی پیشگوئیوں سے تجاوز کررہی ہے اور میڈیا کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ تاہم قطب شمالی کی صورتحال بالکل مختلف تھی۔ یہاں عالمی ماحولیاتی نظام کا مطالعہ کرنے والے سائنسدانوں کی توقعات کے خلاف برف میں کمی کے بجائے اضافہ ہورہا تھا۔

تبدیلی

لیکن اب پروسیڈنگز آف نیشنل اکیڈمی آف سائنسز (Proceedings of the National Academy of Sciences) کے ایک نئے مطالعے کے مطابق قطب شمالی میں صورتحال بدل چکی ہے۔ انٹارکٹک کی سمندری برف 2014ء میں اپنی سالانہ چوٹی کی سطح تک جاپہنچی، جس کے بعد سے اس میں اب تک بیس لاکھ مربع کلومیٹرز (یعنی 770،000 مربع میل) سے زيادہ تک کمی آچکی ہے۔ ناسا کے گوڈارڈ سپیس فلائٹ سینٹر (Goddard Space Flight Center) کی ماہر موسمیات کلیئر پارکنسن (Claire Parkinson) کے اس مطالعے کے مطابق اس تبدیلی سے چند سالوں کے اندر 35 سالوں کے اضافے پر پانی پھر گیا۔

اس کا کیا مطلب ہے؟

اس وقت سائنسدان یہ معلوم نہيں کرپائے ہيں کہ انٹارکٹک کی سمندری برف کی کمی میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی یا اس کمی کی تیزرفتاری کی وجہ کیا تھی۔ تاہم اس کی وجوہات میں 2015ء تک 2016ء کے درمیان ایل نینو کے طوفان کی وجہ سے سمندر کے درجہ حرارت میں اضافہ اور ہوا کے موجودہ پیٹرنز کو تبدیل کرنے والے کمزور پولر وورٹیکس شامل ہوسکتے ہیں۔

اس مطالعے کے مطابق یہ بات اب تک واضح نہيں ہوئی ہے کہ کیا 2014ء کے بعد برف میں اچانک کمی کسی “طویل المیعاد منفی رجحان” کی ابتداء ہے یا 2018ء میں معمولی سا اضافہ اس رجحان میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

تاہم پچھلے چند سالوں میں اس برف میں اچانک کمی کی وجہ سے ریسرچرز کو اضافی ڈیٹا ضرور میسر ہوتا ہے جس کی مدد سے ماڈلز کو ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے اور بہتر بنایا جاسکتا ہے اور ماحول اور سمندری برف کی تبدیلی کے درمیان اضافی تعلقات کا انکشاف کیا جاسکتا ہے۔

اس کے کیا اثرات ہوسکتے ہیں؟

سمندری برف کی وجہ سے پانی کی سطح میں اضافہ ہوہی رہا ہے۔ لہٰذا اگر برف کم ہوجائے تو سمندری سطح میں اتنا اضافہ نہيں ہوگا جتنا زمین پر بچھی برف کے پگھلنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تاہم سمندری برف کے پگھلنے کی وجہ سے دیگر کئی خطرناک اثرات سامنے آسکتے ہيں۔ جب برف پگھلتی ہے تو لاکھوں مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے پانی میں گہرا نیلا پانی شامل ہوجاتا ہے جس سے گرمائش منعکس ہونے کے بجائے جذب ہونا شروع ہوجاتی ہے اور پانی کے درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ اس گرم پانی کی وجہ سے سمندری برف اور گلیشیئر اور بھی زیادہ تیزی سے پگھلنا شروع ہوجائيں گے۔

تحریر: جیمس ٹیمپل (James Temple)

Authors

*

Top