Global Editions

جلد ہی سیٹلائٹس آپ پر ہر جگہ نظر رکھیں گے، کیا پرائیویسی قائم رہ پائے گی؟

2013ء میں آریگن کے شہر گرانٹس پاس کی پولیس کو معلوم ہوا کہ کرٹس کروفٹ (Curtis Croft) نامی شخص غیرقانونی طور پر اپنے گھر میں منشیات اگا رہا تھا۔ گوگل ارتھ (Google Earth) پر دیکھنے کے بعد انہيں اس بات کا ثبوت مل گیا۔ ایک چار سال پرانی سیٹلائٹ کی تصویر میں کروفٹ کے گھر کے باہر پودے اگتے ہوئے نظر آئے۔ پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارنے کے بعد 94 پودے ضبط کرلیے۔

اسی طرح برازیل کی ریاست اماپا کی پولیس کو ریئل ٹائم سیٹلائٹ امیجری کی مدد سے معلوم ہوا کہ ایک جگہ پر زمین سے درختوں کو اکھاڑا گیا ہے۔ انہيں وہاں جا کر معلوم ہوا کہ اس مقام پر غیرقانونی طور پر کوئلہ پیدا کیا جارہا تھا جس کے بعد آٹھ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

چینی حکومت کے افسران نے شنجیانگ صوبے میں اویغور قوم کی تعلیم نو کے کیمپس کی موجودگی کی رپورٹوں کو مسترد کردیا ہے۔ لیکن انسانی حقوق کے کارکنان نے سیٹلائٹ امیجری سے ثابت کیا ہے کہ ان میں سے کئی کیمپس کے گرد نگرانی کے ٹاورز اور ریزر وائر موجود ہيں۔

ہر سال سیٹلائٹ امیجز بہتر ہوتی جارہی ہيں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ 2008ء میں صرف 150 زمینی آبزرویشن کی سیٹلائٹس گردش کررہی تھی، لیکن اب ان سیٹلائٹس کی تعداد 768 ہوچکی ہے۔ اس وقت سیٹلائٹ کمپنیاں 24 گھنٹے ریئل ٹائم نگرانی نہيں فراہم کررہی ہیں لیکن جلد ہی یہ بھی ممکن ہوجائے گا۔ پرائیوسی کے حمایتیوں کی تنبیہبات کے مطابق سیٹلائٹ امیجری میں اس قدر تیزی سے پیش رفت ہورہی ہے کہ اس ٹیکنالوجی پر نظر رکھنا ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ اگر اس ترقی پر پابندی عائد نہيں کی گئی تو اشتہار بنانے والی کمپنیوں سے لے کر دہشت گرد تنظیموں تک سب ہی کے ہاتھ میں ایسے ٹولز آجائيں گے جو پہلے صرف حکومتی جاسوسی ایجنسیوں کے پاس ہوتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کسی بھی وقت کوئی بھی شخص دوسروں پر نظر رکھ سکے گا۔

تصویریں صاف ہوتی جارہی ہيں

اس وقت کمرشل سیٹلائٹ امیجری میں نقص نہیں نکلا جاسکتا ہے۔ ان سے گاڑیاں تو نظر آتی ہیں لیکن ان گاڑیوں کا ماڈل معلوم نہيں کیا جاسکتا۔ اسی طرح ان تصویروں سے پودوں پر نظر رکھی جاسکتی ہے لیکن دوسرے لوگوں پر نہيں۔ یہ گمنامی جان بوجھ کر متعارف کی گئی ہے۔ امریکی وفاقی ضوابط کے مطابق کمرشل سیٹلائٹس کی ریزولوشن 25 سنٹی میٹر تک محدود ہے۔ تاہم فوجی جاسوسی سیٹلائٹس کی مدد سے زیادہ دانے دار تصاویر حاصل کی جاسکتی ہیں، لیکن ان تصویروں کے ریزولوشن کے متعلق معلومات کو خفیہ رکھا گيا ہے۔

2014ء میں جب نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمینسٹریشن (National Oceanic and Atmospheric Administration – NOAA) نے یہ حد تبدیل کرکے 50 سنٹی میٹر کردی جو کئی صارفین کے لیے کافی تھی۔ صارفین ٹین کے سٹوریج ٹینکس کے سایوں کی مدد سے تیل کی سپلائی کی پیشگوئی کرسکتے ہیں، کسان اپنی فصلوں کے تحفظ کے لیے سیلابوں پر نظر رکھ سکتے ہيں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں میانمار اور شام کے پناہ گزین کی نقل و حرکت کی نگرانی کرسکتے ہیں۔

تاہم اب سیٹلائٹ امیجری میں اس قدر پیش رفت ہوچکی ہے کہ وہ وقت دور نہيں ہے جب سرمایہ کار اور کاروبار اس سے فائدہ اٹھانا چاہیں گے۔ پلینٹ لیبس نامی امیجنگ کمپنی کے پاس اس وقت 140 سیٹلائٹس ہیں جو دن میں ایک دفعہ زمین کے ہر چپے کے اوپر سے گزرنے کے لیے کافی ہیں۔ 1997ء میں دنیا کی سب سے پہلی تجارتی زمین کا مشاہدہ کرنے والی سیٹلائٹ لانچ کرنے والی کمپنی میکسار، جس کا پرانا نام ڈیجیٹل گلوب تھا، اب سیٹلائٹس کا مجموعہ تیار کررہی ہے جو دن میں 15 دفعہ ہر مقام کے اوپر سے گزر سکتی ہے۔ بلیک سکائی گلوبل بڑے شہروں میں دن میں 70 دفعہ گزرنے کا وعدہ کررہے ہیں۔ یہ کسی ایک شخص کی ہر حرکت پر نظر رکھنے کے لیے کافی تو نہیں ہے لیکن اس سے یہ آپ کو یہ تو معلوم ہوسکے گا کہ کس کی گاڑی کتنی دفعہ گھر پر رہتی ہے۔

اس کے علاوہ کچھ کمپنیاں خلاء سے لائیو ویڈیو دیکھنے کی سہولت بھی پیش کررہی ہیں۔ 2014ء میں سکائی باکس نامی کمپنی (جس کا بعد میں نام تبدیل کرکے ٹیرا بیلا ہوگیا اور جسے پہلے گوگل اور پھر پلینٹ نے خریدا تھا) 90 سیکنڈ تک لمبی ایچ ڈی ویڈیوز پیش کرنے کا دعویٰ کررہی تھی۔ اور اب ارتھ ناؤ نامی کمپنی “ایک سیکنڈ کی تاخیر” کے ساتھ “مسلسل ریئل ٹائم” نگرانی پیش کرنے کا دعویٰ کررہی ہے۔ سنیپ چیٹ اور ویدر چینل جیسی کمپنیوں کے لیے کسٹمائزڈ نقشے بنانے والی کمپنی میپ باکس کے چارلز لائیڈ کہتے ہيں کہ ہر کوئی ایک “زندہ نقشہ” بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ فورا نہيں ہوجائے گا۔ لائیڈ کے مطابق “ہمیں زمین کی ہائی ریزولوشن فل ٹائم ویڈیو بنانے میں بہت وقت لگے گا۔”

زمین کے مشاہدے کی دلچسپ ترین انوویشنز میں روایتی فوٹوگرافی کے بجائے نظر آنے والے سپیکٹرم کے باہر موجود الیکٹرومیگنیٹک ویو لینتھز کیپچر کرنے والے ریڈار سینسنگ اور ہائیپرسپیکٹر تصاویر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ نظر آنے والی روشنی میں زمین بادلوں کے پیچھے چھپ سکتی ہے لیکن سیٹلائٹس ان بادلوں میں سے گزرنے کے لیے مصنوعی اپرچر ریڈار کا استعمال کرتے ہيں جو سامنے والے اشیاء سے منعکس ہو کر سیٹلائٹ کی طرف واپس آتے ہیں۔ اس سے ایک ملی میٹر کی درستی کے ساتھ کسی بھی چیز کا قد معلوم کیا جاسکتا ہے۔ ناسا 1970ء کی دہائی سے مصنوعی اپرچر ریڈار کا استعمال کررہے ہیں۔ تاہم پچھلے سال ہی اس ٹیکنالوجی کی فروخت کی منظوری جاری کی گئی تھی جس سے اس کے طاقت اور سیاسی حساسیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ (کہا جاتا ہے کہ 1978ء میں فوجی افسران نے امریکی جوہری آبدوزوں کے لوکیشن ظاہر کرنے والے ریڈار سیٹلائٹ امیجز پر پابندی عائد کردی تھی۔)

موبائل فون سے حاصل کردہ جی پی ایس ڈیٹا سے آپ کی پرائیوسی کو خطرہ ہے لیکن آپ اپنا فون گھر پر رکھ سکتے ہیں۔ تاہم سیٹلائٹ کیمرے کی نظر سے بچنا بہت مشکل ہے۔

کسان ہائپرسپیکٹرل سینسنگ کی مدد سے معلوم کرسکتے ہيں کہ ان کی فصلیں کس مرحلے میں ہیں۔ اس کے علاوہ ماہر ارضیات ان پتھروں کی نشاندہی کرسکتے ہیں جنہيں کھودنا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن فوجی ایجنسیاں یا دہشت گرد تنظیمیں بھی اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے زیر زمین بنکرز یا جوہری مواد کی نشاندہی کرسکتے ہيں۔

اس کے علاوہ فروخت ہونے والی امیجری کے ریزولوشن میں بھی بہتری کا امکان ہے۔ جیسے جیسے بین الاقوامی سیٹلائٹ کمپنیوں کی طرف سے مقابلے میں اضافہ ہوگا NOAA پر ان کی 25 سنٹی میٹر کی پابندی ہٹانے کے سلسلے میں دباؤ پڑے گا۔ اور اگر وہ یہ پابندی نہ بھی ہٹائيں تو کوئی بھی بیرون ملکی کمپنی امریکی صارفین کو 25 سنٹی میٹر سے بہتر ریزولوشن کی تصویریں فراہم کرسکتی ہے۔ سیٹلائٹ انڈسٹری ایسوسی ایشن کی سینیئر ڈائریکٹر آف پالیسی تھیریس جونز کہتی ہیں “دوسری کمپنیاں ہماری پابندیوں سے بہتر ریزولوشن رکھنے والی تصویریں فراہم کرسکتی ہیں۔ ہماری کمپنیاں یہ چاہیں گی کہ یہ پابندی ہر ممکنہ حد تک کم ہو۔”

یہ امیجری اس وقت زیادہ طاقتور ہوگی جب اسے وافر مقدار میں پراسیس کیا جاسکے گا۔ آربٹل ان سائٹ اور سپیس نو جیسی انالٹکس کی کمپنیاں الگارتھمز میں ویژول ڈیٹا فراہم کرکے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے کسی بھی شخص کو ان تصاویر تک رسائی فراہم کرتی ہیں۔ اس کے بعد کئی مختلف قسم کے تجزیے ممکن ہيں۔ مثال کے طور پر ایک طرف تو سرمایہ کار اس تجزیے کی مدد سے کسی بھی شہر کی رات کو جاری کردہ روشنی کی مدد اس کے جی ڈی پی کا حساب لگاسکتے ہيں لیکن دوسری طرف چور اور ڈاکو یہ بھی معلوم کرسکتے ہيں کہ کون گھر پر ہے اور کون نہيں۔

سیٹلائٹ اور تجزیہ کار کمپنیوں کے مطابق وہ اپنے ڈیٹا کو گم نام رکھتی ہيں اور ایسی تمام خصوصیات ہٹادیتی ہیں جن سے کسی کی شناخت ممکن ہو۔ اگر ہم مان بھی لیں کہ سیٹلائٹس کسی بھی چہرے کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہیں، تو ان تصاویر کو جی پی ایس، سیکورٹی کیمرے اور سوشل میڈیا پوسٹس سے حاصل کردہ معلومات کے ساتھ ضم کرنے سے پرائیویسی کو پھر بھی بہت بڑا خطرہ لاحق ہوگا۔ سیکور ورلڈ فاؤنڈیشن کے پیٹر مارٹینیز کہتے ہيں “اگر کوئی بھی شخص چاہے تو وہ معلوم کرسکتا ہے کہ آپ کونسی دکانوں تک جاتے ہيں، آپ کے بچے کونسے سکولوں میں پڑھتے ہيں، آپ کس عبادت گاہ جاتے ہیں، آپ کس سے ملتے ہیں؟”

تمام ٹولز کی طرح سیٹلائٹ امیجری کو بھی غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہم نے اس کی ایک مثال اس وقت دیکھی جب جارج بش نے سیٹلائٹ تصویروں کی بنیاد پر دعویٰ کیا تھا کہ صدام حسین کے عراق میں کیمیائی اسلحہ ذخیرہ کررہے ہیں۔ تاہم پرائیوسی کے تحفظ کی کوششوں پر بھی پانی پھر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر 2018ء میں جب ایک روسی کمپنی نے ترکی اور اسرائیل میں واقع حساس فوجی عملیات کے سائٹس کو دھندلا کرکے پیش کیا تو کئی ویب صارفین کو اس قدر تجسس ہوا کہ انہوں نے دوسرے نقشوں کی مدد سے معلوم کر ہی ڈالا کہ ان مقامات پر کیا کیا موجود تھا۔

تاہم ہم جتنی بھی نیک نیتی سے کام لیں، ممکن ہے کہ سیٹلائٹ سے تصویریں کھینچنے کے کچھ منفی نتائج بھی سامنے آسکتے ہيں۔ مثال کے طور پر 2012ء میں سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان تصادم کے دوران ہارورڈ میں واقع سیٹلائٹ سینٹینل پراجیکٹ نے ایک تصویر جاری کی جس میں ایک تعمیراتی عملے کو سوڈان کے پیپلز لبریشن آرمی کے مقبوضہ علاقے کی جانب ٹینکس گزارنے کی تیاری کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ ان کا ارادہ شہریوں کو ان ٹینکس کے متعلق مطلع کرنا تھا۔ لیکن یہ تصویریں پیپلز لبریشن آرمی کے ہاتھ لگ گئيں جس کے بعد انہوں نے 36 گھنٹوں کے اندر تعمیراتی عملے پر حملہ کرکے کچھ کو مار ڈالا اور کچھ کو اغوا کرلیا۔ سینٹینل پراجیکٹ پر کام کرنے والے انسانی حقوق کے ماہر نیتھینیل رے منڈ کہتے ہيں کہ کارکن کو سب سے پہلے مزيد معلومات جاری کرنے کا خیال آتا ہے، لیکن انہیں اب زيادہ محتاط رہنے کی اہمیت کا اندازہ ہوچکا ہے۔

لوگوں پر ہمہ وقت نظر رکھنا مہنگا ثابت ہوسکتا ہے

اگر ایسی کوئی چیز ہے جو ہمیں سیٹلائٹ نگرانی سے بچاسکتی ہے تو وہ ہے اس ٹیکنالوجی کا خرچہ۔ سیٹلائٹ امیجری فراہم کرنے والی کمپنیوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ 25 سنٹی میٹر سے کم ریزولوشن پر چوبیس گھنٹے نگرانی فراہم کرنے والے سیٹلائٹس کی مانگ ہی نہيں ہے۔ میکسار نامی کمپنی کے بانی والٹر سکوٹ کہتے ہیں “بات پیسوں کی ہے۔” کچھ کمپنیاں ٹوسٹر کے سائز کے کم قیمت نینوسیٹلائٹس لانچ کررہی ہیں، جن میں 120 ڈو سیٹلائٹس شامل ہیں جو ایک نمائندے کے مطابق عام سیٹلائٹس سے کئی گنا کم لاگت رکھتے ہيں۔ تاہم تفصیل فراہم کرنے کے لیے ان سیٹلائٹس کو بہت زيادہ چھوٹا نہيں کیا جاسکتا ہے۔ سکاٹ کہتے ہيں “فزکس کا بنیادی اصول ہے کہ ممکن ریزولوشن کا انحصار سوراخ کے سائز پر ہے۔ کسی بھی اونچائی پر ایک مخصوص سائز کا ٹیلی سکوپ ہونا چاہیے۔” میکسار کے کیمروں کے لیے ایک چھوٹی سکول بس کے سائز کی سیٹلائٹ پر نصب ایک میٹر کا نصف قطر رکھنے والا سوراخ سب سے زيادہ مناسب ہے۔ اس پابندی سے نمٹنے کے لیے کئی دوسرے طریقے بھی موجود ہیں، مثال کے طور پر انٹرفیرومیٹری میں متعدد آئینوں کی مدد سے ایک بڑے آئینے کی سیمولیشن کی جاسکتی ہے۔ تاہم یہ طریقہ کار بہت پیچیدہ بھی ہیں اور مہنگے بھی۔ بڑے سیٹلائٹس کو لانچ کرنے کے اخراجات بھی زیادہ ہوں گے لہٰذا دانے دار ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے کمپنیوں کو نفع کی ضمانت دینے کی ضرورت ہوگی۔

تاہم 25 سنٹی میٹر سے کم ریزولوشن کی مانگ بھی موجود ہے اور سپلائی بھی۔ مثال کے طور پر بیمہ کے انڈر رائٹرز کو کسی گھر کی چھت پر درختوں کی شاخوں کی موجودگی دیکھنے کے لیے یا شمسی پینل اور سکائی لائٹ کے درمیان امتیاز کرنے کے لیے اس قدر تفصیلی تصاویر کی ضرورت پیش آئے گی، اور وہ یہ تصاور ہوائی جہاز اور ڈرونز سے حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر کی قیمتوں میں قابل قدر کمی آجائے تو کوئی وجہ نہيں ہے کہ بیمہ کمپنیاں ان کا استعمال نہيں کريں گی۔

ڈرونز سیٹلائٹ تصویروں کے مقابلے میں بہت بہتر تصاویر حاصل کرسکتے ہیں، لیکن ڈرونز ہر جگہ استعمال نہيں کیے جاسکتے ہيں۔ مثال کے طور پر فیڈرل ایویشن ایڈمینسٹریشن کی پابندیوں کے تحت کمرشل ڈرونز ایسی جگہوں پر استعمال نہيں کیے جاسکتے جہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوں۔ اس کے علاوہ آدھے پونڈ (یعنی 227 گرامز) سے زیادہ وزن رکھنے والے ڈرونز کی ریجسٹریشن کروانا بھی ضروری ہے۔ امریکہ، سویت یونین، اور درجنوں اقوام متحدہ کے ممبران کے درمیان 1967ء میں طے ہونے والے آؤٹر سپیس ٹریٹی کے مطابق تمام ممالک کو خلاء تک مساوی رسائی حاصل ہے اور ریموٹ سینسنگ کے متعلق معاہدوں کے پیچھے بھی یہی اصول ہے۔ سرد جنگ کے دوران یہ ٹیکنالوجی دوسرے ممالک پر نظر رکھنے کے لیے بہت معاون بھی ثابت ہوئی۔ تاہم معاہدہ طے کرنے والوں کو کیا معلوم تھا کہ ایک دن کسی کے لیے کسی بھی مقام کی تفصیلی تصاویر حاصل کرنا ممکن ہوگا؟

اس کے علاوہ ہم اپنے ساتھ سمارٹ فونز کی شکل میں ٹریکنگ ڈیوائسز لے کر پھرتے ہیں۔ ان موبائل فونز سے حاصل کردہ ڈیٹا ہماری پرائیوسی کے لیے خطرہ تو ہے لیکن ہمارے پاس فون گھر پر رکھنے کا اختیار ہے۔ سیٹلائٹ کیمرہ کی نظر سے بچنا اتنا آسان نہيں ہے۔ انالیکٹس کمپنی کوانڈل کے چیف ڈیٹا افسر ابراہم تھامس کہتے ہیں “اس بات کا خدشہ ضرور ہے کہ سیٹلائٹس وہ ڈیٹا حاصل کرتے ہيں جو آپ کا موبائل فون یا ڈیجٹل ٹولز یا ٹوئیٹر حاصل نہيں کرسکتے۔ اس کے علاوہ سیٹلائٹ کے ڈیٹا کی درستی کا امکان بھی بہت زيادہ ہے۔”

انسانی آزادی کا مستقبل کیا ہے؟

سیٹلائٹس کے حوالے سے امریکی پرائیویسی کے قوانین بہت غیرواضح ہیں۔ عدالتوں نے عمومی طور پر ہوائی نگرانی کی اجازت دے رکھی ہے۔ تاہم 2015ء میں نیو میکسیکو کے سپریم کورٹ کے تحت پولیس کی طرف سے “ہوائی تلاشی” کو آئین کے خلاف قرار دیا گیا تھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران نگرانی کے ذریعے “پرائیویسی کے مناسب توقعات” کی خلاف ورزی کی بات کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر سڑک کنارے تصویر کھینچنے پر کوئی پابندی عائد نہيں ہے لیکن کسی کے نجی کمرے کی کھڑی سے تصویر لینے کو غلط سمجھا جاتا ہے۔ سینکڑوں میل کی اونچائی پر نصب ایک سیٹلائٹ سے گیراج میں کھڑی کی جانے والی گاڑی کی تصویر کھینچنے کے سلسلے میں کوئی واضح اصول موجود نہيں ہے۔

تاہم اس کا یہ مطلب نہيں ہے کہ امریکی حکومت کچھ نہيں کرسکتی۔ ان کا روسی اور چینی سیٹلائٹس پر کوئی زور نہيں ہے لیکن وہ امریکی صارفین کے استعمال پر پابندی عائد کرسکتی ہے۔ اگر امریکی کمپنیاں سیٹلائٹ امیجری کا اس طرح سے فائدہ اٹھارہی ہيں کہ امریکی شہریوں کی پرائیویسی متاثر ہورہی ہو تو حکومت کو کچھ نہ کچھ اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

رے منڈ کہتے ہيں کہ خود کی حفاظت کرنے سے پرائیوسی کے اصول تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ان کے مطابق پرائیویسی کے متعلق موجودہ قوانین افراد کے حقوق کے خطرات کے گرد گھومتے ہیں۔ وہ کہتے ہيں “مصنوعی ذہانت، جیوسپیشیل ٹیکنالوجیز اور موبائل ٹیکنالوجیز جیسے گروپ ڈیٹا پر انحصار کرنے والی ٹیکنالوجیز کے زمانے کے لحاظ سے یہ تحفظات بہت قدیم ہیں۔” ان ٹیکنالوجیز پر ضوابط کا اطلاق کرنے کے لیے آپ کو لوگوں کی بڑی تعداد کے لیے پرائیوسی کے اصول واضح کرنے ہوں گے۔ رے منڈ کہتے ہيں  ”ذاتی معلومات کی نشاندہی کے بارے میں محتاط رہنے کے باوجود بھی نقصان کا سامنا کیا جاسکتا ہے۔“

رے منڈ کے مطابق جب تک ڈیٹا کی پرائیویسی کے قواعد کے متعلق اتفاق رائے قائم نہیں ہوگا سیٹلائٹ امیجری سے وابستہ اصول قائم نہيں کیے جاسکتے ہيں۔ وہ کہتے ہیں ”ہم یہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انسانوں کی آزادی اس پر منحصر ہے۔“

تحریر: کرسٹوفر بیم (Christopher Beam)

Read in English

Authors

*

Top